Friday, 31 January 2014
فسانے کیا کیا
امریکہ اور مغربی طاقتوں کے حکمران اپنے عوام سے جھوٹ بولنے اور اُنہیں فریب دینے کی جرأت نہیں کرتے ٗ کیونکہ اِن جرائم کی سزائیں بڑی سخت ہیں۔امریکی صدر نکسن کے بارے میں جب تفتیش کے دوران یہ راز کھلتا گیا کہ واٹر گیٹ کی عمارت میں اُس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اجلاس کی کارروائی کی خفیہ رپورٹ حاصل کرنے کا حکم دیا تھا ٗ تو اِس دانشور صدر کو عزت بچانے کیلئے استعفیٰ دینا پڑا۔ اِسی طرح صدر بل کلنٹن جنسی اسکینڈل میں جھوٹ بولنے پر سینیٹ میں مواخذے سے بال بال بچے تھے ٗ لیکن اِس کڑے احتساب کی روایت صرف داخلی سیاست اور حکمرانی تک محدود ہے جبکہ دوسری قوموں کیساتھ اِن حکمرانوں کا طرزِ عمل بالعموم جھوٹ ٗ فریب اور زہریلے پروپیگنڈے پر مبنی ہوتا ہے۔
جب امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ٗ تو صدر صدام حسین کیخلاف پروپیگنڈہ کیا گیا کہ اُس نے انسانیت کی خوفناک تباہی کے کیمیائی ہتھیار بنا رکھے ہیں۔ اِس ضمن میں برطانوی سراغ رسانوں کی ایک رپورٹ بھی سیکورٹی کونسل میں پیش کی گئی۔ اتحادی فوجوں نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ٗ مگر اُنہیں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہیں نہ ملے۔ بعد میں اعتراف بھی کر لیا گیا کہ رپورٹ بے بنیاد اور غلط مفروضوں پر مشتمل تھی۔ مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ کا یہ معمول بن گیا ہے کہ جس ریاست کے خلاف طاقت استعمال کرنا مقصود ہو ٗ پہلے اُس کے خلاف منفی مہم چلتی ہے اور ایک خاص فضا پیدا کرنے کے بعد فوجیں اُتار دی جاتی ہیں۔ افغانستان میں بھی یہی کچھ ہوا۔
نائن الیون میں جن بلند و بالا عمارتوں سے طیارے ٹکرائے ٗ اُن کو اُڑانے والوں میں افغانستان اور پاکستان کے باشندے شامل نہیں تھے ٗ مگر سب سے زیادہ سزا اِن دو ملکوں ہی کو دی گئی ہے۔ پاکستان کو دھمکی ملی تھی کہ اگر اُس نے امریکی مطالبات مان لینے سے انکار کیا ٗ تو اُسے پتھر کے زمانے میں بھیج دیا جائے گا۔امریکی قیادت کے ذہنوں میں وقفے وقفے سے عجیب و غریب لہریں اُٹھتی رہتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اِس پر این پی ٹی کا بھوت سوار تھا کہ ایٹمی پھیلائو روکنے کے معاہدے پر سب ممالک دستخط کریں۔بعدازاں سی ٹی بی ٹی کا بڑا چرچا ہوا۔ پاکستان میں بھی کچھ عناصر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کیلئے اپنی حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ اِس موقع پر لاہور کے ایک تھنک ٹینک پائنا کے تحت قومی سیمینار منعقد ہوا جس میں اتفاقِ رائے سے یہ قرارداد منظور کی گئی کہ پہلے امریکہ اِس معاہدے پر دستخط کرے ٗ تب پاکستان اِس کے مضمرات پر غور کرے گا۔
اِس قرارداد کے بعد امریکی دباؤ میں کمی آتی گئی اور آج وہ معاہدہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ دراصل اُس نے یہ روش اپنائے رکھی ہے کہ جو ملک اُسے پسند نہ ہو ٗ اُس کے خلاف یہ الزام لگا دیا جائے کہ وہ ایٹمی آلودگی پھیلانے کا ذمے دار ہے۔ ایک زمانے میں یہ الزام شمالی کوریا اور لیبیا پر بھی لگایا جاتا رہا۔ اِس کی پالیسی یہ ہے کہ کوئی اسلامی ملک ایٹمی صلاحیت حاصل نہ کر سکے اور اگر وہ اِس راستے پر چلنے کی کوشش کرے ٗ تو اُس پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں اور اُسے سیاسی طور پر تنہا کر دیا جائے۔ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے بڑی جاں گسل آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے اور آج اُسے ایک اور زہریلے پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔ حال ہی میں مائیکل کوگل مین تواتر سے اِس خیال کا پرچار کر رہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے کا بڑا امکان ہے جو پاکستان کے حساس ایئر بیس پر حملے کر سکیں گے۔ اصل حقائق سے آنکھیں چرانے والے یہ صاحب اِس نوعیت کا پروپیگنڈا بھی کر رہے ہیں کہ پاکستان بھارت کے خلاف میدانِ جنگ میں استعمال کرنے کے لیے چھوٹے سائز کے ٹیکنیکل نیو کلیئر ہتھیار تیار کر رہا ہے جن سے خوفناک حادثات کا شدید خطرہ ہے۔ یہ پروپیگنڈا روزبروز تیز ہوتا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر جو کور ایشو کی حیثیت رکھتا ہے ٗ اِس پر ایٹمی تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مائیکل کوگل مین کو ’’ایٹمی تصادم‘‘ کے زہریلے پروپیگنڈے کو ہوا دینے کے بجائے مثبت انداز میں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پُرامن طریقے سے حل ہو جاتا ہے ٗ تو ایٹمی تصادم کا امکان یکسر ختم ہو جائے گا۔ اِس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے بھارتی اور مغربی میڈیا کے علاوہ سیاست دانوں کو بھی سنجیدہ کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔
بھارت اور پاکستان مئی 1998ء میں ایٹمی طاقت بنے تھے ٗ اُس وقت سے برصغیر میں امن قائم چلا آ رہا ہے۔ بھارت نے 2001ء میں پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کو جواز بنا کر پاکستان کی سرحدوں پر اپنی فوجیں جدید اسلحے کے ساتھ دس ماہ تک لگائے رکھیں ٗ مگر اُسے جنگ آزمائی کا حوصلہ نہ ہوا۔ اِسی طرح ممبئی پر دہشت گردوں کے خوفناک حملوں کے بعدوہ پاکستان پر فضائی حملوں کی تیاری کر چکا تھا ٗ مگر اُسے ایٹمی جنگ چھڑ جانے کے خوف سے اپنے قدم پیچھے لے جانا پڑے۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اِن دونوں حملوں میں بھارتی باشندے اور سی آئی اے کے کارپرداز ایجنٹ ملوث تھے۔ اِن واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت امن کی محافظ اور اچھے تعلقات کی ضامن ہے۔ اِس کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور اِس کا کنٹرول اور کمانڈ سسٹم نہایت عرق ریزی اور سالہا سال کے تجربات کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ غیر جانب دار ماہرین کی نظر میں وہ بھارت کے سسٹم سے بہت بہتر اور قابلِ اعتماد ہے۔ اِن حقائق کی روشنی میں پاکستان کے عوام و خواص امریکی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہیں جو بدنیتی ٗ مذموم عزائم اور مغرب کے حکمرانوں کی اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔ پاکستان کم سے کم ڈیٹرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایک ذمے دار اور دنیا کی برادری میں ایک اہم ریاست کی حیثیت سے اپنی ذمے داریوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اِس نے آج تک ایٹمی پھیلاؤ کی کسی سرگرمی اور کوشش میں حصہ نہیں لیا اور بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی پوری پوری پاسداری کی ہے۔
مغرب پاکستان میں طالبان کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اِس اندیشے کا اظہار کرتا رہتا ہے کہ وہ ایٹمی اثاثوں پر قابض ہو جائیں گے ٗ مگر ایسا ممکن نہیں ٗ کیونکہ اُن کی حفاظت کے انتظامات بڑے پختہ اور ناقابلِ تسخیر ہیں ٗ البتہ وہ ایٹم بم جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے ٗ وہ مسئلہ کشمیر ہے ٗ کیونکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں چھ لاکھ فوج 66برسوں سے تعینات کر رکھی ہے جو انسانی آزادیوں کو پامال کرتی اور کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کچلتی رہتی ہے۔ اکیسویں صدی میں اور دنیا کی نام نہاد عظیم جمہوریت کے دامن میںجس بربریت کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں ٗ اُن کے ردِعمل میں اہلِ کشمیر بھارت کے یومِ جمہوریہ کو سیاہ دن کے طور پر مناتے اور اپنی برحق جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں۔ پوری دنیا کو اِس نازک ترین مسئلے کے پُرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا اور ایٹمی تصادم کے گرد ایک حصار کھینچنا ہو گا۔ پاکستان تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنا چاہتا ہے ٗ مگر اِس کے رویے پر تکبر اور بالادستی کی ہوس حاوی ہے اور وہ سرحد پار دہشت گردی کے افسانے تراشتا رہتا ہے جو بلبلوں کی طرح تحلیل ہو رہے ہیں۔
الطاف حسین قریشی
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
برما کے واقعات کی تحقیق ضروری ہے
برما (میانمار) میں ایک عرصے سے بدھوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان خونریز فسادات کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے کے فسادات کا نیا سلسلہ جنوری کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوا ہے۔ برما کی ریاست رخائین میں دونوں گروہوں کے درمیان فسادات میں 30 مسلمان شہید ہونے کی خبریں شایع ہوئی ہیں، ان ہی تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ برما کی ریاست رخائین میں پولیس اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، اس جھڑپ کے بعد بدھ شدت پسندوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کیے، جن میں 30 مسلمانوں کے قتل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم کے مطابق پچھلے دو سال میں بدھ انتہا پسندوں نے 25 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا، بے شمار خواتین کی عصمت برباد کی اور عبادت گاہوں کو نذرآتش کیا۔ رپورٹ کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ مسلمان برما سے، بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا ہجرت کر چکے ہیں۔ اس خبر میں یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا ملکوں نے ان روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ہمارے قدامت پسند اکابرین کو یہ شکایت رہی ہے کہ روشن خیال لکھاری پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونیوالے مظالم پر تو قلم اٹھاتے ہیں لیکن برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انھیں نظر نہیں آتے۔ اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری دائیں بازوں کی قیادت کو جن لکھاریوں سے شکایت ہے ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بلا امتیاز مذہب و ملت ہر اس مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں جو زیادتیوں کا شکار ہوتا ہے، وہ مظلوم کو صرف اس کے عقائد کے حوالے سے ہی نہیں دیکھتے بلکہ اسے اشرف المخلوقات یعنی انسان ہونے کے حوالے سے بھی دیکھتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی مظلوم کو اگر محض اس کے عقائد کے حوالے سے دیکھ کر اس کی حمایت یا مخالفت کی جائے تو اس سے دانستہ یا نادانستہ طور پر نفرتوں اور تعصبات میں اضافہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور روشن خیال لکھاری اپنی فطرت میں نفرتوں، تعصبات کا دشمن محبت اور بھائی چارے کا دوست اور پرچارک ہوتا ہے، یہی اس کی پہچان اور خصوصیت ہے۔ برما میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات اگرچہ لگاتار ہو رہے ہیں لیکن اس حوالے سے اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا انکشاف جس امریکی تنظیم نے کیا ہے ہو سکتا ہے وہ اپنی رپورٹ میں حق بجانب ہو لیکن اسے ایک وسیع تر تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ امریکی سامراج کے معروف خفیہ ادارے جب بھی ضرورت سمجھتے ہیں تشدد پسندوں کی خدمات اپنے مکروہ مقاصد کے لیے حاصل کر لیتے ہیں اور ان خدمات کے حصول کے لیے ڈالروں کو پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ عراق میں جب تک صدام حسین کی حکومت قائم تھی عراق فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے محفوظ تھا، جب امریکا نے عراق پر قبضہ کیا تو عراق فرقہ وارانہ قتل و غارت کا مرکز بن گیا۔ آج پورا عراق قتل و غارت میں گردن تک دھنسا ہوا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت امریکا اور اس کے حواریوں کو پسند نہ تھی کیونکہ شام ایران کا ایک قریبی اور قابل اعتماد دوست تھا، اس لیے شام میں جھگڑوں کو ہوا دی گئی۔ اب جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو شام میں بھی حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں۔
ان حقائق کے پس منظر میں برما میں ہونے والے فسادات کا تحقیقی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر بدھ جیسی امن پسند قوم تشدد پر کیوں اتر آئی ہے؟ بدھا کی تعلیمات امن اور بھائی چارے پر مشتمل ہیں، بدھ بھکشو گھر گھر امن و آشتی کا پیغام پھیلانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، گھر گھر بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والی یہ قوم آخر اس قدر متشدد کیوں ہو گئی ہے؟ایسا لگتا ہے کہ یہاں بھی امریکا کا کار فرما ہے اور اس نے بودھوں میں اپنے ایجنٹ شامل کر دیے ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ برما کے بعض علاقے سخت تشدد کی زد میں ہیں اور تشدد کے یہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف خونریز لڑائیاں بھی لڑتے ہیں اور روایت کے مطابق کمزور فریق کو زیادہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، لیکن اس حوالے سے اصل بات یہ ہے کہ اس تشدد کے محرکات کیا ہیں؟ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم محض اس خوف سے کہ کسی فریق کی حمایت سے تشدد کی آگ اور بھڑکے گی سچ اور مظلوم کی حمایت سے دست کش ہو جائیں۔
بات صرف نیت کی ہے، اگر ہم ان متحارب فریقین میں اعتماد کی بحالی، نفرتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمارا رویہ غیر جانبدارانہ اور آگ بجھانے والا ہونا چاہیے۔ اس کے برخلاف اگر ہم آنکھ بند کر کے ظالموں کے خلاف لڑائی کی تلقین کرتے ہیں تو پھر خون خرابے میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی۔ رجعت پسندی اور ترقی پسندی میں یہی بنیادی فرق ہے کہ رجعت پسندی دانستہ یا نادانستہ آگ بھڑکانے کا سبب بنتی ہے اور ترقی پسندی آگ بجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہندوستان میں بدھ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اگر برما کے واقعات کو نمک مرچ لگا کر ہندوستان میں پھیلایا جاتا ہے تو کیا اس امکان کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ شروع ہو جائے؟ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو جو کچھ برما میں ہو رہا ہے ہندوستان میں اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا؟
یہ ایسی نازک اور حساس باتیں ہیں جن پر غور کرنے کی عموماً ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی لیکن یہ چنگاریاں عموماً شعلوں میں بدل جاتی ہیں اور ہم صرف ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔امریکا میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی جس تنظیم نے فسادات کے حوالے سے جو اعداد و شمار میڈیا کو فراہم کیے ہیں کیا یہ اعداد و شمار نہ صرف علاقائی مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیلانے کا سبب نہیں بن سکتے۔ حقائق کو نہ جھٹلایا جا سکتا ہے نہ انھیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن بعض حقائق اس قدر نازک اور حساس ہوتے ہیں کہ انھیں طشت ازبام کرنے کا مطلب آگ کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش وغیرہ مسلم ملک ہیں۔ اسی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ان مسلم ملکوں نے روہنگیا برمی مسلمانوں کو پناہ دینے سے انکار کیا ہے۔ ظاہر ہے اس خبر کو پڑھنے کے بعد افسوس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مسلم ملکوں نے ان مظلوم مسلمانوں کو پناہ دینے سے کیوں انکار کیا ہے؟ سوال یہ نہیں ہے کہ مظلوم کی حمایت صرف اس لیے ترک کی جائے کہ اس سے فساد خلق کا اندیشہ ہے بلکہ سوال حقیقت حال کے پوری طرح ادراک کا ہے کہ آخر بدھوں اور مسلمانوں میں اس خونریزی کا اصل سبب کیا ہے؟ او آئی سی اور اقوام متحدہ کو ایک مشترکہ وفد برما بھیج کر حقیقت حال کی پوری تخلیق کرانا چاہیے اور اگر ان واقعات میں صرف بدھ قصور وار ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ یہی ایک بہتر اور مثبت راستہ ہے۔
ظہیر اختر بیدری
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
Thursday, 30 January 2014
Wednesday, 29 January 2014
Irfan Siddiqui
Irfan Siddiqui is the Urdu columnist, known to be the great supporter of former prime minister of Pakistan, Nawaz Sharif. He started writing his columns on Nawaiwaqt[1]. In July 2008, Irfan Siddiqui left Nawaiwaqt and joined Jang[2]. He has been found criticizing Pervez Musharraf and his regime in Pakistan, very bluntly. He was also unhappy with the late Benazir Bhutto and her Pakistan Peoples Party, and wrote the same in the columns. He is currently serving the Jang group of newspapers.
Rustam Shah Mohmand
Rustam Shah Mohmand is senior Pakistani diplomat, political scientist and a politician who specialises in Afghanistan and Central Asian affairs. He has served as Pakistan's Ambassador to Afghanistan, Interior Secretary of Pakistan and has held position of Chief Commissioner Refugees for around ten years. He is also the central leader of Pakistan Tehreek-e-Insaf and member of the Khyber Pakhtunkhwa Advisory committee headed by Imran Khan which advises the provincial government on development and planning.[1] [2] He graduated in civil engineering and humanities and then joined the civil service of Pakistan.[3][4][5]






































