مصباح الیون تیرا شکریہ

22:23 Unknown 0 Comments


سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کو کل 5 سال پورے ہو گئے۔ اس سانحہ کی پانچویں برسی سے ایک دن پہلے پاکستان نے ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر پاکستانیوں کو دکھی ہونے سے بچا لیا۔ 5 سال پہلے تین مارچ کو جب لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر حملہ کیا گیا تو اس کا مقصد تھا‘ اس ملک سے کرکٹ ختم ہو جائے۔ حملہ کرنے والے اپنے مقصد میں اس حد تک کامیاب ہوئے کہ ملکی میدان ویران ہو گئے۔ یہاں انٹرنیشنل کرکٹ بند ہو گئی۔ ہمارے میدان آج بھی ویران اور خاموش ہیں۔ اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کو ملتی ہے تو کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے کرکٹر اس سے محروم ہیں لیکن آفرین ہے کہ وہ اس کے باوجود ملک سے باہر جا کر فتح کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ اچھی خبر صرف کرکٹ کے میدانوں سے ہی آتی ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے تحریک طالبان اور حکومت کی طرف سے فائر بندی کے اعلانات بھی اچھی خبر ہوں گے۔ میرے لیے یہ اچھی خبر اس لیے نہیں ہے کہ نجانے یہ فائر بندی کب ٹوٹ جائے اور اگر یہ قائم بھی رہے تو کیا مذاکرات سے اس ملک میں امن آ جائے گا۔

مجھے اس کا یقین نہیں۔ اسلام آباد میں دہشت گردی کی واردات ہو چکی ہے‘ یہ واردات کس نے کی‘ مجھے اس کا علم نہیں ہے البتہ میڈیا میں آیا ہے کہ احرار الہند نامی کسی تنظیم نے اس سانحے کی ذمے داری قبول کر لی ہے‘ ذمے داری کوئی قبول کرے یا نہ کرے‘ دیکھنا تو یہ ہے کہ ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں‘ حکمران اس معاملے میں کیا کہتے ہیں‘ یہ میں اور آپ سن رہے ہیں‘ اس لیے میں کہتا ہوں کہ مجھے مذاکرات‘ سیز فائر سے کوئی اچھی خبر بنتی نظر نہیں آتی۔ ایشیا کپ کے افتتاحی میچ میں سری لنکا سے چند رنز سے ہارنے والی پاکستانی ٹیم افغانستان سے ہارتے ہارتے بچی تھی۔ اتوار کو ڈھاکا میں بھارت کے خلاف میچ بھی اپنی تمام تر سنسنی خیزی لیے ہوئے تھا۔ کبھی جیت کی امید بنتی اور کبھی ہار کے خوف سے دل بیٹھ جاتا۔ اس میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سو فیصد صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان اور بھارت میدان میں اتریں تو ہر کھلاڑی اسے آخری میچ سمجھ کر کھیلتا ہے۔

ان میچوں میں بڑے بڑے ہیرو پل بھر میں زیرو ہو جاتے ہیں۔ انڈیا کی طرف سے تین ففٹیاں بنیں۔ پاکستانی بیٹسمین بھی خوب کھیلے۔ محمد حفیظ پہلے دو میچوں میں فلاپ ہوئے مگر اس اہم میچ میں 75 کی شاندار اننگز کھیل گئے۔ اوپننگ اسٹینڈ بھی شاندار تھا۔ صہیب مقصود نے حفیظ کا خوب ساتھ دیا لیکن میچ ختم ہوا تو قوم کا ایک ہی ہیرو تھا۔ بوم بوم آفریدی۔ آج قدرت نے بھی شاہد آفریدی کی جرات کا ساتھ دیا۔ لالے نے آخری اوور کی تیسری گیند پر پہلا چھکا مارا تو مجھے لگا وہ باؤنڈری پر کیچ ہو جائے گا۔ میں مایوس ہو کر ٹی وی اسکرین کے سامنے سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ کمنٹیٹر کی آواز آئی ’’اٹ از اے سکس‘‘۔ دوسری شاٹ بھی ایسی ہی تھی لیکن وہ بھی باؤنڈری سے باہر جا گری۔ اس کے بعد ڈھاکا کے میدان میں اور پاکستان کے ہر گھر‘ گلی اور سڑک پر صرف جشن ہی جشن تھا۔ میں بھی دفتر سے باہر نکلا تو فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج رہی تھی‘ لاہورئیے سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے تھے‘ ایسے مناظر پاکستان میں کہاں نظر آتے ہیں‘ یہاں تو افسردگی ہی افسردگی پھیلی ہوئی تھی‘ جسے کرکٹ ٹیم نے خوشی میں بدل دیا۔

پاکستان نے انڈیا کے خلاف جس قسم کی پرفارمنس دی ہے اس کی بنیاد پر میں یہ پیش گوئی کرنے کی جرات کر رہا ہوں کہ 8 مارچ کے فائنل میں پاکستان فاتح ہو گا۔ انڈیا کا ایشیا کپ ختم ہو گیا۔ بنگلہ دیش اور افغانستان پہلے ہی فائنل کی دوڑ سے باہر ہیں۔ سری لنکن ٹیم فائنل میں پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کی انڈیا کے خلاف جیت پر میں نے کئی لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ اب پاکستان فائنل میں جا کر ہار بھی جائے تو دکھ نہیں ہو گا۔ ایشیا کپ میں بگ تھری کا چوہدری انڈیا سری لنکا کے اور پاکستان سے بھی ہار گیا۔ مجھے خدشہ ہے کہیں افغانستان بھی اسے مار نہ گرائے۔ یہاں آئی سی سی انڈر 19 کے فائنل میں پہنچنے والے پاکستانی ٹیم کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ ہمارے نوجوان کرکٹر کیا عمدہ کھیلے ہیں۔ فائنل میں وہ جنوبی افریقہ سے ہار گئے مگر ان کا وہاں تک پہنچنا ہی بڑی بات تھی۔ جس ملک میں کرکٹ کا کوئی انفراسٹرکچر ہی نہ ہو وہاں کے بچوں کا فائنل میں پہنچنا کسی کارنامے سے کم نہیں۔ ویل ڈن پاکستان انڈر19 کرکٹ ٹیم۔ بگ تھری کے ساتھ انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھی بری ہوئی۔

انڈیا کے خلاف میچ میں بنگلہ دیش کے کراؤڈ نے جس طرح پاکستان کو سپورٹ کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کی پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ بنگالیوں کے دل میں آج بھی پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ بنگلہ دیش کی اسٹیبلشمنٹ پاکستان مخالف عناصر پر مشتمل ہے۔ مجھے دکھ ہے ہمارے کرکٹ کے میدان ویران ہیں۔ پاکستان میں امن جنگ بندی سے آئے یا جنگ سے‘ امن آنا چاہیے۔ اس ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونی چاہیے۔ ہمارے بچوں سے یہ حق نہ چھینا جائے کہ وہ اپنے ہیروز کو اپنے میدانوں میں کھیلتے نہ دیکھ سکیں۔ مصباح الیون تیرا شکریہ۔ شاہد آفریدی تھینک یو ویری میچ۔ قوم کے چہرے پر مسکراہٹ لانے والے صرف کرکٹرز ہی ہیں۔ باقی کہیں سے اچھی خبر کیوں نہیں آتی؟

ایاز خان

Enhanced by Zemanta

0 comments: