فسانے کیا کیا

03:44 Unknown 0 Comments


امریکہ اور مغربی طاقتوں کے حکمران اپنے عوام سے جھوٹ بولنے اور اُنہیں فریب دینے کی جرأت نہیں کرتے ٗ کیونکہ اِن جرائم کی سزائیں بڑی سخت ہیں۔امریکی صدر نکسن کے بارے میں جب تفتیش کے دوران یہ راز کھلتا گیا کہ واٹر گیٹ کی عمارت میں اُس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اجلاس کی کارروائی کی خفیہ رپورٹ حاصل کرنے کا حکم دیا تھا ٗ تو اِس دانشور صدر کو عزت بچانے کیلئے استعفیٰ دینا پڑا۔ اِسی طرح صدر بل کلنٹن جنسی اسکینڈل میں جھوٹ بولنے پر سینیٹ میں مواخذے سے بال بال بچے تھے ٗ لیکن اِس کڑے احتساب کی روایت صرف داخلی سیاست اور حکمرانی تک محدود ہے جبکہ دوسری قوموں کیساتھ اِن حکمرانوں کا طرزِ عمل بالعموم جھوٹ ٗ فریب اور زہریلے پروپیگنڈے پر مبنی ہوتا ہے۔

جب امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ٗ تو صدر صدام حسین کیخلاف پروپیگنڈہ کیا گیا کہ اُس نے انسانیت کی خوفناک تباہی کے کیمیائی ہتھیار بنا رکھے ہیں۔ اِس ضمن میں برطانوی سراغ رسانوں کی ایک رپورٹ بھی سیکورٹی کونسل میں پیش کی گئی۔ اتحادی فوجوں نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ٗ مگر اُنہیں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہیں نہ ملے۔ بعد میں اعتراف بھی کر لیا گیا کہ رپورٹ بے بنیاد اور غلط مفروضوں پر مشتمل تھی۔ مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ کا یہ معمول بن گیا ہے کہ جس ریاست کے خلاف طاقت استعمال کرنا مقصود ہو ٗ پہلے اُس کے خلاف منفی مہم چلتی ہے اور ایک خاص فضا پیدا کرنے کے بعد فوجیں اُتار دی جاتی ہیں۔ افغانستان میں بھی یہی کچھ ہوا۔

نائن الیون میں جن بلند و بالا عمارتوں سے طیارے ٹکرائے ٗ اُن کو اُڑانے والوں میں افغانستان اور پاکستان کے باشندے شامل نہیں تھے ٗ مگر سب سے زیادہ سزا اِن دو ملکوں ہی کو دی گئی ہے۔ پاکستان کو دھمکی ملی تھی کہ اگر اُس نے امریکی مطالبات مان لینے سے انکار کیا ٗ تو اُسے پتھر کے زمانے میں بھیج دیا جائے گا۔امریکی قیادت کے ذہنوں میں وقفے وقفے سے عجیب و غریب لہریں اُٹھتی رہتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اِس پر این پی ٹی کا بھوت سوار تھا کہ ایٹمی پھیلائو روکنے کے معاہدے پر سب ممالک دستخط کریں۔بعدازاں سی ٹی بی ٹی کا بڑا چرچا ہوا۔ پاکستان میں بھی کچھ عناصر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کیلئے اپنی حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ اِس موقع پر لاہور کے ایک تھنک ٹینک پائنا کے تحت قومی سیمینار منعقد ہوا جس میں اتفاقِ رائے سے یہ قرارداد منظور کی گئی کہ پہلے امریکہ اِس معاہدے پر دستخط کرے ٗ تب پاکستان اِس کے مضمرات پر غور کرے گا۔

اِس قرارداد کے بعد امریکی دباؤ میں کمی آتی گئی اور آج وہ معاہدہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ دراصل اُس نے یہ روش اپنائے رکھی ہے کہ جو ملک اُسے پسند نہ ہو ٗ اُس کے خلاف یہ الزام لگا دیا جائے کہ وہ ایٹمی آلودگی پھیلانے کا ذمے دار ہے۔ ایک زمانے میں یہ الزام شمالی کوریا اور لیبیا پر بھی لگایا جاتا رہا۔ اِس کی پالیسی یہ ہے کہ کوئی اسلامی ملک ایٹمی صلاحیت حاصل نہ کر سکے اور اگر وہ اِس راستے پر چلنے کی کوشش کرے ٗ تو اُس پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں اور اُسے سیاسی طور پر تنہا کر دیا جائے۔ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے بڑی جاں گسل آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے اور آج اُسے ایک اور زہریلے پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔ حال ہی میں مائیکل کوگل مین تواتر سے اِس خیال کا پرچار کر رہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے کا بڑا امکان ہے جو پاکستان کے حساس ایئر بیس پر حملے کر سکیں گے۔ اصل حقائق سے آنکھیں چرانے والے یہ صاحب اِس نوعیت کا پروپیگنڈا بھی کر رہے ہیں کہ پاکستان بھارت کے خلاف میدانِ جنگ میں استعمال کرنے کے لیے چھوٹے سائز کے ٹیکنیکل نیو کلیئر ہتھیار تیار کر رہا ہے جن سے خوفناک حادثات کا شدید خطرہ ہے۔ یہ پروپیگنڈا روزبروز تیز ہوتا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر جو کور ایشو کی حیثیت رکھتا ہے ٗ اِس پر ایٹمی تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مائیکل کوگل مین کو ’’ایٹمی تصادم‘‘ کے زہریلے پروپیگنڈے کو ہوا دینے کے بجائے مثبت انداز میں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پُرامن طریقے سے حل ہو جاتا ہے ٗ تو ایٹمی تصادم کا امکان یکسر ختم ہو جائے گا۔ اِس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے بھارتی اور مغربی میڈیا کے علاوہ سیاست دانوں کو بھی سنجیدہ کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔

بھارت اور پاکستان مئی 1998ء میں ایٹمی طاقت بنے تھے ٗ اُس وقت سے برصغیر میں امن قائم چلا آ رہا ہے۔ بھارت نے 2001ء میں پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کو جواز بنا کر پاکستان کی سرحدوں پر اپنی فوجیں جدید اسلحے کے ساتھ دس ماہ تک لگائے رکھیں ٗ مگر اُسے جنگ آزمائی کا حوصلہ نہ ہوا۔ اِسی طرح ممبئی پر دہشت گردوں کے خوفناک حملوں کے بعدوہ پاکستان پر فضائی حملوں کی تیاری کر چکا تھا ٗ مگر اُسے ایٹمی جنگ چھڑ جانے کے خوف سے اپنے قدم پیچھے لے جانا پڑے۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اِن دونوں حملوں میں بھارتی باشندے اور سی آئی اے کے کارپرداز ایجنٹ ملوث تھے۔ اِن واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت امن کی محافظ اور اچھے تعلقات کی ضامن ہے۔ اِس کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور اِس کا کنٹرول اور کمانڈ سسٹم نہایت عرق ریزی اور سالہا سال کے تجربات کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ غیر جانب دار ماہرین کی نظر میں وہ بھارت کے سسٹم سے بہت بہتر اور قابلِ اعتماد ہے۔ اِن حقائق کی روشنی میں پاکستان کے عوام و خواص امریکی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہیں جو بدنیتی ٗ مذموم عزائم اور مغرب کے حکمرانوں کی اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔ پاکستان کم سے کم ڈیٹرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایک ذمے دار اور دنیا کی برادری میں ایک اہم ریاست کی حیثیت سے اپنی ذمے داریوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اِس نے آج تک ایٹمی پھیلاؤ کی کسی سرگرمی اور کوشش میں حصہ نہیں لیا اور بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی پوری پوری پاسداری کی ہے۔

مغرب پاکستان میں طالبان کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اِس اندیشے کا اظہار کرتا رہتا ہے کہ وہ ایٹمی اثاثوں پر قابض ہو جائیں گے ٗ مگر ایسا ممکن نہیں ٗ کیونکہ اُن کی حفاظت کے انتظامات بڑے پختہ اور ناقابلِ تسخیر ہیں ٗ البتہ وہ ایٹم بم جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے ٗ وہ مسئلہ کشمیر ہے ٗ کیونکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں چھ لاکھ فوج 66برسوں سے تعینات کر رکھی ہے جو انسانی آزادیوں کو پامال کرتی اور کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کچلتی رہتی ہے۔ اکیسویں صدی میں اور دنیا کی نام نہاد عظیم جمہوریت کے دامن میںجس بربریت کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں ٗ اُن کے ردِعمل میں اہلِ کشمیر بھارت کے یومِ جمہوریہ کو سیاہ دن کے طور پر مناتے اور اپنی برحق جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں۔ پوری دنیا کو اِس نازک ترین مسئلے کے پُرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا اور ایٹمی تصادم کے گرد ایک حصار کھینچنا ہو گا۔ پاکستان تو بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنا چاہتا ہے ٗ مگر اِس کے رویے پر تکبر اور بالادستی کی ہوس حاوی ہے اور وہ سرحد پار دہشت گردی کے افسانے تراشتا رہتا ہے جو بلبلوں کی طرح تحلیل ہو رہے ہیں۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

0 comments: