گزشتہ روز لاہور میں دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں منعقدہ مفتی محمد حسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی سیمینار کے سالانہ اجتماع میں مجھے پاکستان کی ممتاز میڈیا شخصیات، سیاسی قائدین اور مذہبی اسکالرز اور مقررین کے خیالات کو سننے کا موقع ملا۔ ایک ہی اسٹیج سے مختلف مکاتب فکر کے مقررین کے خیالات سے آگہی کا موقع ملا۔ افکار و خیالات کے اشتراک، اختلاف بلکہ بعض امور پر تضاد کے لحاظ سے اعتدال سے لیکر راسخ العقیدہ مذہبی اور بعض جوش و جذبے والے عقابی جذبات و خیالات بھی سننے کو ملے۔ صرف چار منٹ کی تخصیص کے ساتھ مجھے ’’امریکہ میں اسلام‘‘ کے بارے میں کچھ کہنے کا حکم ملا۔ پاکستان میں لفظ امریکہ اور اس کی پالیسیوں کے بارے میں ’’حساسیت‘‘ بلکہ جذبات کے ماحول میں امریکہ کے جمہوری، مذہبی رواداری ،برداشت اور ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس معاشرے کے مثبت تجربات بیان کرنا قدرے مشکل نظر آرہا تھا مگر اس اجتماع کے شرکاء کی واضح اکثریت نے میری مختصر گزارشات کو تحمل سے سنا ۔وقت کی کمی کے باعث اس موضوع کے ساتھ انصاف کرنے، اپنے مشاہدات و تجربات اور رائے کو مکمل انداز میں بیان کرنے کیلئے مزید گزارشات اس کالم کی شکل میں پیش کر رہا ہوں، تبصرہ، تنقید، تجزیہ و تجاویز سے قارئین آگاہ فرمائیں۔
No comments:
Post a Comment