پاکستان کا سیاسی عدم استحکام اور جرنیلوں کا کھیل – - شاہنواز فاروقی......

09:46 Unknown 0 Comments


پاکستان کی سیاست کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ قومی تاریخ کے آدھے حصے میں جرنیلوں نے براہِ راست حکومت کی ہے اور باقی عرصے میں وہ پردے کے پیچھے کھڑے ہوکر ڈوریاں ہلاتے رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ڈوریاں ہلانے کا کام کبھی غلام اسحق خان نے انجام دیا ہے، کبھی فاروق احمد خان لغاری نے۔ عام خیال یہ ہے کہ اِن دنوں یہ کام عمران خان اور طاہر القادری نے سنبھالا ہوا ہے۔ لیکن اس دعوے کی شہادت کیا ہے؟

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میاں نوازشریف نے گزشتہ سوا سال میں اس طرح حکومت کی ہے کہ لفظ ’’حکومت‘‘ منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ میاں صاحب کے پاس بھاری مینڈیٹ ہے اور بھاری مینڈیٹ میاں صاحب پر بھاری ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، مگر اس بھاری مینڈیٹ نے میاں صاحب کو ذمے دار بنانے کے بجائے غیر ذمے دار بنادیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اس طرح معاملات کرنے کی کوشش کی جیسے پاک بھارت تعلقات میاں صاحب کا گھریلو مسئلہ ہو۔ ان کے نزدیک پارلیمنٹ کی یہ قدروقیمت ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس طرح آتے ہیں جیسے نئی نویلی دلہن منہ دکھانے کے لیے حاضر ہو۔ انہوں نے اقتدار میں اپنے عزیزوں، رشتے داروں کو اتنا دخیل کرلیا ہے کہ ملک میں خاندانی حکومت کا تاثر گہرا ہوگیا ہے۔ لوگ شکایت کررہے ہیں کہ اگرچہ میاں صاحب پورے ملک کے وزیراعظم ہیں مگر ان کی توجہ پنجاب پر مرکوز ہے۔ میاں صاحب نے قرضوں سے قوم کی جان چھڑانے کا اعلان کیا تھا مگر انہوں نے ملک و قوم پر قرضوں کا نیا بوجھ لاد دیا ہے۔ کراچی اور بلوچستان کی بدامنی جوں کی توں ہے۔ میاں صاحب نے فوجی آپریشن کی پہلے مزاحمت کی اور پھر اس طرح ہتھیار ڈال دیے جیسے کرنے کا اصل کام فوجی آپریشن ہی تھا۔ انہوں نے عمران خان کے انتخابی دھاندلی سے متعلق اعتراضات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور قیمتی وقت ضائع کرتے چلے گئے۔

 لیکن اس کے باوجود میاں صاحب کی حکومت اور ملک کا جمہوری نظام اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کے خلاف سازش کی جائے اور ملک و قوم کو تماشا بنایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ملک کے سیاسی عدم استحکام کی پشت پر جرنیلوں کا کھیل پوری طرح نمایاں ہوکر سامنے آگیا ہے۔ اس کھیل کی شہادتیں قومی اخبارات کے صفحات پر بکھری پڑی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عمران خان کے آزادی اور طاہرالقادری کے انقلاب مارچ کے دوران پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے تین چار ملاقاتیں کی ہیں۔ اگرچہ ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن ان ملاقاتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اس بحران میں آرمی چیف اور فوج ایک فریق بن کر ابھرے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو سیاسی معاملات میں جنرل راحیل سے کسی حکومتی اہلکار کی ملاقات کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مگر اس بات کا مفہوم کیا ہے؟ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فوج حکومت سے بڑی قوت کے طور پر موجود نہ ہوتی تو شہبازشریف اور چودھری نثار آرمی چیف سے ملاقات نہ کرتے… اور اگر آرمی چیف غیر سیاسی ہوتے تو وہ خود حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیتے۔ اس سلسلے میں 20 اگست کے روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے جنرل راحیل کے ساتھ ملاقات میں شکایت کی ہے کہ ہم تو پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں مگر یہ دونوں جماعتیں حکومت سے مذاکرات پر آمادہ نہیں ہیں۔ میاں نوازشریف کی بات غلط نہیں، مگر اُن کے بیان میں کم ازکم تین نکات ایسے ہیں جنہیں شرمناک کہا جاسکتا ہے۔ میاں صاحب کے بیان سے ایک بات تو یہ ظاہر ہے کہ وہ جنرل راحیل کو خود سے بالاتر تسلیم کررہے ہیں۔

 میاں صاحب کے بیان کا دوسرا شرمناک نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے جنرل راحیل سے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی شکایت اس طرح کی ہے جیسے یہ دونوں جنرل راحیل کی جماعتیں ہوں۔ میاں نوازشریف کے بیان کا تیسرا شرمناک نکتہ یہ ہے کہ ملک کے انتظامی سربراہ یا چیف ایگزیکٹو نے آرمی چیف کے سامنے خود کو غیر مؤثر تسلیم کرلیا اور گویا اس بات کی غیر اعلان شدہ خواہش کی کہ آپ ہماری مدد کرسکتے ہیں تو کریں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ ہر اعتبار سے ایک شرمناک اعلان ہے اور اس اعلان میں بھاری مینڈیٹ بھاری بوٹوں کو چومتا نظرآرہا ہے۔ 20 اگست کے اخبارات میں وزیرداخلہ چودھری نثار کا بیان بھی شائع ہوا ہے، اس بیان میں چودھری نثار نے یہ کہنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ دھرنوں کے کھیل میں فوج شریک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کھیل کے پیچھے ’’کوئی اور‘‘ تو ہوسکتا ہے مگر فوج نہیں۔ لیکن چودھری نثار نے ’’کوئی اور‘‘ کا تشخص واضح نہیں کیا۔ یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر اس کھیل کی پشت پر فوج نہیں ہے تو چودھری نثار کو یہ بات کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ لیکن یہ تماشا صرف میاں نوازشریف اور چودھری نثار کے بیانات تک محدود نہیں۔

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ ریڈ زون میں موجود عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور پاک فوج ان کا دفاع کررہی ہے۔ فوج کے ترجمان نے دوسری بات یہ کہی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مسئلے کے حل کے لیے معنی خیز مذاکرات کریں۔ یہ ایک سامنے کی حقیقت ہے کہ عمران خان اور طاہرالقاردی کے دھرنے ایک سیاسی معاملہ ہیں اور فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے، مگر اس کے باوجود پاک فوج کے ترجمان نے سیاسی معاملے میں مداخلت کی ہے۔ اس مداخلت کا ایک پہلو یہ ہے کہ فوج کے ترجمان نے دھرنوں کے شرکا کو یاد دلایا ہے کہ فوج جن عمارتوں کی حفاظت کررہی ہے ان کی طرف آنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں فوج کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا اور اگر فوج کچھ نہیں کرے گی تو اس کا کچھ اور مطلب لیا جائے گا۔ فوج کے ترجمان نے اپنے بیان کے اس نکتے کے ذریعے یہ بھی بتادیا کہ ریاست کی علامتوں کی حفاظت صرف فوج کرسکتی ہے۔ لیکن میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیان کا زیادہ قابل اعتراض نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے غیر سیاسی ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی تلقین کی ہے۔

 سوال یہ ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ انہیں یہ کہنے کا حق کہاں سے حاصل ہوا؟ ملک کا آئین تو انہیں ہرگز بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ویسے دیکھا جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ جرنیلوں کے پاس طاقت ہے اور انہیں سیاسی عمل میں مداخلت کے لیے کسی آئینی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب جبکہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے متحارب سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی تلقین کردی ہے تو وہ مذاکرات کی شرائط کا اعلان بھی کردیں۔ یہ مذاکرات اگر جی ایچ کیو میں ہوجائیں تو یقینا ان کی قدروقیمت بڑھ جائے گی۔ اتفاق سے 19 اگست کی رات کو جب پاک فوج کے ترجمان کا مذکورہ بیان جاری ہوا تو ایک ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے نے طاہرالقادری کے ساتھ گفتگو میں اس بیان کا ذکر کیا۔ طاہرالقادری نے بیان کا پہلا نکتہ سنا تو کہا کہ یہ نکتہ Positiveہے۔ انہیں بیان کے دوسرے نکتے سے مطلع کیا گیا تو اسے بھی قادری صاحب نے Positive قرار دیا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر خیال آیا کہ ’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن ملک کے سیاسی عدم استحکام کی پشت پر جرنیلوں کے کھیل کا قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔20 اگست کے روزنامہ جنگ میں سابقہ فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین کے لیگل فورم کی جانب سے ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ ناکام ہوچکی ہیں چنانچہ اسمبلیاں تحلیل کی جائیں اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔

 بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ ایکس سروس مین سوسائٹی سابقہ فوجیوں کی تنظیم ہے اور اسے خود کو ریٹائرڈ فوجیوں کے معاملات تک محدود رکھنا چاہیے، لیکن ایک سیاسی بحران میں سابق فوجیوں کی تنظیم کا قانونی حصہ بھی پوری قوت سے بولا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس نے صرف حکومت کو ناکام قرار نہیں دیا بلکہ پارلیمنٹ کو بھی ناکام باور کرایا ہے۔ عمران خان کے بعد سابقہ فوجیوں کی تنظیم کا لیگل فورم مڈٹرم انتخابات کے حق میں بلند ہونے والی دوسری آواز ہے۔ اس کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ عمران خان اور ایکس سروس مین سوسائٹی کا لیگل فورم ایک ہی طرح سوچ رہے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جامعہ حفصہ نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا تو جنرل پرویزمشرف نے جامعہ میں سینکڑوں طلبہ و طالبات کو خون میں نہلا دیا، حالانکہ غازی برادران مذاکرات پر آمادہ تھے۔ وزیرستان میں ریاست کی رٹ چیلنج ہوئی تو طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرایا گیا حالانکہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے۔ لیکن لاہور اور اسلام آباد میں دس روز سے ریاست کی رٹ کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور فوج کا ترجمان کہہ رہا ہے کہ ہم اسلام آباد میں عمارتوں کی حفاظت کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قوم یہ منظر بھی دیکھ رہی ہے کہ ملک کا وزیراعظم آرمی چیف سے شکایت کررہا ہے کہ ہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر پی ٹی آئی اور پی اے ٹی مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ معلوم نہیں آرمی چیف نے اس کے جواب میں وزیراعظم سے کیا کہا۔

 تاہم فوج کے ترجمان نے سیاسی قوتوں کو مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔ اس صورت حال کا لب لباب عیاں ہے، میاں نوازشریف کی حکومت جاتی ہے تو بھی فوج کی بالادستی یقینی ہے اور اگر ان کی حکومت نہیں جاتی تو بھی فوج کی بالادستی کو دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورت حال نے یقینی بنادیا ہے۔ البتہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر فوج اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تو اس سے کوئی ’’اتاترک‘‘ برآمد ہوتا ہے یا نہیں؟

شاہنواز فاروقی

0 comments: