اندرونی چوٹیں.........

23:35 Unknown 0 Comments


ایک جھوٹ چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کل کون کون کتنا جھوٹ بول رہا ہے اور کس کس ادارے کو دنیا کے سامنے تماشہ بنا رہا ہے ۔ جیو ٹی وی پر غداری کا الزام لگا کر پیمراسے کارروائی کی درخواست کی گئی تھی ۔ پیمرا کی کارروائی سے قبل ہی جیو ٹی وی کی بندش شروع ہو گئی اور روزنامہ جنگ کی گاڑیوں پر حملے شروع ہو گئے۔ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد جیو کو نہ غدار ثابت کیا جا سکا نہ کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لایا گیا اور پیمرا نے جیو کو پندرہ یوم کیلئے معطلی اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ۔ جب جیو کیخلاف پیمرا کا فرمان مختلف ٹی وی چینلز پر گونج رہا تھا تو میں ایک دفعہ پھر ہاسپٹل جانے کی تیار کر رہا تھا ۔19 اپریل کو کراچی میں قاتلانہ حملے میں پیٹ میں لگنے والی ایک گولی نے مثانے کو بھی نقصان پہنچایا تھا جس کے باعث ایک گردہ بھی متاثر ہوا ۔ ڈاکٹروں نے طویل آپریشن کے دوران میرے گردے او مثانے میں ایک سٹنٹ ڈال دیا تھا ۔

اس سٹنٹ کو چھ ہفتوں کے بعد نکلوانا تھا ۔ چھ ہفتے پورے ہونے کو تھے دوستوں اور عزیزوں کا دبائو تھا کہ یہ کام بیرون ملک سے کرایا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کام راولپنڈی کے ایک ماہر ڈاکٹر کے ہاتھوں اسلام آباد کے ایک ہاسپٹل میں بخیرو عافیت انجام پا گیا ۔تمام دن ہاسپیٹل میں گزرا ڈاکٹر نے تاکید کی کہ کم از کم مزید ایک رات ہاسپیٹل میں ضرور گزاری جائے لیکن ہاسپیٹل کے عملے کی منت سماجت کرکے میں رات کو ہی گھر واپس آ گیا ۔ جسم سے سٹنٹ نکلنے کے بعد لمبی نیند آئی۔ اگلی صبح بیدار ہوا تو ایک صحافی دوست کا پیغام ملا کہ اسے شمالی وزیرستان کے ایک فون نمبر سے کال کرکے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ جیو چھوڑ دے ورنہ اس کا انجام برا ہو گا ۔ نجانے یہ خوفناک پیغام پڑھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ کیوں پھیل گئی شائد میں دھمکیاں دینے والوں کی بیوقوفی پر مسکرا رہا تھا ۔ اخبارات کا بنڈل کھولا تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی مایوسی سے ملاقات ہوئی ۔

خواجہ صاحب کے خیال میں پیمرا کی طرف سے جیو ٹی وی کو سنائی جانے والی سزا بہت کم ہے اور وزارت دفاع اس سزا پر نظرثانی کی درخواست کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ عمران خان کو بھی یہ سزا کم لگ رہی ہے بلکہ جیو اور حکومت کی ملی بھگت لگ رہی ہے تاہم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو یہ سزا بہت زیادہ لگی انہوں نے کہا کہ جیو کیلئے صرف ایک دن کی بندش ہی کافی تھی ۔ جس واقعے سے اس بحران نے جنم لیا وہ 19اپریل کو پیش آیا تھا ابھی تک حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ 19اپریل کو کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ کس نے کیا ؟اس دن پرویز مشرف کو کراچی لایا جا رہا تھا شہر میں ریڈالرٹ تھا ۔مجھ پر ایئر پورٹ کے قریب پہلی گولی چلائی گئی جو کندھے میں لگی پھر حملہ آوروں نے کئی کلو میٹر تک پیچھا کیا ۔ آخری گولی آغا خان ہاسپیٹل کے قریب ماری گئی اس پورے راستے میں پولیس اور رینجرز کہاں تھی ؟ سکیورٹی کیمرے کیوں بند تھے؟

ان سوالات کے جواب نہیں دیئے جا رہے الٹا یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ مجھ پر کوئی حملہ نہیں ہوا بلکہ میں نے کسی کے جسم میں چھ گولیاں اتار دی ہیں ۔ اسے کہتے ہیں چوری اور اس پر سینہ زوری ۔ کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے حملے کے نو روز کے بعد مجھے اصل کہانی بتا دی تھی اور کہا تھا کہ سب کچھ پتہ چل گیا ہے لیکن کراچی پولیس میں اتنی طاقت نہیں کہ اصل کہانی بتا دے ۔ اس افسر نے یہ کہہ کر میرا منہ بند کرا دیا کہ ہم پولیس والے تو وزیر دفاع سے بھی زیادہ بے اختیار ہیں ۔ مجھے جو کچھ معلوم تھا وہ میں نے جوڈیشل کمیشن کو بتا دیا اور اس معاملے پر فی الحال زیادہ بات نہیں کروں گا کیونکہ ادارے کے ایک سینئر ایڈیٹر اور جناب مجیب الرحمان شامی صاحب نے بزرگانہ محبت کے ساتھ مشورہ دیا ہے کہ میں صرف اپنی صحت یابی کی طرف توجہ دوں ۔

میرے جسم پر چھ گولیوں نے نو زخم لگائے تھے ۔سات زخم بہتر ہو چکے اب صرف دو زخموں کی ڈریسنگ ہوتی ہے اور اندرونی چوٹوں کے علاج کیلئے فزیو تھراپی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ میری اندرونی چوٹوں کو تیزی کے ساتھ بہتر کر رہا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ پاکستان کی اندرونی چوٹوں کا علاج کرنے کیلئے کوئی مسیحا کہاں سے آئے گا ؟یہ شدید گرمی کا موسم ہے رات کو جب بجلی چلی جاتی ہے اور صرف پنکھے کی ہوا پر گزارا شروع ہوتا ہے تو جسم پسینے سے بھیگ جاتا ہے ۔ جب میں اپنے زخموں کو پسینے سے بچانے کیلئے کروٹیں لینے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے شمالی وزیرستان کے وہ ہزاروں لوگ یاد آتے ہیں جنہوں نے پچھلے کچھ دنوں میں اپنا گھر بار چھوڑ کر بنوں اور پشاور کی طرف ہجرت کی ۔ اس گرمی میں بے سروسامانی کے ساتھ یہ ہزاروں مظلوم پاکستانی کیسے گزارا کرتے ہونگے ؟

مجھے یاد ہے کہ 2005ء میں میران شاہ میں اتمان زئی اور داوڑ قبائل کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا مجھے اس جرگے میں شامل ہونے کا موقع ملا اور میں نے جرگے میں شامل عمائدین کے خیالات کیپٹل ٹاک کے ذریعہ پوری دنیا تک پہنچائے ۔ پھر مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع اور آخر کار 2006ء میں دوامن معاہدوں کے راستے کھلے ۔ایک معاہدہ شمالی وزیرستان میں ہوگیا دوسرا باجوڑ میں ہونا تھا لیکن اس معاہدے کو امریکہ کے ڈرون حملے نے سبوتاژ کر دیا ۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ خود تو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے لیکن پاکستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات پر تحفظات کا شکار ہے ۔ امریکہ نے حال ہی میں اپنے ایک اغواء شدہ فوجی سارجنٹ برگدال کے بدلے میں گوانتا ناموبے سے افغان طالبان کے پانچ بڑے رہنمائوں کو رہا کر دیا ہے ۔

امریکہ کی قید سے رہائی پانے والوں میں ہرات کے سابق گورنر ملا خیر اللہ خیرخواہ اور بلخ کے سابق گورنر ملا نور اللہ نوری بھی شامل ہیں جو رہائی کے بعد ایک سال تک قطر میں رہیں گے ۔ ظاہر ہے کہ طالبان کے یہ رہنما قطری حکام کے ساتھ مل کر امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے لیکن دوسری طرف امریکی حکام شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے حق میں ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ لاہور سے اغوا ہونے والا ایک بزرگ امریکی وارن وائن سٹائن شمالی وزیرستان میں قید ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں 2006ء میں طے پانے والا امن معاہدہ ٹوٹ چکا ہے ۔ اس امن معاہدے کے فریق طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر نے اپنے علاقے میں حکومت کے خلاف مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے ۔ شمالی وزیرستان کی آدھی آبادی صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف بھاگ رہی ہے اور ایک بڑی تعداد افغانستان کی طرف ہجرت کر رہی ہے ۔ یاد رکھئے کہ افغانستان ہجرت کرنے والے افغان حکام اور پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والے پاکستانی طالبان کے رحم وکرم پر ہونگے ۔ اب افغان طالبان پاکستان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے ۔

افغان طالبان اپنے معاملات نمٹا رہے ہیں اور ہم اپنے معاملات بگاڑ رہے ہیں ۔ شمالی وزیرستان کی نئی صورتحال کے بطن سے پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی ایک نئی نسل جنم لے گی ۔ پاکستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سب سے بڑے علمبردار عمران خان تھے ۔ انکی توجہ انتخابی دھاندلیوں کی طرف زیادہ ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ طاقتور لوگوں کے دبائو کے باعث وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زیادہ زور نہ دے پائیں لیکن وہ مت بھولیں کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے تحریک انصاف کو امن کے نام پر ووٹ دیئے تھے۔ مذاکرات کے ذریعہ امن لانا بنیادی طور پر وفاقی حکومت کا کام تھا وفاقی حکومت اس سلسلے میں بری طرح ناکام ہو چکی لیکن شمالی وزیرستان سے ہجرت کرکے بنوں اور پشاور کی طرف آنے والےمظلوم پاکستانیوں کو سنبھالنا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا مشترکہ فریضہ ہے ۔

 یہ دونوں آپس میں ضرور لڑیں لیکن شمالی وزیرستان کے مہاجرین کی دیکھ بھال کیلئے کوئی مشترکہ حکمت عملی ضرور بنائیں ۔ شمالی وزیرستان کے حالات کو نہ سنبھالا گیا تو پاکستانی معاشرے اور ریاست کیلئے اندرونی چوٹوں میں مزید اضافہ ہو گا ان اندرونی چوٹوں کا بروقت علاج نہ ہوا تو نقصان جسم کے صرف ایک عضو کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہو گا ۔

حامد میر
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

0 comments: