مسلم ممالک اور خود احتسابی........

03:38 Unknown 0 Comments


عراق میں جاری چو طرفہ ہما ہمی اور شورش اگر ایک جانب انتہائی قابل تشویش ہے تو دوسری جانب اس بحران سے کئی پہلو بھی جڑے ہوئے ہیں اور کئی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بین النہرین (میسوپو ٹیمیا) کہلانے والا یہ خطہ نہ صرف ایک شاندار تہذیب و ثقافت کا گواہ ہے بلکہ اس سے علوم و فنون کا ایک زریں دور بھی وابستہ ہے اور یہ اپنے آپ میں زندگی کی روشنی سمیٹے ہوئے ہے۔ دریائے دجلہ و فرات کا مستقر عراق ہے۔ یہ 'دار الحکمہ' کی سر زمین ہے جہاں سے پھوٹنے والی علم و حکمت کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی اور یہی وہ سر زمین ہے جہاں مسلم تہذیب و ثقافت اپنی آن بان اور شان کے ساتھ پورے عروج پر تھی۔

الف لیلوی داستانوں نے یہیں جنم لیا۔ شہر زادے کی کہانیوں کا تعلق بھی اسی ملک سے ہے۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں امام ابو حنیفہ جیسے عالم و فاضل بزرگ کی بابرکت موجودگی سے دنیا کے کونے کونے سے آنے والے ہزاروں افراد نے فیض حاصل کیا اور اپنی علم کی پیاس بجھائی یہی وہ سر زمین ہے جہاں حق و باطل کے معرکے میں شہید ہونے والے نواسئہِ رسول حضرت امام حسین اور اہل بیت آسودہ خاک ہیں۔ یہ اسلامی تاریخ کا المیہ تھا کہ نواسہ رسول اسلام [صلی اللہ علیہ وسلم] کے پیروکاروں ہی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ عراق کو کچھ ایسا ہی معرکہ آج بھی درپیش ہے جب اسلام کے ماننے والے ایک ہی دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ افسوس کہ یہ المیہ کب اور کیسے ختم ہو گا، اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

آیت اللہ علی السستانی نے گزشتہ ہفتے دولت اسلامیہ عراق و شام [داعش] کے جنگجوؤں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ جمعہ کے خطاب میں آیت اللہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ یہ نیکی اور بدی کے درمیان جنگ ہے۔ ان کے اس اعلان کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے جگجوؤں کے خلاف لڑائی میں اپنے نام لکھوانا شروع کر دیے جن میں ڈاکٹر اور پیشہ ور افراد کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ وہ اس لڑائی میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں یہ واقعی ایک ایسی جنگ ہے جس کے خطرات پورے عالم اسلام کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں.
یہ حق و باطل کے درمیان لڑائی تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حق کے علمبردار کون لوگ ہیں اور باطل کا ساتھ کون لوگ دے رہے ہیں۔؟ اس سوال کا جواب آسانی سے نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک میں دیکھ اور سمجھ رہا ہوں کہ مسلمان بھائی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے ہیں۔ جہاں تک میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے مسلمانوں کے خون سے عالم اسلام لہولہاں نظر آ رہا ہے۔ اب اس جنگ میں جیت کسی کی بھی ہو، شکست امت مسلمہ کی ہو گی اور قوی اندیشہ ہے کہ وہ تمام مقاصد بھی تشنہ تکمیل رہ جائیں گے جنہیں پورا کرنا امت کا اولین فریضہ ہے۔ اہل نظر، موجودہ حالات ہی سے محسوس کر سکتے ہیں کہ شکست ہو چکی ہے۔

مسلمان صرف میدان جنگ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف نہیں کھڑے ہیں بلکہ عراق میں یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر بھی چھڑ گئی ہے اور مسلمانوں کے دو فرقے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر بھی باہمی نفرت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے عراق کے ہی موضوع پر شائع ہونے والے میرے ایک مضمون پر قارئین نے جو آراء دی ہیں ان میں ستائش بھی ہے اور تنقید بھی جس سے تقسیم و اختلافات کی صورت حال واضح ہے۔ قارئین نے مجھ پر الزام لگایا ہے کہ میں ایک طبقے کی حمایت کر رہا ہوں اور دونوں ہی طبقات ایک دوسرے کو مجرم قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ کیا باہمی نفرت کی زنجیروں نے ہمیں کبھی اتنی سختی سے جکڑا تھا اور ہم ایک دوسرے کے اتنے شدید دشمن کبھی بنے تھے۔!

میں محو حیرت ہوں کہ ایک عقیدہ کے پیروکار اور ایک کتاب نیز ایک رسول کے ماننے والے یہ کس ظلمت میں بھٹک رہے ہیں! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسرائیل اور صہیونی عناصر نے اپنا کھیل کھیلا ہے اور ان سازش کاروں کے منصوبے صرف عراق تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ ان کا مقصد صرف اسرائیل عظمیٰ کی تشکیل نہیں ہے بلکہ پاس پڑوس کے مسلم ممالک کے علاقوں پر قبضہ کرنا بھی ہے۔ صہیونی اور عیسائی شدت پسند یہ خواب ایک مدت سے دیکھ رہے ہیں اور اسے شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنے سازشی ذہن کے ساتھ ہمہ وقت مصروف ہیں۔ میں سازشی نظریات پر آسانی سے یقین کرنے والا شخص نہیں ہوں لیکن خطہ عرب سے لے کر مشرقی ایشیاء تک مسلمانوں کے درمیان جو فرقہ وارانہ خلیج پیدا ہوتی جا رہی ہے، اس سے یہ سمجھے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ ان کے پس پشت یقینا کوئی سازش اور مذموم منصوبہ ہی کار فرما ہے۔ مسلمانوں میں رائج مسلکی اختلافات کا فائدہ اٹھا کر مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کی جانب قدم بڑھا رہی ہیں اور اسلام کے خلاف صف آرا ہیں کیونکہ یہی وہ مذہب ہے جسے وہ اپنی عالمی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسلام کے نام پر ایسے شدت پسند گروہ بھی پوری طاقت کے ساتھ سرگرم ہو چکے ہیں جو دعویٰ تو اسلام، مسلمان اور مسلم ممالک کے تحفظ کا کرتے ہیں لیکن اپنے ہی بھائیوں کا خون بہانے میں انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ اسرائیل اور صہیونی نواز طاقتیں ہماری کھلی دشمن ہیں لیکن مذکورہ قبیل کے مسلم شدت پسندوں سے تو ہمیں سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مسلم ممالک کے مسائل اور بحران کیلئے صرف اسرائیل اور مغرب کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ کیا یہ سر پیٹنے کا مقام نہیں ہے کہ تیل کے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال مسلم ممالک ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں پیچھے ہیں جبکہ انہی وسائل پر عالمی معیشت کا پورا دار ومدار ہے۔

عراق کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو شورش اور بے ہنگم حالات کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ جمہوریت اور انصاف کے نام پر ان ممالک کی حالت کیا سے کیا کر دی گئی ہے اور پھر ظلم و نا انصافی کے خلاف جو جمہوری اور پر امن طریقے سے احتجاج کرتا ہے، اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ جب امن و امان کے لیے اٹھنے والی آواز کو دبایا جائے گا اور مظلوموں کو ان کے وقار سے محروم کر دیا جائے گا، تب شدت پسندی کے خدشات کو کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔
افریقہ سے لے کر عرب تک یہی کچھ ہو رہا ہے اور عراق و شام کی صورتحال ان میں سب سے بدتر ہو چکی ہے۔ یہ سوال ہمیں خود سے کرنا چاہیے کہ ہمنے اب تک ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں اور کیا تیاریاں کی ہیں۔ اگر ہم نے اپنا دہرا معیار ترک نہیں کیا اور منظم کوششیں نہ کیں تو بحران کی ان زنجیروں سے آزاد ہونا ہمارے لئے ممکن نہیں ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ "انقلاب" دہلی

0 comments: