یہ صحرا موت کا صحرا ہے

23:51 Unknown 0 Comments

  

شیکسپیر نے اپنے کسی ڈرامے میں کردار کی زبان سے یہ کہلوایا ہے کہ ایک انسان جو نابینا ہو، وہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ کنگ لیئر کا یہ جملہ آج بہت یاد آیا۔ تھر کے نیم جاں لوگوں سے ہمدردی کے لیے جانے والے ہمارے وزیر اعلیٰ اور ان کے ہمراہیوں نے تھکن اور صدمے سے نڈھال ہوکر مٹھی سرکٹ ہاؤس میں کمر ٹکائی۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کے لیے عشائیے کا اہتمام نہ کیا جاتا۔ دروغ برگردن صحافیان، سب کی تواضع تلی ہوئی مچھلی، چکن تکے، بریانی، ملائی بوٹی، کوفتے اور روغنی روٹی سے کی گئی ہے۔ درجہ دوم کے لوگوں کے لیے بریانی کی دیگیں تھیں جو اس قدر خشوع و خضوع سے کھائی گئیں کہ جو لوگ اس بریانی سے حسب خواہش انصاف نہ کرسکے وہ کفِ افسوس مل کر رہ گئے۔ اس عشائیے کی تفصیل جان کر مجھے بے نظیر بھٹو یاد آئیں۔ وہ 70 کلفٹن میں جب اپنے کارکنوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتیں تو دال، چاول، نان اور ایک سبزی کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔ جو وہ خود کھاتیں، وہی اپنے جاں نثاروں کو بھی کھلاتیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگر بے نظیر بھٹو کسی ایسے اجتماعی سانحے میں پرسہ کرنے اور چارہ جوئی کے لیے گئی ہوتیں تو وزیروں، مشیروں اور افسروں کے اس ہجوم میں کیا ان کے سامنے بھی یہ دسترخوان چننے کی کسی نے مجال کی ہوتی؟ ایسے لمحوں میں وہ اس لیے یاد آتی ہیں کہ وہ مدبر تھیں، رہنما تھیں، ان کے بعد آنے والے شاید وہ لوگ ہیں جو سندھ کے دیہی علاقوں سے ووٹ لینا اپنا پیدائشی حق اور وہاں کے رہنے والوں کا پیدائشی فرض سمجھتے ہیں۔

اس وقت سندھ حکومت کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں پڑنے والے قحط اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ وہ اسے میڈیا بہ طور خاص الیکٹرانک میڈیا کی ذمے داری قرار دے رہے ہیں۔ اس مرحلے پر یہ کیسے جان لیا کہ اس سنگین صورت حال میں صوبائی حکومت کی ذمے داری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سابق صدر زرداری صاحب نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی جو تقسیم کی ہے اس نے ملک کی تمام صوبائی حکومتوں کو بہت زیادہ بااختیار بنادیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ مقامی بیورو کریسی اور صوبائی دارالحکومت میں موجود متعلقہ افسران اور وزیروں نے حالات کی سنگینی کا احساس کیوں نہ کیا اور اس بحران سے نمٹنے میں اتنی دیر کیوں لگادی۔ تھرپارکر اور اس سے متصل اضلاع میں پیپلز پارٹی کے سرگرم عہدیداروں نے اس الم ناک انسانی مسئلے پر نگاہ کیوں نہ رکھی اور علاقے کے افسران پر دباؤ کیوں نہیں بنایا کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے دن رات ایک کردیں۔ یہ ذمے داری ان سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی بھی تھی جو اس علاقے میں بڑے بڑے جلسے کرتی ہیں۔ کیا ان جماعتوں کو اس علاقے کے غریبوں کی ضرورت صرف اس وقت ہوتی ہے جب ووٹ لینے کا موسم آتا ہے۔

یہ ایک اچھی بات ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی معاملات میں عدم مداخلت کا رویہ اپنا رکھا ہے لیکن تھرپارکر کے اس الم ناک سانحے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صوبوں میں سر اٹھانے والے وہ معاملات اور مسائل جو بہت بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہوسکتے ہیں، ان کے بارے میں وفاقی حکومت کو زیادہ حساس رویہ اختیار کرنا چاہیے اور ان کے بارے میں ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہمارے تھرپارکر اور ہندوستانی تھر کے درمیان ریت کے بگولے چکراتے ہیں اور کبھی کبھی سرحدی حد بندیوں سے بھی کھلواڑ کرتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر خفیہ ایجنسیوں کی گہری نظر رہتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ لوگ دو سوال اٹھا رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ خشک سالی کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں تھا اور نہ قحط کوئی ناگہانی آفت تھی، اس بارے میں ان ایجنسیوں سے بھول چوک کیسے ہوئی؟ دوسرا سوال یہ کیا جارہا ہے کہ پاکستانی اور ہندوستانی تھر ایک جیسے مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہندوستانی تھر میں رہنے والے ان مسائل سے دوچار نہیں ہوئے اور نہ وہاں اس طرح اموات ہوئیں۔ اس کا یہ مطلب تو نکلتا ہے کہ سرحد کے دوسری طرف وہاں کی مقامی حکومت کی معاملات پر گرفت بہت بہتر تھی۔ بارش وہاں بھی نہیں ہوئی۔ اناج کی قلت وہاں بھی ہوئی لیکن انھوں نے اسے قحط میں بدلنے نہیں دیا۔ ہم صبح شام ہندوستان پر انگلی اٹھاتے ہیں کیا ان معاملات میں ہمیں ہندوستان سے کچھ سیکھنا نہیں چاہیے؟

اور اب کچھ احتساب اپنا بھی۔ ہم جو اخبارات اور ٹیلی ویژن سے وابستہ ہیں، ہم نے تھر کے معاملات پر اس وقت تک توجہ کیوں نہیں دی جب تک یہ بحران الم ناک انسانی المیے میں تبدیل نہیں ہوگیا۔ ان دنوں معاملہ، بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کا ہے، جب طالبان، وینا ملک اور میرا بی بی بریکنگ نیوز کی مرکز نگاہ ہوں اس وقت کسی نے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ ذرا کسی اور طرف بھی نگاہ اٹھاکر دیکھے۔ میں اپنے آپ سے سوال کرتی ہوں کہ جب میں نگر پارکر، تھر پارکر، مٹھی اور دوسری سرحدی بستیوں کا سفر کرچکی ہوں، وہاں کے قہر ناک موسموں کو قریب سے دیکھا ہے، وہاں کی سیاسی صورت حال پر افسانے بھی لکھے ہیں تو کیا مجھے معلوم نہیں تھا کہ تھر میں خشک سالی سے مور ایسے حسین پرندے اور پھول جیسے بچے کیوں اور کیسے ختم ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ میری ذمے داری نہیں تھی کہ میں اس بارے میں وقت سے پہلے لکھوں اور افسر شاہی کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کروں؟

ہم لکھنے والے عموماً جمہوریت کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن یہ بات ماننے کی ہے کہ اگر ملک میں اس وقت جمہوریت نہ ہوتی میڈیا آزاد نہ ہوتا تو اس سانحے اور اس کی شدت کو یوں نہ پیش کیا جاتا۔ دیرسے سہی حکمران اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں تھرپارکر کی طرف یوں دوڑ نہ لگاتیں اور وہاں کے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی طرف توجہ نہ دیتیں۔ انھیں معلوم ہے کہ اب کوئی آمران کی سرپرستی کے لیے نہیں آئے گا اور انھیں ووٹ لینے کے لیے ان ہی کے سامنے جھولی پھیلانی ہونگی جنھیں انھوں نے اس ابتلا میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ چپکے سے ہی سہی ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ تھر کے لوگوں کو نظر انداز کرنے کا ایک سبب کہیں یہ تو نہیں کہ وہ ہندو ہیں اور ہندو بھی وہ جوکولہی، بھیل اور باگڑی ہیں۔ یقیناً ایسی بات نہیں ہوگی لیکن پھر بھی اس بارے میں ہمیں سوچنا تو چاہیے۔ تھر کے بعد چولستان میں بھی ایک ایسا ہی انسانی المیہ جنم لینے والا ہے تو کیا ہمیں اس بارے میں ابھی سے کچھ نہیں سوچنا چاہیے؟ کیا لازم ہے کہ اپنی نااہلیوں کے سبب ہم ایک بار پھر دنیا میں رسوا اور خود اپنی نگاہوں میں ذلیل ہوں؟

ان دنوں ہم نے جان سے گزرتے ہوئے بہت سے بچوں کی تصویریں دیکھی ہیں۔ اولاد کی نبضوں کے ڈوبنے کے ساتھ ان کی ماؤں کی آنکھوں میں دم توڑتے ہوئے خواب دیکھے ہیں۔ ایسے میں ابن انشا کی ایک طویل نظم کی چند سطریں نظر سے گزاریئے کہ یہ سطریں جگر شق کرتی ہیں:

یہ بچہ کیسا بچہ ہے… یہ بچہ کالا کالا سا…یہ کالا سا مٹیالا سا…یہ بچہ بھوکا بھوکا سا… یہ بچہ سوکھا سوکھا سا… یہ بچہ کس کا بچہ ہے… یہ بچہ کیسا بچہ ہے… جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے… ناں اس کے پیٹ میں روٹی ہے… ناں اس کے تن پر کپڑا ہے… ناں اس کے سر پر ٹوپی ہے… ناں اس کے پیر میں جوتا ہے… ناں اس کے پاس کھلونوں میں… کوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہے… ناں اس کا جی بہلانے کو…کوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہے…ناں اس کی جیب میں دھیلا ہے… ناں اس کے ہاتھ میں پیسا ہے…ناں اس کے امی ابو ہیں…ناں اس کی آپا خالا ہے… یہ سارے جگ میں تنہا ہے… یہ بچہ کیسا بچہ ہے… یہ صحرا کیسا صحرا ہے… ناں اس صحرا میں بادل ہے… ناں اس صحرا میں برکھا ہے… ناں اس صحرا میں بالی ہے…ناں اس صحرا میں خوشہ ہے… ناں اس صحرا میں سبزہ ہے… ناں اس صحرا میں سایا ہے… یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے… یہ صحرا موت کا صحرا ہے…یہ بچہ کیسے بیٹھا ہے… یہ بچہ کب سے بیٹھا ہے… یہ بچہ کیا کچھ پوچھتا ہے… یہ بچہ کیا کچھ کہتا ہے… یہ دنیا کیسی دنیا ہے… یہ دنیا کس کی دنیا ہے… اس دنیا کے کچھ ٹکڑوں میں… کہیں پھول کھلے کہیں سبزہ ہے… کہیں بادل گھر گھر آتے ہیں… کہیں چشمہ ہے، کہیں دریا ہے…کہیں اونچے محل اٹاریاں ہیں… کہیں محفل ہے، کہیں میلا ہے… کہیں کپڑوں کے بازار سجے… یہ ریشم ہے، یہ دیبا ہے… کہیں غلے کے انبار لگے… سب گیہوں دھان مہیا ہے… کہیں دولت کے صندوق بھرے… ہاں تانبا، سونا، روپا ہے… تم جو مانگو سو حاضر ہے… تم جو چاہو سو ملتا ہے… اس بھوک کے دکھ کی دنیا میں… یہ کیسا سکھ کا سپنا ہے؟… وہ کس دھرتی کے ٹکڑے ہیں؟…یہ کس دنیا کا حصہ ہے؟…ہم جس آدم کے بیٹے ہیں …یہ اس آدم کا بیٹا ہے… یہ آدم ایک ہی آدم ہے… وہ گورا ہے یا کالا ہے… یہ دھرتی ایک ہی دھرتی ہے… یہ دنیا ایک ہی دنیا ہے… سب اک داتا کے بندے ہیں… سب بندوں کا ایک ہی داتا ہے… کچھ پورب پچھم فرق نہیں…اس دھرتی پر حق سب کا ہے۔

زاہدہ حنا

0 comments: