Friday, 28 February 2014
Pakistanis set new world records
پاکستان میں ان دنوں عالمی ریکارڈ بنانے کی دوڑ جاری ہے۔ علوم و فنون کو تو چونکہ یہاں سے عرصہ ہوا دیس نکالا مل چکا ہے، اس لیے اب ایسے میدان میں ریکارڈ ز بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کی جانب دنیا کی توجہ ہی نہیں، نہ ان کے پاس اس دردِ سر کے لیے کوئی وقت ہے۔ دنیا کا سب سے طویل انسانی پرچم بنانے کا ریکارڈ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے پاس تھا۔ ایک اور بھوکا ننگا ملک جس نے قوم پرستی کے نام پر علیحدگی اختیار کی لیکن آج بھی اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ ہندوستان ہو، بنگلہ دیش یا پاکستان، اس خطے میں ان کا مقابلہ حب الوطنی کے میدان میں ہوتا ہے، جو ہمہ وقت خطرے سے دوچار ہوتی ہے۔ ان ملکوں نے کبھی علم کے میدان میں ریکارڈ بنانے کی کوشش نہ کی۔ اب آپ یہ مت بتائیے کہ پاکستانی طالب علموں نے آکسفورڈ اور کیمبرج جیسے اداروں سے او لیول میں سب سے زیادہ اے پلس لینے کا ریکارڈ بھی بنا رکھا ہے، یا دنیا کی کم عمر ترین آئی ٹی ماہر بچی بھی یہیں پائی گئی تھی۔ بلاشبہ ایسے بیسیوں واقعات یہاں بکھرے پکڑے ہیں، کئی ایسے بھی ہوں گے جو ابھی تک میڈیا کی نظروں میں نہ آئے ہوں، لیکن یہ مت بھولیے کہ یہ سب انفرادی کاوشیں ہیں، ان میں کہیں بھی ریاست کی پشت پناہی آپ کو نظر نہیں آئے گی۔ اپنے میدانِ عمل میں نام کرنے والے یہ وہ گنے چنے افراد ہوں گے جنہوں نے موجودہ نظام سے ہٹ کر اپنی راہ چنی ہو گی۔ ورنہ ریاست نے جس طرح کا تعلیمی، معاشی اور سماجی نظام ترتیب دے رکھا ہے، وہاں صرف حب الوطنی کے نام پر خالی دماغ لوگ ہی پیدا ہو سکتے ہیں، عالی دماغ جوان نہیں۔
گنیز بک آف ریکارڈ کی ٹیم اگر ذرا بھی غیر جانبدار ہوتی تو پاکستان کو دنیا کا طویل ترین انسانی پرچم بنانے والے ملک کا ریکارڈ قائم کرنے والے سرٹیفکیٹ کے ساتھ ساتھ اس کا یہ اعزاز بھی اپنی ریکارڈ بک میں لکھ لیتی کہ دنیا کا طویل ترین انسانی پرچم بنانے والے ملک کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسی ملک کے ایک حصے میں یہی سبز ہلالی پرچم لہرانا جرم بن چکا ہے۔ سرکاری اداروں سے لے کر نجی اداروں تک میں کہیں بھی یہ پرچم نہیں لہرایا جا سکتا۔ ساتھ ہی قومی ترانہ پڑھنے کا ریکارڈ بنانے والوں کو یہ بھی بتا دیجیے کہ اسی ملک کے ایک حصے میں جہاں دنیا کا طویل ترین انسانی پرچم لہرایا نہیں جا سکتا، وہاں یہ قومی ترانہ بھی نہیں پڑھا جا سکتا۔ اسے بھی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کروا لیجیے۔ پاکستان کے نام ایک اور عالمی ریکارڈ میں اضافہ ہو جائے گا ۔
اور جب صرف گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنے نام کا اضافہ ہی مقصود ہے تو پھر لاپتہ افراد کے لواحقین کے لانگ مارچ کو بھی یاد رکھیے۔ کوئٹہ سے کراچی اور پھر اسلام آباد تک پیدل چلنے والا چند افراد کا یہ لانگ مارچ اب دنیا کا طویل ترین لانگ مارچ بن چکا ہے۔ فاصلے کے لحاظ سے اس نے چیئرمین ماؤ کے مشہورِ زمانہ لانگ مارچ کو بھی مات دے دی ہے۔ کیوں نہ لگے ہاتھوں اسے بھی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرا لیں۔ ساتھ ہی ملک کے آزاد میڈیا نے جس طرح اس سے چشم پوشی اختیار کیے رکھی ہے، وہ بھی کسی ورلڈ ریکارڈ سے کم نہیں۔ ملکی سلامتی کو درپیش ایک انتہائی حساس مسئلے پر جس طرح میڈیا نے خاموشی اختیار کی، اور چار ماہ تک ایک منٹ کی یا سنگل کالم خبر نہ چھاپی ہو، ایسا شاید ہی دنیا میں کہیں ہوا ہو۔ یہ اپنے تئیں ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے ۔ بالخصوص ایک ایسے ملک میں جہاں میڈیا ہمہ وقت اپنی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتا رہے۔ اور جب دنیا کا طویل ترین لانگ مارچ پنجاب جیسی گنجان آبادی سے ہو کر گزرا ہو۔ اس ریکارڈ میں سیاسی جماعتوں کی خاموشی کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ وہ جماعتیں جو آزادیِ اظہار کے لیے ہر وقت چیختی چلاتی رہتی ہیں، لیکن اس طویل ترین لانگ مارچ میں نہ صرف یہ کہ شامل نہ ہوئیں ، بلکہ بڑی مہارت سے کنی کترا گئیں اور خود کو اس سے دور رکھا۔
اسی طرح عالمی ریکارڈ کے خانے میں لاپتہ افراد کے حوالے سے پاکستان کے نام ایک اور اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے مطابق پچھلی ایک دہائی کے دوران بلوچستان سے لاپتہ کیے گئے افراد کی تعداد سولہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں لاپتہ ہونے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کسی بھی ایمسرجینسی میں اتنی بڑی تعداد میں افراد لاپتہ نہیں ہوئے یا نہیں کیے گئے۔ گو کہ کہ حکومتی ذرایع اور خفیہ اداروں کے حکام اس تعداد کو ہمیشہ مسترد کرتے رہے ہیں، تاہم بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی یہ وہ تعداد ہے، جن کے تمام کوائف اور حقائق ان کے پاس موجود ہیں۔ جن تک وہ اب تک نہیں پہنچ پائے، ان کا قصہ الگ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دورِ حکومت میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے خود بلوچستان سے نو سو ایسے افراد کی گمشدگی تسلیم کی جنھیں خفیہ ادارے شک کی بنیاد پر لے گئے، اور پھر ان کا کوئی اتہ پتہ نہ رہا۔ جب کہ معاملہ تعداد کا نہیں، اس عمل کا ہے جو بنیادی طور پر غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ ابھی حال ہی میں خضدار کے علاقے توتک سے مسخ شدہ لاشوں کی اجتماعی قبروں کی نشاندہی ہوئی، تو ایک بار پھر ہمیں اس بحث میں ڈال دیا گیا کہ برآمد ہونے والی لاشوں کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ تھی، سرکار نے اصل تعداد چھپا دی۔ حالانکہ سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ لاپتہ ہوئے یا کتنوں کی لاش مسخ کی گئی، سوال یہ ہے کہ اگر ایک بھی شہری غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا، لاپتہ کیا گیا یا ماورائے عدالت قتل کیا گیا، تو ریاست مکمل طور پر اس کی ذمے دار ہے ۔ اس کا فرض بنتا ہے کہ ان اداروں اور اہلکاروں کو تلاش کرے، ان تک پہنچے اور ان سے باز پرس کرے۔ باقی کوئی شخص اگر ریاست کا باغی ہے، تو آئین میں اس سے نمٹنے کا طریقہ کار درج ہے۔ ایسے افراد کو گرفتار کر کے اعلیٰ عدالتوں میں پیش کیا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ جیسے اگر ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں کوئی مارا جاتا ہے، تو اس کا کوئی حساب نہیں لیا جاتا۔ لیکن محض شک کی بنیاد پر (یا خواہ ثبوت کی موجودگی میں بھی) کسی بھی شہری کو غیرآئینی و غیر قانونی طور پر لاپتہ کر دینا، ماورائے عدالت قتل کر کے اس کی لاش کو مسخ کر کے پھینکنا اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا کہ ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا جرم ۔
اور اگر ان واقعات میں ملوث افراد کو سزا دینا ممکن نہیں تو پھر ذرا سی ہمت کر کے اسے بھی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں لکھوا لیجیے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے، جہاں آئین و قانون کے ہوتے ہوئے محض شک کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو اٹھایا، لاپتہ کیا ، اور مار کے پھینکا جا سکتا ہے۔ جنگ تو ختم ہو نہیں رہی، ملک کے نام ایک اور عالمی ریکارڈ میں اضافہ سہی۔
عابد میر
Pakistanis set new world records
Jamshed Dasti
Jamshed Ahmad Khan Dasti is a Pakistani politician who serves as the Member of National Assembly representing Muzaffargarh, Punjab.[1] Starting his political career from Pakistan People's Party he resigned from the party on 16 March 2013 and also from membership and National Assembly. He later announced contesting election as an independent candidate. He got overwhelming majority in NA-177 Muazaffargarh-II and NA-178 Muazaffargarh-III in 2013 election in which he defeated the influential family of Hina Rabbani Khar.[2] Popularly known for being the poorest parliamentarian in the country, Dasti declined offer to join the victories party Pakistan Muslim League after elections and decided to remain independent member. He voted for Nawaz Sharif for the slot of premier. [3]
On 4th April 2013 Dasti was sentenced to 3 years in prison and 5000 Rupees fine for presenting a fake degree and breaching the public representation eligibility. Following the court verdict he was arrested from outside the courtroom. On foreseeing the court verdict he announced his decision of not contesting in the general elections of 2013 a day earlier the court announced the verdict. On 10 April 2013, the Multan bench of Lahore High Court heard Mr Dasti's appeal setting aside all laws, overturned his conviction of 3 years and 5000 Rs fine hence paving the way for him to contest the 2013 elections. Jamshed Dasti was elected in National Assembly for next five years. Dasti contested general 2013 elections as an independent candidate from two constituencies NA-177 (Muzaffargarh-II) and NA-178 (Muzaffargarh-III and won both seats,[4] defeating Ghulam Noor Rabbani Khar and Nawabzada Mansoor. Dasti however revolted against People's Party, and in the party's stronghold he won two seats, he has subsequently aligned with the Pakistan Tehreek-e-Insaf in the National Assembly and on national issues such as US drone strikes where he was present at Imran Khan's rally [5]
Thursday, 27 February 2014
بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے
سلطنت روما کے عروج و زوال کی داستان پڑھتا ہوں تو لرز جاتا ہوں اور گاہے یہ خیال آتا ہے کیا ہم اسی راستے پر تو نہیں چل پڑے جہاں تہذیب و ثقافت کے پجاریوں کی قبریں جا بجا پھیلی نظر آتی ہیں۔ روم کے بے تاج بادشاہوں کو جشن طرب برپا کرنے کے سب طریقے فرسودہ محسوس ہونے لگے اور اکتاہٹ ہونے لگی تو یکسانیت دور کرنے کے لئے ایک نئی طرح کا کلچر فروغ دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ مورخین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ منفرد نوعیت کے اس اسپورٹس فیسٹیول کا نادر تخیل کس درباری نے پیش کیا تاہم جولیو کلیڈین خاندان جس نے روم پر کئی سو سال بادشاہت کی، اس کے دور حکمرانی میں گلیڈیٹر کے نام سے ایک وحشیانہ کھیل شروع کیا گیا جس کا مقصد رومی تہذیب و ثقافت کا تحفظ تھا۔
گلیڈیٹرز وہ قیدی اور غلام ہوا کرتے تھے جنہیں پالتو کتوں کی طرح پالا پوسا جاتا، کھلایا پلایا جاتا اور سالانہ فیسٹیول کے لئے تیار کیا جاتا۔ کئی ماہ پہلے اس منفرد شو کی ٹکٹیں فروخت ہوتیں اور مقررہ دن ایک بڑے میدان میں تماش بینوں کا انبوہ جمع ہو جاتا۔ بادشاہ کے درباری، امراء، رئوسا اور دیگر اشراف کے لئے اسٹیج سجایا جاتا، بادشاہ سلامت تھرکتے اجسام اور موسیقی کی دلنواز دھنوں سے نغمہ بار فضا میں تشریف لاتے اور یوں اس کھیل کو شروع کرنے کا حکم دیا جاتا۔ گلیڈیٹر جنہیں عرصہ دراز سے سدھایا گیا ہوتا، انہیں ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں آنے کا حکم ملتا۔ وہ نہایت سلیقے اور قرینے کے ساتھ منظم انداز میں بادشاہ سلامت کے چبوترے کے سامنے سے گزرتے اور سلامی پیش کرتے۔ اس کے بعد میدان کے ایک حصے میں موجود ان کچھاروں کے جنگلے کھول دیئے جاتے جن میں وحشی درندوں کو کئی دن سے بھوکا رکھا گیا ہوتا۔
شیر، چیتے، ریچھ ان سے نکلتے ہی گلیڈیٹروں پر ٹوٹ پڑتے۔ گلیڈیٹرز اپنے ہتھیاروں کے ساتھ بھوکے درندوں کا مقابلہ کرتے۔ میدان انسانوں اور حیوانوں کے خون سے بھر جاتا۔ لڑائی تب ختم ہوتی جب ان درندوں یا انہی کی طرح سدھائے گئے انسانوں میں سے کوئی ایک گروہ غالب آ جاتا۔ مورخین کا محتاط اندازہ یہ ہے کہ اس کھیل میں ہر سال کم از کم 8000 گلیڈیٹر مارے جاتے۔ جو بچ جاتے ،انہیں انعام و اکرام سے نوازا جاتا مگر اس کھیل سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا اور وہ اگلے سال اسی میلے میں پھر کام آ جاتے۔ جب یہ وحشی جانور گلیڈیٹروں کی تکا بوٹی کر رہے ہوتے تو تماشایئوں کی ہذیانی چیخیں اور موسیقی کا شور مل کر سماں باندھ دیتا اور بادشاہ سلامت ان مناظر سے بیحد لطف اندوز ہوتے۔
روم میں گلیڈیٹروں کا یہ کھیل کئی سو سال تک جاری رہا اور اسے روم کی ثقافت کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ یہاں تک کہ کلیڈین سلسلہ کے آخری چشم و چراغ نیرو نے اقتدار سنبھال لیا۔ نیرو کا برسراقتدار آنا بھی اقتدار کی رسہ کشی کے خود غرضانہ کھیل کا ایک عجیب موڑ تھا۔ نیرو موسیقی کا رسیا تھا،اسے کسی ناچنے والے گھر میں جنم لینا تھا مگر شاہی خاندان میں پیدا ہو گیا۔ اس لئے وہ تخت نشین ہونے کے بعد بھی باقاعدہ ناچتا گاتا اور اپنے درباریوں سے داد وصول کرتا۔ اس کی ماں ایپرپینا نے اپنے شوہر کو زہر دے دیا تاکہ نیرو بادشاہت کا حقدار بن سکے۔ اس کے چچا کلاڈیئس نے اپنے بھتیجے نیرو کو تخت و تاج کا وارث نامزد کر دیا لیکن یہ شخص ایسا احسان فراموش اور مطلبی نکلا کہ اس نے تخت نشین ہوتے ہی سب سے پہلے انہیں ٹھکانے لگایا جن کی وجہ سے اسے اقتدار نصیب ہوا۔
پہلے اس نے اپنے محسن چچا کے بیٹے کو مروایا اور پھر ماں کو قتل کر دیا۔ اپنی ایک بیوی کو اس نے تب لات مار کر ہلاک کر دیا جب وہ حاملہ تھی۔اسے جب جو لڑکی پسند آتی، اس کے شوہر کو قید میں ڈال کر اپنے پاس رکھ لیتا۔ ناول نگار Gaius Suetonius کو رومی تاریخ کا سب سے معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے ناول The twelve ceasre میں نیرو کی خباثت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب نیرو کا دل شادیوں سے بھر گیا تو اس نے جی بہلانے کے لئے ایک نئی ترکیب سوچی ، وہ اپنے سپاہیوں کے ذریعے انتہائی پاکباز و پاکدامن کنواری لڑکیوں کی کھوج لگواتا،انہیں اپنے کارندے بھیج کر زبردستی اٹھواتا اور اپنے جنسی درندوں کے حوالے کر دیتا تاکہ وہ اجتماعی آبروریزی کا شوق پورا کر سکیں۔ جب درندگی کا یہ کھیل شروع ہوتا اور مظلوم لڑکیوں کی دلدوز چیخوں سے زمین ہل رہی ہوتی تو یہ نفسیاتی مریض حظ اُٹھاتا اور اپنے جذبات کی تسکین کرتا۔ اقتدار کے آخری ایام میں اس نے ایک اور خباثت یہ کی کہ ایک انتہائی حسین و جمیل لڑکے کو عمل اخصاء کے ذریعے نا مرد کیا اور دلہن بنانے کے بعد زندگی بھر اپنے پاس رکھا۔ ایک مرتبہ جب نیرو کے دوست اور آرمینیا کے شہنشاہ ٹریدیٹس نے روم کی سیر کو آنا تھا تو نیرو نے گلیڈیٹرز کے کھیل میں جدت پیدا کرنے کے لئے اس میں گلیڈیٹر عورتوں کا اضافہ کر دیا اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وحشی درندوں کے درمیان چھوڑ دیا گیا۔
ایک جملہ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ 64 قبل مسیح روم میں شدید آگ لگی جس میں دارالسلطنت کے دوتہائی علاقے جل کر راکھ ہو گئے اور ہزاروں انسان زندہ جل گئے۔جب روم جل رہا تھا تو نیرو 53میل دور واقع اپنے محل کی ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ چونکہ نیرو عیاش اور اذیت پسند تھا لہٰذا یہ آگ اس نے خود لگوائی تاکہ جلتے مرتے لوگوں کی دلدوز چیخوں سے محظوظ ہو سکے۔ کسی شاعر نے ایسے حکمرانوں کی کیا خوب عکاسی کی ہے:
لگا کر آگ شہر کو بادشاہ نے کہا
اُٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت
جھکا کر سر سبھی شاہ پرست بولے حضور!
شوق سلامت رہے شہر اور بہت
جب سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے موئن جو دڑو میں ہنگامہ برپا تھا اور کسی نے آثار قدیمہ کو نقصان پہنچنے کی بات کی تو جیالے سیخ پا ہو گئے اور میں محولہ بالا اشعار گنگناتا رہ گیا۔ میلوں ٹھیلوں کے ذریعے عوام کو رام کرنے اور لبھانے کی ریت تو بہت پرانی ہے۔ سندھی ثقافت کے نام پر تو یہ ناٹک پہلی بار ہوا مگر پنجابی اور پختون ثقافت کے نام پر تو اس طرح کی تقریبات ہوتی رہتی ہیں۔ اس تقریب کی خبر تو نمایاں طور پر شائع ہوئی مگر ایک چھوٹی سی خبر کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ خبر یہ تھی کہ اس تقریب سے واپس جانے والے انجیئنروں کو ڈاکوئوں نے لوٹ لیا...کیونکہ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے۔ جب بھوکے ننگے روم کے شہریوں نے نیرو کے خلاف بغاوت کی تو اس تہذیب و ثقافت کا بھی جنازہ نکل گیا۔ نیرو کو معلوم تھا کہ لوگ اس کی تکا بوٹی کر دیں گے اس لئے اس نے محض 31 سال کی عمر میں خودکشی کر لی۔
جس طرح ایک شہزادے نے ثقافت کے نام پر لوگوں کی غربت کا مذاق اُڑایا، ویسے ہی ایک اور شہزادے نے اسپورٹس فیسٹیول رچایا اور سب سے بڑا قومی پرچم بنانے کا اعزاز پایا۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرانے والوں کو کیا معلوم کہ ان کا نام تاریخ کی کتابوں میں بھی لکھا جا چکا۔شنید ہے کہ اب بسنت منانے کی تیاریاں بھی پورے زور شور سے جاری ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ثقافت کے نام پر میرے ہم وطنوں کی غربت کا مذاق اُڑایا جائے گا۔ نہ جانے کیوں ایسے میلوں ٹھیلوں اور فیسٹیولزکو منعقد ہوتا دیکھ کر مجھے سندھ اور پنجاب کے شہزادوں پر ترس آتا ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے۔
محمد بلال غوری
بشکریہ روزنامہ ' جنگ '
Wednesday, 26 February 2014
نواز شریف کا تیسرا دور حکومت اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات
کسی زمانے میں میاں نواز شریف اور ان کی جماعت پا کستان پیپلز پارٹی کو اس وجہ سے غدار ِوطن قرار دیتی تھی کہ وہ ہندوستان نواز ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ہندوستان کے وزیر ِاعظم راجیو گاندھی کی آمد پر مسلم لیگ کے سرکردہ ممبران نے اس وجہ سے طوفان کھڑا کر دیا تھا کہ وفاقی حکومت نے سڑک کے ایک کنارے سے کشمیر کا بورڈ ہٹا دیا۔ اس مبینہ واقعے کو ایک کمپین میں تبدیل کیا گیا اور ایک طویل عرصے تک اس کو بطور تیراستعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پر تاک تاک کر نشانے لگائے گئے۔ کشمیر کو بزورِ شمشیر فتح کر نے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قربت کی وجہ سے مسلم لیگ ہندوستان کے بارے میں ایک خاص رویہ رکھتی تھی۔ مگر وہ زمانہ کوئی اورتھا۔ اب مسلم لیگ نواز ہندوستان کے ساتھ بھائی چارے اور ہر قیمت پر امن قائم کرنے کے فلسفے کی سب سے بڑی داعی ہے۔
شریف کیمپ میں یہ سوچ یک دم نہیں ابھری ۔ واجپائی کے ساتھ لاہور مذاکرات مسلم لیگ میں کاروباری حلقوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ایک ثبوت بھی ہے اور وہ عنصر بھی جس نے نوازلیگ کو ہندوستان کو مار لگاؤ کے راستے سے ہٹا کر ہندوستان سے پیار کرو کے راستے پرلا کھڑا کیا ہے۔ اس مرتبہ بہرحال معاملہ صرف کاروباری اور تجارتی مراسم بڑھانے کا ہی نہیں ہے۔ نواز لیگ میں یہ سوچ جڑیں پکڑ چکی ہیں کی ہندوستان کے ساتھ بغل گیر ہو کر وہ ایسا بڑا کام کر پائیں گے جسکی کامیابی کے توسط سے دنیا میں نام بھی پیدا کریں گے اور اندرونی طور پر دیرینہ معاشی مسائل میں کمی لانے کا انتظام بھی کر لیں گے ۔ سادہ الفاظ میں میاں نواز شریف اور ان کے قریبی حلقے، پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت، معاشی کمزوری، توانائی کے بحران اور دہشت گردی جیسے درد سر کو حل کرنے کے لیے ایک ایسا رستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جس میں وقت بھی کم صرف ہو اور نتائج بھی جلدی نکلیں۔ شریف برادران کو بتایا گیا کہ جس طرح جرمنی اور فرانس ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑ لڑ کر کچھ حاصل نہ کر پائے اور آخر میں اکٹھے ہو کر نئے یورپ کی بنیاد بن گئے۔ ہندوستان اور پاکستان بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یورپی اکٹھ کی طرح جنوبی ایشیا کا یکجا ہو جانا اس قسم کے فوائد کا باعث بن جائے گا جن سے آج کل بین الاقوامی جنگوں کا میدان ترقی کے حیرت کدہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تمام معاملات کو بھائی چارے کے ساتھ طے کرنے کا ایک اور فائدہ فیصلہ سازی کے عمل پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کا کمزور ہونا بھی ہو گا۔
فوجیں جنگوں اور تنازعات میں ضرورت سے زیادہ طاقت والا کردار اپنا لیتی ہیں۔ امن کے ماحول میں سیاست دان حتمی اور کلی طور پر طاقت کی لگام اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں گارڈین اخبار نے وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق چھپنے والا انٹرویو اس تناظر میں پڑھنا چاہیے۔ گارڈین اخبار نے لکھا ’’شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان میں موجود ناقابل بھروسہ حساس ادارے آزاد تجارت کی راہ میں حائل دو رکاوٹوں میں سے ایک ہیں۔ دونوں ممالک کے حساس اداروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حفاظتی نکتہ نظر معاشی تحفظ کی بدولت ہوتا ہے۔ جب تک آپ معاشی طور پر محفوظ نہ ہوں اس وقت تک آپ کے پاس عمومی تحفظ بھی نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ کشمیر، سرحد پار پانی کے حقوق اور سیاچن جیسے مسائل صرف مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں۔ ہم تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اور اس سے ہمیں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ملا۔‘‘
اگر یہ بیان وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے آیا ہوتا تو اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ شہباز شریف ظاہراً فوج کے قریب ترین ہیں۔ آرمی چیف کے ساتھ وہ اور چوہدری نثار سب سے زیادہ رابطے میں رہتے ہیں۔ فوج کو پنجاب کے فنڈز سے ترقیاتی کاموں میں سہولت جتنی شہباز شریف نے فراہم کی اس کا تصور بھی محال ہے۔ عام اور نجی ملاقاتوں میں بھی وہ خود سے اس تصور کو پروان چڑھاتے ہیں کہ بڑے بھائی تو فوج سے متعلق سخت رویہ رکھتے ہیں لیکن وہ غیر ضروری طور پر غیر لچک دار رویہ اپنانے کے قائل نہیں ہیں۔ مگر ہندوستان کے معاملے پر شہباز شریف جیسا نرم انداز رکھنے والا وزیر اعلی بھی ایسا بیان دینے سے گریز نہیں کر رہا جس کے نتائج سویلین اور اس کی قیادت کے تعلقات میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ان باتوں کی تردید کر دی ہے لیکن گارڈین کی خبر نے جو کام کرنا تھا‘ وہ کر دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی طرف ’’دروازہ کھول دو‘‘ پالیسی وہ معاملہ ہے جس پر نواز لیگ کی تمام قیادت ایک ہی آواز سے بولنا چاہتی ہے۔ یہ وہ کام ہے جس کو کرنے کے لیے نواز لیگ کی حکومت ہر قسم کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہو گی ۔
وفاقی حکومت اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے کے لیے اس وجہ سے بھی مائل ہے کہ اس کے اندازوں میں آج کل سے زیادہ موافق ماحول دوبارہ دستیاب نہ ہو۔ دہلی کے ساتھ تجارت، کاروبار اور ثقافت کے رابطوں کو گہرا کرنے کے خلاف کوئی سیاسی آواز میدان میں موجود نہیں ہے۔ حتی کہ ق لیگ اور پاکستان تحریک انصاف خود نواز لیگ سے زیادہ ہندوستان کے گلے کا ہار بننے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کی طرف سے مشترکہ جوہری توانائی کے منصوبے کی تجویز گواہی دیتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سرحد پار تعلقات گہرے کرنے کی خواہش پاکستان کی روایتی پالیسی پر مکمل طور پر غالب ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی ہندوستان یاترا پہلے سے ہی مشہور ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم دہلی کی زلفوں کی پرانی اسیر جماعتیں ہیں۔ باقی رہی جماعت اسلامی تو اس نے خود کو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کھڑا کر کے اپنی ساکھ اس بری طرح خراب کر لی ہے کہ اس کا اعتراض بے وزن ہو گا، عسکری قیادت کی تبدیلی کے بعد نواز لیگ کے قریبی حلقوں میں یہ اعتماد کئی گنا بڑھ گیا ہے کہ اب وہ بڑا کام کرنے کا وقت آن پہنچا ہے جس کے ذریعے میاں محمد نواز شریف تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوانے کے ساتھ ساتھ ملک میں خود کو سیاسی طور پر ناقابل تسخیر بنا پائیں گے۔ سیاسی طور پر لازوال بننے کے اس لائحہ عمل کے دو پہلو باقی ہیں‘ ایک افغانستان اور دوسرا آرمی کے ساتھ تعلقات، ان کا احاطہ اگلے کالم میں تفصیل کے ساتھ کیا جائے گا۔
طلعت حسین
Monday, 24 February 2014
پولیس کا بڑھتا ہوا جانی نقصان
کراچی پولیس ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی پولیس بھی ایک عرصے سے پر تشدد وارداتوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور عام پولیس اہلکار ہی نہیں بلکہ ان تینوں صوبوں میں متعدد اعلیٰ پولیس افسران بھی مختلف حملوں میں شہید ہوچکے ہیں۔ پولیس کے جو اعلیٰ افسران بدامنی میں نشانہ بنائے گئے ہیں ان میں اچھی شہرت کے حامل کے پی کے پولیس کے ڈی آئی جی صفت غیور اور لاہور سے تعلق رکھنے والے کوئٹہ کے ڈی آئی جی پولیس فیاض احمد سنبل شامل تھے جن کی شہادت کو پولیس کا بڑا نقصان قرار دیا جاتا ہے۔ کراچی میں پہلی بار ایس ایس پی سطح کے ایک افسر چوہدری اسلم کو گزشتہ ماہ نشانہ بنایا گیا تھا جو پولیس میں ایک دلیر اور بہادر افسر شمار ہوتے تھے مگر ان کی شہادت کے بعد سیاسی، عوامی اور پولیس کے حلقوں میں ان کا بڑا چرچا رہا اور اب ان کے چہلم کی رسم بھی ختم ہوگئی مگر کراچی پولیس کے بڑے بڑے دعوے کرنیوالے پولیس کے اعلیٰ افسران چوہدری اسلم کی شہادت کے اصل حقائق منظر عام پر لاسکے ہیں نہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ رات بھر جاگ کر اہم ملزموں کی گرفتاری کا صبح سویرے پریس کانفرنس میں اعلان کرنے والے چوہدری اسلم کو دوپہر کیوں اچانک طلب کیا گیا تھا؟
چوہدری اسلم کی شہادت کو کراچی پولیس کا بہت بڑا نقصان قرار دیا جاتا ہے جس کے بعد اعلیٰ افسران چوہدری اسلم کے قصیدے ضرور پڑھتے رہے مگر اب تک حقائق منظر عام پر لانے کی کوشش شاید اس لیے نہیں کی گئی کہ اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی گئی تھی اور کراچی پولیس کو اس زحمت سے بچا لیا تھا جس کی حقیقی تفتیش ہونی چاہیے تھی حملہ آوروں نے چوہدری اسلم کو نشانہ بنانے کی کچھ وجوہات بھی بیان کی تھیں جن کی وجہ سے کراچی پولیس نے خود کو مزید تفتیش سے بری الذمہ سمجھ کر چوہدری اسلم کو اب بھلانا شروع کردیا ہے اور ایک تھانے میں چوہدری اسلم کے نام سے ایک سبیل قائم کیے جانے سے شاید پولیس کا فرض پورا ہوگیا ہے جس کے بعد سے پولیس کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے اور بلاول ہاؤس کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر جانے والے15 پولیس اہلکاروں کی جانیں ضایع کرائے جانے کے بعد محکمے کو یہ ضرور خیال آگیا ہے کہ پولیس کے پاس اپنی حفاظت کا معقول سامان خصوصاً حفاظتی جیکٹس، جدید اسلحہ اور تیز رفتار گاڑیاں موجود نہیں ہیں۔
کراچی میں پولیس کی نچلی سطح کے اہلکاروں کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوچکا ہے۔ ٹریفک پولیس کی چوکیوں کو حفاظت کے لیے قریبی تھانوں میں منتقل کرنے، تھانوں کے گیٹ بند کرکے محصور ہوجانے سے موبائلوں، موٹر سائیکلوں پر پٹرولنگ کرنیوالے پولیس اہلکاروں کی بہت بڑی تعداد اب بھی غیر محفوظ ہے۔ یہ اہلکار شاہراہوں پر چیکنگ بھی کرتے ہیں اور اپنی سرکاری گاڑیوں کے پٹرول، گاڑیوں کی مرمت، کھٹارا گاڑیوں کے ٹائروں کی تبدیلی کے علاوہ تھانہ محرروں کی طرف سے بیٹ وصولی کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں۔ انھیں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کرنیوالوں کو بھی ڈھونڈنا ہوتا ہے نئے گھروں کی چھت بھرائی کی مٹھائی وصولی، کباڑ خانوں پر حاضری کے لیے چھوٹی سڑکوں اور گلیوں میں بھی جانا ہوتا ہے اور اپنے افسروں سے ملنے والی بیگار بھی بھگتانا پڑتی ہے اور وہ یہ سب کچھ کان ہتھیلی پر لے کر کرنے پر مجبور ہیں اور ان کے ساتھ اے ایس آئی سطح کا افسر ضرور نظر آتا ہے جب کہ پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے اپنے حفاظتی اسکواڈ میں سفر کرتے ہیں اور جن کو سرکاری گھر میسر نہیں وہ مختلف علاقوں میں رہتے ضرور ہیں مگر ان کی گھروں میں حفاظت کرنیوالے پولیس اہلکار ان کے گھروں کے باہر خیموں میں غیر محفوظ ڈیوٹی پر مجبور ہیں۔
پولیس میں 60 سال سے زائد عمر کے ایسے افسر اور اہلکار بھی موجود ہیں جو اب کچھ کر دکھانے کی صلاحیت تو نہیں رکھتے مگر مال بنانے کا ان کا شوق پورا نہیں ہو رہا اور انھوں نے اپنے صاحبزادوں کو بھی پولیس میں بھرتی کروا رکھا ہے مگر وہ محکمے کی جان نہیں چھوڑ رہے اور حکومت سندھ کا یہ فیصلہ بھی عجیب ہے کہ نئے خون اور نوجوانوں کو پولیس میں ملازمتیں دینے کی بجائے فوج کے ریٹائرڈ سپاہیوں کو محکمہ پولیس میں بھرتی کرلیا ہے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ریٹائرڈ فوجیوں کے ذریعے کراچی کی بدامنی پر قابو پانے کے خواہاں ہیں حالانکہ فوج اور پولیس کے کام مختلف ہیں اگر ایسا کرنا ہی تھا تو پولیس کے ریٹائرڈ مگر اچھی شہرت اور ماضی میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی خدمات سیاست اور خوشامد کے بغیر حاصل کی جاسکتی تھیں۔کراچی پولیس میں شکستہ دلی اور بددلی کی ایک وجہ ترقیوں میں ناانصافیاں بھی ہیں اور اسی لیے ترقی کے حقداروں نے عدالت عالیہ سے رجوع بھی کر رکھا ہے مگر جلد انھیں انصاف ملتا نظر نہیں آرہا کیونکہ غیر قانونی ترقی پانے والوں کے ہاتھ بڑے لمبے اور سیاسی سفارشیں مضبوط ہیں جب ہی تو وہ خوشامدی ترقیاں لے کر جونیئر ہونے کے باوجود اپنے سینئرز پر حکم چلا رہے ہیں اور سیاسی حکمران خوش ہیں ۔
تقریباً 11 ماہ تک سندھ کا آئی جی رہنے والے شاہد ندیم بلوچ عزت سے اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوگئے ہیں اور ان کے ریکارڈ میں صرف یہی ہے کہ انھوں نے دوسروں کی طرح اپنی ملازمت میں توسیع کی کوشش نہیں کی البتہ اپنے دور میں موٹر سائیکلوں پر ایک جیسی نمبر پلیٹیں ضرور لگوادیں اور وہ بھی سندھ کے حکمرانوں کے پسندیدہ افسروں کو آپریشن کے دوران من مانیوں سے نہ روک سکے۔
کراچی پولیس اپنے بے پناہ جانی نقصان کے بعد پریشان ہے اور خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے اسی لیے اعلیٰ افسران تک عام لوگوں کی رسائی ناممکن ہوچکی ہے اور کچھ حساس تھانوں کی حفاظت کے لیے خندقیں کھدوا کر یا اطراف میں بڑے بھاری سیمنٹ بلاک رکھوا کر پولیس اپنی حفاظت تو یقینی بنا رہی ہے اور عام لوگ حیران ہیں کہ ان کی حفاظت کیا اب پولیس کی بجائے ریٹائرڈ فوجی کریں گے۔پولیس کی بڑی تعداد وی آئی پیز اور اپنے افسروں کی حفاظت پر مامور ہے اور پولیس کے ساتھ عام لوگوں، افسروں، وکلا، ڈاکٹروں اور سیاسی رہنماؤں کی کلنگ بھی جاری ہے مگر پولیس مخدوش صورتحال پر قابو پانے میں ناکام اور عوام کی حفاظت کی بجائے اپنی حفاظت پر مجبور ہے تو آخر عوام کہاں جائیں کیا کریں؟ مگر اس سب کے باوجود پولیس کو ہر ممکن جدید سہولتوں سے لیس ہونا چاہیے کہ شہر اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمے داری بہر حال پولیس فورس پر ہی عائد ہوتی ہے۔
محمد سعید آرائیں
اوباما انتظامیہ کا ہزاروں امریکی فوجیوں کو فارغ کرنے کا فیصلہ



































