زبان کا سرکش گھوڑا.......

02:16 Unknown 0 Comments



الفاظ کا موزوں اور بروقت استعمال ہی انسان کی پہچان ہے ورنہ کھاتے پیتے اور جیتے تو حیوان بھی ہیں ۔ یہ الفاظ ہی ہیں جو کبھی امیدوں کے چراغ بن کر راستہ دکھاتے اور ٹوٹے دلوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں لیکن الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو یہی الفاظ اندیشوں اور خوف کی زنجیریں بن کر پیروں سے چمٹ جاتے ہیں۔ الفاظ کبھی نشتر بن کر دل میں اُتر جاتے ہیں اور کبھی دل میں اُتر کر گھائو مٹاتے ہیں۔ الفاظ ہی ہیں جو رُلاتے ہیں ،ہنساتے ہیں،نیک نامی کا باعث بن جاتے ہیں یا پھر رسوا کر جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو قانون کی گرفت بہت ڈھیلی ہے اور یہ تصور نہیں کہ الفاظ کی پاداش میں کسی شخص کو سزا ہو سکے مگر متمدن معاشروں میں قانون صرف اعمال پر ہی سرکوبی نہیں کرتا بلکہ الفاظ پر بھی حرکت میں آتا ہے۔ چند برس قبل ایک امریکی موسیقار کو نازیبا الفاظ کے استعمال پر 4 لاکھ 30 ہزار ڈالر ہر جانہ ادا کرنا پڑا۔ خاتون موسیقار کورٹنی لو نے ڈیزائنر لیموران سے متعلق اہانت آمیز الفاط استعمال کیئے تو اس نے ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔ جن معاشروں میں قانون کی عملداری ہے وہاں تولنے کے بعد بولنے کا تصور ہے کیونکہ الفاظ گلے کی پھانس بن جاتے ہیں۔ لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی سوچ سے متعلق محتاط رہیں کیونکہ آپ کی سوچ الفاظ کا روپ دھار کر سامنے آتی ہے۔

الفاظ کی ادائیگی سوچ سمجھ کر کریں کیونکہ آپ کے الفاظ آپ کے اعمال کی صورت گری کرتے ہیں۔ اعمال احتیاط کے متقاضی ہیں کیونکہ یہ عادات میں بدل جاتے ہیں، عادات سے اغماض نہ برتیں کیونکہ یہ کردار کی عمارت کا بنیادی ستون ہوا کرتی ہیں اور کردار کی اہمیت اس لیئے مسلمہ ہے کہ اس پر آپ کے مقدر اور قسمت کا انحصار ہوتا ہے۔ یوں تو کسی شخص کی زندگی میں الفاظ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر خارزار سیاست میں قدم رکھنے والوں کو پہلا سبق ہی یہی دیا جاتا ہے کہ زبان کے سرکش گھوڑے کی لگام ڈھیلی نہ ہونے دیں کیونکہ چرچل کے بقول سیاست کا عمل بھی قریباً جنگ جیسا ولولہ انگیز اور خطرناک ہے۔ جنگ میں آپ صرف ایک بار مرتے ہیں اور رزق خاک ہو جاتے ہیں مگر سیاست میں آپ کو بار بار موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح جنگ میں گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دینے والا سوار عبرتناک شکست کے قریب تر ہو جاتا ہے اسی طرح سیاست کے میدان میں وہ شہسوار منہ کے بل گرتا ہے جو زبان کے گھوڑے کی طنابیں ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ سیاستدانوں کا وصف یہ ہے کہ وہ کم بولتے ہیں ،جہاں ایک لفظ سے کام چلتا ہو، وہاں جملہ ضائع نہیں کرتے اور جہاں ایک فقرے سے ضرورت پوری ہو جائے وہاں تقریر جھاڑنے کی حماقت نہیں کرتے۔ موجودہ دور میں تو کم گوئی اور سوچ سمجھ کر بولنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میرے بیان کو تروڑ مروڑ کا شائع کیا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، ٹی وی چینلز فوراً کلپنگ نکال کر دکھا دیتے ہیں کہ آپ نے چند برس قبل کیا کہا تھا۔

انسان خود تو مرجاتا ہے لیکن اس کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں مثلاًذوالفقار علی بھٹو جن کا شمار صف اول کے سیاستدانوں میں ہوتا ہے ،اگرچہ وہ اپنے الفاظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے تھے مگر ان کے چند جملے آج بھی ان کا تعاقب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے ڈھاکہ میں اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے پر دھمکی دی کہ جس نے اس میں شرکت کی ،میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ اِدھر ہم، اُدھر تم کا جملہ لاکھ وضاحتوں کے باوجود پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جذبات کی روانی میں انہوں نے کہا، اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو ہمالیہ خون کے آنسو روئے گا، مگر یہ جملہ طنز و استہزاء کا استعارہ بن گیا۔ ضیاء الحق نے کسی صحافی کے سوال پر جھنجھلا کر کہہ دیا، آئین ہے کیا شے، چند صفحات کی ایک دستاویز جسے میں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔ ضیاء الحق خود تو دنیا سے رخصت ہو گیا مگر اس کا یہ جملہ آج بھی سوہان روح بنا ہوا ہے۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی، اسے چارٹر آف ڈیموکریسی کی لحد میں اتار دیا گیا مگر یہ گڑا مردہ پھر بھی باہر نکل کر واویلا کرنے سے باز نہیں آتا۔ پرویز مشرف کے دور میں بلوچوں سے بہت ناانصافیاں ہوئیں ،کئی فوجی آپریشن ہوئے لیکن اس کا ایک جملہ بندوقوں کی گولیوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوا کہ یہ ستر کی دہائی نہیں کہ یہ پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے، ہم انہیں وہاں سے ماریں گے جہاں سے انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

آصف زرداری کا شمار پاکستان کے کایاں ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زبان بندی کو اپنی طاقت بنایا اور لب کشائی کے معاملے میں بہت محتاط رہے۔ جب سیاسی مخالفین کی کڑوی کسیلی باتوں کا حوالہ دیا جاتا تو وہ کوئی جواب دینے کے بجائے بات کو ہنس کر ٹال دیتے۔ لیکن ججوں کی بحالی سے متعلق ان کے منہ سے ایک جملہ نکل گیا کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے اور یہ جملہ ان کے ناقدین کا کام آسان کرگیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جوش خطابت میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں اور پھر ان کے بڑے بھائی وضاحتیں دیتے رہ جاتے ہیں۔ یوں تو ان کے بیشمار جملے بدنامی کا باعث بنے لیکن جو زبان انہوں نے گزشتہ دور حکومت میں منتخب صدر کے حوالے سے استعمال کی ،وہ آج بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مثلاًوہ ان پر علی بابا چالیس چور کی پھبتی کستے رہے۔ انہوں نے کہا تھا،اگر میں نے آصف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ بعض اوقات سیاستدانوں سے سہواً ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے شیخ رشید کے بارے میں کہا تھا، یہ شیدا ٹلی، اس کو تو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں ۔ لیکن آج وہی شیخ رشید ان کے سب بڑے مشیر ہیں۔ اس طرح کے معترضہ جملے اور ناپسندیدہ بیانات کم و بیش ہر سیاستدان سے منسوب ہیں اور سب کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے لیکن عمران خان گزشتہ ایک ماہ سے جس فراوانی سے اپنی زبان کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ،اسے سیاسی نادانی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ اوئے نواز شریف، اوئے افتخار چوہدری تو ان کا طرز تخاطب تھا ہی مگر کبھی وہ آئی جی اسلام آباد کو بندے کا پتر بننے کی نصیحت کرتے ہوئے دھمکی دیتے ہیں کہ میں تمہیں جیل میں ڈال دوں گا۔ ان کے کئی بیانات تو ایسے ہیں کہ نقل بھی نہیں کیئے جا سکتے۔ جس پارٹی کا قائد پنجابی فلموں کے غنڈوں جیسے لہجے میں بات کرتا ہو ،اس کے کارکن مخالفین کو غلیظ گالیاں نہ دیں تو اور کیا کریں۔

کاش ! وہ اس ایک مہینے میں شاہ محمود قریشی سے ہی کچھ سیکھ لیتے۔ کاش  کسی پڑھے لکھے شخص نے چرچل کی بات یاد دلائی ہوتی کہ نازیبا الفاظ نگل لینے سے آج تک کسی کا معدہ خراب نہیں ہوا۔ کاش ! وہ یہ سمجھ سکتے کہ زبان کسی تیز دھار آلہ کی مثل ہے،ماہر سرجن کے پاس ہو تو نشتر اور اگراناڑی کے پاس ہو تو خنجر۔ کاش وہ کبھی فرصت کے لمحات میں غور کریں کہ وہ امیر ہیں یا غریب؟ کیونکہ خود احتسابی کا طریقہ یہ ہے کہ ہراچھے لفظ پر آپ کو دس روپے ملیں اور برے لفظ پر پانچ روپے واپس لے لیئے جائیں تو جمع تفریق کے بعد کیا پوزیشن ہو گی۔ ان کے منہ کے بل گرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے زبان کے سرکش گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دیا تھا۔

محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 
 

0 comments: