پاکستانیو ! اللہ کا شکر ادا کرو.......

00:41 Unknown 0 Comments


ان کو دبا کر رکھو، جوتی کی نوک کے نیچے۔ ناز برداریاں بہت کر کے دیکھ لیں، یہ سنپولئے ہیں لاکھ دودھ پلائو ڈسنے سے باز نہیں آئیں گے۔ یہ اس تقریر کے چند جملے ہیں کہ 2002ء کے مسلم کش فسادات کے بعد ایک رکن نے گجرات اسٹیٹ اسمبلی میں کی تھی اور موضوع سخن ریاستی مسلمان تھے۔ اس سانحہ میں مسلمانوں کآ جانی نقصان ہندوئوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوا تھا۔ پچاس ہندوئوں کے مقابلے میں ایک ہزار سے زائد مسلمان مارے گئے تھے۔ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اب ہندوستان کے وزریر اعظم ہیں۔ گو عدالتی کمیشن نے موصوف کو ان فسادات سے بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔ مگر الزام ہے کہ پیچھا نہیں چھوڑ رہا اور حالیہ انتخابی مہم میں بھی ان کے تعاقب میں رہا۔ وزیرِ اعظم مودی اس سانحہ میں ملوث تھے یا نہیں۔ یہ ہمارا موضوع نہیں۔

مگر ایک بات ضرور ہے کہ ان فسادات کے نتیجے میں بھارت بھر میں مسلمانوں
 کے لئے زندگی مزید دشوار ہوگئی۔ وہ معاشی اور سماجی اچھوت قرار پائے۔ ان کے سوشل بائیکاٹ کی مہم اس قدر بھرپور تھی کہ مالکان نے برسوں کے مسلمان کارندوں کو فارغ کردیا۔ انہیں خطرناک کمیونٹی قرار دے کر ان سے بچنے کی تحریک شدومد کے ساتھ چلائی گئی۔ ایسے میں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ان بیچاروں کے پاس شناخت چھپانے اور کیموفلاج کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا اور اب عالم یہ ہے کہ سردار علی جب تک سادھورام اور رضیہ بی بی، رجنی نہ بن جائے۔ انہیں ادنی ترین نوکری بھی نہیں مل سکتی۔
مسلمانوں کو ملازمت دلوانے کا دھندہ منافع بخش کاروبار ہے اور ہندوئوں کے ہاتھ میں ہے۔ جنہوں نے ان کی نئی اور پرانی شناخت کے الگ الگ رجسڑ کھول رکھے ہیں۔ ہندووانہ نام بھی خود دیتے ہیں اور اپنی گارنٹی پر ملازمت دلواتے ہیں۔ تنخواہ بھی خود وصول کرتے ہیں اور حق الخدمت کے طور پر ایک چوتھائی کاٹ لیتے ہیں۔ یوں چار ہزار کا ملازم بمشکل تین ہزار وصول کر پاتا ہے۔ گو یہ دھندہ ایک کھلا راز ہے اور پولیس کی آشیرباد سے چل رہا ہے۔ مگر منافقت کا یہ عالم کہ ہر کوئی حیرت اور لاعلمی کا اظہار کرتا ہے، بھانڈا اس وقت پھوٹا جب نئی دہلی میں بہوجن سماج پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ پر گھریلو ملازمہ مردہ پائی گئی۔ پولیس تفتیش میں پتہ چلا کہ مرحومہ کا تعلق مغربی بنگال کے ایک مسلمان گھرانے سے تھا اور اپنا نام اور حلیہ بدل کر ملازمت کر رہی تھی۔ مانگ میں سیندور سجائے۔

ساڑھی میں ملبوس کوشیلیا اصل میں مسلمان خاتون کوثر بی بی تھی، جو ہر صبح ہندووانہ پوجا پاٹ بھی کرتی تھی، مبادا بھید کھل جائے اور وہ نوکری سے جاتی رہے۔ بے روزگاری کے اس عالم میں گداگری مسلمانوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ چاندنی چوک، جامع مسجد اور بستی نظام کے علاقے میں جن کے غول کے غول دیکھے جاسکتے ہیں۔ خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار سے ملحق ہوٹلوں میں زائرین مساکین کے لیے کھانے کا اہتمام کرتے ہیں ایک ہوٹل والے کو ہم نے بھی 500 روپے دیئے کہ دس روپے فی کس کے حساب سے پچاس مساکین کو کھانا کھلا دے اور ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ادھر سے فارغ ہونے کے بعد وہ بھاگم بھاگ دوسرے اور تیسرے ہوٹل میں جا رہے تھے۔ عقدہ کھلا کہ یہ مخلوق کام کاج کچھ نہیں کرتی۔ بس سارا دن کھاتی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا ہوٹل، یہی ان کا کام ہے مگر حیرت ہے کہ سیر پھر بھی نہیں ہوتے۔

ملک بھر میں مسلمانوں کا طرز بود و باش بھی ناگفتہ بہ ہے۔ دنیا کی ہر سہولت سے محروم گندی ترین بستیوں کے ڈبہ نما گھروندوں میں جانوروں سی زندگی ان کا مقدر ہے۔ ان کے لیے تو کرائے کا مکان لینا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ دہلی میں مزار غالب سے ملحق غالب اکیڈمی میں ایک مسلمان بینکر سے ملاقات ہوئی۔ جسے نواحی ضلع سے فیملی کو راجدھانی منتقل کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، کیونکہ کرایہ کا مکان نہیں مل رہا تھا۔ ذرا ٹوہ کی تو انکشاف ہوا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کاروباری اور ملازمت پیشہ مسلمانوں کے لیے بھی کرائے کے مکان کا حصول ناممکنات میں سے ہے۔ ہندو مالکان کا تعصب چھپائے نہیں چھپتا۔ لایعنی قسم کے بہانے بناتے ہیں۔ مکان بھلے سے مہینوں خالی رہے، مگر مسلمان کرایہ دار منظور نہیں۔ مسلمانوں کو مسلسل دبائو میں رکھنے کے لیے فرضی شکوک و شبہات اور اذکار رفتہ قسم کی سازشی تھیوریاں پیش کی جاتی ہیں۔

چند برس پیشتر نئی دہلی میں آبادی کے حوالے سے ہونے والے سارک سیمینار میں ایک بھارتی مندوب واویلا کر رہے تھے کہ ’’بھارت مسلم اکثریت کا ملک بننے جا رہا ہے۔ باقی معاملات میں کنجوسی کی طرح لالہ لوگ بچے پیدا کرنے میں بھی ضرورت سے زیادہ محتاط ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی دن دگنی رات چوگنی بڑھ رہی ہے۔ یہی نہیں ہمسایہ ممالک سے بھی مسلمان دھڑا دھڑ ہندوستان آرہے ہیں۔ بنگلہ دیشیوں کے لیے تو گویا فلڈ گیٹ کھلا ہے، جو دیش بھر میں گھریلو ملازمین کے طور پر بے حد پاپولر ہو رہےہیں‘‘ اور موصوف نے باقاعدہ حساب لگا کر بتایا تھا کہ اگر یہی حالات رہے تو 2060ء تک انڈپا میں مسلمانوں کی اکثریت ہوجائے گی اور ہندوئوں کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ ماضی کی طرح پھر سے مسلمانوں کی غلامی کے لیے تیار ہو جائو۔ لطف کی بات یہ کہ موصوف کی ان لن ترانیوں کا جواب بھی ایک ہندوستانی مندوب نے ہی دیا تھا۔ جس نے لطیف پیرائے میں کہا تھا کہ ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ آپ کے اعداد و شمار دل کو نہیں لگتے۔ ہندو مہیلائیں اتنی بھی گئی گزری نہیں۔

مسلمانوں پر الزام دھرا جاتا ہے کہ نکمے، کام چور، کند ذہن، جاہل اور ناقابل اعتبار ہیں مسلمانوں کی زبوں حالی کا تمام تر دوش انہی کو دیا جاتا ہے، گھڑی گھڑائی دلیل ہر فورم پر تیار ملتی ہے کہ ترقی کی راہیں تعلیم سے کھلتی ہیں اور مسلمان ٹھہرے تعلیم سے فلاپ، ایسے میں کوئی ان کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ جبکہ معاملہ بالکل الٹ ہے۔ انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعلیم میں پسماندہ رکھا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی علمی و ادبی زبان اردو کو نظام اور نصاب سے تقریبا خارج کر دیا گیا ہے۔ اچھے تعلیمی اداروں کے دروازے ان پر بند ہیں۔ جس زمانے میں انگریز نے لاہور میں ایچی سن کالج بنایا تھا تو اسی پایہ کے دو اور کالج راجکوٹ اور اجمیر شریف میں بھی قائم کیے تھے۔

چند برس پیشتر راقم کو خواجہ غریب نواز کے حضور حاضری کا موقع ملا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اکثر مقامی زائرین اجمیر میں چیفس کالج کی موجودگی سے آگاہ بھی نہ تھے۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ بھارتی مسلمانوں کو اندرون ملک سکونت تبدیل کرنے کے لیے سرکار سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔ راقم نے جب اس پر اظہار حیرت کیا تو ایک خاصے پڑھے لکھے ہندو نے ازراہ تفنن کہا تھا کہ یہ سبق ہم نے آپ سے ہی سیکھا ہے۔ آپ نے جو سارے مہاجر کراچی میں جمع کر دیئے۔ ہم مسلمانوں کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ ہمیں کوئی نیا پاکستان نہیں بنانا۔ بین المذاہب شادیوں کا رواج بھارت میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا زیادہ دبائو بھی مسلمانوں پر ہے۔ مسلمان لڑکیاں نسبتاً زیادہ تعداد میں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ بیاہی جا رہی ہیں۔

جدید تعلیم اور روشن خیالی کے نام پر مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی اقدار عین ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہی ہیں اور وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ پڑھے لکھے ہندو اس کا جواز تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ مسلمان حملہ آور اپنے کنبے قبیلے کون سے ساتھ لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بھی تو مقامی ہندو مہیلائوں سے نکاح کر کے ہی گھر بسائے تھے۔ آب صدیوں 
بعد اگر ہمیں حساب برابر کرنے کا موقع ملا ہے تو پریشانی کس بات کی؟

0 comments: