نظام خطرہ میں یا پاکستان؟؟.......

23:52 Unknown 0 Comments


کیا کسی نے مسلم لیگ ق کو چابی دی یا اپنے تئیں ہی اس پارٹی کے تقریباً تمام رہنما (جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے) لندن پہنچ گئے؟ کیاکسی نے واقعی اپنے آپ کو مولانا کہلوانے سے گریز کرنے والے کینیڈین شہری ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی ڈوری ہلائی یا وہ خود ہی پاکستان کی ’’محبت‘‘ میں دوڑے دوڑے لندن پہنچ گئے؟ کیا کسی کے ایجنڈے پر ان دونوں جماعتوں کے درمیان چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر موجودہ نظام کے خاتمہ کا ایک معاہدہ کرا دیا گیا یا واقعی یہ مسلم لیگ قادری گروپ کا اپنا فیصلہ ہے ؟ کوئی کیا حقیقتاً اتنی جلدی میں ہے کہ کینیڈین علامہ کو جون میں ہی پاکستان بلوا لیا تا کہ پاکستان کی جلد از جلد ’’خدمت‘‘ کی جائے اور اُسے اس موجودہ ’’ناپاک‘‘ نظام سے پاک کیا جا سکے یا کہ واقعتا پاکستان کے حالات بہت خراب ہو چکے اور اب مزید ایک دن کا انتظار نہیں کیا جا سکتا؟ اگر یہ کام کسی کے اشاروں پر ہو رہا ہے جس اندیشہ کا اظہار بہت سے لوگ کر بھی رہے ہیں تو پھر آفرین ہے اُن پر جنہوں نے ’’ناپاک‘‘ نظام کو پاک کرنے اور اس ملک میں ’’اصل جمہوریت‘‘ لانے کے لیے علامہ طاہر القادری اور گجرات کے چوہدریوں کا چناو کیا۔

گزشتہ ایک سال میں ایسا کیا ظلم ہوا کہ نظام کو بدلنے کے لیے کام شروع کروایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں کتنے کرپشن کے سکینڈل سامنے آئے کہ اب اس نظام کو مزید برداشت کرنا ممکن نہیں؟ پاکستان کی معیشت کی تباہ حالی میں موجودہ حکومت نے کیا اور برا کیا کہ اب ان کو باہر پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں؟ پاکستان میں دہشتگردی میں خاطر خواہ کمی اور ڈرون حملوں کا رکنا بھی کیا کچھ لوگوں کو یہاں پسند نہیں؟ موجودہ حکومت کے گورننس کے کچھ سنجیدہ مسائل ضرور ہیں مگر گزشتہ کئی سالوں سے شدید مسائل کا شکار پاکستان کی معیشت کے جو بہتری کے آثار سامنے آ رہے ہیں تو وہ کیا پاکستان کے مفاد میں نہیں؟

حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان پر بہت کچھ نہ کرنے کی بنا پر پریشر بھی ڈالا جانا چاہیے مگر یہ کہنا کہ آج پاکستان کے حالات بہت بگڑ گئے، درست نہیں۔ ورلڈ بنک ہو یا آئی ایم ایف، ملکی میڈیا ہو یا غیر ملکی میڈیا عمومی طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ پاکستان کے حالات گزشتہ ایک سال میں بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ایک دم سے ایسا کیا ہوا کہ حکومت اور نظام کے ہی خاتمہ کی بات کر دی جائے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کا احتجاج تو ایک اچھے مقصد (الیکشن نظام میں اصلاحات) کے لیے ہے مگر جو لوگ لندن میں جمع ہوئے وہ تو ہمیشہ مشکوک کھیل کا ہی حصہ رہے اور جمہوریت مخالف قوتوں کے آلہ کار رہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موجود پارٹیوں پر مشتمل ایک مشرکہ کمیٹی عمران خان کی سربراہی میںبنائیں جس کا مقصد الیکشن نظام میں اصلاحات کا پیکچ تیار کرنا ہو تاکہ پاکستان میں انتخابات کو ہر قسم کی دھاندلی سے پاک کیا جا سکے۔ کچھ ن لیگی رہنماوں کی کوشش ہے کہ عمران خان کو مسلم لیگ قادری کی طرف دھکیل دیا جائے جو میری نظر میں پاکستان کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔ اچھا ہوا عمران خان نے لند ن میں جیو کے مایہ ناز صحافی مرتضی علی شاہ سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ وہ مسلم لیگ قادری کی مہم جوئی کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

میری تو میاں نواز شریف اور عمران خان سے گزارش ہو گی کہ مل کر ملک کی تعمیر و ترقی اور اداروں کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری احتسابی عمل پر معترض ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان میں احتساب کے نظام کی شفافیت اور با اثر بنانے کے لیے بھی پارلیمنٹ میں سب پارٹیوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک ایسا سسٹم بنائے جس پر سب کا اعتبار ہو اور جوہر قسم کے بیرونی اثر اور سیاسی دباو سے پاک ہو۔ نظام بچانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ کیا ریاست کے اندر کوئی ایسی ریاست تو نہیں جو جمہوریت، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی جیسے اصولوں کو یہاں پنپنے نہیں دے رہی۔ یہ حکومت و پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد، چاہے ان کا کسی بھی ادارے سے تعلق ہو، کو بے نقاب کرے جو قومی اداروں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں اور جو میڈیا کی کالی بھیڑوں اور اشارہ پر کام کرنے والی پارٹیوں کو اپنے پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟

آخر یہ تو پتا لگنا چاہیے کہ کس نے جیو کا کیس سننے پر سپریم کورٹ اوراُس کے انتہائی معزز جج محترم جسٹس جواد خواجہ کے خلاف مہم جوئی کی اور انہیں بدنام کرنے کے لیے اسلام آباد کے ریڈ زون تک میں بڑے بڑے بینر لگوادیے؟ وہ کون ہے جو جیو کے معاملہ پر حکومت کے مثبت رویے کی وجہ سے حکومت کے خلاف ہی سازشوں پر اتر آیا ہے؟ وہ کون ہے جس نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا اور پیمرا کو اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کیا؟ وہ کون ہے جس نے کیبل آپریٹرز کو جیو بند کرنے پر مجبور کیا؟ وہ کون ہے جس کے سامنے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں؟ کس کے کہنے پر جنگ اور دی نیوز کی ہزاروں کاپیوں کو جلا دیا؟ وہ کون ہے جس کے اشارہ پر ایسا عمل کرنے والوں کو اتنی شرم نہیں آئی کہ ان اخبارات میں لکھی قرآنی آیات کی حرمت کا ہی خیال کر لیتے؟ وہ کون تھے اور کس کی طرف سے بھیجے گئے تھے، جنہوں نے جنگ ملتان کے ایڈیٹر ظفر آہیر پر بزدلانہ حملہ کیا اور اُنہیں شدید زخمی کر دیا؟ وہ کون ہے جو پاکستان کو افراتفری کی طرف دھکیلنے کا کا م کر رہا ہے؟ وہ کون ہے جو قانون سے بالاتر ہے؟ وہ کون ہے جن پر قانون نافذ کرنے والے ہاتھ نہیں ڈال سکتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نظام تو بچ نہیں سکتا نجانے پاکستان کا کیا ہو گا۔ اللہ اسلام کے نام پر بننے والے ہمارے اس ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ہم سب کو اپنے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

0 comments: