شجیع کو داد شجاعت دیں.......

03:34 Unknown 0 Comments


معلم اور سیاستدان، کیا ان دو شخصیتوں میں کوئی مماثلت ہے؟ کیا آپ پسند کریںگے کہ پاکستانی سیاستدان آپ کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائیں، اسکول یا کالج کی سطح پر ان کے استاد کے فرائض انجام دیں؟ اور کیا آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ جب آپ کے بچے ان سیاستدانوں کے زیرسایہ تعلیم وتربیت پائیں گے تو وہ دیانت وامانت کے پیکر ہوں گے اور جب پاس آوٹ ہوں گے تو ان کے ہاتھوں میں جعلی نہیں بلکہ اصلی ڈگری ہو گی؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے آپ یقینا پہلے پاکستانی سیاسی شخصیات کا جائزہ لینا پسند کریں گے۔
آپ ان کے اخلاق، گفتار، کردار، معاملات اور تعلیمی قابلیت پر نظر ڈالیں گے، آپ جلسے جلوسوں میں استعمال ہونے والی زبان سنیں گے، اسمبلی اجلاس کی روداد پڑھیں گے اور ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں ان کا انداز گفتگو دیکھیں گے۔ اس جائزے کی روشنی میں سیاستدانوں کا جو عمومی چہرہ آپ کے سامنے آئے گا وہ کچھ ان صفات سے عبارت ہو گا: وعدہ خلاف، جعلی ڈگری ہولڈرز، مخالفین کے لیے ناشائستہ اور بسا اوقات گھٹیا و بازاری زبان کا استعمال، اختیارات کا غلط استعمال، بدلتی وفاداریاں اور کرپشن کے اسکینڈلز۔ اگر صرف کراچی کا جائزہ لیں توآپ کو چند ایک کے سوا ہر سیاسی جماعت میں ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کی فوج نظر آجائے گی۔

غرض کراچی سے خیبرتک آپ ہرجماعت اور اس سے تعلق رکھنے والے ایک، ایک رکن قومی اسمبلی کے ماضی میں جھانکتے چلے جائیں اور تجزیہ کرتے جائیں۔اس جائزہ کے بعد آپ کس فیصلے پر پہنچیں گے؟ یقینا، آپ ہاتھ جوڑ کر کہیں گے کہ برائے مہربانی، ہمارے بچوں کے مستقبل کے واسطے سیاست اور تعلیم، سیاستدان اور استاد کو الگ رکھیں۔ اساتذہ تو والد ین کی مانند ہوتے ہیں، طلباء تو بسا اوقات ساری زندگی اپنے اساتذہ کے سحر سے نکل نہیں پاتے۔ رہے سیاستدان، یہ پہلے خود امانت اور دیانت کے پیکر بن جائیں، پہلے خود اپنی ڈگریوں کی تصدیق کرا لیں پھر قوم کے بچوں کو تعلیم دیں۔

گو ہم بھی آمریت کو ٹھوس وجوہات، ماضی کے تلخ تجربات اور ایوب، ضیاء و مشرف کے طویل اور تاریک ادوار کے سبب ملک کے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں اور سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے پریقین رکھتے ہیں مگر سیاستدانوں کو بہرحال اپنے بچوں کے معلم کا درجہ دینے کو تیار نہیں تھے، کم از کم چند روز پہلے تک ہمارا یہی تاثر تھا مگر گزشتہ ماہ بالا کوٹ میں پیش آنیوالے واقعے نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر نصر اللہ شجیع کی زیر نگرانی کراچی کے طلباء کا ایک گروپ مطالعاتی دورے کے دوران بالاکوٹ میں سید احمد شہید کی قبر پر حاضری کے بعد دریائے کنہار پہنچا، کچھ وقت گزارنے کے بعد نصراللہ شجیع نے، جو دراصل ان بچوں کے اسکول ٹیچر تھے، واپسی کی کال دی، اسی دوران چٹان پر بیٹھے ایک بچے سفیان کا پائوں پھسل گیا اور وہ ڈوبنے لگا، نصراللہ شجیع نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر بچے کو بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی مگر پانی کا بہائو اس قدر تیز تھا کہ وہ طلباء کے محبوب استاد اور 2002 سے 2007 کے درمیان ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے رکن سندھ اسمبلی کو بھی بہا لے گیا۔

ہم یہ خبر پڑھ کر اب تک حیران ہیں کہ کیا قوم کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑکر برطانیہ اور دبئی کے دورے کرنیوالے سیاستدان قوم کے مستقبل پر اپنا آج اس طرح قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا کوئی سیاستدان حقیقتاً اس قدر مثالی استاد بھی ہو سکتا ہے؟ اور سیاستدان تو چھوڑیے کیا کسی استاد کی بھی اپنے طلباء سے اس قدر گہری وابستگی ہو سکتی ہے؟ نصراللہ شجیع کی اس قربانی نے نہ صرف ہمیں بلکہ یہ خبر سننے والے ہر فردکو حیرت میں ڈال دیا، ہر شخص کے دل سے ایک لمحے کے لیے یہ دعا بے اختیار نکلی کہ اے اللہ! تو نصر اللہ شجیع کو سلامتی کے ساتھ واپس لے آ۔

ایک استاد کی اس عظیم قربانی پر طلباء کا دھاڑے مار مار کر رونا تو فطری امر تھا مگرجب ہم نے 70 کی دہائی سے جماعت اسلامی کی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے کراچی سے سینیٹر سعید غنی کو سینیٹ اجلاس میں دعا کی درخواست کراتے، اے این پی کے رہنما شاہی سید اور مسلم لیگی وفد کو جماعت اسلامی کے دفتر میں اظہار تعزیت کرتے، اور غائبانہ نماز جنازہ میں تقریباً تما م ہی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو اداس دیکھا تو احساس ہوا کہ شہید حریف جماعتوں کے ارکان کے لیے بھی کس قدر محترم تھے۔
سوال یہ ہے کہ نصراللہ شجیع نے یہ قربانی کیوں دی؟ کراچی جیسے شہر میں جہاں جماعت اسلامی تین بار میئر کا انتخاب جیت چکی ہے، وہ خود بھی 2002 میں ایم کیوایم کے امیدوار کو شکست دے کر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، اپنے حلقے کے عوام میں مقبول تھے، کم عمر بھی تھے، کراچی جماعت کے نائب امیرتھے، ایسے میں ان کا سیاسی مستقبل خاصا تابناک نظرآتا تھا مگر پھر کس چیز نے نصر اللہ شجیع کو اپنی جان دائوپر لگانے پر مجبور کردیا؟
ہم نے نصر اللہ شجیع کے ماضی پر نظر ڈالی تو وہ ہمیں دور طالب علمی سے ہی خطرات میں کودتے اور دوسرے کی خاطر لڑتے نظر آئے۔ جب شہر کراچی کے گلی محلے عصبیت کی آگ میں جلائے جا رہے تھے تو شجیع اور ان کے ساتھی جان ہتھیلی پہ رکھ کر مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں کا درس دے رہے تھے، جب جامعہ کراچی میں انتظامیہ فیسوں میں من مانا اضافہ کر رہی تھی تو طالب علم رہنما شجیع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انتظامیہ کے سامنے دیوار بن کر کھڑے تھے، جب سندھی قوم پرست کا طلباء ونگ تعلیمی اداروں میں توڑ دو توڑدو پاکستان توڑدو کے نعرے لگا رہا تھا اور بعض گروپ پاکستان کے جھنڈے جلا رہے تھے تو شجیع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ، زندگی کی قیمت کیا لاالہٰ الااللہ ، جینا کیا مرنا کیا لاالہ الااللہ کے نعرے بلند کر رہے تھے گویا پاکستان کے تحفظ کو اپنے عقیدے کا حصہ قرار دے رہے تھے۔

عملی سیاست میں قدم رکھا تو ووٹرز فون کرکے بتاتے کہ فلاں گروپ نے بھتے کی پرچی بھیجی ہے، آپ بے دھڑک جواب دیتے کہ اب اگر بھتہ خوروں کا فون آئے تو انھیں میرا نمبر دے دینا اور کہنا کہ ان سے بات کرلو۔! کسی بے گناہ کی گرفتاری کے خبر ملتی تو بلاتاخیر تھانے پہنچ جاتے۔ ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ نصر اللہ شجیع کی ساری جدوجہد اور قربانیاں کسی دنیاوی عہدے یا شہرت کے حصول کے گرد نہیں بلکہ اس حلف کے گرد گھوم رہی تھی جو تو انھوں نے دورجوانی میں اٹھایا تھا: بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میراجینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

نصر اللہ شجیع جن تعلیمات سے متاثر تھے آپ نے انھیں صرف اپنے قول کا نہیں بنایا بلکہ عمل کا حصہ بنایا۔ اور جب انسان کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اور زندگی میں دو رنگی کے بجائے یک رنگی ہو، امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوں ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اللہ کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔ کہو: اللہ کا رنگ اختیار کرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنیوالے لوگ ہیں (البقرۃ:آیت۸۳۱)

نصراللہ شجیع کی ساری زندگی بھی دراصل اللہ کی بندگی اور اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی خواہش کے ساتھ گزری، انھیں جب اور جہاں موقع ملا تو اس خواہش کا اظہار قول سے نہیں بلکہ عمل سے کر دکھایا۔ انھوں نے عارضی زندگی پر حیات ابدی کو ترجیح دی اور جانتے بوجھتے خونی دریا کی موجوں سے جا ٹکرائے۔ خواہش نیک تھی، جذبہ صادق تھا، عمل خالص تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے قربانی بھی قبول فرمائی۔

0 comments: