پاکستان میں میکسیکو طرز کا سیاسی ٹاکرا......

00:42 Unknown 0 Comments


پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ان دنوں میکسیکو کے اس روائتی سیاسی ٹکراو کا ماحول ہے جس میں کوئی فریق بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما عمران خان، جن کے نامزد کردہ سیاسی رہنما شریف حکومت کی مذکراتی ٹیم کے ساتھ ایک سے زائد بار بات چیت کر چکے ہیں لیکن عملا مذاکراتی عمل معلق ہے۔ ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد ہو سکا نہ کوئی فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ دے سکا ہے.

تحریک انصاف کے عمران خان کے علاوہ شعلہ بیان مقرر ڈاکٹر طاہر القادری ہیں۔ وہ بھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے براجمان ہیں۔ دونوں نے وزیراعظم نواز شریف پر الزامات کا ایک طرح سے طومار باندھ دیا ہے۔ طرح طرح کے الزامات لگانے والے یہ احتجاجی رہنما مئی 2013 کے عام انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کرکے بر سر اقتدار آنے والے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ آزاد عالمی انتخابی مبصرین نے مئی 2013 کے عام انتخابات کے حوالے سے ایک طرح سے کلین چٹ دے دی تھی کہ پاکستان کے یہ انتخابات ہر طرح سے شفاف اور غیر جانبدارانہ ماحول میں ہوئے ہوئے تھے۔
لیکن دونوں احتجاجی رہنما بضد ہیں کہ وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کا استعفا دلوا کر ہی اسلام آباد سے واپس جائیں گے۔ دونوں نواز شریف پر نہ صرف انتخابی دھاندلیوں کے بلکہ اقربا پروری اور کرپشن کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔

بھاری ووٹوں سے جیت کر آنے والے وزیر اعظم کا استعفا لیے بغیر واپس نہ جانے کا کھلا اعلان کرنے والے عمران خان دوسرے احتجاجی طاہر القادری سے زیادہ سخت موقف رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کا کا لہجہ بیک وقت نیم خوشامدانہ اور دھمکی آمیز ہوتا ہے ان کا کہنا ہے اگر مظاہرین پر پولیس نے حملہ کیا گیا تو سخت ردعمل ہو گا۔ عمران خان نے اسلام آباد کے نئے پولیس چیف کو بھی اس حوالے سے بطور خاص خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاون نہیں ہونا چاہیے۔

جب یہ ڈرامہ جاری ہے نواز شریف کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے لیے موجود آپشنز اور اپنے ممکنہ جواب کی تیاری کریں۔ وہ بہرحال ایک منتخب وزیر اعظم ہیں۔ یہ ایک آسان معاملہ نہیں ہے کہ پورے ملک میں ریلیوں سے نمٹا جائے، ایم کیو ایم کے کراچی میں ٹارگٹ کلرز کے ساتھ نرمی اختیار کی جائے، بلوچستان میں بدامنی کے چیلنج سے نمٹا جائے۔ اس صورت حال میں میاں نواز شریف عملا تنہا کھڑے ہیں۔ لیکن پاکستان کے تحفظ کے لیے انہیں اس طرح کے خوف پر حاوی ہونا ہو گا اور فیصلہ نہ کر سکنے والی کیفیت سے نکلتے ہوئے انہیں دانش مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

میاں نواز شریف کو جن حالات کا سامنا ہے 1952 میں اسی سے ملتی جلتی صورت حال کا سامنا مغربی دنیا کے مارشل ول کین کو گیری کوپر سے تھا۔ امریکی فلم ہائی نون کے اس ہیرو نے بھی تنہا حزب اختلاف کا مقابلہ کیا تھا کہ اس کے شہر کے لوگ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس لیے اس صورت حال کا قوم کے مستقبل پر مثبت اثر ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب عمران اور قادری دونوں ''تیسرے فریق'' کے بھی منتظر ہیں جبکہ پاکستان کی فوج اس منظر نامے کو بڑے اضطراب کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ بہت سارے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ فوج بیچ میں آنے یا مداخلت کرنے سے بچ رہی ہے کیونکہ فوج پہلے ہی ملکی سحدوں کی حفاظت کرے کے لیے دشت گردوں کے خلاف جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ اس ناطے بہت کچھ خطرات کی زد میں ہے۔ ملکی معیشت افراتفری اور بے یقینی کی وجہ سے نیچے کی طرف ہے۔ اس لیے پاکستان کا بہترین مفاد اس بات میں ہے کہ بامعنی مذاکرات کیے جائیں۔

عمران خان کی جماعت جو کہ عوامی شکایات اور مسائل کی بات کرتی ہے اسے چاہیے کہ وہ عوام کی حقیقی مشکلات اور مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے بتدریج اصلاحات کی طرف بڑھنا ہو گا۔ حکومت کو عوام کو شفافیت کا یقین دلانا ہوئے کرپٹ عناصر کا سرکاری اداروں سے قلع قمع کرنا ہو گا۔ طاہرالقادری کو واپس کینیڈا آنا ہو گا۔ میرے خیال میں طاہرالقادری کی شہرت ہے کہ وہ شہرت کی ہوس کا شکار ہیں۔ ان کی ''بغاوت'' شہرت کی خواہش کے ساتھ عبارت سمجھی جاتی ہے۔ جس کا مقصد صرف افراتفری پھیلانا ہو سکتا ہے۔

لیکن پاکستان ان حالات میں کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو چاہیے کہ وہ دونوں محب وطن رہنماوں کو کچھ زیادہ بہتر پیش کش کریں تاکہ وہ ملک و قوم کی زیادہ خدمت کر سکیں۔ ہمیں امید اور دعا کرنی چاہیے کہ وہ اس صورتحال سے اوپر کو اٹھیں گے اور بچ نکلیں 
گے، نیز اپنے ملکی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔

خالد المعینا

Imran Khan and Tahirul Qadri 

0 comments: