مذاکرات ہی واحد حل ہے

22:43 Unknown 0 Comments

ہمارے معاشرے میں دو طرح کے انتہا پسند ہیں ،ایک وہ جو بد سے زیادہ بدنام ہیں اور عموماً مذہبی انتہاپسند کے نام سے جانے جاتے ہیں جبکہ انتہا پسندوں کی دوسری قسم کا تعلق لبرل فاشزم سے ہے۔ لبرل بہت حساس ہوتے ہیں ،اگر کہیں کوئی کتا بھی تکلیف میں ہو تو ان سے برداشت نہیں ہوتا یہ اور بات ہے کہ اپنے مخالفین کو کتے کی موت مرتا دیکھ کر بھی ان کی انسانیت نہیں جاگتی۔ ان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ فوج بلوچستان میں آپریشن کرے تو آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں لیکن وزیرستان میں جیٹ طیاروں سے بمباری ہو تو پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔ طالبان کو ’’اپنے لوگ‘‘ کہ کر مذاکرات کی بات کی جائے تو یہ لبرل فاشسٹ رِٹ آف دی گورنمٹ کی رَٹ لگائے رکھتے ہیں لیکن کراچی میں بھتہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے تو انسانی حقوق کا درس شروع ہو جاتا ہے۔ جس طرح لال مسجد اور سوات آپریشن کی راہ ہموار کی گئی تھی ،ویسے ہی اب وزیرستان فتح کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان کے دلائل کی عمارت سطحی نوعیت کے پانچ دلائل پر کھڑی ہے جو کچھ یوں ہیں:

1۔امن مذاکرات ان سے ہو سکتے ہیں جو امن کے خواہاں ہوں،جو گن پوائنٹ پر ایجنڈا نافذ کرنا چاہیں ان سے کیسی بات چیت؟کاش ایسے مشیر امریکہ کو بھی میسر آتے تاکہ وہ طالبان سے مذاکرات کی غلطی نہ کرتا۔ کولمبیا کی حکومت کو ایسے دوراندیش دانشور دستیاب ہوتے تو وہ ان باغیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ہرگز نہ بیٹھتی جو بندوق کی نوک پر اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کیلئے مسلح جدوجہد کر رہے تھے۔ جب بنگالیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بندوق اُٹھائی تب بھی یہی کہا گیا کہ ہم ان مٹھی بھر شرپسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنیں گے لیکن جب فوج ڈھاکہ میں داخل ہوئی تو آپریشن پر اُکسانے والے ہی انسانی حقوق کی پامالی کا شور مچانے لگے اور آج تک فوج کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں۔

2۔ طالبان جمہوریت کو کفر سمجھتے ہیں، پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے، ہمارے عدالتی نظام پر یقین نہیں رکھتے تو ایسے باغیوں کو طاقت سے کیوں نہ کچلا جائے؟آئرلینڈ کے مسلح باغی برطانیہ کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتے تھے مگر انگریزوں نے مذاکراتی عمل شروع کرتے وقت یہ نہیں کہا کہ پہلے ہمارے آئین کو تسلیم کرو پھر بات چیت ہو گی۔ کشمیری مجاہدین جو بھارتی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں ،بھارتی حکومت ان کے ساتھ پس پردہ کئی بار مذاکرات کر چکی ہے مگر ان کے آئین نے کبھی برا نہیں منایا۔ جب دہشت گرد کسی عمارت پر قبضہ کر لیتے ہیں ،کسی ہوائی جہاز کو یرغمال بنا لیتے ہیں تو ان سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے ہرگز یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم ہماری ریاست اور آئین کو تسلیم کرتے ہو یا نہیں ۔ایک سکندر نے اسلام آباد کو کئی گھنٹے یرغمال بنائے رکھا تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ بات چیت شروع کرنے سے پہلے یہ تو پوچھو اسے جمہوریت پر یقین ہے یا نہیں۔

3۔ طالبان کی بات پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔جب طالبان کسی واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ اس طرح کی ای میل یا ٹیلی فون کال تو کوئی بھی کر سکتا ہے تو انہیں یہ بات سخت ناگوار محسوس ہوتی ہے اور سوال کرنے والوں کو طالبان کا حمایتی قرار دے دیا جاتا ہے مگر جب یہی طالبان کسی چرچ یا پولیو ٹیم پر حملے کی تردید کرتے ہیں تو کل تک ان کے اعترافی بیان کو قرآن و حدیث کا درجہ دینے والے یہ نام نہاد لبرل فوراً پینترا بدل لیتے ہیں۔ تب یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ مجرم اپنا گناہ قبول نہ کرے تو کیا اس کی بات سچ تسلیم کر لی جائے؟ بھلا ایسے لوگوں پر کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے۔چند روز قبل میرے ساتھ گفتگو کے دوران طالبان کے سابق مرکزی ترجمان سجاد مہمند المعروف احسان اللہ احسان نے پولیو ٹیموں پر حملوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور میں نے ان کا موقف فیس بک پر بیان کیا تو کئی افراد نے یہی اعتراض اٹھایا۔ میرا سوال یہ ہے کہ تردیدی بیانات مشکوک اور ناقابل بھروسہ ہیں تو اعترافی بیانات کوکیوں من و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے؟

4۔ طالبان کا قلع قمع کرتے وقت اگر عام افراد بھی مرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور جنگ میں گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتاہے۔بہت خوب،آپ طالبان کو نیست و نابود کرنے کے لئے بے گناہ قبائلیوں پر بم گرائیں تو ٹھیک ،اگر وہ بم دھماکوں میں عام افراد کو نشانہ بنائیں تو بہت سفاک اور ظالم۔ یہ ہاتھیوں کی وہ لڑائی ہے جس میں گھاس کی طرح دونوں طرف عوام ہی کچلے جائیں گے۔ فوجی آپریشن کے دوران تھوڑے بہت طالبان کے ساتھ بے گناہ قبائلی مریں گے تو خودکش حملہ آور شہروں میں آ کر دھماکے کریں گے اور بے قصور لوگ مارے جائیں گے۔یوں اس آپریشن کا بھی وہی حشر ہو گا جو اس سے پہلے کی جانے والی کارروائیوں کا ہوا۔

5۔ فوجی آپریشن کی حمایت کرنے والوں کی آخری منطق یہ ہے کہ مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور اب ماسوائے اس کے کوئی راستہ نہیں بچا کہ باغیوں کو کچل دیا جائے۔ مذاکرات کے نام پر حکومت نے جو سرکس سجائی تھی اس کی حقیقت تو مولانا سمیع الحق نے آشکار کر دی۔ یہ اسی طرح کا بھونڈا مذاق تھا جو اکبر بگٹی اور غازی عبدالرشید کے ساتھ کیا گیا۔ باقی رہا ان باغیوں کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کا سوال تو ماضی قریب میں مسلح جدوجہد کو فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کرنے کی ایک ہی مثال ہے اور وہ ہے سری لنکا کی جہاں تامل باغیوں کو بندوق کے ذریعے جھکنے پر مجبور کر دیاگیا مگر26سالہ لڑائی کے بعد سری لنکا کے شہریوں کو یہ فتح نصیب ہوئی۔ اس دوران وزیر دفاع سمیت کئی حکومتی شخصیات قتل ہوئیں ،کئی جرنیل مارے گئے، 25000فوجی جوان اور افسرجان سے گئے، بچے کھچے باغیوں نے اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے جب تک ان کے سپہ سالار سمیت 27000ہزار جنگجو مارے نہیں گئے، معیشت تباہ ہو گئی اور کم از کم 200 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تب کہیں جا کر یہ لڑائی ختم ہوئی۔اگر ہماری قوم، ہماری سیاسی قیادت اور فوج اس قدر طویل جنگ لڑنے کی استقامت رکھتی ہے اور ہر قسم کی قربانیاں دینے کو تیار ہے تو جی بسم اللہ،آگے بڑھیں اور اس بغاوت کا سر کچل دیں لیکن بُرا نہ مانیں تو ماضی میں کی گئی فوجی کارروائیوں کی بیلنس شیٹ چیک کر لیں۔اگر ہم چار فوجی آپریشنوں کے ذریعے بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور حکومتی رٹ بحال ہو چکی ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ وزیرستان میں بھی اس آپریشن کے نتیجے میں امن قائم ہو جائے گا۔

ہمارے کمانڈو جرنیل پرویز مشرف جو کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں،سب سے پہلے انہوں نے قبائلی علاقوں میں فوج داخل کی اور آپریشن کیا مگر بھاری جانی و مالی نقصان کے نتیجے میں یہ آپریشن ادھورا چھوڑ کر طالبان سے امن معاہدہ کرنا پڑا اور کور کمانڈر پشاور نے اسی نیک محمد کو ہار پہنائے جس نے فوجی جوانوں کو ذبح کیا تھا۔ان کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو پہلے وزیرستان اور پھر سوات میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا ۔وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے قوم کو خوشخبری دی کی ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے لیکن قوم نے محسوس کیا کہ دہشت گرد کمر ٹوٹنے کے بعد پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں۔پہلے تو ان کی کارروائیاں پشاور تک محدود تھیں مگر کمر ٹوٹنے کے بعد وہ رینگتے رینگتے اسلام آباد آ گئے اور ایک دن جی ایچ کیو پر قبضہ کر لیا۔یہ قبضہ چھڑانے کے لئے ہماری حکومت کو جیل میں قید کالعدم جماعت کے رہنما کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر جی ایچ کیو لے جانا پڑا تاکہ وہ یرغمالیوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر سکیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر ان کی کمر توڑنے کی کوشش میں ہمارا رہا سہا بھرم ٹوٹ جائے۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

0 comments: