بے بس قوم

02:21 Unknown 0 Comments

 

ہم کیسی بے بس قوم ہیں جو آئین اور ملک سے غداری کے ملزمان کو سزا تو درکنار انہیں قانون کے کٹہرے میں بھی نہیں لا سکتی‘ ہمارے سیاسی قائدین غداری‘ کے ملزمان کا بے شرمی سے ساتھ دیتے ہیں اور اس کی وجہ قوم کا داغدار ماضی بتاتے ہیں اور اس داغدار ماضی کی وجہ ان کے اپنے ہی سیاسی آباؤ اجداد ہوتے ہیں‘ ہماری عدالتیں غیر مسلح وزراء اعظم کو تو پھانسی یا نااہلی کی سزا سنا دیتی ہیں مگر فوج کے سابق سربراہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے پہلے ملزم کی میڈیکل رپورٹیں طلب کرتیں ہیں ہم عوام اور سرکاری افسران جو ڈسپلن اور قواعد کے نام پر غداری کرنے والوں کے غیر آئینی احکامات پر عمل کرتے ہیں اور ایسی بغاوتوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے ‘ وہ کون سا دن ہوگا جب فوجی بغاوت کرنے والے جرنیل کو اس کا اپنا ہی ماتحت فوری گرفتار کرے گا۔

 ایسے صحافی اور کالم نویس بھی ہیں جن کی قلم اور زبانیں اچھی نوکری اور روشن مستقبل کی خواہشات کی غلام ہوتی ہیں اور انہیں ملک کے مستقبل سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہے یہ وہ اہل زبان ہیں جو اپنی چرب زبانی سے غداروں کو ہیرو ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔اب ایسے قومی کرداروں کے ہوتے ہوئے بھلا کوئی غداری کا ملزم ’’انصاف‘‘ کیسے پائے گا‘ یہ وہ کردار ہیں جنہوں نے آپس میں مل کر 66 سال تک پاکستانیوں کو بیوقوف بنایا۔ملک ٹوٹ گیا مگر کسی غدار کا احتساب نہ ہوا‘ قوم کے مورال کا بیڑہ غرق کر دیا گیا مگر بظاہر چند اداروں کا مورال بلند رکھا گیا ‘ ہمارے نظم و ضبط کے ٹھیکیدار ادارے بھی آئین سے غداری کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہے آخر یہ کیسا مورال ہے کہ جو آئین سے بغاوت کرکے ہی بلند رکھا جا سکتا ہے اور پھر آئین سے غداری کے مرتکب ملزم کو بچا کر ہی ملک و قوم سے وفاداری نبھائی جا سکتی ہے اگر ہماری اپنی حکومت اور عدالتیں آئین سے سنگین غداری کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لا سکتی تو پھر یہ کام کونسی حکومت اور عدالت کرے گی۔جو فوجی آمر اپنے ادارے اور ملکی آئین سے غداری کرتے ہوئے حکومت پر قبضہ کرتے رہے آج ان کے احتساب سے ہمارے اداروں کے مورال پر اثر پڑنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے یہ وہ ادارے ہیں جو بروقت کارروائی کرکے اپنے سربراہوں کو غداری سے روکتے بھی نہیں‘ ہمارا بطور قوم المیہ ہی یہ ہے کہ ہمارے چند سیاستدان‘ عدالتیں اور میڈیا کے کچھ مفتی وقت بغاوت پھولوں کے ہار لے کر استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں ‘ خوب موجیں کرتے ہیں اور دس سال بعد اپنے بیانات ‘ فیصلوں اور تجزیوں کے ذریعے نمک حلالی میں مصروف ہو جاتے ہیں‘ یہ وہ کردار ہیں جو خدانخواستہ برے وقت میں سرحدوں پر بھی پھولوں کے ہار لے کر کھڑے ہوں گے اور مؤقف ہوگا کہ ہمارے سیاسی‘ عدالتی اور میڈیا کے ماضی کے تناظر میں یہاں پر سویلین کی بجائے جرنیل ہی تعینات کر دیا جائے (خدانخواستہ) یہ ڈنڈے کا ساتھ دینے والے تمام کردار کل بڑے ڈنڈے کا ساتھ دے رہے ہوں گے اور ملکی آزادی کی جنگ وہ لوگ لڑ رہے ہوں گے جو فوجی آمریت کے خلاف آواز اٹھاتے رہے اور مشکلات میں پڑے رہے‘ اگر ڈنڈے کی حکومت کی موجودہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار رہی تو پھر بڑے ڈنڈے سے لڑائی کے وقت جمہوریت پسند لوگ بھی ساتھ نہ ہوں گے۔نجانے کیوں میڈیا سے بندوق کی غیر مشروط حمایت کی توقع کی جاتی ہے اور اسے ملکی سلامتی سے جوڑا جاتا ہے مثال دی جاتی ہے ان امریکی صحافیوں کی جو افغانستان میں اپنی حکومت اور فوج کا ساتھ دیتے ہیں‘ اس کا جواب ایک ہی ہے کہ اگر ہماری فوج بھی بیرون ملک میں کہیں قابض ہو اور ہمارے عوام مقبوضہ علاقے کے دہشت گردوں کے نشانے پر ہوں تو شاید ہم جیسے صحافی بھی امریکی صحافیوں جیسی رپورٹنگ کریں‘ مگر ایسا نہیں ہے بلکہ تاریخ میں تو ہمارے ساتھ الٹ ہی ہوتا آیا ہے ہم کیا کریں؟ 

امریکی صحافیوں کو اپنے ملک میں فوجی بغاوت کا سامنا نہیں اور نہ ہی ان کا ملک کبھی ٹوٹا ہے نہ ہی ان کی عدالتیں اور ادارے اپنی سرزمین پر ڈنڈے اور بندوق کے قانون کے آگے سر جھکاتی ہیں۔ ہاں ان کے صحافی اور میڈیا والے ہمارے فوجی آمروں کو وقت گزرنے کے ساتھ آمر اور ڈکٹیٹر لکھنا بھول جاتے ہیں اور انہیں بطور سیاست دان تسلیم کر لیتے ہیں یہ کوئی ایسی اچھی صحافتی روایت یا مثال نہیں جو پاکستانی صحافی بھی اپنائیں‘ مشرف کے ٹرائل میں میڈیا کے کردار پر بہت تنقید سامنے آئی ہے کہاں جاتا ہے کہ یہ ’’میڈیا ٹرائل‘‘ ہو رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ایک آمر کا ٹرائل تو ہم کر نہیں پا رہے اوپر سے میڈیا ٹرائل بھی نہ کریں تو پھر کیا کریں‘ ویسے بھی دن دھاڑے آئین توڑنے والے غداری کے ملزم کے بارے میں میڈیا ایسا کیا رپورٹ کرے جس سے وہ معصوم ثابت ہو جائے‘ ایک ایسی خصوصی عدالت جسے قانون میں سزائے موت دینے کا اختیار ہے اگر وہ وارنٹ گرفتاری بھی جاری کرنے میں تاخیر کر رہی ہے تو پھر کیا سمجھا جائے؟ کیا ایسی عدالت جرم ثابت ہونے پر ’’سزائے موت‘‘ سنانے کی جسارت کر پائے گی؟ ایسی عدالتوں کے ہومیوپیتھک احکامات مریض کا علاج تو نہیں کرتے مگر قوم کا وقت اور پیسہ ضرور ضائع کرتے ہیں ان حالات میں ’’میڈیا ٹرائل‘‘ تو نہیں تاہم ’’میڈیا کے لئے ٹرائل‘‘ کا تاثر ضرور ملتا ہے یوں لگتا ہے کہ سب کچھ محض میڈیا کے لئے ہی کیا جا رہا ہے اور اس دوران ملزم کو دباؤ میں ڈال کر اس سے واپس نہ آنے کا وعدہ لیا جائے گا۔

اس تناظر میں خصوصی عدالت کی کارروائی بھی میموکمیشن کی کارروائی کا ایکشن ریپلے لگتی ہے جس کے کردار بھی وہی ہیں اور شاید انجام بھی وہی ہو‘ یعنی ایک طرف فوج دوسری طرف حکومت اور مرکزی ملزم عدالت کی اجازت سے ملک سے باہر ‘ اس کے بعد کوئی اور نیا ڈرامہ شروع ہوگا اور پھر سے ٹکٹ بکیں گے اور پھر مستقبل میں یہ دلیل سامنے آئے گی کہ اگر مشرف کا ٹرائل نہیں ہوا تو اب کیوں؟ اس وقت بلاول بھٹو ‘ حمزہ شہباز‘ مریم نواز‘ یا مونس الہٰی کچھ ایسے ہی بیانات دے رہے ہوں گے جیسے کہ ان کے آباؤ اجداد نے دیئے تھے ہم نہیں ہوں گے مگر ہماری بے بسی نسل در نسل چلے گی۔






0 comments: