GM Syed

06:54 Unknown 0 Comments


جی ایم سید کے مداح دو قسم کے رہے ہیں۔ ایک وہ جو جی ایم سید کی تحریروں اور تقریریوں سے ان کے افکار و خیالات کے مداح بنے …اور ایک وہ جو جی ایم سید کی مکمل سیاسی زندگی کا مطالعہ کرکے اور ان کے ماضی کے ساتھ حال کا تجزیہ کرکے ان کے سیاسی افکار و خیالات سے بالا ہوکر ان کی سچائی اور صاف گوئی کے ناتے ان کے مداح بنے۔

میرا شمار بھی جی ایم سید کے ان مداحوں میں ہوتا ہے جو ان کے صاف ستھرے شخصی کردار، سچے اور کھرے سیاست دان کی حیثیت سے طویل سفر اور کڑواہٹ کی حد تک بیباکی سے دل کی بات بے خطر کہنے والے شخص کے طور پر انہیں منفرد سمجھتے تھے۔

یوں بھی ایک صحافی اور وقائع نگار کی حیثیت سے مجھ پر لازم تھا کہ میں ان کے سیاسی افکار کا حامی یا مخالف بنے بغیر ان کی بات پڑھنے والوں تک پہنچادوں۔

جی ایم سید کے خیالات جاننے اور انہیں قریب سے سننے کا موقع مجھے صحافت کے آغاز ہی سے ملا۔ 4 مارچ 1972ء کو بسنت ہال حیدرآباد کے جلسے میں جی ایم سید اسٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں اسٹیج کے کنارے ان کے قریب بیٹھ کر تقاریر لکھ رہا تھا، جب صدر کے رٹز ہوٹل میں اسی شب جی ایم سید نے وزیراعلیٰ بلوچستان عطاء اللہ مینگل کو عشائیہ دیا تو یہاں بھی مجھے شرکت اور تقاریر کو رپورٹ کرنے کا موقع ملا… پھر غالباً اگست 1972ء کے دوران جی ایم سید اور دیگر قوم پرست سیاست دانوں نے جب بھرگڑی ہاؤس ہیرآباد میں جلسے سے خطاب کیا تو میں نے اس کی رپورٹ بھی لکھی۔ اسی طرح میں نے 1973ء اور اس کے بعد مختلف اہم تقریبات اور واقعات کی رپورٹنگ بھی کی۔

تاہم جی ایم سید سے مثالی تعلق 1984ء میں استوار ہوا۔ جب مارچ1984ء سے مشہور رسالے ’’تکبیر‘‘ کا آغاز ہونے جا رہا تھا تو اس کے منیجنگ ایڈیٹر محمد صلاح الدین نے اس خواش کے ساتھ مجھے ذمہ داری سونپی کہ میں ابتدائی شماروں کے لیے ہی کوئی ایسی رپورٹ لکھوں جس سے پورے ملک میں ’’تکبیر‘‘ کا چرچا ہونے لگے۔ انہوں نے رسالے کے اجراء سے ایک ماہ قبل ہی مجھے انگیج کرلیا تھا۔ محمد صلاح الدین کی جانب سے اعتماد کے ساتھ یہ ذمہ داری دینے پر میں کئی روز فکرمند رہا۔ سیاسی شخصیات سے انٹرویو کرنا اگرچہ میرا پسندیدہ شعبہ تھا اور اُس زمانے میں جی ایم سید ایسی شخصیت تھے جن سے ایک اچھے انٹرویو میں کامیابی کا مطلب رسالے کی کامیابی تھا، مگر سوال یہ تھا کہ جی ایم سید سے کیسے ملوں اور انہیں بات چیت پر کیسے رضامند کروں۔ بہت سے اندیشے تھے اور ناکامی کا خوف بھی، اس کے باوجود میں ہمت کرکے سن جا پہنچا اور 8 فروری 1984ء کو میں نے تمام دن کی مشقت کے بعد جی ایم سید سے اتنی گفتگو کرلی کہ چھپے تو ملک بھر کی توجہ حاصل کرلے۔ دیوارِ برلن جیسی اجنبیت حائل ہونے کے باوجود یہ ایک صحافی کا تاریخ ساز سیاستدان سے ایسا اچھوتا انٹرویو تھا جس نے برسوں کی محبت، شفقت اور شناسائی کی بنیاد رکھی۔

یہ انٹرویو ’’تکبیر‘‘ میں چھپا تو ’’جنگ‘‘ سمیت کئی بڑے اردو اخبارات کے صفحہ اول کی خبر بنا، اور نہ صرف ’’تکبیر‘‘ نے ایک ہی جست میں مہینوں اور برسوں کی شہرت کا فاصلہ طے کر لیا بلکہ خود میںنے چشم زدن میں جی ایم سید کا وہ اعتماد اور اعتبار حاصل کر لیا جسے عشروں سے کوئی صحافی،خصوصاًاردو اخبار یا رسالے کا صحافی حاصل نہیں کر سکا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب ’’تکبیر‘‘ میں جی ایم سید کا انٹرویو چھپا تو جئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سندھ یونیورسٹی میں سرکردہ لیڈر سن گئے اور سائیں سے پوچھا کہ ایک اردو رسالے میں آپ کا انٹرویو چھپا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ …تو سائیں نے کہا: ہاں میں نے انٹرویو دیا ہے اور یہ لڑکا پہلا اردو بولنے والا صحافی ہے جس نے سب کچھ وہی لکھا ہے جو میں نے کہا تھا، اس نے کوئی ہیرپھیر نہیں کی۔ اس تصدیقی سند کے بعد JSSFنے اس انٹرویو کو سندھی میں ترجمہ کراکر گاڑی کھاتہ حیدرآباد کے ایک پریس سے بڑی تعداد میں پمفلٹ کی صورت چھپوایا اور تقسیم کیا۔

جی ایم سید نے 8فروری 1984ء کے انٹرویو میں سچائی کا ایسا خوبصورت اظہار کیا تھا جس کی سرشاری میں آج تک محسوس کرتا ہوں کہ یہ تاریخ سے ہم کلام ہونے کا شرف تھا جو مجھے حاصل ہوا۔ اس انٹرویو میں جی ایم سید نے قو م پرستی کے نئے رجحانات کے پس منظر میں بہت سی بنیادی باتوں کے ساتھ یہ تاریخی حقیقت بھی بیان کی تھی کہ ’’مذہب تبدیل ہوسکتا ہے، وطن تبدیل نہیں ہو سکتا۔‘‘

سب جانتے ہیں کہ 1984ء کے بعد ہی سندھ میں مہاجر قوم پرستی کے حوالے سے ایک نئی ہلچل کا آغاز ہوا اور اس زمانے میں کچھ ایسا ہی فکری سیاسی انتشار پیدا ہوچکا تھا جیسا کہ اِن دنوں پورے سندھ بلکہ پاکستان میں آکاس بیل کی طرح پھیلا ہوا ہے۔

دسمبر2007ء میں بے نظیر بھٹو کے قتل اور اس کے نتیجے میں آصف علی زرداری کی غیر متوقع حیران کن حکمرانی سے اب 2014ء میں میاں نوازشریف کی فیملی لمیٹڈ حکومت تک ہم جس بے سمت، بے مقصد سیاست کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اس کی جڑیں بہت دور تک جاتی ہیں، خصوصاً 1970ء کے انتخابات اور اس کے نتائج سے جنم لینے واقعات کو آج کے حالات سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

اسی فکری سیاسی انتشار نے1984ء سے1987ء کے دوران جب ملک پر غلبہ حاصل کیا ہوا تھا اور صاحبِ دانش لوگ مستقبل کے حوالے سے پریشان رہا کرتے تھے تو میرے ایک دوست نے جنہیں معلوم تھا کہ جی ایم سید مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، بار بار اصرار کیا کہ کسی دن جی ایم سید کے پاس چل کر پوچھیں کہ کیا ہونے والا ہے اور ہمارا مستقبل کیا ہے؟ ان کے نزدیک اُس وقت صرف جی ایم سید ہی ایسے سیاست دان تھے جو کسی لالچ کے بغیر بلا خوف سچائی سے بتا سکتے تھے کہ ہماری بقاء کا راستہ کیا ہے۔ چونکہ وہ بھی میری طرح جی ایم سید کی سچی اورکھری باتوں کے سبب ان کے مداح تھے، لہٰذا وہی اپریل 1987ء میں میرے اس سفر کا محرک اور ذریعہ بنے جس کے نتیجے میں تمام دن کی طویل گفتگو کے بعد میری کتاب ’’جی ایم سید کی کہانی‘‘ تخلیق ہوئی۔

موجودہ پاکستان کے فکری سیاسی انتشار کا مایوس کن تاریک پہلو یہ ہے کہ آج سندھ میں کوئی جی ایم سید جیسا جہاندیدہ، تجربہ کار اور دور اندیش شخص موجود نہیں ہے جس سے صرف ایک انٹرویو (فروری1984ئ) کی بنیاد پر کوئی ظہیر احمد سن کا سفر کرکے اور مستقبل کا پتا پوچھنے کے لیے گفتگو کے نشیب و فراز کے ساتھ اُس وادی میں دور تک اُتر جائے جہاں لفظوں کے جھروکے سے قوموں کے عروج و زوال کی درد بھری داستان صاف سنائی دیتی ہے۔

میری کتاب ’’جی ایم سید کی کہانی‘‘ کے پیش لفظ کا پہلا جملہ ہی یہ تھا ’’جی ایم سید سے آپ کو ایک لاکھ مرتبہ اختلاف ہوگا لیکن کیا آپ اس بات سے انکار کرسکیں گے کہ جی ایم سید نصف صدی سے زیادہ عرصے کی ہماری تاریخ کا گمشدہ باب ہیں۔‘‘

مجھے فخر ہے کہ میں نے یہ گمشدہ باب دریافت کرکے اپنی قومی سیاسی تاریخ کی سمت کو درست کرنے کی سعی کی، اور یہ سعی یا کوشش میرے قریباً نصف صدی کے صحافتی کیریئر کا سب سے قابلِ ذکر ایونٹ ہے۔ جب میری یہ کتاب چھپ رہی تھی تو ایک بار 23 اگست 1987ء کو میں جی ایم سید کی عیادت کے لیے جناح ہسپتال کراچی گیا۔ پھر جب وہ حیدر منزل آگئے تو21 ستمبر1987ء کو میں نے حیدر منزل جاکر پھر ان کی خیریت پوچھی اور ان کی بے پناہ محبت کا حق دار بنا اور دوپہر کے کھانے میں شریک ہوا۔ یہ ون ٹو ون ملاقات تھی۔

جب میری کتاب چھپ گئی تو اتفاقاً جی ایم سید کا حیدرآباد آنا ہوا۔ یہ 19اکتوبر 1987ء کا دن تھا جب میں نے شہاب الدین شاہ کے گھر پر سائیں کو اپنی کتاب پیش کرکے ایک کتاب پر اُن کے آٹو گراف لیے۔ یہ تاریخی نسخہ اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔

1988ء کے انتخابات کے بعد سندھ میں فکری سیاسی انتشار یکلخت بڑھ گیا تھا اور آج کی طرح اُس وقت بھی سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔

اسی انتشار کے دوران 23 جولائی 1989ء کی شام میں نے

باقی صفحہ 41 پر

حیدرمنزل کراچی میں جی ایم سید سے ملاقات کی اور حالات پر ان کی رائے لی۔ اس نشست میں جی ایم سید نے دورانِ گفتگو کمال کا یہ جملہ بولا تھا: ’’مہاجروں نے کمیونٹی آف کرمنلز پیدا کردی ہے‘‘ …شاید یہ بات جسے دو عشروں نے ہر لحاظ سے سچ ثابت کر دکھایا ہے، جی ایم سید جیسا بے خوف، دور اندیش اور صاف گو شخص ہی کہہ سکتا تھا۔ جی ایم سید نے اس دوران یہ بھی کہا تھا: ’’ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ یہاں شہروں میں بیٹھ کر چند آدمی سندھ کی تقسیم کی بات کریں… اگر کریں گے تو ہم لڑیں گے، ضرور لڑیں گے۔‘‘ میں نے جی ایم سید کی دونوں باتوں کو رسالے کے ٹائٹل پر سرخی میں شائع کیا تھا کہ یہ ایک سچے اور کھرے سیاست دان کو ایک صحافی کے معمولی خراج تحسین کا انداز تھا۔

چند برس پہلے میرے ایک سندھی دوست نے جو بینک میں افسر تھے، مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے جی ایم سید اور ذوالفقار علی بھٹوکو قریب سے دیکھا، سنا اور پرکھا ہے، آپ کی نظر میں کون بہتر تھا؟ میں نے ایک لمحہ تاخیر کے بغیر جی ایم سید کا نام لیا تو اس نے خوشگوار حیرت کے ساتھ وجہ پوچھی۔

میرا جواب یہ تھا کہ جی ایم سید خود ان کے بقول آئیڈیلسٹ تھے۔ آئیڈیلسٹ اپنے افکار کے مطابق سیاسی اور سماجی معاشرے کی تمنا کرتا ہے۔ بدکرداری، بے ایمانی، ناانصافی، حق تلفی، دھونس اور جبر سے نفرت کرتا ہے۔ جلتا کڑھتا ہے، ناکام رہتا ہے، اپنا نقصان کرلیتا ہے، مگر اپنے وطن اور اپنی دھرتی کو مایوس نہیں کرتا اور اقتدار کے لیے اس کے حصے بخرے کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ جبکہ پریکٹیکل پالیٹیشن ہوسِ اقتدار میں ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کی بات کرکے ملک کے دو ٹکڑے کردیتا ہے۔ اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بلوچستان کی منتخب حکومت برطرف کرکے فوج کشی کراتا ہے، سیاسی مخالفت پر سانگھڑ میں چھ حُروں کو قتل کرا دیتا ہے، انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو کے لیکچرار اشوک کمار کو اپنے حامی طالب علم لیڈروں کے کہنے پر غائب کرا دیتا ہے اور اس کی ماں بیٹے کی راہ تکتے ہوئے پاگل ہوجاتی ہے، پریکٹیکل پالیٹیشن فخر ایشیا بننے کے لیے حیدرآباد جیل میں عدالت لگاکر مخالف سیاستدانوں کو غدار بنانے کی فیکٹری کھول دیتا ہے۔ ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت سیاسی مخالفین کی زباں بندی، اخبارات کی بندش، صحافیوں کی گرفتاری، فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے گسٹاپو کا قیام جمہوریت کے لازمی جز قرار پاتے ہیں۔ پھر بھی کامیابی پریکٹیکل پالیٹیشن کو ملتی ہے اور اسے ہی کامیاب قرار دے کر پورا ملک کسی رجواڑے کی طرح عشروں کے لیے اس کے خاندان اور اس کے خاندانی مالشیئوں کے نام لکھ دیا جاتا ہے۔

شاید اسی طرح آج کے جانشین پریکٹیکل پالیٹیشن ہوسِ اقتدار میں ملک کی طرح سندھ کے دو ٹکڑے قبول کرکے بھی کامیاب اور جمہوریت نواز کہلائیں۔

مگر ان کی بدقسمتی سے پاکستان کی قسمت سندھ کی قسمت سے وابستہ ہوچکی ہے، اب وحدتِ سندھ کے بغیر وحدتِ پاکستان کا تصور محال ہے، لہٰذا میرا یقین ہے کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر موجودہ دور کے آئیڈیلسٹ جی ایم سید ناکام نہیں ہوں گے اور وحدتِ سندھ کے حوالے سے ضرور کامیاب ٹھیریں گے۔

اب 1970ء کی طرح ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ والے پریکٹیکل پالیٹیشن 2014ء میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

ظہیر احمد

 

 

0 comments: