انقلاب سو روپے فی کلو.......

03:18 Unknown 0 Comments


نورِ حق شمع الہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون

ڈومینین کا گورنر جنرلی نظام ہو کہ سول ملٹری ٹیکنو کریٹک ماڈل کہ سیدھی سیدھی فوجی آمریت کہ سول ملٹری مشترکہ ڈکٹیٹر شپ کہ فوجی جمہوریت کہ عوامی جمہوریت کہ گائڈڈ ڈیموکریسی کہ اسلامک ملٹری ماڈل کہ خالص اسلامی جمہوریت کہ اسلامی سوشلزم کہ سعودی نیم شرعی ماڈل کہ ویسٹ منسٹر پارلیمانی نظام۔ ہم ہر قسم کے نئے، پرانے، سیکنڈ ہینڈ، تجرباتی، تصوراتی، آدھے، پورے، کچے، پکے، پختہ، نیم پختہ، دم پخت، کنڈیشنڈ، ری کنڈیشنڈ، نظام ہائے زندگی و حکومت اور ہر قسم کا انقلاب ’’جہاں ہے جیسا ہے ’’ کی بنیاد پر مناسب قیمت پر خریدتے ہیں۔ سودا نقد و نقد اور جھٹ پٹ۔ صرف سنجیدہ فروخت کنندگان رجوع کریں۔ دلالوں اور کمیشن ایجنٹوں سے معذرت۔ جلنے والے کا منہ کالا۔
چھیاسٹھ برس سے آپ کے اعتماد و معیار کے ضامن۔
پاکستان اینڈ برادرز ، بالمقابل مزارِ قائد ، نیو ایم اے جناح روڈ ، کراچی پوسٹ کوڈ 014847
( نوٹ۔ ہماری کوئی برانچ نہیں )۔

کیا آپ میں سے کوئی اجمیر شریف گیا ہے۔ تو جوگئے ہیں وہ انھیں احوال بتا دیں جو نہیں گئے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے دربار میں دنیا کی دو سب سے بڑی دیگیں نصب ہیں۔ چھوٹی دیگ اکبر نے اور بڑی جہانگیر نے نذر کی تھی۔دونوں میں کل ملا کے ایک وقت میں سات ہزار دو سو کلو گرام کھانا پک سکتا ہے۔ ان دیگوں کی گہرائی اتنی ہے کہ خادم کو صفائی کے لیے سیڑھی لگا کے اترنا پڑتا ہے۔ ایسی دیگوں میں کھانا پکانے کے لیے بھی مخصوص مہارت والے کاریگر درکار ہیں۔ وہی طے کرتے ہیں کہ کون سی شے کس مقدار میں کب اور کیوں پڑے گی اور پکنے کے بعد ذائقہ کیسا ہوگا۔ یہ دیگیں لنگرِ عام کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں اور پیسے والے عقیدت مند یا وہ اشرافیہ جس کی کوئی من مراد پوری ہوجائے ہے اپنی خوشی سے ان میں کھانا پکوا کے تقسیم کرسکتے ہیں۔
اگر ہم اس ملک کو درگاہ حضرت خواجہ غریب نواز کی دیگ کی طرح کی کوئی چیز سمجھ لیں تو یہاں کے معاملات اور ذائقہ سمجھنے میں قدرے آسانی ہو جائے گی۔اس دیگ میں بھی کسی بھی آنچ پر کچھ بھی پک سکتا ہے یا پکوایا جا سکتا ہے۔لنگر لینے والے سلامت۔لنگر بانٹنے والے بہت۔۔۔

ویسٹ منسٹر والے سیکنڈ ہینڈ جمہوریت بیچ گئے۔یہاں اس کی وہ ایسی تیسی ہوئی کہ مار مار کے بنیادی جمہوریت کے بونے میں تبدیل کردیا گیا۔جب جب اس بونے نے قد نکالنے کی کوشش کی تب تب چھتر پے چھتر پڑے۔
اسلام کہ جس کے معنی ہی مذہبِ امن ہے۔مگر یہ معنی بھی یہاں کسی سے ہضم نہ ہو پائے۔اس مفہوم کی قبا کا جوٹکڑا جس کے ہاتھ لگا لے اڑا بلکہ اسلام کو عفو ، درگزر ، وسیع القلبی ، عدم استحصالی ، صلہِ رحمی ، غریب نوازی ، علم کی کھوج ، عمل کی کسوٹی ، کل جہانوں کی رحمت ، نسلی ، سماجی ، اقتصادی پیغامِ مساوات سمجھنے اور اپنانے کے بجائے محض ایک تعزیراتی نظام جان کر ریاکاری و کاروباریت کے بے روح شو روم پر رکھ دیا گیا۔بلالی صلاصل توڑنے والے اس سیدھے سادے سے نظام کو بھانت بھانت کی ایسی وزنی وزنی تشریحی زنجیریں پہنا دی گئیں کہ ان کے بوجھ سے اپنا ہی اگلا قدم اٹھانا خود پے دوبھر ہوگیا۔

اب یہی کچھ ’’انقلاب’’ کے ساتھ بھی ہونے جا رہا ہے۔کسے پڑی کہ لمبے لمبے انقلابی بھاشن جھاڑنے سے پہلے کسی سے انقلاب کے معنی ہی پوچھ لے۔پوچھنے میں عزت گھٹتی ہے تو ڈکشنری میں ہی دیکھ لے۔اب تک دنیا میں انقلابِ مسیح سے انقلابِ ایران تک جتنے بھی سماج منقلب ہوئے ان ہی کا مطالعہ کرلے۔ مگر یہ سب کام محنت طلب ہیں اور آج کے سوشل میڈیائی ایئرکنڈیشنڈ انقلابی کو محنت سے بھلا کیا علاقہ ؟ چی گویرا کے بقول انقلاب کوئی سیب تو نہیں کہ خود ہی پک کے جھولی میں آن گرے گا ، اسے تو درخت سے توڑنا پڑتا ہے۔
کاسترو کے بقول انقلاب ماضی کے تہہ خانے میں بند مستقبل کو آزاد کرانے کا نام ہے۔لینن کے بقول انقلابی نظریے کے بغیر انقلابی تحریک ممکن ہی نہیں۔ماؤزے تنگ کے بقول انقلاب کسی ضیافت کے کھانے، فن ِ مضمون نگاری یا کشیدہ کاری کے ہنر میں طاق ہونے جیسی دلچسپ ، گداز ، نفیس شے نہیں بلکہ ایک طبقے کے ہاتھوں دوسرا طبقہ کلی طور پر الٹائے جانے کا نام ہے اور یہ کام سو فیصد شائستگی و نفاست کے ساتھ ہونا بہت مشکل ہے۔

پھر بھی اگر کسی روسو ، لینن ، ماؤ ، چی گویرا ، کاسترو یا خمینی کو انقلاب بطور غریب کی جورو ریڑھے پر بیٹھا بھیک مانگتے دیکھنے کی چاہ ہو ، اگر کسی کو اپنے کانوں سننا ہو کہ میں چاہوں تو چوبیس گھنٹے میں انقلاب آ سکتا ہے مگر میں نے اپنے کارکنوں کو ملکی مفاد میں بہت مشکل سے روکا ہوا ہے ، یا حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو چودہ اگست کو انقلاب آوے ہی آوے ، یا میں نے ناسازی ِ طبع کے سبب انقلاب دو ہفتے کے لیے ملتوی کردیا ہے ، یا پولیس ایسے ہی تشدد کرتی رہی تو پھر ہم انقلاب کیسے لائیں گے، یا اگر تمہیں انقلاب نہیں چاہیے تو میں واپس جارہا ہوں یا میں انقلاب لائے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا یا ہمیں ہمارا انقلاب شرافت سے دے دو ورنہ ہم چھین لیں گے، یا ضلعی انتظامیہ کے انقلابی اقدامات سے رمضان میں اشیا کے نرخ کنٹرول کرلیے گئے، یا گوادر کاشغر کاریڈور کی تکمیل سے ملک میں انقلاب آجائے گا، یا حکومت بجلی کا بحران حل کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کررہی ہے یا سیکریٹری ایجوکیشن کان کھل کے سن لیں اگر اگلے اڑتالیس گھنٹے میں ایڈہاک ٹیچرز کو مستقل نہ کیا گیا تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا اور اس کے نتیجے میں خدانخواستہ انقلاب آگیا تو ہم ذمے دار نہ ہوں گے، یا ذرا تمیز سے بات کیجیے آپ کسی للو پنجو سے نہیں اصغر انقلابی سے مخاطب ہیں ، یا اظفر تیرے خون سے انقلاب آئے گا، یا حکیم قابل پسوڑی کی صرف ایک گولی گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں اور ایک رات میں انقلابی قوتِ مردانہ حاصل کرکے ازدواجی زندگی میں خوشگوار انقلاب لے آئیں (محدود عرصے کے لیے تعارفی قیمت فی کورس صرف پانچ صد روپے )۔
اگر یہ سب تماشا اور تماش بین اپنی آنکھوں دیکھنے ، کانوں سننے اور پھر کپڑے پھاڑ کے جنگل کی جانب دوڑنے کی تمنا ہو تو ویلکم ٹو پاکستان ٹو تھاؤزنڈ فورٹین۔۔۔۔

بھاڑ میں جائے ٹینیسی ولیمز کہ جس نے بکواس کی کہ انقلاب کو ایسے خواب دیکھنے والے چاہئیں جو انھیں یاد بھی رکھ پائیں۔کیڑے پڑیں ارسلا گوئین جیسی انارکسٹ کی قبر میں کہ جس نے یہ جاہلانہ بات کی کہ تم انقلاب نہ کسی دکان سے خرید سکتے ہو نہ گھر میں بنا سکتے ہو، انقلاب یا تو تمہاری رگوں میں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔یہ سب انقلابی اور ان کے افکار اور ان کی جدوجہد ، قربانیاں اور اخلاص تمہیں مبارک ۔

ہمیں تو اپنے سونامی انقلابی عمران خان ، ٹیلی فونک انقلابی الطاف حسین، موٹر وے انقلابی شریف برادرز ، ٹویٹری انقلابی بلاول بھٹو زرداری ، کنٹینری انقلابی طاہر القادری، سرخ ( حویلی ) انقلابی شیخ رشید ، مہمل انقلابی چوہدری شجاعت ، آرمڈ چئیر انقلابی حمید گل ، احتیاطی انقلابی سراج الحق اور سہولتی انقلابی فضل الرحمان ہی بہت۔۔۔۔۔۔
اے روحِ ’’ انقلاب ’’ ہمیں ناموں سے نہ پہچان

کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

0 comments: