وہی ڈھاکا

22:17 Unknown 0 Comments


اس کالم کی پوری سرخی یوں ہے ’’وہی ڈھاکا وہی ہندوستان اور وہی پاکستان‘‘ فرق 1971ء اور 2014ء کا ہے یعنی 43سال کا۔ ان برسوں میں ہم اس قدر بدل گئے کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان میں غداروں کا غلبہ تھا، آج پاک بھارت جنگ میں وفاداروں کا غلبہ ہے۔ تب یہ جنگ فوجوں کی تھی اب یہ جنگ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ہے لیکن دونوں جنگوں میں اس خطے کے لوگوں کے جذبات کا جوش ایک جیسا رہا۔ غداروں والی جنگ میں ہمیں عبرت ناک شکست ہوئی پہلے تو 90 ہزار پاکستانی بھارت کی قید میں دے دیے پھر ان کو بھارت سے رہا کرانے کے بعد ہیرو بھی بن گئے لیکن پاکستان کے عوام بھارت سے اپنی شکست اور رسوائی کا بدلہ لینے کے لیے انتقام کی آگ میں جلتے رہے۔ فوجی جنگ کا میدان تو جب سجے گا دیکھا جائے گا فی الحال کرکٹ کے میدان میں ہم نے بھارت کو رسوا کر دیا۔ یہ میدان بھی ڈھاکا میں تھا، اب یہ پلٹن میدان نہیں شیر بنگلہ اسٹیڈیم تھا۔ اس میدان کا فاتح بھی ایک پاکستانی پٹھان تھا آفریدی اور پہلے والے میدان کا شکست خوردہ بھی ایک پٹھان تھا نیازی۔ بس ان دونوں پٹھانوں کی پاکستانیت میں فرق تھا۔ برصغیر میں آباد ہندو اور مسلمان قوموں میں یہی فرق کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ رہا۔ کبھی اس نے تاریخ کی فتح حاصل کی اور زمین کے نقشے پر ایک نیا ملک بنا دیا اور کبھی اس نے اپنے اس ملک کی عزت اس ملک کے شہر میں لٹا دی۔ دنیا کی ہر قوم کی طرح یہ قوم بھی اپنے لائق کسی قیادت کی منتظر رہی۔ ایک قیادت نے اس سے ایک ملک بنوا لیا اور ایک قیادت نے اس ملک کو رسوا کر دیا اور وہ بھی ان دشمن ہاتھوں سے جن کو توڑ کر یہ ملک بنایا گیا تھا۔

برصغیر کی ان دونوں قوموں کے درمیان کبھی گولہ و بارود کی اور کبھی گیند اور بلے کی جنگ ہوتی ہی رہے گی۔ ان کی دشمنی رنگ و نسل کی نہیں نظریات کی ہے، اسلام اور بت پرستی کی ہے جب تک یہ دونوں قومیں نظریاتی اتحاد اختیار نہیں کر لیتیں جو نا ممکن ہے تب تک ان کے درمیان جنگ جاری رہے گی، اس کے میدان بدلتے رہیں گے، اس کے ہتھیار بدلتے رہیں گے لیکن ان کے مابین دشمنی نہیں بدلے گی۔ ان دنوں پاکستان میں ایک سیکولر طبقہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ یہ دشمنی اگر ختم نہیں ہوتی تو اس میں سے زہریلے کانٹے نکال دیے جائیں۔ اس کوشش میں صرف برصغیر کی دو قومیں ہی نہیں بیرونی طاقتیں بھی شامل ہیں جو یہاں اپنے اپنے مفاد میں ہندو مسلم دوستی قائم کرنا چاہتی ہیں، فی الحال انھیں اس کا بظاہر ایک غیر متنازعہ میدان مل گیا ہے یعنی دونوں ملکوں میں تجارت کی بحالی۔ ہندو مسلم کے درمیان تجارت تو پہلے دن سے ہی بحال تھی جب پاکستان بنایا گیا تب بھی ان دنوں ہندو مسلم کے درمیان تجارت چل رہی تھی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد دونوں ملکوں کی سرحدیں جدا ہو گئیں۔

دو مخالف ملکوں کے درمیان کی سرحدیں ویزا ضروری دیگر لوازمات بھی لاگو اور تجارت بالکل بند۔ کسی پاکستانی حکمران میں یہ جرات پیدا نہیں ہوئی کہ وہ تجارت کھول سکے، اب پہلی بار جب امریکا نے بھارت کی علانیہ سرپرستی شروع کی اور بھارت کی طلب پر تجارت کا مسئلہ پیدا ہوا تو کمزور پاکستانی حکمرانوں نے امریکی خوشنودی کے لیے بھارت کے ساتھ تجارت کی سلسلہ جنبانی شروع کر دی۔ سرحدیں کھولنے کی بات ہوئی ویزا وغیرہ ختم یا نرم کرنے کی بات ہوئی اور نہ جانے کتنے پرانے گم شدہ رشتے تلاش کر لیے گئے۔ ایک طرف امریکا کی سپر پاور جو ہمارے ہاں حکومتیں بناتی اور بگاڑتی ہے دوسری طرف ملک کے اندر امریکا کے مفاد پرست حامی اور بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی غرض سے سیکولرازم کے علمبردار جمع ہو گئے۔ ان سیکولر عناصر کو میڈیا میں مضبوط رسائی حاصل ہے اس طرح امریکا کی سرپرستی اور بھارت کی انتھک کوششوں سے پاکستان کے اندر ایک لابی بن رہی ہے جو بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات اور بعد میں برادرانہ تعلقات کی خواہاں ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے عوام اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ بھارت کے خلاف پاکستان کی کرکٹ کے میدان میں فتح نے ایک بار پھر بتایا ہے کہ پاکستانی بھارت کو کیا سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں رات کے شروع میں ہی جب آفریدی نے یکے بعد دیگرے دو چھکے مارے جن کے بغیر فتح ممکن نہیں تھی تو پورا پاکستان جو سانس روک کر کرکٹ میچ کے آخری لمحے دیکھ رہا تھا فتح کا اعلان ہوتے ہی ناقابل بیان حد تک پرجوش ہو کر اپنے آپ سے باہر نکل آیا۔ کرکٹ کے میچ میں فتح و شکست بارہا دیکھی ہے لیکن ایسی فتح بہت زیادہ نہیں ملتی جب پوری قوم بے قرار ہو کر جھوم اٹھے اور رقص کناں بازاروں میں نکل آئے۔ ڈھاکا میں ہونے والی اس فتح کے بہت معنی تھے۔ ایک تو ہم اپنے کھوئے ہوئے جگر کے ٹکڑے ڈھاکا کو بہت یاد کرتے رہے پھر ہم نے دیکھا کہ نہ صرف ڈھاکا بلکہ پورا مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) پاکستان کی فتح کو اپنی ذاتی فتح سمجھ کر جشن منانے لگا جیسے متحدہ پاکستان کی یادوں میں گم ہو گیا ہے جب ہمارے غدار لیڈروں نے اسے بھارت کے حوالے کر دیا۔ حسینہ واجد قسم کے لیڈر کچھ بھی کرتے رہیں، برصغیر میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں اور یہ دو ہی رہیں گی۔ ویزوں میں نرمی تو کیا سرحدیں بھی ختم کر دیں لیکن دلوں میں استوار ان سرحدوں کا کیا کریں گے جو 1947ء میں ایک بار پھر استوار کر دی گئی ہیں اور اس خطے کے جغرافیائی حکمران انھیں گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ یہاں کے عوام ان نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ ہندو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انھیں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم بدقسمتی سے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ موجود سرحدوں کو ہی قائم رکھ سکیں تو بڑی بات ہے۔ ان سرحدوں کے محافظ ڈھاکا اور اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ کوئی نہ کوئی آفریدی نوجوان ہمیں پاک بھارت دونوں کو یاد دلاتا ہے اور اس فرق کو ظاہر کرتا ہے جو نظریات نے دونوں کے درمیان استوار کر رکھا ہے۔ نہ مٹنے والا فرق۔

عبدالقادر حسن

Enhanced by Zemanta

0 comments: