نواز شریف کا تیسرا دور حکومت اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات

00:00 Unknown 0 Comments


کسی زمانے میں میاں نواز شریف اور ان کی جماعت پا کستان پیپلز پارٹی کو اس وجہ سے غدار ِوطن قرار دیتی تھی کہ وہ ہندوستان نواز ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ہندوستان کے وزیر ِاعظم راجیو گاندھی کی آمد پر مسلم لیگ کے سرکردہ ممبران نے اس وجہ سے طوفان کھڑا کر دیا تھا کہ وفاقی حکومت نے سڑک کے ایک کنارے سے کشمیر کا بورڈ ہٹا دیا۔ اس مبینہ واقعے کو ایک کمپین میں تبدیل کیا گیا اور ایک طویل عرصے تک اس کو بطور تیراستعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پر تاک تاک کر نشانے لگائے گئے۔ کشمیر کو بزورِ شمشیر فتح کر نے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قربت کی وجہ سے مسلم لیگ ہندوستان کے بارے میں ایک خاص رویہ رکھتی تھی۔ مگر وہ زمانہ کوئی اورتھا۔ اب مسلم لیگ نواز ہندوستان کے ساتھ بھائی چارے اور ہر قیمت پر امن قائم کرنے کے فلسفے کی سب سے بڑی داعی ہے۔

شریف کیمپ میں یہ سوچ یک دم نہیں ابھری ۔ واجپائی کے ساتھ لاہور مذاکرات مسلم لیگ میں کاروباری حلقوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ایک ثبوت بھی ہے اور وہ عنصر بھی جس نے نوازلیگ کو ہندوستان کو مار لگاؤ کے راستے سے ہٹا کر ہندوستان سے پیار کرو کے راستے پرلا کھڑا کیا ہے۔ اس مرتبہ بہرحال معاملہ صرف کاروباری اور تجارتی مراسم بڑھانے کا ہی نہیں ہے۔ نواز لیگ میں یہ سوچ جڑیں پکڑ چکی ہیں کی ہندوستان کے ساتھ بغل گیر ہو کر وہ ایسا بڑا کام کر پائیں گے جسکی کامیابی کے توسط سے دنیا میں نام بھی پیدا کریں گے اور اندرونی طور پر دیرینہ معاشی مسائل میں کمی لانے کا انتظام بھی کر لیں گے ۔ سادہ الفاظ میں میاں نواز شریف اور ان کے قریبی حلقے، پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت، معاشی کمزوری، توانائی کے بحران اور دہشت گردی جیسے درد سر کو حل کرنے کے لیے ایک ایسا رستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جس میں وقت بھی کم صرف ہو اور نتائج بھی جلدی نکلیں۔ شریف برادران کو بتایا گیا کہ جس طرح جرمنی اور فرانس ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑ لڑ کر کچھ حاصل نہ کر پائے اور آخر میں اکٹھے ہو کر نئے یورپ کی بنیاد بن گئے۔ ہندوستان اور پاکستان بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یورپی اکٹھ کی طرح جنوبی ایشیا کا یکجا ہو جانا اس قسم کے فوائد کا باعث بن جائے گا جن سے آج کل بین الاقوامی جنگوں کا میدان ترقی کے حیرت کدہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تمام معاملات کو بھائی چارے کے ساتھ طے کرنے کا ایک اور فائدہ فیصلہ سازی کے عمل پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کا کمزور ہونا بھی ہو گا۔

فوجیں جنگوں اور تنازعات میں ضرورت سے زیادہ طاقت والا کردار اپنا لیتی ہیں۔ امن کے ماحول میں سیاست دان حتمی اور کلی طور پر طاقت کی لگام اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں گارڈین اخبار نے وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق چھپنے والا انٹرویو اس تناظر میں پڑھنا چاہیے۔ گارڈین اخبار نے لکھا ’’شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان میں موجود ناقابل بھروسہ حساس ادارے آزاد تجارت کی راہ میں حائل دو رکاوٹوں میں سے ایک ہیں۔ دونوں ممالک کے حساس اداروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حفاظتی نکتہ نظر معاشی تحفظ کی بدولت ہوتا ہے۔ جب تک آپ معاشی طور پر محفوظ نہ ہوں اس وقت تک آپ کے پاس عمومی تحفظ بھی نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ کشمیر، سرحد پار پانی کے حقوق اور سیاچن جیسے مسائل صرف مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں۔ ہم تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اور اس سے ہمیں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ملا۔‘‘

اگر یہ بیان وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے آیا ہوتا تو اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ شہباز شریف ظاہراً فوج کے قریب ترین ہیں۔ آرمی چیف کے ساتھ وہ اور چوہدری نثار سب سے زیادہ رابطے میں رہتے ہیں۔ فوج کو پنجاب کے فنڈز سے ترقیاتی کاموں میں سہولت جتنی شہباز شریف نے فراہم کی اس کا تصور بھی محال ہے۔ عام اور نجی ملاقاتوں میں بھی وہ خود سے اس تصور کو پروان چڑھاتے ہیں کہ بڑے بھائی تو فوج سے متعلق سخت رویہ رکھتے ہیں لیکن وہ غیر ضروری طور پر غیر لچک دار رویہ اپنانے کے قائل نہیں ہیں۔ مگر ہندوستان کے معاملے پر شہباز شریف جیسا نرم انداز رکھنے والا وزیر اعلی بھی ایسا بیان دینے سے گریز نہیں کر رہا جس کے نتائج سویلین اور اس کی قیادت کے تعلقات میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ان باتوں کی تردید کر دی ہے لیکن گارڈین کی خبر نے جو کام کرنا تھا‘ وہ کر دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی طرف ’’دروازہ کھول دو‘‘ پالیسی وہ معاملہ ہے جس پر نواز لیگ کی تمام قیادت ایک ہی آواز سے بولنا چاہتی ہے۔ یہ وہ کام ہے جس کو کرنے کے لیے نواز لیگ کی حکومت ہر قسم کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہو گی ۔

وفاقی حکومت اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے کے لیے اس وجہ سے بھی مائل ہے کہ اس کے اندازوں میں آج کل سے زیادہ موافق ماحول دوبارہ دستیاب نہ ہو۔ دہلی کے ساتھ تجارت، کاروبار اور ثقافت کے رابطوں کو گہرا کرنے کے خلاف کوئی سیاسی آواز میدان میں موجود نہیں ہے۔ حتی کہ ق لیگ اور پاکستان تحریک انصاف خود نواز لیگ سے زیادہ ہندوستان کے گلے کا ہار بننے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کی طرف سے مشترکہ جوہری توانائی کے منصوبے کی تجویز گواہی دیتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سرحد پار تعلقات گہرے کرنے کی خواہش پاکستان کی روایتی پالیسی پر مکمل طور پر غالب ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی ہندوستان یاترا پہلے سے ہی مشہور ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم دہلی کی زلفوں کی پرانی اسیر جماعتیں ہیں۔ باقی رہی جماعت اسلامی تو اس نے خود کو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کھڑا کر کے اپنی ساکھ اس بری طرح خراب کر لی ہے کہ اس کا اعتراض بے وزن ہو گا، عسکری قیادت کی تبدیلی کے بعد نواز لیگ کے قریبی حلقوں میں یہ اعتماد کئی گنا بڑھ گیا ہے کہ اب وہ بڑا کام کرنے کا وقت آن پہنچا ہے جس کے ذریعے میاں محمد نواز شریف تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوانے کے ساتھ ساتھ ملک میں خود کو سیاسی طور پر ناقابل تسخیر بنا پائیں گے۔ سیاسی طور پر لازوال بننے کے اس لائحہ عمل کے دو پہلو باقی ہیں‘ ایک افغانستان اور دوسرا آرمی کے ساتھ تعلقات، ان کا احاطہ اگلے کالم میں تفصیل کے ساتھ کیا جائے گا۔

طلعت حسین


Enhanced by Zemanta

0 comments: