رابرٹ گیٹس کے چشم کشا انکشافات

03:21 Unknown 0 Comments


آٹھ امریکی صدور کے تحت کام کرنے والے ممتاز رہنما ***** اکیسویں صدی میں دو بڑی جنگیں بھگتانے والے تیزفہم سابق وزیر دفاع کی متنازع آپ بیتی سے اقتباسات جس نے امریکہ میں ہلچل مچا دی


’’بزدل جب محفوظ ہو جائے ،تب ہی کُھل کر سامنے آتا ہے‘‘(جرمن مفکر‘گوئٹے) ٭٭ پچھلے دنوں امریکہ کے 70سالہ سابق وزیر دفاع،رابرٹ گیٹس کی آپ بیتی ’’ڈیوٹی:سیکرٹری دفاع کی یادداشتیں‘‘( Duty: Memoirs of a Secretary at War ) شائع ہوئی۔یہ کتاب ان ساڑھے چار برسوں( دسمبر 2006ء تا جولائی 2011ء)کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے بہ حیثیت وزیر دفاع گزارے۔ ڈاکٹر رابرٹ مائیکل گیٹس معمولی شخصیت نہیں،وہ دنیا کی سب سے بڑی فوج کے سربراہ رہے۔نیز ان کے دور میں اکیسویں صدی کی پہلی دو بڑی جنگیں لڑی گئیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔1974ء میں روسی تاریخ پر مقالہ لکھ کر جارج ٹائون یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری پائی۔اس سے قبل 1966ء میں سی آئی اے سے وابستہ ہوئے اور رفتہ رفتہ ترقی کرتے رہے۔1986ء میں امریکی خفیہ ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور 1991ء میں ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔سیاسی طور پر قدامت پسند ریپبلکن پارٹی کے قریب ہیں۔ اسی لیے 2009ء میں سابق صدر،جارج بش نے آپ کو وزیر دفاع بنا دیا۔

دفاعی امور کا وسیع تجربہ رکھنے کے باعث نئے صدر،بارک اوباما نے بھی انہیں تین سال تک اپنے عہدے پر برقرار رکھا،حالانکہ گیٹس کا مخالف ریپبلکن پارٹی سے تعلق تھا۔ اوباما عہد حکومت کا اپنا دور رابرٹ گیٹس نے بظاہر خوشگوار انداز میں گزارا۔ وہ ہر ایک کے ساتھ تہذیب و خوش مزاجی سے پیش آتے۔مہذب انداز میں گفتگو کرتے اور کبھی آپے سے باہر نہ ہوتے۔چہرے پر عام طور پرسکون و اطمینان چھایا رہتا۔اسی لیے عام و خاص میں اعتدال پسند رہنما کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔

مگر ان کی یادداشتوں نے یہ راز افشا کر ڈالا کہ گیٹس نے چہرے پر ماسک اوڑھ رکھا تھا۔ حقیقت میں وہ صدر اوباما اور ان کے وزراء و مشیروں سے لے کر ارکانِ کانگریس کی خامیوں و غلطیوں پر جلتے کڑھتے رہتے۔ہر لمحہ ان کا یہی جی چاہتا کہ وزارت دفاع چھوڑ کر گھر جا بیٹھیں۔وہ دل ہی دل میں ساتھیوں کی باتوں یا اقدامات پر ناراض ہوتے اور غصہ کرتے ۔لکھتے ہیں ’’ہر شام میرا جی چاہتا کہ دفتر کو خیر باد کہہ کر گھر چلا جائوں۔وہاں آرام سے چسکی لگائوں اور ڈنر کروں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ جب رابرٹ گیٹس اوباما حکومت میں نا موزوں اور ساتھیوں سے انتہائی نالاں تھے، تو وہ تین سال اقتدار سے کیوں چپکے رہے؟اس کا جواب خود انہوں نے یوں دیا:’’میرے ہزاروں ہم وطن جوانوں نے بیرون ملک ملکی سلامتی کی خاطر اپنی زندگیاں دائو پر لگا دی تھیں۔سو میری یہ ذمے داری تھی کہ میں اپنا فرض ادا کروں۔‘‘سو وہ اپنے فرض کے بوجھ تلے دبے طوعاً کراہاً اوباما حکومت میں بھی ٹکے رہے۔اور اسی لیے انہوں نے یادداشتوں پر مبنی اپنی دوسری کتاب کا نام صرف ’’ڈیوٹی ‘‘ رکھا۔(موصوف کی پہلی آپ بیتی 1996ء میں بہ عنوان From the Shadows: The Ultimate Insider's Story of Five Presidents and How They Won the Cold War شائع ہوئی تھی۔ اس میں انھوں نے پانچ صدو ر کے ماتحت گذرا اپنا زمانہ بیان کیا۔) تاہم ان کی تشریح بہت سے امریکیوں کو مطمئن نہ کر سکی۔ان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر دفاع اقتدار میں تھے ،تو اوباما حکومت کی کوتاہیوں اور غلطیوں پہ خاموش رہے۔ لیکن جب حکومتی ایوان سے باہر آ گئے ،تو اپنے ہی ساتھیوں پر الزامات اور تہمتیں لگانے لگے۔یہ سراسر بزدلی اور منافقت ہے۔

گو انھوں نے صدر اوباما اور دیگر ساتھیوں کے متعلق تعریفی جملے بھی لکھے، مگر قدرتاً لوگوں کی توجہ تنقید ہی پر مرکوز رہتی ہے۔ مزید برآں کئی امریکی دانشور واضح کرتے ہیں کہ پہلے کبھی کسی وزیر مشیر نے حاضر صدر پر تنقید نہیں کی کیونکہ یوں حکومت کو ضعف پہنچتا ہے۔لیکن سابق وزیر دفاع نے اس اہم امر کو مدنظر نہیں رکھا،صدر اوباما کے جانے کا انتظار نہ کیا اور اپنے تلخ انکشافات منظر عام پر لے آئے۔کیا اس بات کے پیچھے کوئی ایجنڈا پوشیدہ ہے؟ امریکی ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ امریکہ میں رابرٹ گیٹس محب وطن رہنما،ذہین لیڈر اور دل پسند شخصیت کے طور پر مشہورتھے۔ اسی لیے دوست و مخالفین ،سبھی ان کا احترام کرتے تھے۔لیکن اب ان کی کتاب پڑھ کر یہ سچائی سامنے آئی کہ وہ تو کئی لوگوں سے نفرت کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔یوں اپنا اصلی روپ سامنے لا کر انہوں نے اپنا اجلا دامن داغدار کر ڈالا۔ 

امریکہ کا مشہور صحافی،فلپ ایونگ لکھتا ہے: ’’رابرٹ گیٹس کی کتاب کا تعلق سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ایسی آپ بیتیوں سے ہے جن میں مصنف خود کو بڑا پاک باز ،دیانت دار اور متقی دکھاتا ہے اور جو دغا بازوں ،لالچی لوگوں اور نا اہلوں میں گھرا ہوا ہے۔‘‘ رابرٹ گیٹس کا شمار ان گنے چنے امریکی رہنمائوں میں ہوتا تھا جو غیبت اور دوسروں کی چغلیاں کھانے سے پرہیز کرتے تھے۔مگر اپنی آپ بیتی لکھ کر یقیناً عوام کی نظروں میں انہوں نے اپنا قد کاٹھ پست کر دیا۔اس مثال سے دوسرے سیاست دانوں و حکمرانوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے،جو اقتدار سے نکل کر خود کو ’’پوتّر‘‘ ثابت کرنے کی کوشش میں آپ بیتیاں لکھتے اور اپنی ساری غلطیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔

Robert Gates Book   

0 comments: