باغی کی خطرناک بغاوت.......

01:08 Unknown 0 Comments


اسلام آباد کی سڑکوں پر توڑ پھوڑ کی احتجاجی سیاست کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے برطرف صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک اور بغاوت کردی ہے۔اب کے انھوں نے بہت سے انکشافات کیے ہیں اور موجودہ بحران کے پیچھے کارفرما کئی پس پردہ چہروں کے نقاب الٹ دیے ہیں جس سے ان بعض چہروں کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔
بزرگ سیاست دان نے اسلام آباد میں سوموار کو نیوز کانفرنس میں اپنی جماعت کے چئیرمین عمران خان کی سیاست سے متعلق کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ وہ انقلاب مارچ کسی کے اشارے اور یقین دہانی پر کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ عمران خان نے منتخب ارکان اسمبلی سے زبردستی استعفے لیے اور لکھوائے ہیں۔ارکان ان استعفوں پر خوش نہیں تھے۔

انھوں نے عمران خان پر الزام عاید کیا کہ وہ مطلق العنان بنے ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے فیصلوں کو یکسر مسترد کردیتے ہیں اور جماعت میں اپنی من مرضی کے فیصلے کررہے ہیں۔وہ وعدے کرتے ہیں اور توڑ دیتے ہیں۔
انھوں نے ماضی کے حوالے سے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ایک اجلاس میں عمران خان نے کہا تھا کہ ''موجودہ چیف جسٹس ( اب سابق) جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بعد آنے والے چیف جج ناصر الملک وزیراعظم میاں نواز شریف کی برطرفی سے متعلق دائر کردہ درخواست پر ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے''۔

عمران خان نے کور کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہم سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور اپنے انتخاب کے مطابق ایک جج لیں گے اور وہ سب کچھ کچھ او کے کردے گا اور موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی۔
انھوں نے بتایا کہ جب عمران خان اپنا یہ تمام پروگرام وضع کرچکے تو میں نے ان سے کہا کہ خان صاحب آپ کیا کرنے جارہے ہیں۔آپ کو ہماری اور بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ مان کے نہیں دے رہے تھے اور انھوں نے کہا کہ ''میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ ستمبر میں نئے عام انتخابات ہوں گے''۔
جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کی قیادت کو بتایا تھا کہ احتجاجی تحریک کے بعد ایک خاص سکرپٹ (مسودہ) ہوگا جس کا اختتام ایک نئے چیف جسٹس کے تقرر کے ساتھ ہوگا اور مظاہرین کے نصب العین سے اس نئے چیف جسٹس کو ہمدردی ہے۔

انھوں نے اس نیوز کانفرنس میں ایک ہی سانس میں کئی انکشافات کردیے ہیں اور بتایا کہ عمران خان نے انھیں کہا تھا کہ ''انھوں نے (آرمی نے) ہمیں کہا ہے کہ طاہر القادری کے ساتھ اتحاد کریں۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے مارچ کو ریڈ زون سے آگے وزیراعظم ہاؤس کی جانب لے جانے کی مخالفت کی تھی اور کمیٹی کے ارکان نے عمران خان سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شیخ رشیداحمد کی باتوں پر کان نہ دھریں۔

انھوں نے عمران خان کی جانب سے شیخ رشید احمد کی حمایت سے متعلق کہا کہ ''وہ ہمیں یہ کہتے رہتے تھے کہ ہمیں مئی 2013ء میں منعقدہ انتخابات میں شیخ رشید کی کامیابی کو یقینی بنانا ہوگا حالانکہ 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ،میں نے شیخ رشید کو راول پنڈی کی نشست سے شکست دی تھی''۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ''یہ تھرڈ کلاس لوگ ہیں اور ان کی نااہلیوں کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔اس نے قوم کی امنگوں کی پروا نہیں کی ہے۔اگر ماڈل ٹاؤن لاہور کے واقعہ پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جاتی تو کونسی قیامت آجاتی کیونکہ پولیس کی فائرنگ سے چودہ افراد کی شہادت اور قریباً اسی لوگوں کو گولیاں لگ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے''۔

انھوں نے گذشتہ روز اور آج بھی ماضی میں تحریک انصاف کی قیادت سے اختلاف کے بارے میں کہا ہے کہ ''جب پارٹی میں میری بات نہیں سنی جاتی تھی تو ملتان چلا جاتا تھا یا بیمار ہوتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ میں بیمار ہوتا تھا اور نہ مجھے بیوی بچوں کی یاد آتی تھی، میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ملتان چلا جاتا تھا''۔

جاوید ہاشمی کو اس بغاوت سے قبل ہی جماعت کے چئیرمین عمران خان نے صدارت کے عہدے سے فارغ کردیا تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی جماعت کے صدر ہیں اور عمران خان نے انھیں غیر آئینی طور پر ہٹایا ہے۔انھیں اپنی جماعت کے آئین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی کی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی جماعت کے یک طرفہ طور پر برطرف کیے گئے صدر کے ان انکشاف انگیز الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان کے رد میں انھوں نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

 

0 comments: