ذکر تھر کے ریگستان میں پاکستانی بچوں کی کَس مپرسی کی حالت میں موت کا ہے لیکن پوری قوم کے لیے اس شرمناک سانحے کا ذکر پہلے کہاں سے شروع کیا جائے سمجھ میں نہیں آ رہا اور یہ سمجھ میں آنے والی بات بھی نہیں ہے۔ تھر کے اس قحط زدہ علاقے سے باہر کا پاکستان تھر کے مقابلے میں ایک خوشحال پاکستان ہے مگر اس خوشحال پاکستان کو اپنے جسم کے ایک حصے کی خبر نہیں۔ یہ کیسا پاکستان ہے جس کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور باقی کا پورا پاکستان خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہے حتیٰ کہ تھر جیسا چولستان نامی ایک اور ریگستان ایسی موت سے محفوظ ہے۔ وزیر اعظم جب تھر پہنچے تو انھوں نے حکم دیا کہ صوبائی وزیر اعلیٰ اپنی انتظامیہ کے ان افراد کو سزا دیں جو اس سانحہ کے ذمے دار ہیں۔ قریب ہی گندم کے ڈھیر لگے ہوئے تھے جو ان بھوکے پاکستانیوں تک نہیں پہنچائے گئے لیکن وزیر اعظم کی سادگی یا سیاسی مجبوری کہ انھوں نے اس سانحے کے اصلی ذمے دار سے کہا کہ وہ اس سانحہ کے مجرموں کو سزا دے یعنی وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا والا مضمون بلکہ آگے چلیے کہ اس سانحہ کی ذمے داری آخر میں خود وزیر اعظم تک پہنچتی ہے کہ وہ پورے ملک کے، بشمول تھر پارکر کے، سب کے حکمران اعلیٰ ہیں اور ہر اچھی بری بات کے ذمے دار بھی۔ ایک ایسے ہی اعلیٰ ترین حکمران کا ایسی ہی صورت حال میں ایک واقعہ جو میں حال ہی میں کہیں پڑھا ہے۔
No comments:
Post a Comment