پاکستان کے حالات کی ابتری‘ بدحالی اور سیاسی عدم استحکام

23:37 Unknown 0 Comments


جو لوگ یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ پاکستان کے حالات کی ابتری‘ بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ایک داخلی مسئلہ ہے‘ انھیں دنیا کی گزشتہ پچاس ساٹھ سال کی تاریخ اور اس میں بدلتی‘ ٹوٹتی حکومتوں کے قصے‘ ہنگامہ آرائیاں‘ قتل و غارت اور معاشی زوال کی داستانوں کا ضرور مطالعہ کر لینا چاہیے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جب دنیا کے افق پر امریکا اور روس دو عالمی طاقتوں کے طور پر ابھرے تو سرد جنگ کا آغاز ہوا‘ جس نے دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں کو وسعت دی۔ جنگیں اب سرحدوں پر نہیں بلکہ ملکوں کے اندر لڑی جانے لگیں۔

دونوں ملک اپنے ٹوڈی اور پروردہ حکمرانوں کو مسلط کرنے کے لیے کبھی فوج میں سرمایہ کاری کرتے اور کبھی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں کی پشت پناہی۔ دونوں صورتوں میں زمین پر آگ برستی‘ انسانوں کا خون بہتا اور ملک معاشی زوال کے دلدل میں پھنس جاتے۔ روس کے ٹوٹنے کے بعد یہ کردار اب صرف اور صرف امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے مخصوص ہو گیا۔ گزشتہ چند سالوں سے روس نے ایک بار پھر انگڑائی لی ہے لیکن اس کی انگڑائی کی وسعت اتنی ہی ہے اور وہ اپنے بازو اتنی دور تک پھیلاتا ہے جہاں تک امریکا یا مغرب کا مفاد ان کے زد میں نہیں آتا۔

مسلم امہ کے ممالک کو ابتری‘ بدحالی‘ خونریزی‘ خلفشار اور سیاسی خانہ جنگی میں مسلسل مبتلا رکھنے کا خواب ان دونوں کا مشترک مفاد ہے۔ جن ممالک میں حکمران امریکا مفادات کے ساتھ ہیں وہاں خانہ جنگی کرنے والوں کی مدد روس اور اس کے حواریوں کے ذمے اور جہاں حکمران روس کے حاشیہ نشین ہیں وہاں باغیوں کی مدد امریکا اور اس کے دوست ممالک کی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔ یہی صورت حال روس کے ٹوٹنے سے پہلے سرد جنگ کے دوران بھی تھی۔ یہ سرد جنگ ایک بار پھر ہلکے ہلکے سلگ رہی ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں کے دوران امت مسلمہ کے درمیان بھی ایک سرد جنگ شروع ہے جسے آہستہ آہستہ مغرب نے آگ دکھا کر ایک بہت بڑے معرکے میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس جنگ کے دونوں سرخیل سعودی عرب اور ایران بھی امریکا اور روس کی طرح بظاہر کسی بھی جنگی محاذ پر برسرپیکار نہیں ہیں‘ نہ ہی دونوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں‘ لیکن امت مسلمہ کے ممالک پر غلبے اور اثر و رسوخ کے ہیجان نے ان دونوں ممالک کی مدد سے کتنے ملکوں میں خانہ جنگی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ الجزائر سے لے کر پاکستان تک کوئی خطہ اس عفریت سے محفوظ نہیں۔ اس جنگ کو، جو دونوں ملکوں کے ذاتی غلبے کی جنگ تھی‘ مغرب نے اپنی مخصوص چالبازی اور مدد سے شیعہ سنی تنازعہ کی شکل دے دی ہے اور اس خانہ جنگی سے صرف وہی ملک محفوظ ہیں جن میں ایک ہی فقہہ کے ماننے والے واضح اکثریت میں رہتے ہیں۔ جیسے بنگلہ دیش‘ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور شمالی افریقہ کے کچھ ممالک۔ باقی سب جگہ دونوں گروہ اللہ‘ رسولﷺ‘ صحابہ رسولؐ اور خانوادہ رسول کے نام پر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ یہ وہ صورت حال ہے جو امریکا‘ روس اور مغرب کے ممالک کے لیے آئیڈیل ہے۔

انھی اختلافات میں سے اس استعمار نے اپنا راستہ نکالنا ہے‘ کہیں نام نہاد جمہوری جدوجہد اور حقوق کی تحریکیں‘ تو کہیں شدت پسند اور دہشت گرد گروہ اور پھر کہیں اس ملک کی مسلح افواج… جو بھی ان کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اسے اقتدار پر بٹھانے اور مخالف کو مسند اقتدار سے اتارنے کی کوشش کرنا اور اپنے مفادات کا اس ملک میں تحفظ کرنا ان کی ترجیح ہے۔ ان سب کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ لیکن چند ایک کامیاب اور ناکام کوششیں تحریر کر رہا ہوں تا کہ اندازہ ہو سکے کہ یہ طاقتیں کیسے ملکوں کے اندر حکومتیں بدلتی اور خانہ جنگی پیدا کر کے اپنے مفاد کا تحفظ کرتی ہیں۔ ان کا طریقہ کار کیا ہے اور کیسا ہوتا ہے۔

شام میں شکری الکواتلی کی حکومت تھی امریکا اور یورپ تیل کی سپلائی کے لیے پائپ لائن بچھانا چاہتے تھے۔ حکومت نے انکار کیا توسی آئی اے نے سوشل نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر تحریک شروع کروائی‘ یہاں تک کہ اپنے دو ایجنٹوں مائلز کوپلینڈ (Miles Copeland) اور اسٹیفن می ایڈ Stephen Meade کو حالات خراب کرنے کی نگرانی کے لیے بھیجا۔ جب حالات بگڑے تو آرمی چیف حسنی الزیم کے ذریعہ 29 مارچ کو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 1953ء کو ایرانی وزیر اعظم مصدق کے خلاف جنرل فضل اللہ ہادی کی سربراہی میں فوجی بغاوت کرائی گئی۔ اس سے پہلے ایران میں عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے جلوس اور ہنگامے برپا کیے گئے۔

سی آئی اے کی وہ دستاویزات جو امریکی سفارتخانے سے ملی تھیں ان کے مطابق 25 ہزار ڈالر بسوں اور ٹرکوں کے کرایے کے طور پر ادا کیا گیا‘ جن میں مظاہرین کو بھر کر تہران لایا گیا تھا۔ مصدق کی حکومت الٹنے کی وجہ آبادان آئل ریفانری تھی جس کو مصدق نے قومیانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ گوئٹے مالا میں امریکا کی مدد سے ایک آمر جارج اوبیکو برسراقتدار تھا۔ لیکن 1950ء کے الیکشن میں ایک شخص جیکب آر بیز Jecobo Arbez بے تحاشا اکثریت سے الیکشن جیت گیا۔ اس نے عام کسانوں کو ملکیتی حقوق دینے کا آغاز کیا۔ زمینوں پر امریکی کمپنیاں قابض تھیں۔

ایک امریکی کمپنی یو ایف سی او (UFCO) نے کانگریس کے ارکان کو گوئٹے مالا کی حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا۔ امریکی کانگریس کے جمہوری حکمران انھی کمپنیوں کے پیسے سے الیکشن جیتتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان جمہوری حکمرانوں نے سی آئی اے کی مدد سے گوئٹے مالا میں 1954ء میں فوجی بغاوت کر وا دی۔ تبت میں 16 مارچ 1959ء کو مسلح جدوجہد کا آغاز کروا یا گیا۔ دلائی لامہ کو عالمی ہیرو بنا کر پیش کیا گیا سی آئی اے کے کیمپ ’’ہالی‘‘ میں 259 گوریلے تیار کر کے تبت بھیجے گئے جو وہاں لوگوں کو تربیت دیں۔ 1962ء تک یہ جنگ جاری رہی۔ چین کی افواج نے قابو پایا تو گوریلوں کو شمالی نیپال میں اکٹھا کیا گیا لیکن 1974ء میں چین سے تعلقات بہتر ہوئے تو اسے سی آئی اے نے ختم کروا دیا۔

جنوبی ویت نام میں جہاں امریکا کے اپنے پٹھو ڈونک وان منہ کی حکومت تھی اسے صرف اس جرم کی سزا دی گئی کہ وہ امریکا کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والے بدھ بھکشوئوں پر نرمی برتتا تھا۔ یہ بدھ بھکشو لوگوں کے درمیان خود کو آگ لگا کر خود کشی کرتے تھے۔ وہاں پر موجود کیتھولک عیسائیوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا جنہوں نے بدھووں کے مذہبی مراکز اور دیہات پر حملے کیے اور قتل و غارت کیا۔ ملک میں بدامنی پھیلی تو ڈونک وان منہ کو گرفتار کر کے اگلے روز اس کے بھائی کے ہمراہ پھانسی دے دی گئی۔ برازیل کے صدر جووا گولارٹ Joao Goulart نے امریکی کمپنیوں کے منافع میں سے عوام کو فائدہ پہنچانے والی اسکیمیں شروع کیں تو اس کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز ’’برادر سام‘‘ نامی آپریشن سے کروایا گیا۔ نیو جرسی سے 110 ٹن اسلحہ برازیل بھیجا گیا۔

بدامنی پھیلی تو یکم اپریل 1964ء کو اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ چلی تو لاپتہ افراد اور امریکی سی آئی اے کے تیار کردہ افراد کے ہاتھوں مارے جانے والے لاکھوں انسانوں کا ملک ہے۔ 11 ستمبر 1973ء میں بدنام زمانہ ڈکٹیٹر جنرل پنوشے کو امریکی آشیر باد اور فوج کے ذریعے برسر اقتدار لایا گیا اس کے بعد کی کہانی بہت خونچکاں ہے۔ ارجنٹائن میں ازابیل پیرون صدر منتخب ہوئیں۔ وہاں موجود کیمونسٹ گوریلوں کو بہانہ بنایا گیا اور انھیں علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے کر 26 مارچ 1976ء کو جنرل رافیل کے ذریعے ازابیل کا تختہ الٹ دیا گیا۔

امریکی موقف یہ تھا کہ سیاسی حکومت ان گوریلوں کے ساتھ امن مذاکرات میں لگی ہوئی ہے۔ ملک کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا اور فوج کے ذریعے تشدد پسندوں کو ختم کرنے کے بہانے قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ 1979ء میں نکارا گوا میں کونٹرا گوریلوں کی خفیہ مدد کی گئی۔ اس دفعہ تشدد پسند گوریلے امریکا کے منظور نظر تھے۔ یہی کونٹرا گوریلے تھے جن کا اسلحہ خفیہ طور پر ایران کو فراہم کیا گیا۔ کونٹرا سکینڈل دنیا کا مشہور ترین سکینڈل ہے۔ وینزویلا کے ہیگو شاویز کے خلاف ناکام عوامی تحریک تو پرائیویٹ میڈیا چینلز اور سرمائے کے بل بوتے پر مظاہرین کے ذریعے برپا کی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہیوگوشاویز کی مقبولیت کی وجہ سے دم توڑ گئی۔

یہ ہیں تاریخ کی چند مثالیں۔ یہ اس زمانے کی ہیں جب کیمونزم کو خطرہ بنا کر دنیا کو ڈرایا جا رہا تھا اور ملکوں کے اندر اپنے مفاد کے لیے کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔ ایسے تمام ممالک جہاں کیمونزم کا خطرہ تھا انھیں بدامن، ابتر، بدحال اور خانہ جنگی کا شکار رکھا جاتا تھا۔ اب دنیا کو باور کرانا ہے کہ خطرہ مسلمانوں اور اسلام سے ہے۔ جب تک مسلم امہ کے تمام ممالک بدامنی‘ بدحالی‘ ابتری اور خانہ جنگی کا شکار نہیں ہوتے یہ تاثر نہیں دیا جا سکتا کہ مسلمان دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ عرب بہار سے مصر‘ مراکش‘ تیونس‘ شام اور یمن میں بے چینی کی لہر کو پہلے جمہوری جدوجہد اور جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا اور پھر ان ملکوں کو دوبارہ خانہ جنگی میں الجھایا گیا۔

لیبیا میں قذافی کے خلاف ایسے دہشت گردوں کی مدد کی گئی جنھیں خود امریکا دہشت گرد کہتا تھا۔ شام اور عراق میں شیعہ سنی تنازع میں لاکھوں انسانوں کو قتل کرنے کے لیے سعودی عرب اور ایران کی سرد جنگ کو اسلحہ فراہم کر کے تیز کیا گیا۔ اس سارے ماحول میں پاکستان کیسے نگاہوں سے اوجھل رہ سکتا تھا۔ دنیا بھر کے کارپوریٹ سیکٹر کے پیسے خصوصاً بھارتی کارپوریٹ کے سرمائے کو بھارت میں نریندر مودی کو جتوانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب افغانستان میں حامد کرزئی کی نرم پالیسی کی وجہ سے پاکستان مخالف حکمران منتخب کروانے کی کوشش ہوئی‘ ایران کو سعودی اثر و نفوذ کی وجہ سے مخالف بنایا گیا۔

ایسے میں جب کوئی پڑوسی ساتھ نہ ہو تو پھر مسلم امہ کی سرد جنگ کے علم بردار دونوں ممالک اس مملکت خداداد پاکستان میں اپنے جتھے مضبوط کرنے لگے۔ شمال میں طالبان جنوب میں قوم پرست اور فرقہ پرست‘ ملک تشدد اور خانہ جنگی کا شکار ہو گیا تھا لیکن ایک عوامی تحریک کی ضررت ہوتی ہے تا کہ حکومت کا تختہ کسی جواز کی بنیاد پر الٹا جائے۔ جنگ کی بساط بچھ چکی ہے۔ مسلم امہ کی خفیہ سرد جنگ اورامریکا اور یورپ کی منصوبہ بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔ کب کس وقت اور کیسے شہ مات ہوتی ہے۔ وقت کا انتظار کرو۔

اوریا مقبول جان 

 

0 comments: