جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔ یہ مثل بریگیڈیئر باسط پر صادق آتی ہے ۔ پرسوں ان کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئے ۔ دوسرے ساتھیوں کو بھی کوئی زخم تک نہ آیا۔ ایک کمانڈو کے کان کے نیچے ہلکی سی خراش آئی اور بس ۔ فون پر بریگیڈیئر باسط نے مجھے اس واقعے کی جو تفصیلات بتائیں وہ جادو نگری کی کسی کہانی سے مختلف نہیں ہیں۔ سڑک پر بیٹھے ہوئے حملہ آور کو انھوں نے پہلے سے دیکھ لیا تھا ۔ لیکن وہ چونکہ موڑ کے پاس موجود تھا لہذا گاڑی کو روکنا ممکن نہیں تھا ، انھوں نے حملہ آور کو اپنی آنکھوں کے سامنے پھٹتے ہوئے دیکھا مگر نہ کوئی چَھرا لگا اور نہ ہی بم کاٹکڑا ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنا بڑا حملہ اتنے قریب سے ہوا ہو اور کوئی نقصان نہ ہو۔ مگر ایسا ہی ہوا ۔ بریگیڈیئر باسط کا کہنا تھا کہ ان کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ایک نہ نظر آنے والی دیوار ان کے اور حملہ آور کے درمیان آ گئی ہو ۔ دھماکا دیکھا بھی اور سنا بھی مگر صاف بچ گئے ۔ ان کے مطابق خدا کے گھر دو ماہ پہلے دی ہوئی حاضری اور ماں باپ کی دعائیں اس مشکل وقت میں ان کے کام آ گئیں۔اس میں کوئی شک نہیں دعائیں اور عبادات بڑے امتحان ٹال دیتی ہیں ۔ نیکی کی کثرت مشکل میں ڈھال بن جاتی ہے ۔
No comments:
Post a Comment