سعیدہ وارثی کی اخلاقی جراٗت.........

00:32 Unknown 0 Comments


فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت اور بربریت کو کتنے ہی دن گزر گئے، بمباری ہوتی رہی، معصوم فلسطینی مرتے رہے، ساری دنیا اور دنیا کی وہ طاقتیں جن کے اشارے پر جنگیں شروع ہوتیں اور جن کے اشارے پر جنگ بندی ہوتی ہے، بڑے سکون اور خاموشی سے انسانوں کا قتلِ عام دیکھتے رہے۔ ننھے بچوں کی کٹی پھٹی ، بریدہ لاشیں، دنیا بھر کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر دکھائی جاتی رہیں مگر کوئی دل نہیں پسیجا۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے اس قتل عام پر یوں خاموش رہے جیسے وہ اس سارے کھیل کا حصہ ہوں، امریکہ سے لے کر برطانیہ تک اور دوسرے یورپی ممالک تک سب کے سب ایک مجرمانہ خاموشی کا شکار رہے۔

امریکی پالیسیوں کو امریکہ کی ویپن انڈسٹری کنٹرول کرتی ہے اور اس جنگ میں اسرائیل امریکی گولہ بارود استعمال کر رہا ہے۔ صرف امریکہ ہی نہیں برطانیہ بھی اسرائیل کو بارہ ملین ڈالر کے جنگی ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ گولہ بارود بم کی صورت میں، موت کا ساماان اگر استعمال نہیں ہو گا تو مزید خریدنے کی طلب کیسے ہو گی سو اگر اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر یہ جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے تو پھر اس سے زیادہ امریکہ اور برطانیہ کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات کیا ہوسکتی ہے، ظاہر ہے ان کے کارخانوں میں بننے والے جنگی سامال کی طلب بڑھے گی۔

اسرائیل کی صورت میں ایک خریدار موجود ہے اور وہ اس جنگ کی مذمت کر کے اپنے کاروباری حلیف کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ شاید وہ تو اس جنگ کی طوالت کے متمنی ہوں۔ اگر معصوم فلسطینی بچے اور عورتیں اس جنگ میں مارے جا رہے ہیں تو اس میں کونسی قیامت ہے، جنگ میں تو ایسا ہوتا ہی ہے۔ اسی سوچ کا پردہ عالمی طاقتوں کے ضمیر پر پڑا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نام نہاد مہذب دنیا میں جہاں تک کتے کی موت پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ہنگامہ برپا کر سکتی ہیں، وہاں بچوں کے معصوم جسموں کو بارود سے اڑایا جاتا ہے مگر اس کی مذمت میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔
خاموشی کے ایسے صحرا میں سعیدہ وارثی نے ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ سے استعفیٰ اس بنیاد پردیا کہ انہیں غزہ میں مسلمانوں کی قتل عام پر برطانوی حکومت کی پالیسی سے شدید اختلاف ہے۔ اپنے استعفیٰ میں مس وارثی نے لکھا کہ "انسان کو زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزارنے کا حق ہے۔ جبکہ غزہ میں معصوم لوگوں کا قتل عام اور دوسری جان خود کو برطانوی کابینہ کا حصہ ہونے کی اس صورت حال میں مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے اس حق سے محروم ہو چکی ہوں۔ میں انتہائی افسوس کے ساتھ اپنا استعفیٰ پیش کرتی ہوں۔"

ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں سعیدہ وارثی مسلمان اقلیت کی قابلِ قدر آواز سمجھی جاتی تھیں۔ استعفیٰ دینا یقینا ایک اخلاقی جراٗت ہے جس کا اظہار کر کے انہوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں خصوصاً برطانوی مسلمانوں اور پاکستانی مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب عرب دنیا پر ایک موت جیسی خاموشی طاری ہے، وہاں سعیدہ وارثی کی جراٗت انکار نے انہیں ایک بہادر اور 
صاحبِ ضمیر خاتون ثابت کیا ہے۔

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

غزہ کےمسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یک جہتی پر استعفیٰ دینے والی سعیدہ وارثی کو پوری دنیا سلام پیش کر رہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف مسلمان ہی ان کی اس اخلاقی جراٗت کو سلام پیش نہیں کر رہے بلکہ برطانوی سیاست کے اہم افراد بھی سعیدہ وارثی کی جراٗت کو سراہ رہے ہیں۔ برطانوی ابارات بشمول مشہور روزنامہ ٹیلی گراف نے لکھا کہ سعیدہ وارثی نے اخلاقی جراٗت کا ثبوت دیا۔ کنزرویٹو پارٹی کے سابق رکن کابینہ نکولس سومز نے اپنے ٹویٹر پر لکھا کہ حکومت کو سعیدہ وارثی کے استعفیٰ سے سیھنا چاہیے۔ اہم انسانی مسئلے پر سعیدہ وارثی کا استعفیٰ دینا صائب قدم ہے۔

مس وارثی کے لیے پذیرائی یقینا ایک کامیابی ہے۔ اس سے پہلے وہ افغان وار کے حوالے سے برطانوی مسلمانوں کے جارحانہ رویے کا سامنا کر چکی ہیں۔ ایک بار ان پر انڈے اور ٹماٹر اس لیے برسائے گئے کہ وہ اس حکومت کا حصہ ہیں جس نے اپنی فوجیں افغان وار میں بھیج رکھی ہیں۔ آخر وہ مسلمان ہو کر امریکی اور برطانوی جارحیت کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ مس وارثی کسی سیاسی مصلحت کے تحت اس ایشو پر آواز نہ اٹھا سی ہوں وگرنہ ان کے سیاسی کیرئیر پر نگاہ ڈالیں تو بیشتر موقعوں پر انہوں نے برطانوی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا اور وہ اس میں کامیاب رہیں۔ جیسے 2006ء میں ہاؤس آف کامنز ے لیڈر مسٹر جیک سٹرا نے پارلیمنٹ میں مسلمان خواتین کے نقاب لینے کے حوالے سے ایک ڈبیٹ کا آغاز کیا۔ جیک سٹرا نے پردے کے لیے نقاب اوڑھنے کے مخالفت میں ایک مقامی روزنامے میں آرٹیکل لکھا، اس نے ایک فقرے میں کہا کہ

“He would like to see the veil abolished in the United Kingdom.
اس کے بعد برطانیہ کے مختلف اخبارات میں مزید آرٹیکل چھپنا شروع ہو گئے کہ مسلمان خواتین کو برطانیہ میں پردے کے لیے چہرہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ایسے موقع پر سعیدہ وارثی نے مسلم واتین کے پردے کے حق میں موثر آواز اٹھائی اور پارلیمنٹ ے اندر اور باہر اس حق کو منوایا کہ لباس کے انتخاب میں فرد کے اختیار کو ختم کرنا اس کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ جیسے اگر کوئی مجھے یہ حم دے کہ میں سکرٹ پہنوں یا پھر میں اپنا چہرہ ڈھانپوں تو مجھے یہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ برطانویہ معاشرے میں رہتے ہوئے مس وارثی نے پاکستانی شلوار قمیض پہن کر اپنے الگ شناخت بنائی ہے ایک برطانویہ میگزین نے مس وارثی کا انٹرویو شائع کیا تو اس گلابی شلوار قمیض ڈوپٹے کی الگ سے نمایاں تصویر چھاپی، جو انہوں نے حکومتی آفس جوائن کرنے سے پہلے روز زیب تن کیا تھا۔

گوجر خان کے صفدر حسین کی چوتھی بیٹی، سعیدہ وارثی کو اس وقت پوری دنیا سلام پیش کر رہی ہے۔ کچھ حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک شخص کے استعفیٰ دینے سے کیا فرق پڑے گا تواس کا جواب یہ ہے کہ سعیدہ وارثی نے وہی کچھ کیا جو ایک فرد کی حیثیت سے وہ کر سکتی ہیں اور ایک فرد کے کردار کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن اصولوں کی خاطر وہ مخالف ہواؤں کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔ سعیدہ وارثی نے عالمی طاقتوں کی بہیمانہ بربریت اور انتہائی بے حسی کے مقابل انسانیت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ ل تک وہ برطانیہ میں صرف مسلم اقلیت کی نمائندگی کر رہی تھیں مگر آج انہوں نے اخلاقی جراٗت کا اظہار کر کے اور فلسطینی مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہو کر دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے دل جیت لیے ہیں۔ یوں سعیدہ وارثی کے اس قدم نے ظلم کی تاریکی میں ایک شمع روشن کی ہے اور اندھیرے کو چیرنے کے لیے روشنی کی ایک ننھی کرن بھی کافی ہوتی ہے۔

شکوہٗ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ظلم اور برائی کو دیکھو تو اسے طاقت سے روکو ، اگر انہیں تو اسے زبان سے برا کہو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو دل میں ہی اسے برا بھلا کہوں اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
سعیدہ وارثی نے تو ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر صاحب ایمان ہونے کا ثبوت دیا۔
عرب ملکوں کے وہ حکمران جو ظلم کرنے والی عامی طاقتوں کے دہلیز نشین ہیں، چپ چاپ فلسطینی بچوں کو مرتا دیکھتے ہیں، کیا وہ ایمان کے کمزور ترین درجے پر بھی فائز نہیں؟


Sayeeda Warsi Resigns From UK Government 

0 comments: