حبیب جالبؔ بلاشبہ ہمارے ادبی سرمائے میں درخشاں ستارے کی مانند پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اور رہیں گے، وہ ایک قلندر صفت انسان تھے انھوں نے شاید ہی کبھی اپنے لیے کسی شے کی فرمائش اور خواہش کی باوجود اس کے کہ اس ’’عوامی شاعر‘‘ کے گھر میں فاقوں کا راج بھی رہا۔ وہ حقیقتاً خودداری کی انتہا پر فائز تھے۔ جالبؔ کا دور آمریت کے گھٹا ٹوپ اندھیاروں کا دور تھا۔ وہ سچ و حق پر مکر و فریب کے حاوی ہونے کا دور تھا۔ وہ غریب کو جوتی پر رکھنے کا دور تھا۔ بعض اہل علم و ادب زندگی جیسی عارضی و فانی llusion Iکا خیال کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کی خوشیوں کے لیے اپنے ضمیر تک کو بیچ دیتے ہیں محض چند کوڑیوں کے عوض اور پیلی صحافت کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن ان کے جسموں پر پھر نہ تو لہو گردش کرتا ہے اور نہ ہی روح نام کی کوئی شے باقی رہتی ہے، جالبؔ ایک مقدس روح ہیں، تھے اور رہیں گے وہ نہ تو آمروں کے کہنے پر چلے اور نہ ہی ان کے سامنے کٹھ پتلی بنے، انھوں نے لکھا اور بے تکان لکھا ان کی شاعری ایوان بالا میں موجود کالے چشمے لگائے روحوں سے عاری لوگوں اور کھیتوں میں خون پسینہ بہاتے ہاریوں نے سمجھی وہ بلاشبہ عوامی شاعر ہیں۔ وہ ایک نڈر، بے باک، نہ بکنے والے ذی ہوش انسان تھے۔ شعرا بک سکتے ہیں لیکن جالبؔ عالم کسمپرسی کے عالم میں بھی صرف دینا جانتے تھے۔ ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو آکسیجن کی جگہ سلفورک ایسڈ کی بو پھیپھڑوں میں آنے لگتی ہے، سوچ پر آمریت کے کمند پڑ جاتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment