کہانی دھرنوں کی: سکرپٹ، کیریکٹرز اور ڈائریکٹرز.......

23:37 Unknown 0 Comments


پاکستان میں جاری سیاسی صورتحال کے پیش نظر ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت اور فریقین کے مابین مزاکرات کسی نتائج پر نہیں پہنچ رہے اور پاکستانیوں کو سکون نصیب نہیں ہورہا؟

اس بلاگ میں کچھ سینئر ترین تجزیہ کاروں کی رائے اور معلومات کو اکٹھا کر کے پیش کیا جارہا ہے اور آخر میں ان تمام تجزیات اور حقائق کی بنا پر پاکستان میں چلنے والی فلم کا سکرپٹ حاضر خدمت ہے۔

مورخہ 14 جنوری 2013 کو دی نیوز میں چھپنے والے محترمہ شیریں مزاری کے آرٹیکل کے مطابقڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں اور محترمہ نے اپنے اس تجزیے کی بنیاد یہ دی ہے کہ چونکہ امریکہ 2014 میں افغانستان سے نکل رہا ہے اور ایسے وقت میں پاکستان میں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کےلئے ایک منتخب حکومت کے برعکس ایک لانگ ٹرم دوستانہ نگراں حکومت چاہتا ہے۔ خاص کر تب جبکہ امریکہ کو نہیں معلوم کے انتخابات کے نتیجے میں کس کی حکومت بنے گی اور اس دفعہ نا تو این آر او ہے اور نا کوئی گارنٹی دینے والے۔

چونکہ محترمہ شیریں مزاری کا یہ آرٹیکل پچھلے سال چھپا تھا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو کچھ اسلام آباد میں آجکل ہورہا ہے وہ بہت پہلے سے طے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب مولانا قادری کے ساتھ محترمہ مزاری کے لیڈر عمران خان بھی اس عالمی سازش کا حصّہ بن گئے ہیں اور محترمہ اس سازش کو جانتے ہوئے بھی اپنے قائد کو اس سازش سے آگاہ نہیں کرسکیں۔ خیر اس منطقی نقطے پر مٹی ڈالیں اور آگے پڑھیں۔

مورخہ 5 ستمبر کو دی فرائیڈے ٹائمز کے مدیر نجم سیٹھی (جن کی مشہور زمانہ 'چڑیا' اندر کی خبریں اُڑا کر لانے کے لئے مشہور ہے) کے مضمون کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف سے چھٹکارا حاصل کرنے کی سازش آشکار ہوگئی ہے۔

سیٹھی صاحب کے مطابق تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی حکومت کے لئے فرشتہ بن کر نازل ہوئے۔ جس کے بعد اس سازش کے نقطوں کو جوڑ کر پوری سازش کو سمجھا جا سکتا ہے۔

سیٹھی صاحب کے مطابق پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل اشفاق کیانی نواز شریف کی طرف سے تجویز کردہ فارن پالیسیز سے ناخوش تھے۔ جن میں انڈیا، امریکہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات اور نان اسٹیٹ ایکٹرز (اثاثوں) اور طالبان کیخلاف آپریشن سے متعلق وزیراعظم نواز شریف موقف شامل تھے۔
ہفتہ وار انگریزی رسالے میں چھپنے والے مضمون کے مطابق چونکہ نواز شریف سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں گھسیٹ رہے ہیں اور نواز شریف کا یہ اقدام جنرل کیانی سمیت بہت سارے فوجی افسروں کو بھی شاملِ تفتیش کر رہا ہے، جنہوں نے 1999 میں مشرف کا ساتھ دیا تھا۔ اس لئے بھی دونوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں تھی۔
جنرل کیانی کے سیاست میں عمل دخل کو دیکھتے ہوئے ہی وزیر اعظم کی جانب سے لائن میں تیسرے قدرے کم سیاسی جنرل راحیل شریف کو سپہ سلار منتخب کیا گیا۔

اس کے علاوہ سیٹھی صاحب کے مطابق اکتوبر 2014 میں کیانی دور کے بہت سارے جنرلز ریٹائر ہونے جارہے ہیں۔ جس کے بعد وزیر اعظم قدرے کم سیاسی جنرل کو آئی ایس آئی کی کرسی سونپ دیں گے۔ جس کے باعث فوج کی نیشنل سیکیورٹی میں مداخلت ضبط کر لی جائیگی۔
مشہور زمانہ چڑیا والے لکھتے ہیں کہ نواز شریف کا یہ خوف غلط بھی نہیں ہے کیونکہ ماضی میں دو مرتبہ ایسا ہوچکا ہے جب نواز شریف کی جانب سے آئی ایس آئی کے سربراہان کو تبدیل کیا گیا۔
جیسے 1991 میں نواز شریف نے جنرل اسد درانی کو گھر بھیج کر جنرل جاوید ناصر کو چیف تعینات کردیا اور پھر 1999 جب نواز شریف کی جانب سے جنرل ضیا الدین بٹ کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا۔ جنہیں بعد میں چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کے لئے جب نواز شریف نے احکامات دیئے تو مشرف کی طرف سے بغاوت کردی گئی۔

اس مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ جنرل کیانی کا یہ نظریہ تھا کے سنجیدہ فوجی بغاوت کی دھمکی فوجی بغاوت سے زیادہ کار آمد ہوسکتی ہے اور اس کی وجہ کمزور معیشت، خودمختار عدلیہ، سرگرم میڈیا، سرگرم سول سوسائٹی ادارے اور غیر ریاستی ایکٹرز ہیں۔
کیانی صاحب کے نظریے کے مطابق بہتر یہ ہے کہ سیاسی منظر نامے کے پیچھے سے فوجی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی کرداروں کو برؤے کار لاتے ہوئے چیزوں کو اس نہج پر پہنچا دیا جائے کہ فوجی بغاوت ناگزیر لگنے لگے۔
اسی نظریے کا استعمال کرتے ہوئے جنرل کیانی نے زرداری صاحب کو بھی فارن پالیسی، دہشت گردی کیخلاف جنگ، اور دیگر ایشوز جیسے انڈیا، امریکہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات، کیری لوگر بِل اور میمو گیٹ جیسے سکینڈل پر مجبور کردیا۔ بالکل اسی طرح جنرل کیانی کے نمک خوار نواز شریف کیساتھ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

اب کی بار بھی بالکل اسی طرح کیانی نظریے کے تسلسل میں اکتوبر میں کچھ جنرلوں کی ریٹائرمنٹ سے قبل نواز حکومت کا بستر گول کرنے کی دھمکی دی گئی۔

ایک طرف سدا بہار آرمی کارندوں شیخ رشید اور چوہدری برادران کے ذریعے عمران خان اور طاہرالقادری کو استعمال کیا گیا جو کسی بھی قیمت پر وزیر اعظم بنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف مضبوط ترین میڈیا ہاؤس جنگ اور جیو کو کمزور کردیا گیا. عدلیہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سابق چیف جسٹس تصدق حسین گیلانی اور سابق چیف الیکشن کمشنر پر عمران خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات سے خوف زدہ کردی گئی۔
سیٹھی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی کا ڈھنڈورا اس لئے پیٹا گیا تاکہ تمام اپوزیشن جماعتیں مشہور ترین شخصیات عمران خان اور طاہرالقادری کے ساتھ مل جائیں۔
بد قسمتی سے جیو اور نواز لیگ سازشیوں کے ہاتھوں پھنس گئیں۔ جس کی وجہ سے قوم غصّے میں آگئی۔ جیو نے ملک کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی ایجنسی پر الزام لگادیا اور نواز لیگ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن انجام دیدیا۔
اس مضمون کے مطابق سازشیوں کی تین چیزیں خوش قسمتی سے خلاف توقع ہوگئیں۔

پہلی: 10 لاکھ لوگ لانے کا دعوی پورا نہیں ہوا۔
دوسری: حکومت نے مارچ کے شرکا کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال نہیں کیا۔

تیسری: جب چیزیں حکومت کے ہاتھ سے نکل رہیں تھیں تو جاوید ہاشمی نے بگل بجا دیا اور پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کو وزیر اعظم کے پیچھے کھڑا ہونے کا پیغام دیدیا۔

مضمون کے آخر میں لکھاری لکھتا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے کچھ فیصلے اور پالیسیاں غلط بنائیں گئیں جنھوں نے وزیر اعظم کو کمزور کردیا۔ عمران خان میچ فکسر کے طور پر آشکار ہوگئے اور سازشی سامنے آگئے۔ سارے معاملے میں صرف جنرل راحیل ایک اچھا رول ادا کرتے نظر آئے۔
نجم سیٹھی کے ہی 15 اگست کو فرائیڈے ٹائمز میں چھپنے والا مضمون بھی کچھ ایسے ہی حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے۔

مثلاً، پیپلز پارٹی کی حکومت کیانی دور میں آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو کے آگے نیشنل سیکیورٹی کے ایشوز پر ڈھیر ہوگئیٌ تھی۔
جنرل کیانی نواز شریف کو بھی نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر قابو میں کرنا چاہتے تھے اور مشرف کیخلاف ٹرائل کی وجہ سے بھی جنرل کیانی اور نواز شریف کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تھے۔

اس مضمون کے اختتامیہ میں فرائیڈے ٹائمز کے مدیر لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کا حال بگاڑنے کے بعد دھرنے والوں کو واپس بلا لیا جائیگا اور نواز شریف شکست مان کر سپریم کورٹ کے ذریعے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کروائیں گے، عمران خان کی آمادگی سے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہوگی، مشرف کو چھوڑ دیا جائیگا، علاقائی فارن پالیسی سے نواز شریف پیچھے ہٹ جائیں گے اور اگر سپریم کورٹ یہ تعین کرتی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو پارلیمنٹ توڑ دی جائیگی اور دوبارہ انتخابات کرواۓ جائیں گے۔

اوپر پیش کئے گئے تمام تجزیات، ان صحافیوں کی آشکار کردہ معلومات اور مجھ جیسے جونیئر ترین تجزیہ کار کے تجزیات کی روشنی میں جمہوریت کے خلاف کی جانے والی اس سازش کا سکرپٹ کچھ اس طرح بنتا ہے۔
وجہِ سازش

بیرونی
امریکہ افغانستان سے اس سال انخلا کا ارادہ رکھتا ہے اور اس مقصد کے لئے پاکستان میں ایک دوستانہ نگران حکومت چاہتا ہے۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری حکومت کے ساتھ انخلا سے متعلق معاملات طے کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان میں ایک دوستانہ نگران حکومت ہی امریکہ کے لئے سازگار ثابت ہوسکتی ہے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے امریکہ نے برطانیہ کے ذریعے طاہرالقادری (جس کا ذکر محترمہ شیریں مزاری کے مضمون میں کیا گیا ہے) اور طاہرالقادری کے ذریعے عمران خان کو استعمال کیا۔

مشرف ٹرائل
فوج اور نواز شریف کے مابین اختلافات کی ایک بڑی وجہ سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف بغاوت کا مقدمہ ہے۔ جس پر فوج نواز حکومت سے نالاں ہے۔

سازشی آلہ کار
عمران خان: 2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان ہی دھاندلی کے الزامات لگا رہے تھے اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کی سپورٹ بھی انھیں حاصل ہے۔
ڈاکٹر مولانا طاہر القادری: 2013 میں اسلام آباد میں ہی ہونے والے دھرنے میں اپنی سٹریٹ پاور دکھا چکے تھے۔

جاوید ہاشمی کے بقول عمران خان اور طاہر القادری کے مابین ملاقات جون کے پہلے ہفتے میں لندن میں ہوئی۔ جس کے بعد عمران خان کی طرف سے اعلان کیا گیا کے وہ طاہرالقادری کیساتھ کسی الائنس کا حصّہ نہیں بنے گے۔

اعجاز حسین: مورخہ 7 ستمبر کو نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام آپس کی بات میں اس سازش میں شریک ایک اور کردار متعارف کروایا جو نیشنل ڈیفینس کالج میں لیکچر دیتا رہا ہے اور جس نے چوہدریوں اور طاہرالقادری کے مابین رابطہ کروایا۔

سدا بہار فوجی کارندوں کا استعمال
چوہدری برادران اور شیخ رشید کو ان دونوں انقلابی رہنماؤں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا اور ان دونوں فوجی کارندوں کی دھرنوں میں موجودگی فوج کی سازش کو آشکار کرتی ہے۔

سازش کی ناکامی کی وجوہات
سیٹھی صاحب کے مضمون کیمطابق تین وجوہات کی بنا پر جمہوریت کیخلاف یہ سازش کامیاب نا ہوسکی۔
ایک: عمران خان دس لاکھ لوگ اسلام آباد نا لاسکے۔ جس کی وجہ سے مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔
دو: حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح دھرنوں کے شرکا پر طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے اتنی ہلاکتیں نا ہو سکیں جو عمران خان اور طاہرالقادری چاہتے تھے۔
تین: جاوید ہاشمی نے باغی ہوتے ہوئے عمران خان کے پیچھے مبینہ ہاتھوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔

بد قسمتی
بدقسمتی سے نواز حکومت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن سرزد ہوگیا اور جیو نے آئی ایس آئی پر حامد میر پر قاتلانہ حملے کے الزامات لگا دیئے۔ جس کے بعد سازشیوں کے ہاتھ دونوں کیخلاف سازش کرنے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔

پیارے افضل کی اینٹری
نواز حکومت کیخلاف سازش کو ناکام ہوتا دیکھ کر پاکستان کے سب سے صادق اور امین اینکر کے ذریعے الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری محمد افضل کی اینٹری کروائی گئی جنہوں نے طے شدہ سکرپٹ کیمطابق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کے علاوہ جیو پر انتخابات میں دھاندلی کروانے کے الزامات لگائے۔
محمد افضل کی مشکوک اینٹری نے سازش میں اس متنازعہ اینکر کا کردار بھی آشکار کردیا اور دیکھنے والوں پر یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس اینکر کو خفیہ مواد کون فراہم کرتا ہے۔

چوہدری شجاعت کا کیانی پر الزام
جب جاوید ہاشمی نے سازش کو بے نقاب کردیا تو چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے جنرل کیانی پر الزام لگایا گیا کہ جنرل کیانی انتخابات میں دھاندلی میں ملوّث تھے۔
چوہدری صاحب کی طرف یہ الزام شاید سازش کے فیل ہونے پر جزبات کی رو میں بہتے ہوئے لگایا گیا اور شاید چوہدری صاحب کی سوچ کے مطابق اس بیان کے بعد ہی سوئی ہوئی ٹھنڈی فوج جاگ جائے اور موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے مداخلت کا فیصلہ کرلے۔

فوج کا مارشل لا نا لگانے کی وجہ
فوج کیانی نظریئے کی روشنی میں یہ سمجھتی ہے کہ مارشل لا کا خوف مارشل لا سے زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتا ہے اور اس کی وجہ یہ کہ فوج کمزور معیشت، خود مختار عدلیہ، سر گرم میڈیا، سرگرم سول سوسائٹی اور غیر ریاستی ایکٹرز کی وجہ سے مارشل لا نہیں لگا سکتی اور اگر لگاتی ہے تو خود پھنس جائیگی۔

جنرل راحیل شریف کا کردار
جنرل راحیل شریف نے اس سازش کو ناکام کرنے میں سب سے کلیدی رول ادا کیا اور اس کا سہرا وزیر اعظم نواز شریف کو بھی جاتا ہے جنہوں نے لائن میں سے تیسرے جنرل کو سپہ سلار کے طور پر چُنا۔

یہ جنرل راحیل کا ہی حوصلہ ہے کہ وہ ایسے نازک حالات میں جب ایک طرف فوج آپریشن ضرب عزب میں مصروف ہے اور دوسری طرف سیلاب میں اپنا فریضہ سر انجام دے رہی ہے، جنرل راحیل پاکستان میں جمہوریت کا علم بلند رکھنے کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں۔

جنرل ظہیر الاسلام کی ریٹائرمنٹ
کچھ دوسرے جنرلز کے علاوہ اکتوبر میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل ظہیر الاسلام بھی اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں اور نئے آنے والے ممکنہ سربراہ کے لئے جنرل نصیر جنجوعہ کا نام سامنےآرہا ہے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کا چناؤ تو چیف آف آرمی سٹاف کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر مدت ملازمت میں توسیع وزیر اعظم کی صوابدید ہوتی ہے اور موجودہ حالات کی روشنی میں نہیں لگتا کہ وزیر اعظم ایسا کوئی اقدام کریں گے۔
آخر میں پیش ہے 2013 کا ایک ویڈیو کلپ جس میں ایک بے باک نڈر صحافی نے موجودہ حالات کے بارے میں اپنے پروگرام میں بتا دیا تھا اور اس کے مطابق بھی پرویز مشرف کو بچانے کے لئے کچھ لوگ 2014 میں اسلام آباد میں دھرنے دیں گے۔

ان تمام تجزیات اور حقائق سے موجودہ سیاسی بحران کے پیچھے کار فرما سازشیوں کا تو پتہ چل جاتا ہے جو ابھی تک اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکے مگر ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ 
وہ اپنی پالیسیوں سے ان شر پسند سازشیوں کو بے نقاب کرتے رہیں۔

0 comments: