Showing posts with label Al-Ikhlas. Show all posts

یوکرین میں روس اور مغرب کی رسہ کشی


یوکرین میں سابق صدر وکٹریانوکووچ کی جانب سے 21 نومبر کو یوکرین کے ساتھ وابستگی کے معاہدے کی یورپی یونین کی پیشکش ردکیے جانے کے بعد مغربی یوکرین میں حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج کی لہر نے شدت اختیار کرلی اور دارالحکومت خیف میں مشتعل ہجوم نے سرکاری عمارتوں اور دفاتر پر قبضہ کرلیا جس سے حکومت کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ صدر یانوکووچ نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے دبائو پر ایسا اقدام کیا جس کے خلاف مغربی یوکرین کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہرچند کہ صدر پیوٹن نے یوکرین کی خستہ حال معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اس سے 15 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا، تاہم مغربی یوکرین کے عوام مطمئن نہ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روس کے مقابلے میں یورپی یونین کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی پیشکش کو انہوں نے اس تنظیم میں شمولیت کا پیش خیمہ تصور کرلیا جو قرین قیاس بھی ہے۔ جو بات ذرائع ابلاغ نیچھپائی وہ یہ تھی کہ مشرقی یوکرین کے عوام جو روسی نژاد ہیں وہ روس سے قربت محسوس کرتے ہیں، چنانچہ وہاں کی رائے عامہ نے احتجاج میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ الٹا وہ مغربی یوکرین کے عوام کے احتجاج کو ریاست سے غداری پر محمول کرتے تھے، لیکن چونکہ چھیالیس لاکھ آبادی والی اس ریاست میں یوکرین نژاد باشندوں کی تعداد کل آبادی کا 73 فیصد ہے، جبکہ مشرقی یوکرین کی روسی نژاد آبادی صرف 22 فیصد ہے، اس لیے وہ اقلیت میں ہیں، لیکن چونکہ یوکرین روس کی قائم کردہ تنظیم Eurasian Union کا رکن ہے لہٰذا اگر وہ اس تنظیم کو چھوڑ کر یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے اندرون ملک روسی آبادی کی مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا۔ جبکہ دوسری طرف روس بھی مزاحمت کرے گا جیسا کہ صدر پیوٹن کے یوکرین سے روس کی فراہم کردہ گیس کی واجب الادا تین ارب ڈالر کی رقم کی ادائیگی کے مطالبے سے ظاہر ہوتا ہے۔ یوکرین ہی پر کیا منحصر ہے جرمنی سمیت یورپی یونین کے بیشتر ممالک کا روس کی فراہم کردہ گیس پر دارومدار ہے۔ یورپی یونین کی رکن ریاستیں تیل اور گیس سے یکسر محروم ہیں اس لیے اگر روس یوکرین کو ترسیل کرنے والی پائپ لائن کو منقطع کردے تو یوکرین کی معیشت میں بحران اٹھ کھڑا ہوگا۔ ویسے اقتصادی عوامل کے علاوہ تزویراتی حقائق بھی یوکرین کی روس سے علیحدگی کے خلاف ہیں، کیونکہ بحیرۂ اسود میں روس کا بحری بیڑا ہے جبکہ Sevaste pol روس کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ 1991ء میں روس سے علیحدگی کے بعد یوکرین نے روس کا بحری اڈہ خالی کرانے پر جب اصرارکیا تو دونوں ملکوں میں بڑی کشیدگی پیدا ہوگئی، بالآخر فریقین نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے 1997ء میں سمجھوتہ کرلیا اور دونوں نے معاہدۂ دوستی پر دستخط کردیے۔

اب اگر یوکرین Eurasian Union ترک کرکے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو کیا روس بحیرہ اسود میں اپنے بحری بیڑے کو برقرار رکھ سکے گا؟ کیونکہ یورپی یونین میں شمولیت کے بعد مغرب کا استعماری ٹولہ یوکرین کو گھسیٹ کر ناٹو میں لے جائے گا، اس طرح ناٹو کا جال روس کی سرحد تک پھیل جائے گا۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد گورباچوف کے جانشین نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور معاہدۂ وارسا کو تحلیل کردیا، کیونکہ جب اشتراکی اور سرمایہ دار ریاستوں میں نظریاتی تصادم ختم ہوگیا تو دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ یہ گورباچوف اور بورس یلسن کی سوچ تھی، جبکہ ناٹو کے عسکریت پسند اسے تزویراتی تناظر میں دیکھ رہے تھے، ان کا خیال تھا کہ روس سے کمیونزم ختم ہوگیا تو کیا ہوا، روس تو باقی ہے جو کمیونزم سے قبل زار کے زمانے میں بھی مغربی استعمار کا حریف تھا اور آج بھی ہے، لہٰذا ناٹو کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہیے بلکہ اس کا دائرۂ کار یورپ سے پھیلا کر سارے کرۂ ارض پر محیط کردیا جانا چاہیے۔ یہ محرکات عالمی نظام کی پشت پر کارفرما تھے۔

یوکرین میں آزادی کے بعد جو کچھ ہوا وہ انہی داخلی اور خارجی عوامل کے تصادم کی علامت تھا۔ یوکرین میں دو واضح قوتیں ابھریں۔ ایک یوکرین کو روس سے وابستہ رکھنا چاہتی ہے جبکہ دوسری اسے روس سے ماورا یورپی یونین کے حلقہ اثر میں لے جانا چاہتی ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح مشرقی یورپ کی سابق اشتراکی ریاستیں پولینڈ‘ ہنگری‘ رومانیہ‘ بلغاریہ‘ جارجیا‘ چیک اور سلوواک جمہوریائیں یورپی یونین اور ناٹو کی رکن ہیں۔

یہ تضاد 2004ء میں وکٹریانوکووچ کے صدارتی انتخاب کے وقت رونما ہوا۔ اُس وقت مغرب کی حمایت یافتہ پارٹیوں نے yulia Timoshenko کی قیادت میں انتخاب میں بے ایمانی کے خلاف احتجاج کیا اور بالآخر انہیں کامیابی ہوئی، لیکن 2004ء کے احتجاج میں امریکی ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹیوں کی فروغ جمہوریت سے متعلق کمیٹیوں نے مغرب نواز پارٹیوں کی مالی امداد کی جو کسی ریاست کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے مترادف ہے، اور اس بار بھی صدر وکٹریانوکووچ کے خلاف چار ماہ سے جاری احتجاج میں بھی امریکہ اور یورپی یونین نے مداخلت کی۔ اس کے ثبوت میں روس نے امریکی سفیر برائے یوکرین اور امریکی محکمہ خارجہ کی معاون سیکریٹری وکٹوریہ نولینڈ کی ٹیلی فون پر خفیہ گفتگو کا ریکارڈ نشر کردیا جس میں محترمہ امریکی سفیر کو ہدایت دے رہی تھیں کہ وہ فلاں فلاں مقامی سیاستدانوں کو ہرممکن امداد فراہم کریں۔ لیکن میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ یوکرین میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی جو لہر دوڑی تھی وہ امریکی مداخلت کے نتیجے میں موجزن ہوئی۔ دراصل وکٹر یانوکووچ راشی‘ خائن‘ بددیانت حکمراں ثابت ہوا، جیسا کہ اس کے عالیشان مرمریں محل اور اس کی تزئین سے ظاہر ہوتا ہے جو ہرگز ایک لاکھ ڈالر تنخواہ دار عہدیدار کی بساط سے باہر ہے۔ اس طرح ان کی حریف یولیا ٹموشنکو جو Father Land Party کی سربراہ اور سابق وزیراعظم رہ چکی ہیں، محکمہ گیس میں خوردبرد اور بعد ازاں 2011ء میں اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں سات سال کی سزا پاچکی ہیں لیکن خوش قسمتی سے عوامی احتجاج کے دبائو پر پارلیمان کو انہیں باعزت بری کرنا پڑا اور اب ان کے حلیف Oleksandr Turchenov نہ صرف پارلیمان کے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں بلکہ عبوری حکومت کے صدر بھی بنادیے گئے۔

یہ تبدیلیاں اتنی جلد واقع ہوئیں کہ اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ آیا یہ ملک کی اکثریت کے دبائو پر ظہور پذیر ہوئیں یا صرف مغربی یوکرین کے عوام کی مرضی کے مطابق رونما ہوئیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب پولیس نے مظاہرین پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 18 فروری سے لے کر 20 فروری تک خیف میں سو افراد ہلاک ہوگئے تو شہر کی آبادی مشتعل ہوگئی اور 21 فروری کو یورپی یونین کے وزراء کے دبائو پر وکٹریانوکووچ اور حزب اختلاف کے درمیان کئے ہوئے معاہدے کو ماننے سے انکار کردیا، جس میں صدر نے اپنی کابینہ کو برخواست کرکے نئی کابینہ تشکیل دی اور احتجاج کے دوران گرفتار شدہ افراد کی رہائی اور دسمبر میں عام انتخابات کا حکم دے دیا تھا۔ (ڈان 22 فروری 2014ئ)

چنانچہ اب صدر مفرور اور روپوش ہوگیا ہے، اس کی جگہ پارلیمان کے اسپیکر نے عبوری مدت تک کے لیے صدارت کی ذمہ داری بھی سنبھال لی ہے اور مئی میں عام انتخابات کا اعلان بھی کردیا ہے۔

ادھر سابق صدر وکٹریانوکووچ نے ان تبدیلیوں کو ماننے سے انکار کردیا اور عبوری حکومت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوائیوں نے سرکاری محکموں پر قبضہ کرلیا اور نام نہاد حکومت بھی بنالی جو ناجائز ہے۔ مغربی ذرائع اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے بغلیں بجا رہے ہیں اور اسے مغرب کی سیاسی فتح اور روس کی شکست سے تعبیر کررہے ہیں۔ لیکن محض دعویٰ ثبوت نہیں ہوا کرتا۔ جیسا میں سطورِ بالا میں تحریر کرچکا ہوں کہ یوکرین کا مسئلہ اتنا سہل نہیں ہے کہ اسے انتخاب سلجھا سکے۔ دراصل قوم خود بٹی ہوئی ہے اور اس کا قبلہ ماسکو ہے یا برسلز یعنی واشنگٹن ڈی سی۔ اس ضمن میں تاریخ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یوکرین کئی بار آزاد ہوا اور جلد ہی سوویت یونین کے زیرقبضہ آگیا۔ یہ 1922ء کی بات ہے۔ 1939ء میں اس نے دوبارہ آزادی حاصل کی اور نازی جرمنی اور سوویت روس دونوں سے جنگ کی، اور 30 جون 1941ء میں آزاد ہوگیا، لیکن 1944ء میں پھر سوویت یونین کے چنگل میں آگیا اور دسمبر1991ء میں اس کے تحلیل ہونے کے بعد پھر آزاد ہوگیا اور یورپی یونین اور وفاق روس دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اختیار کرکے اپنی آزادی برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن جغرافیائی سیاسی عوامل ایسے ہیں کہ وہ کسی صورت روس سے مخاصمت کرکے اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذا مغرب کو چاہیے کہ وہ اپنی ملک گیری کی ہوس پر قابو رکھے اور یوکرین کو ایسی آزمائشوں میں نہ ڈالے جس کے باعث روس اس پر دوبارہ قبضہ کرلے، اور یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے جب یوکرین ناٹو میں رکنیت اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ لہٰذا یورپی استعمار کو اس ننھی سی جان پر رحم کرنا چاہیے۔


پروفیسر شمیم اختر

Enhanced by Zemanta

یہ استنبول ہے......Istanbul Turkey


استنبول روانگی سے پہلے دوستوں نے مشورہ دیا کہ ماہ فروری میں لاہور کے مقابلے میں وہاں بہت ٹھنڈ ہو گی اس لیے اوور کوٹ ساتھ لے جانا نہ بھولنا اس کے علاوہ پیٹ اور گلے کی خرابی کی ادویات ضرور بیگ میں رکھ لینا کیونکہ سردی لگنے یا بد پرہیزی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ مشورہ مخلصانہ تھا لہٰذا اس پر عمل کیا۔ اوورکوٹ لیا، فل سلیوز سویٹر لیے، تھرمل خریدے اور گرم جرابوں کے علاوہ اون سے بنی ٹوپی سے بکس بھر کر اتاترک ایئرپورٹ پر اترے۔ فوری ردعمل تو ایئرپورٹ کی کشادگی، اس کا شاندار انٹریئر، اس کی صفائی، مسافروں کا ہجوم، اس کا شاپنگ ایریا، اس کے جہازوں کی آمد و رفت بتانے کے کمپیوٹرائزڈ بورڈ، اس کے WC ایریاز کی ڈائریکشن بتانے والے ایروز، اس کے ایکسلریٹر اور مسافروں کی رہنمائی والے بوتھ دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ہاں یہ واقعی اتاترک ایئرپورٹ ہے۔ مصطفے کمال پاشا کے نام پر رکھا گیا اتا ترک ایئرپورٹ بلا شبہ اس شخص کی عظمت کی دلیل تھا اور اس کے نام اور مقام کے شایان شان تھا۔ اپنے یہاں تو سنا ہے ایک گلی کی نالی کے منہ پر ایک زندہ ممبر پارلیمنٹ کا نام لکھا پڑھ کر یہ ان کی عظیم کاوش سے معرض وجود میں آئی ہے، ہمارے ایک دوست کو ابکائی آ گئی تھی اور اس جیسے اکثر منصوبوں کے یادگاری پتھروں پر بہت سے نام لکھے ملتے ہیں جنھیں پڑھنے والے شرمندہ ہو ہو جاتے ہیں۔

دس روز تک استنبول میں گھومنے کے دوران موٹر سائیکل یا اسکوٹر کی کسی بھی جگہ زیارت نہ ہوئی تو حیرت ہوئی لیکن اس پُھرتیلی سواری پر پابندی کا علم ہوا تو غور کرنے پر جواز کی سمجھ بھی آ گئی کہ اگر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم تیز رفتار، محفوظ، ہر جگہ موجود، ارزں اور پابند وقت ہو اور پھر اس سسٹم میں منی بس، بڑی بس، میٹرو، ٹرام کے علاوہ مخصوص علاقوں میں چھوٹے بحری جہاز بھی ہوں تو موٹر بائیک کی پاکستان جیسے ترقی پذیر غربت و جہالت زدہ ملک میں تو ضرورت ہو لیکن ترکی جیسے خوشحال اور ترقی یافتہ ڈسپلن اور اصولوں کے پابند ملک کے لیے غیر ضروری اور خطرناک سواری ہو گی اسی لیے میری نظریں چھ سواریاں بٹھائے ہیوی ٹریفک کے بیچ میں سے ڈھائی فٹ رستہ نکال کر موٹروں کے بیک ویو شیشے توڑ کر گزرنے والی موٹر سائیکلوں کو دیکھنے کے لیے ترس گئیں۔

دس روز کی صبح سے شام تک کی سیاحت میں ہمیں دو جگہ نیم گداگر نظر آئے لیکن ایسا کہنا بھی شاید پیشۂ گداگری کی توہین ہو ہمارے ہاں تو ہٹے کٹے لوگ کندھوں پر کرائے کے اپاہج اٹھائے اور نوجوان صحت مند عورتیں چھ ماہ کا بچہ گود میں لیے اور دودھ کی خالی بوتل پکڑے آپ کی کار کے شیشے کو انگوٹھی سے ٹھونک کر پیسے کا تقاضا کرتے اور بھیک نہ ملنے پر بڑبڑاتے ہوئے شاید بددعا بھی دیتے ہیں لیکن استنبول میں ایک جگہ ایک نابینا شخص اپنے سامنے ترک زبان میں لکھا ہوا بورڈ رکھے فٹ پاتھ پر خاموش بیٹھا دیکھا اور دوسری جگہ سمندر کے کنارے جہاں لوگ جہاز سے اتر کر اپنی اپنی اگلی منزل کی طرف جا رہے تھے رستے میں دو بچوں کو زمین پر ساتھ ساتھ بیٹھے دو وائلن نما آلات سے موسیقی کی دھن بجاتے دیکھا۔ ان کے آگے رومال پڑا تھا ہم نے بھی ترک کرنسی کے دو چھوٹے سکے وہاں رکھ دیے تا کہ اتنا تو ثابت کر دیں کہ ہم عالمی گداگر ہی نہیں بھیک دیتے بھی ہیں۔

استنبول میں ہمیں ہر سڑک گلی اور عمارت کے پاس اشیائے ضروری کے بے تحاشہ بارونق اسٹور دیکھنے کو ملے جن میں خریداروں کی بھی کمی نہ تھی لیکن بیازت مسجد کے قرب میں گرینڈ بازار تو دیکھنے کی جگہ تھی جس میں قالین، پیتل، سلک اور لیدر کی حکومت تھی۔ گرینڈ بازار مکمل کورّڈ تھا۔ اس میں 22 اطراف سے داخلہ ہو سکتا تھا سج میں 64 گلیاں اور تین ہزار سے زیادہ دو کانیں تھیں۔ ادھر کوئی ساتھی بھیڑ کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہوا تو سمجھئے گم ہو گیا۔ اس لیے دکانداروں کی اردو یا انگریزی سے قعطی لاعلمی کی وجہ سے موبائل فون ہی ملاپ کا ذریعہ تھا۔ جیسا کہ اس کے ترکی نام ہی سے ظاہر ہے یہ واقعی گرینڈ بازار تھا۔ اگر کسی نے لاہور کی اچھرہ کی مارکیٹ دیکھی ہے تو اسے سو سے ضرب دیں یہاں خریداری مطلوب ہے تو کھانے پینے، سجانے، پہننے، تحفے میں دینے، زیور کے طور پر استعمال کرنے غرضیکہ قسم قسم اور ہر قسم کی خریداری کے لیے اس بازار کو دیکھے بغیر استنبول کا سیاح واپس جا ہی نہیں سکتا۔ گرینڈ بازار اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے عقب میں 1506ء میں تعمیر ہونے والی شاندار مسجد بیازت ہے۔ اسی طرح ایمینونو میں نئی مسجد (News Mosqe) کے قریب ایک اور انوکھا بازار Spice Bazzar بھی دیکھنے کی چیز ہے جہاں دنیا کے پودوں اور پھلوں کے قہووں کی اقسام اور بیج ملتے ہیں۔ اکثر لوگوں نے تو پوری پوری زندگی ان مصالحوں اور کھانے کے بیجوں کو نہ تو دیکھا، چکھا یا ان کے بارے میں سنا ہو گا جو سپائس بازار کی سیکڑوں دکانوں میں موجود ہیں۔

باسفورس کے سمندر کے ذریعے جب بھی کیدی کویا سے جہاز لینے پہنچے ساحل کے ساتھ ساتھ دس بارہ جفت سازوں کے کھوکھوں پر اور سستی خوراک کی اس سے بھی زیادہ ریہڑیوں پر بزنس ہوتا دیکھا۔ امریکا میں ایسے جفت ساز زیادہ تر روسی ہوتے ہیں جن کا کام جوتے مرمت اور پالش کرنا ہوتا ہے لیکن بحیرہ باسفورس کے کنارے جفت ساز اور ریڑھی بان ترک ہیں لیکن بہت چھوٹے کاروباری ہونے کے باوجود اپنے کاروباری اصولوں میں بیحد پکے ہیں۔ بہت سے لوگ مہنگی جوتوں کی دکانوں پر نہیں جا سکتے اسی طرح کئی مسافر یا سیاح ریہڑھی کی سستی خوراک سے پیٹ بھرتے ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی نے ایک جفت ساز سے اپنے بوٹوں کے لیے تسمے خریدے دوسرے روز اس نے اسی موچی سے کہا کہ وہ تسمے چھوٹے ہیں اس لیے وہ خریدے ہوئے تسمے لمبے تسموں سے ایکسچینج کرنا چاہتا ہے۔ موچی نے صاف انکار کرتے ہوئے ہمارے ساتھی کی خواہش رد کر دی اور اسے دوسرے لمبے تسمے خریدنے کے لیے کہا۔ ریڑھی بانوں کے پاس Chestnuts، گرما گرم بھٹے اور تِلوں والی گول رسہ نما روٹیاں برائے فروخت ہوتی ہیں جنھیں وہ SIMIT کہتے ہیں۔

ہمارے ساتھی نے Chestnut خریدیں لیکن ان میں سے چند تبدیل کرنے کی خواہش کی جس پر ریڑھی بان نے لفافہ واپس پکڑ کر اسے Chest Nut فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ ہمارے ساتھی نے وہی لفافہ لے لینے کی کوشش کی تو بھی ریڑھی بان نے انکار کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جس کا واضح مطلب ’’دفع ہوجاؤ‘‘ جیسا تھا۔ استنبول میں بڑے بڑے کاروباری نہایت شائستہ اور اکاموڈیٹ کرنے والے ہیں لیکن ان دو یعنی موچی اور ریڑھی بان لیول کے کاروباریوں کا رویہ ہمارے ساتھی کے لیے ناقابل فہم تھا۔ کیا موچی اور ریڑھی بان صحیح کاروباری اصول پر چل رہے تھے۔ یہ اب تک ایک سوالیہ نشان ہے۔

حمید احمد سیٹھی  

Istanbul Turkey

 

Enhanced by Zemanta

شریعت کے تین درجے


شریعت کے تین اسٹیپس (درجے) ہیں۔

پہلا اسٹیپ اسلامی اخلاقیات ہے‘ وحی کا آغاز چالیس سال کی عمر میں ہوا‘ اللہ تعالیٰ نے چالیس سال کی عمر میں آخری نبی ہونے کا پیغام دیا لیکن آپؐ صادق اور امین برسوں پہلے اسٹیبلش ہو چکے تھے‘ مکہ کا ایک ایک شخص گواہی دیتا تھا‘ آپؐ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘ خیانت نہیں کی‘ بے انصافی نہیں کی‘ کسی کا حق نہیں مارا‘ گواہی نہیں چھپائی‘ وقت ضایع نہیں کیا‘ اونچی آواز میں تکلم نہیں کیا‘ کسی سے نفرت نہیں کی‘ غیر محرم کو نہیں دیکھا‘ غلط فہمی اور افواہ نہیں پھیلائی‘ دوسروں کے عقائد پر تنقید نہیں کی‘ معاشرے کی کوئی روایت‘ کوئی قانون نہیں توڑا‘ وعدہ خلافی نہیں کی‘ منافرت نہیں پھیلائی‘ کسی فساد کا حصہ نہیں بنے‘ کام چوری نہیں کی اور کسی پر ظلم نہیں کیا‘ ہمارے رسولؐ اعلان نبوت سے قبل اخلاقیات کے اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہو چکے تھے جس پر کفار بھی حجر اسود نصب کرنے کے لیے آپؐ کو ثالث مقرر کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے

قریش کے بدترین دشمن بھی امانتیں رکھوانے کے لیے آپؐ کے گھر آتے تھے‘ تجارت کے قافلے روانہ ہوتے تھے تو لوگ اپنا سرمایہ آپؐ کے حوالے کرنا چاہتے تھے‘ آپؐ کی شرافت کا عالم یہ تھا ‘آپؐ مکہ کی متمول ترین خاتون حضرت خدیجہؓ کے لیے کام کرتے تھے‘ وہ آپؐ کی ایمانداری اور شرافت سے اتنا متاثر ہوئیں کہ انھوں نے خود نکاح کا پیغام بھجوا دیا‘ آپؐ کی شرافت کا یہ عالم تھا‘ آپؐ نے اس وقت تک دوسرا نکاح نہیں فرمایا‘ جب تک حضرت خدیجہؓ دنیا میں موجود رہیں‘ حضرت خدیجہ ؓ کا انتقال64 سال اور چھ ماہ کی عمر میں ہوا ‘ آپؓ اس وقت تک بہت ضعیف ہو چکی تھیں مگر نبی اکرمؐ نے دوسری شادی نہیں فرمائی اور یہ روایت اس معاشرے میں قائم کی جس میں کثرت ازدواج قانون بھی تھا اور رسم بھی۔ کنیزیں اور لونڈیاں بھی ہوتی تھیں اور آقاؤں کو ان پر پورا اختیار بھی ہوتا تھا‘ آپ ؐ کی اخلاقی برتری کی یہ حالت تھی مکہ اور اس کے قرب و جوار میں کوئی ایک ایسا شخص موجود نہیں تھا جو یہ کہہ سکتا‘ محمدؐ نے میرے ساتھ فلاں زیادتی کی‘ فلاں وعدہ توڑا یا فلاں وقت میرے ساتھ ترشی کے ساتھ پیش آئے‘ پورے مکہ میں کوئی شخص آپؐ پر جھوٹ بولنے تک کا الزام نہیں لگا سکا‘ رسول اللہ ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو صحابہ کرام ؓ بھی اخلاقیات کے اعلیٰ معیارات پر متمکن ہو گئے‘ برداشت کیا تو زمین کو دہلا دیا‘ صبر کیا تو آسمان کی پلکیں گیلی ہو گئیں‘ وعدے نبھائے تو کفار کے دل نرم پڑ گئے اور سزائیں بھگتیں تو مشرکوں کو بھی پریشان کر دیا‘ یہ اخلاقیات شریعت کا پہلا اسٹیپ ہے‘ میرا ایمان ہے‘ ہم اس وقت تک سچے مسلمان نہیں ہو سکتے ہم جب تک شریعت کے اخلاقی درجے پر فائز نہیں ہو جاتے‘ ہمارے ہاتھ اور ہماری زبان سے جب تک دوسرے لوگ محفوظ نہیں ہوجاتے۔

شریعت کا دوسرا اسٹیپ (درجہ) عبادات ہیں‘ حضرت جبرائیل امین ؑ نے تیسری وحی کے دوران نبی اکرم ؐ کو وضو کا طریقہ سکھایا تھا‘ معراج کے دوران پانچ نمازیں فرض ہوئیں‘ تیس روزوں کا حکم‘ حج اور زکوٰۃ کا حکم بھی مختلف اوقات میں آیا‘ یہ تمام عبادات مسلمانوں پر فرض ہیں‘ ہم ان میں سے کسی عبادت کا انکار نہیں کر سکتے‘ یہ عبادات بندے اور خدا کے درمیان رابطہ ہیں‘ عبادات کے معاملے میں کوئی تیسرا شخص انسان اور خدا کے درمیان حائل نہیں ہو سکتا‘ میری نماز‘ میرا حج‘ میری زکوٰۃ اور میرا روزہ قبول ہوا یا نہیں ہوا؟ یہ فیصلہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے‘ میں کتنا بڑا مسلمان ہوں‘ میرے درجات کیا ہیں اور عبادت اور ریاضت کے باوجود میرا ٹھکانہ دوزخ ہو گا یا پھر میں کلین شیو اور بھرپور دنیا داری کے باوجود جنت میں جاؤں گا؟ یہ فیصلہ بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کرے گا‘ میری عقیدت‘ میری نسبت اور رسول اللہ ﷺ کے اصحابؓ کے ساتھ میری محبت، ہو سکتا ہے میری بخشش میں کوئی حصہ ڈال دے لیکن اس کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ ہی فرمائیں گے‘ دنیا کا کوئی شخص یہ ذمے داری نہیں اٹھا سکتا۔

انسان کی عبادت اس کا پرائیویٹ یا نجی معاملہ ہوتا ہے‘ یہ پوری پیشانی زمین پر ٹیکتا ہے‘ اس کے پنجے زمین کے ساتھ چپکتے یا پھر ہوا میں معلق رہتے ہیں‘ یہ تین سیکنڈ کا سجدہ کرتا ہے یا پھر ڈیڑھ منٹ کا‘ نماز میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے‘ یہ مسواک استعمال کرتا ہے یا منجن سے دانت صاف کرتا ہے‘ یہ پتلون پہن کر نماز پڑھتا ہے یا پھر شلوار یا تہبند باندھ کر‘ یہ نماز کے دوران کس سورت کی تلاوت کرتا ہے‘ یہ سحری اور افطار میں کیا کھاتا ہے‘ یہ زکوٰۃ کس کو دیتا ہے اور زندگی کے کس حصے میں حج کے لیے روانہ ہوتا ہے‘ یہ تمام معاملے اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہیں اور کوئی شخص اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا‘ دنیا کے کسی بھی خطے میں اور کسی بھی دور میں عبادت قانون نہیں رہی‘ یہ تعزیرات کی شکل اختیار نہیں کر سکی‘ ریاست یا حکومت کا کام شہری کو عبادت کی سہولت فراہم کرنا ہے‘ اسلامی ریاست کا کام مساجد بنانا‘ رمضان کا اعلان کرنا‘ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے سہولت فراہم کرنا اور حج کے سفر کو آسان بنانا ہے‘ لوگوں کو عبادت پر مجبور کرنا نہیں‘ یہ انسان کا اپنا فیصلہ‘اپنا اختیار ہے‘ ہاں البتہ جو شخص ان عبادات کا منکر ہو جائے یا جو انھیں اسلام سے خارج کرنے کی کوشش کرے اسلامی ریاست پر اس کا احتساب فرض ہو جاتا ہے مگر عبادت کرنا یا نہ کرنا یا کس طریقے سے کرنا یہ انفرادی فعل ہے اور حکومت اور ریاست کے پاس اس معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

عبادت فرض ہے‘ یہ اہلیت نہیں ہے‘ ہم کسی شخص کو صرف تقویٰ کی بنیاد پر نیو کلیئر سائنس دان نہیں مان سکتے‘ ہم کسی شخص کو صرف عبادات کی بنیاد پر وزیر خزانہ بھی نہیں بنا سکتے اور ہم صرف نوافل اور روزوں کی کثرت کی بنیاد پر کسی کو چیف جسٹس بھی قرار نہیں دے سکتے‘عہدوں کے لیے اہلیت درکار ہوتی ہے‘ عبادت اہلیت میں اضافے کا باعث تو بن سکتی ہے لیکن یہ اہلیت نہیں بن سکتی‘ عبادات شریعت کا دوسرا اسٹیپ ہے۔

شریعت کا تیسرا اسٹیپ اسلامی سزائیں ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے قاتل کی سزا موت‘ چور کی سزا ہاتھ کاٹنا اور زنا کی سزا سنگساری طے فرمائی‘ اسلام میں ان تینوں سزاؤں کی کنڈیشنز بھی موجود ہیں‘مثلاً اگر مقتول کے لواحقین اللہ کے نام پر یا خون بہا لے کر معافی پر تیار ہو جائیں تو قاتل کو قتل نہیں کیا جاتا‘ چوری کے پیچھے اگر انتہائی مجبوری ہو اور قاضی اس مجبوری کو مجبوری مان لے تو یہ سزا بھی معاف ہو سکتی ہے‘ معطل ہو سکتی ہے یا پھر تبدیل ہو سکتی ہے‘ آپ نے تاریخ میں پڑھا ہو گا‘ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں حجاز اور شام میں قحط پڑا تو آپؓ نے چوری کی سزا معطل کر دی تھی‘کیوں؟ کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ انسانی مجبوریوں سے آگاہ تھے‘ وہ جانتے تھے لوگ قحط میں رشتہ حیات قائم رکھنے کے لیے خوراک کی چوری پر مجبور ہوسکتے ہیں اور مجبوروں کے ہاتھ کاٹنا انصاف نہیں ہو گا‘ حضرت عمرؓ کا دور صحابہ کرامؓ کا زمانہ تھا‘ مستقبل کے دو خلیفہ راشد بھی اس وقت دنیا میں موجود تھے اور قرآن اور احادیث کے گواہ بھی لیکن وہ لوگ جو حضرت عمرؓ کی دوسری چادر کو معاف نہیں کرتے تھے‘ انھوں نے بھی سزا معطل کرنے کا یہ فیصلہ قبول کر لیا۔

یہ واقعہ ثابت کرتا ہے‘ بعض حالتوں میں چوری کی سزا بھی معطل ہو سکتی ہے اور رہ گئی زنا کی سزا تو اس میں بھی بے شمار کنڈیشنز ہیں اور یہ کنڈیشنز جب تک پوری نہیں ہوتیں‘ کسی ملزم‘ کسی مجرم کو سزا نہیں دی جا سکتی لیکن اس کے باوجود یہ سزائیں ہماری شریعت کا حصہ ہیں اور ہم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک یہ سزائیں ہمارے ایمان کا حصہ نہ بن جائیں‘ یہ اللہ کے احکامات ہیں اور ہم ان سے سرتابی نہیں کر سکتے‘ یہ حقیقت ہے لیکن اس حقیقت سے قبل چند دوسری حقیقتیں بھی آتی ہیں‘ شریعت کا پہلا اسٹیپ اخلاقیات ہے‘ اسلام شروع ہی اخلاقیات سے ہوتا ہے‘ نبی اکرمؐ پر اترنے والی پہلی دونوں وحی اخلاقیات پر مبنی تھیں‘ علم حاصل کریں‘ اللہ کے کرم کو تسلیم کریں‘ اللہ کی بڑائی بیان کریں‘ صفائی اختیار کریں‘ احسان کریں اور صبر کریں‘ یہ اللہ کے ابتدائی پیغامات تھے‘ عبادات ان پیغامات کے بعد آئیں ‘ اللہ کے رسولؐ نے عبادت کی خطا پر کسی کو سزا نہیں دی تھی اور سزائیں تیسرے اسٹیپ میں اس وقت آئیں جب اسلامی ریاست قائم ہو چکی تھی اور مسلمان پہلے دو درجے طے کر چکے تھے اور اخلاقیات اور عبادات مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بن چکی تھیں اورکسی مسلمان پر وعدہ خلافی‘ ناانصافی‘ جھوٹ‘ ظلم‘ زیادتی‘ ناشائستگی‘ اکھڑ پن‘ سستی‘ لاقانونیت اور حکم عدولی کا الزام نہیں لگ سکتا تھا اور مدینہ میں کوئی شخص بے نماز اور بے روزہ نہیں رہا تھا اور مدینہ میں کوئی ایسا شخص نہیں بچا تھا جو صاحب نصاب بھی ہو اور زکوٰۃ بھی نہ دے اور کوئی ایسا شخص بھی نہیں تھا جو حج کا فریضہ ادا نہ کرنا چاہتا ہو‘ شریعت کے تیسرے درجے سے قبل شریعت کے پہلے دونوں اسٹیپس پورے ہو چکے ہیں لیکن ہم لوگ اسلام کو تیسرے درجے سے شروع کرنا چاہتے ہیں‘ ہم اسلام کو سزاؤں سے اسٹارٹ کرنا چاہتے ہیں۔

آپ اس کا عملی مظاہرہ لورا لائی میں دیکھ لیجیے‘لورا لائی کے علاقے کلی منزکئی میں چند مقامی علماء کے حکم پرشک کی بنیاد پر لوگوں نے ایک خاتون اور ایک مرد دراز خان کو پتھر مار کر ہلاک کر دیا‘ ہم اس سزا کے خلاف نہیں ہیں‘ یہ قرآن کی سزا ہے لیکن ہم طریقہ کار پر اختلاف کر سکتے ہیں‘ لورا لائی کے جن لوگوں نے یہ سزا سنائی‘ کیا وہ ایمان کے اس اسٹینڈرڈ پر پورے اترتے ہیں جس کی بنیاد اسلام نے رکھی تھی‘ اگر ہاں تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے‘ کیا ہم نے شریعت کے پہلے دو درجے طے کر لیے ہیں‘ کیا دنیا ہماری صداقت اور امانت کی قسم کھا سکتی ہے‘ کیا ہمارے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہو چکے ہیں اور کیا ہم نے عبادت کے اس معیار کو چھو لیا ہے جس میں خدا بندے سے خود پوچھتا ہے بتا تیری رضا کیا ہے؟ اگر نہیں توہمیں کس نے دوسرے شخص کو گنہگار ڈکلیئر کرنے اور اسے پتھروں کے ذریعے ہلاک کرنے کا اختیار دیا؟ اسلام صداقت اور امانت سے شروع ہوا تھا‘ خدا کے لیے اسے صداقت اور امانت سے شروع کریں‘ اس کا آغاز پتھروں سے نہ کریں‘ ایمان چاہتے ہو تو پہلے ایماندار بنو‘ اسلام چاہتے ہو تو پہلے سلامتی کے راستے پر چلو‘ تمہیں اسلام بھی ملے گا‘ ایمان بھی اور اللہ بھی۔

جاوید چوہدری  

Enhanced by Zemanta