Showing posts with label Government. Show all posts

Pakistan's future policy towards Afghanistan by Manzoor Ijaz


 Pakistan's future policy towards Afghanistan by Manzoor Ijaz

The self-destruction of Pakistan by Dr. Abdul Qadeer Khan


The self-destruction of Pakistan by Dr. Abdul Qadeer Khan

Economic Growth in Pakistan by Manzoor Ijaz


 Economic Growth in Pakistan by Manzoor Ijaz

Enhanced by Zemanta

Over half of Pakistan lives under poverty line

 Over half of Pakistan lives under poverty line

Enhanced by Zemanta

Can Nawaz Sharif Lahore Metro Train Project Change Pakistan?



Can Nawaz Sharif  Lahore Metro Train Project Change Pakistan?
Enhanced by Zemanta

Narendra Modi charge sheet against Pakistan



Narendra Modi charge sheet against Pakistan
Enhanced by Zemanta

Takbeer Day and Pakistan and India Relations by Ibtisam Elahi Zaheer


Takbeer Day and Pakistan and India Relations by Ibtisam Elahi Zaheer
Enhanced by Zemanta

How Can We Increase Tax Collection In Pakistan ...by Dr. Ikramul Haq


How Can We Increase Tax Collection In Pakistan ...by Dr. Ikramul Haq
Enhanced by Zemanta

Pakistan Economic Progress Reality or Dream by Dr. Shahid Hassan


 Pakistan Economic Progress Reality or Dream by Dr. Shahid Hassan

Enhanced by Zemanta

امریکا کا مالیاتی فراڈ… .......


عالمی جنگ شروع ہونے سے قبل متحاربین کے مابین معاہدوں کی ابتدا 1894 سے 1907 تک ہونے اور 28 جولائی 1914 کو جنگ کی ابتدا سے لے کر مارچ 1917 تک امریکا اپنے نیوٹرل ہونے کا تاثر متحارب ملکوں پر قائم کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

اس عرصے کے دوران تمام یورپی ممالک۔ 1۔کرنسی ایکسچینج بحران۔ 2۔ایک دوسرے سے تجارت کی بندش۔ 3۔ سونے کے معیار سے تمام ممالک کا ہٹ جانا۔ 4۔ سفارتی تعلقات کا ختم ہوجانا۔ 5۔ ہر ملک کا دفاعی بجٹ بڑھتا گیا، جس سے ملکی معیشت پر غیر پیداواری اخراجاتی بوجھ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اس کے نتیجے میں اشیاء کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قیمتیں گرتی چلی گئیں، یعنی مہنگائی بڑھتی گئی۔ 6۔ امریکا کسی بھی معاہدے میں شریک نہیں ہوا تھا اور مارچ 1917 تک جنگ سے بھی الگ رہا تھا۔ یورپی ملکوں نے امریکا کو Safe Haven Gold Country کے طور پر دیکھ کر اپنا اپنا سونا امریکی بینکوں میں Deposit یا اپنے کھاتوں میں رکھنا شروع کردیا تھا۔ کتاب ’’یورپی کرنسی اینڈ فنانس‘‘ 1925 امریکا، کے حصہ دوم، صفحہ 5 پر دیے گئے امریکی گولڈ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق 1912 کو امریکا نے 19.123 ملین ڈالر کا سر پلس گولڈ امپورٹ کیا اور پھر 1913 میں جنگی تیاریوں اور 1914 میں جنگ کے شروع ہوجانے کے بعد متحارب ملکوں نے ٹوٹل 14.418 ملین ڈالر کا سونا امریکا سے نکال لیا تھا۔ اس کے بعد امریکا نے مالیاتی پالیسی تبدیل کرلی تھی۔

امریکا نے اشیا کے بدلے وہ سونا لینا شروع کردیا جو امریکی بینکوں میں متحارب ملکوں نے ڈپازٹ رکھا ہوا تھا اور جن ملکوں کا سونا موجود نہیں تھا، ان ملکوں سے اشیا اور کاغذی ڈالروں کے عوض سونا وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا اپنے گولڈ اسٹینڈرڈ 1837 پر ابھی تک کھڑا تھا۔ یعنی 20.67 ڈالر ایک اونس فائن سونے کے بدلے ڈالر ادا کر رہا تھا۔ اس طرح امریکا کاغذی ڈالروں کو یورپی معیشت میں ’’یورپی کرنسی ایکسچینج بحران‘‘ کے دوران داخل کرنے میں کامیاب ہوتا گیا۔ جب امریکا اپریل 1917 کو جنگ میں شریک ہوگیا تو امریکی غیر جانب داری کا بھرم ٹوٹ جانے سے یورپی ملکوں کا امریکا پر سونے کی ادائیگی کے لیے دباؤ بڑھتا گیا۔ امریکا نے اس دباؤ کو روکنے کے لیے 7 ستمبر 1917 سے 30 جون 1919 تک غیر ملکی ڈپازٹ سونے کے نکالنے پر پابندی لگا دی تھی۔

کتاب ’’یورپین کرنسی اینڈ فنانس‘‘ حصہ دوم کے صفحے 7 پر امریکا اشیا کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 1914 سے 1925 تک 22894.347 ملین ڈالر کی امریکا نے اشیا ایکسپورٹ کی تھیں۔ کتاب International Currency Experience by League of Nations 1944 پر درج ہے کہ 1913 میں امریکا کے پاس گولڈ ریزرو 12900.0 ملین ڈالر تھا۔ دوسرے 17 بڑے نوآبادیاں رکھنے والے ممالک کے پاس 3145.0 ملین ڈالر گولڈ ریزرو تھا۔ اس طرح امریکا ان ملکوں سے 144 فیصد گولڈ ملین ڈالر ریزروز پیچھے تھا۔ کتاب ’’یورپین کرنسی اینڈ فنانس‘‘ امریکا 1925 کے حصہ اول کے صفحے 17 کے حاشیے میں لکھا ہے کہ جنوری 1925 کو امریکا کے پاس گولڈ 4547.407 ملین ڈالر ریزرو تھا۔ اور تجارتی اشیا کے عوض امریکا نے جنوری 1925 کو 22894.347 ملین ڈالر گولڈ حاصل کیا۔

کیونکہ یورپی ملکوں میں ’’کرنسی ایکسچینج بحران‘‘ تھا۔ اور ڈالر اتنی زیادہ مقدار میں یورپ میں گردش نہیں کر رہے تھے۔ اگر امریکا کاغذی ڈالر ایکسپورٹ بھی کر رہا تھا تو اس کے بدلے اشیا یا سونا لے رہا تھا۔ اس طرح گولڈ ریزرو ملین ڈالر اور تجارتی اشیا کے ملین ڈالر کا ٹوٹل 27441.754 ملین ڈالر گولڈ ہوتا ہے۔ کتاب ’’انٹرنیشنل کرنسی ایکسپیرینس‘‘ جسے لیگ آف نیشنز نے 1944 میں شایع کیا اس کے صفحے 235 پر 24 ملکوں کے پاس 1925 میں 2367.0 ملین ڈالرز گوڈ ریزرو تھا۔ امریکا دوسرے ملکوں سے 1913 میں 144 فیصد پیچھے تھا اور 1925 میں امریکا گولڈ ریزرو ملین ڈالر 1059 فیصد24 ملکوں سے آگے آچکا تھا۔

امریکا نے جنگ زدہ، تباہ حال یورپی ملکوں کی مجبوریوں، کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کتاب The Course and Phases of the world Economic Depression by League of Nations Geneva 1931 کے صفحے 319 پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکا نے 1920 سے 1930 تک یورپی ملکوں کو 9 ارب 70 کروڑ 40 لاکھ کاغذی ڈالر ایکسپورٹ کیے تھے۔ کتاب ’’یورپین کرنسی اینڈ فنانس‘‘ حصہ دوم کے صفحے 92 پر لکھا ہے “The allied Countries protected there exchange in the united states. before the united states interred the war they sent gold to New York, and obtained dollar loan through American Banking houses.”

کتاب ’’یورپین کرنسی اینڈ فنانس‘‘ حصہ دوم کے صفحے 95 پر درج ہے۔ ڈنمارک نے جولائی 1923 کو 35 لاکھ ڈالر کا سونا امریکا بھیجا کہ ڈنمارک کی کرنسی Krone کرونی کی قیمت کو ڈالر کے مقابلے میں گرنے سے روکا جائے۔

متذکرہ کتاب کے صفحے 287 پر لکھا ہے۔ “The Swiss Government in August, 1923 placed a loan in New York for 20.0 million dollar in an effort to support the Swiss France”

اس کے بعد پھر سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے اپریل 1924 کو امریکا سے 3 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا۔ متذکرہ کتاب کے صفحے 3 پر لکھا ہے۔

“Italy in June 1925 establised a credit of 50.0 million dollar in New York for the purpose of stabilizing the Lira.”

“Belgium also in June 1925 borrowed a similar amount in United States part of which money is to be used to maintain the Stability of Belgium France”

اس طرح بیلجیم نے 1920 سے 1922 تک 595.899 ملین ڈالر کا قرضہ امریکا سے کرنسی فرانک کی قیمت کو ڈالر کے مقابلے میں گرنے سے روکنے کے لیے کیا۔ ناروے نے 1915 سے 1924 تک امریکا سے 811.356 ملین ڈالر کا قرضہ لیا۔ پولینڈ نے جون 1924 کو امریکا سے 725.2 ملین ڈالر کا قرضہ لیا۔ کتاب “A Revision of the Treaty” Being a Sequel to the Economic Consequence of the pace” by J.M Keynes 1922 کے صفحے 219 پر درج ہے کہ جولائی1921 کو امریکا نے 19 یورپی ملکوں کو 11 ارب 8 کروڑ 47 لاکھ 67 ہزار 5 سو 75 ڈالر کا قرضہ دیا۔

اس میں سے امریکا نے ’’لبرٹی لون ایکٹ‘‘ کے تحت 9 ارب 43 کروڑ 52 لاکھ 25 ہزار 3 سو 29 ڈالر نقد کرنسی ان ملکوں کو دی تھی۔ کتاب International Economy 1963. by John Parke Young کے صفحے 543-44 پر درج ہے کہ امریکا نے پہلی عالمی جنگ کے دوران اور بعد میں جن ملکوں کو قرضے دیے تھے۔ ان قرضوں پر امریکا نے جون 1931 کو 2 ارب 80 کروڑ ڈالر سود اور اصل زر کی مد میں وصول کیے تھے۔ کتاب ’’یورپین کرنسی اینڈ فنانس‘‘ 1925 جسے امریکی حکومت نے شایع کیا۔

حصہ دوم کے صفحے 95 پر درج ہے امریکا نے 15 دسمبر 1923 کو Exchange Equalization Fund EEE قائم کیا۔ دراصل یہ ادارہ موجودہ آئی ایم ایف تھا جسے 91 سال قبل بنایا گیا تھا۔ یہ ادارہ ضرورت مند ملکوں کو فارن ایکسچینج ریزرو ڈالر فروخت کرتا تھا۔ ملکوں سے سونا یا دیگر ضمانتیں لیتا تھا۔ ملکوں کو مہنگے قرضے دے کر اپنی شرائط منواتا تھا۔ دسمبر 1923 کے بعد امریکی مالیاتی غیر ملکی تمام آپریشن کرنے کے ساتھ یورپی ملکوں کی کرنسیوں کی قیمتوں میں جوڑ توڑ کرتا تھا۔

 

Enhanced by Zemanta

Pakistan is beautiful — and it's mine


کرہ ارض پر موجود آزاد ممالک اور ریاستوں کا شمار کیا جائے تو چھوٹے بڑے ممالک کو ملا کر یہ تعداد 200 کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ان میں سے ایک ملک جو آبادی کے اعتبار سے چھٹے اور رقبے کے لحاظ سے 34ویں نمبر پر ہے، اسے دنیا بھر کے دانشور عجوبہ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ ملک بیک وقت خوش قسمت بھی ہے اور بدقسمت بھی۔ خوش قسمت اس لئے کہ قدرت نے اسے بیشمار وسائل اور نعمتوں سے نوازا ہے۔یہ ملک روس سے دس گنا چھوٹا ہے لیکن اس کا نہری نظام اس کے مقابلے میں دس گنا بڑا ہے۔

بہترین موسم، گرم پانیوں، معتدل آب و ہوا اور زرخیز زمین کے باعث یہ خطہ کاشتکاری کے لئے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس ملک کی 40 فیصد زرعی اراضی اب بھی کاشتکاری کے لئے بروئے کار نہیں لائی گئی اور جدید سہولتوں کے فقدان کے باعث فی ایکڑ پیداوار بھی بہت کم ہے، مگر اس کے باوجود یہ ملک دنیا بھر میں دیسی گھی کی پیداوار کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ بھینس کے دودھ اور چنے کے مراکز کا جائزہ لینے لگیں تو یہ ملک دوسرے نمبر پر نظر آتا ہے۔ بھنڈی سمیت بہت سی سبزیوں کی پیداوار کے اعتبار سے عالمی ماہرین کے تخمینوں کے مطابق یہ ملک تیسرے نمبرہے۔ اگر خوبانی ،کپاس اور گنا پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست بنانے لگیں تو اس ملک کا شمار چوتھے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ پیاز اور ٹماٹر کے ضمن میں اسے دنیا کا پانچواں بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ ملک کھجور اور انواع و اقسام کی دالیں پیدا کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور پھلوں کے بادشاہ آم کی پیداوار میں ساتویں نمبر پر ہے۔ چاول اور گوبھی کی پیداوار کے حوالے سے یہ آٹھواں بڑا ملک ہے۔ ساگ، میتھی، پالک اور گندم کی فصل کا حساب لگایا جائے، تو یہ ان تمام ممالک پر سبقت لے جانے میں نویں نمبر پر ہے۔ اس طرح کینو اور مالٹے کی پیداوار کے لحاظ سے یہ دسواں بڑا ملک ہے۔ اس ملک میں ہر سال 24 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا ہوتی ہے جو براعظم افریقہ کے تمام ممالک کی مجموعی پیداوار سے زیادہ ہے۔ گندم کے بعد دوسری بڑی غذائی جنس چاول ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ہر سال 670 ملین میٹرک ٹن چاول اگاتے ہیں جس میں اس ملک کا حصہ تقریباً 7ملین میٹرک ٹن ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے معاملے میں یہ ملک نہ صرف خودکفیل ہے بلکہ ہر سال 470000 ٹن فروٹ اور420000 ٹن سبزیاں بر آمد بھی کرتا ہے۔ یوں زرعی اجناس کی مجموعی پیداوار کے میدان میں اس ملک کا 25 واں نمبر ہے۔

یہ ملک صرف زرعی اعتبار سے ہی خوش قسمت نہیں بلکہ صنعتی پیداوار کے لحاظ سے بھی 55ویں نمبر پر ہے۔ اس کی ٹیکسٹائل مصنوعات یورپ تک فروخت ہوتی ہیں۔ معدنیات کے اعتبار سے بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک قسمت کا دھنی ہے۔ یہ کوئلے کے ذخائر کے اعتبار سے چوتھے، گیس کے ذخائر کے حوالے سے چھٹے جبکہ تانبے کے ذخائر کے لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہے۔ اس ملک میں سونے کا صرف ایک بڑا ذخیرہ جو دریافت تو ہو چکا مگر ابھی تک پہاڑوں کے نیچے ہی دفن ہے،اس کی مالیت کا تخمینہ 300ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ یہاں کوئلے کا صرف ایک ذخیرہ جو 9600 مربع کلومیٹر تک محیط ہے، یہاں 184بلین ٹن کوئلے کے ذخائر کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کی مالیت کا تخمینہ 25000ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں کوئلے سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل تیار کیا جا سکتا ہے، 500 سال تک بلاتعطل سالانہ 50 ہزار میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے یا پھر لاکھوں ٹن کھاد تیارکی جا سکتی ہے۔ خوش قسمتی کی داستان یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس ملک میں74 ملین ٹن ایلومونئم دستیاب ہے، 500 ملین ٹن تانبا موجود ہے، 46 ملین ٹن جست دریافت ہو چکا، 350 ملین ٹن جپسیم ڈھونڈا جا چکا ہے، فاسفیٹ کے ذخائر کی مقدار 22ملین ٹن ہے جبکہ لوہے کے ذخائر کی مقدار 600 ملین ٹن بتائی جاتی ہے۔

اگر آپ کمزور دل کے مالک نہیں تو میں آپ کو بتا ہی دوں کہ یہ خوش قسمت ملک کوئی اور نہیں، آپ کا پیارا پاکستان ہے، جہاں غربت کا ننگا ناچ ہم برسہا برس سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ملک آٹھویں عالمی طاقت ہے،اس کے پاس دنیا کی چوتھی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی اور چھٹی طاقتور ترین فوج ہے مگر اس کے باوجود دہشت گرد کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں اور دہشت گردی نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اگر ان سب وسائل کے باوجود پاکستان میں گرمیاں شروع ہونے سے پہلے ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سولہ گھنٹے یومیہ ہو جائے تو مجھے اس بات سے کیا غرض کہ کہاں کتنے ٹن کوئلے کے ذخائر موجو د ہیں؟ میر پور خاص ڈویژن کی ایک چھوٹی سی تحصیل کُنری سے جھڈو تک کا علاقہ جسے ریڈ چلی کاریڈور کہتے ہیں، یہاں سالانہ 2لاکھ ٹن سرخ مرچ پیدا ہوتی ہے اور اسے ایشیاء کی سب سے بڑی آڑھت کا درجہ حاصل ہے تو سندھی اس فخر کا کیا کریں ؟ بچوں کو کھانے کے بجائے یہ ایوارڈ تو نہیں کھلایا جا سکتا۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود تھر میں قحط سے بھوکوں مرتے انسانوں کو اس بات میں کیا دلچسپی کہ ریت کے نیچے دفن زمین میں بلیک گولڈ کی کتنی مقدار موجود ہے۔ دودھ کے لئے بلکتے اور ایڑیاں رگڑتے بچوں کو یہ لالی پاپ کیسے دیا جائے کہ ان کا ملک دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے اولین دس ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ جوہڑ سے جانوروں کے ساتھ پانی پیتے اور تعفن زدہ گوٹھوں کے کچے مکانوں میں سسک سسک کر جیتے سندھیوں کو اس سے کیا لینا دینا کہ موہنجودڑو میں تہذیب و ثقافت کے کیسے دفینے موجود ہیں۔ لاڑکانہ اور شہداد پور میں بنیادی سہولتوں سے محروم بدقسمت افراد کے اس بات میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ ان کی دھرتی کس قدر خوش قسمت ہے۔ بلوچستان کے وہ دورافتادہ دیہات جہاں اس ترقی یافتہ دورمیں بھی کسی گھر میں سنگ و خشت کا عمل دخل نہیں، مٹی اور گارے سے ایستادہ گھروں میں مقیم ان پاکستانیوں کو میں کیسے سمجھائوں کہ یہاں کتنے ملین ٹن جپسم دریافت ہوئی ہے۔ جہاں زندگی کا کوئی مول نہیں،وہاں یہ بات کس قدر بے معنی لگتی ہے کہ تمہارے ہاں ریکوڈک کے علاقے میں سونے کے ذخائر کی مالیت بہت زیادہ ہے۔

میں جنوبی پنجاب میں پھٹے پُرانے کپڑوں میں کپاس چُنتی خواتین کو کیسے بتائوں کہ ریشم کے تار بُنتی ملوں کا کپڑا ان کی پہنچ سے کیوں دور ہے۔ جہاں بکرے کا گوشت کھانے کے لئے عیدالاضحی کا انتظار کیا جاتا ہو، وہاں یہ بات کس قدر کھوکھلی محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان سالانہ کتنے ٹن گوشت برآمد کرتا ہے اور اس سے کس قدر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وہ غیور پاکستانی جو دس سے پندرہ روپے کی روٹی خریدتے ہیں ،انہیں اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پاکستان میں گندم کی پیداوار براعظم جنوبی امریکہ کے برابر ہے۔ یہ سوال ہم سب کے لئے سوہان روح ہے کہ ہماراملک بیک وقت خوش قسمت اور بدقسمت کیوں ہے؟کبھی اناج کا قحط، کبھی چینی کی قلت، کبھی پانی کی کمی سے سوکھتی فصلیں تو کبھی سیلاب میں ڈوبتے کھیت، کبھی پیٹرول اور گیس کی عدم دستیابی تو کبھی بجلی کی قلت۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو یہاں کسی شئے کی کوئی کمی نہیں،صرف قیادت کا شارٹ فال ہے۔ جس دن ہم اس شارٹ فال کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے اور رہزنوں کے روپ میں موجود رہبروں سے نجات مل گئی،سب الجھنیں سلجھ جائیں گی،سب دکھ ٹل جائیں گے اور ہم سب کے دن بدل جائیں گے۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ

Pakistan is beautiful — and it's mine "

Enhanced by Zemanta

Primary Education in Pakistan


بلاشبہ ملک کی ترقی و تنزل میں نوجوان طبقہ مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور اس وقت امن کے متلاشی طبقے نوجوان نسل سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ’’ملک میں امن کے لیے نوجوان ہی کچھ کر سکتے ہیں‘‘۔ جناب! امن نام ہے سکون کا، چین کا، اطمینان کا، آرام کا، آشتی اور پناہ کا۔ اب آپ ہی بتائیں ’’ایام گردش‘‘ میں مغرب سے جنوب اور شمال سے مشرق تک نوجوانوں کو یہ نعمتیں کہاں نصیب ہیں؟ اس لیے میری طرح آپ کو بھی اس عنوان سے یقیناً اختلاف ہو گا۔

امن کے متلاشی یہ بھول جاتے ہیں کہ ’’امن، غربت، بے روزگاری اور تعلیم‘‘ باہم مشترک ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ غربت کی وجہ سے ناخواندگی ہے اور ناخواندگی کی وجہ سے غربت ہے۔ جب تعلیم غریبوں کے دسترس میں ہو گی تو غریب معاشرے میں تعلیم عام ہو گی اور جب غریب معاشرے میں تعلیم ہو گی تو ایک مستحکم معاشرہ جنم لے گا اور جب مثبت معاشرہ پروان چڑھے گا تو وہاں پر ہر سو خوشحالی ہو گی اور امن و آشتی کا بول بالا ہو گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’تعلیم‘‘ کون عام کرے گا؟

بدقسمتی سے تعلیم عام کرنے کے دعویداروں کی کمی نہیں ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ طبقوں میں بٹی ہوئی مہنگی تعلیم کے باعث صرف ان گھرانوں کے بچے، نوجوان منزل تک پہنچ پاتے ہیں جو مالی لحاظ سے مستحکم ہوتے ہیں جب کہ 90 فیصد گھرانوں کے نوجوان منزل کی تلاش میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں۔ سرکاری درس گاہوں کی حالت یہ ہے کہ کہیں اسکول آباد ہیں تو کہیں ویران ہیں۔ کہیں اساتذہ زیادہ ہیں تو بچے کم ہیں، کہیں طالب علم زیادہ ہیں تو استاد کم ہیں، کہیں تعلیم دی جا رہی ہے تو کہیں گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کی جا رہی ہیں۔

نوجوانوں کو حیلے بہانوں اور طفل تسلیوں کے گرداب میں جکڑ لیا گیا ہے۔ جو چیز یعنی ’’تعلیم‘‘ انھیں آگے لے جا سکتی ہے اسے اس سے دور کر دیا گیا ہے ایسے میں امن کا خواب عبث ہے۔ جہاں تعلیم کی راہیں مسدود کر دی گئی ہوں، جہاں نوجوانوں کے لیے روزگار کے راستے بند کر دیے گئے ہوں، جہاں غربت اژدھا کا روپ دھار چکی ہو۔ وہاں غربت کے بیچ سے کیسے خوشحالی آ سکتی ہے؟ اگر امن کے خواہاں ہو تو تعلیم کو غریبوں کے لیے عام کرو، ویران درس گاہوں کو آباد کرو۔

اب ذرا ملک میں تعلیم کی صورت حال ملاحظہ کریں! اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری سطح پر بچوں کے مقابلے میں اساتذہ کی شرح خطے میں سب سے کم ہے، اسکول نہ جانے والے بچوں میں دو تہائی تعداد لڑکیوں کی ہے، پرائمری سطح پر لڑکیوں کی انرولمنٹ شرح 54 فیصد جب کہ سیکنڈری سطح پر صرف 12 فیصد ہے۔ پاکستان میں 7 سے 15 سال تک کی 62 فیصد غریب لڑکیوں نے آج تک کلاس روم کی شکل نہیں دیکھی، خواتین کی شرح خواندگی 47 فیصد اور مردوں کی شرح خواندگی 70 فیصد ہے۔ خواتین کی صرف 49 فیصد آبادی نے تعلیم حاصل کی اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں صرف 38 فیصد خواتین اسکولز میں پڑھی ہیں۔ اسرائیل جس سے ہم نفرت کرتے ہیں اس وقت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ سالانہ عالمی ایجوکیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی 46 فیصد آبادی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، 25 سال سے 64 سال کی عمر کے لوگوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا تناسب دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا یہ نتیجہ 2008ء میں نافذ ہونے والی تعلیمی اصلاحات کا سبب ہے جن میں اساتذہ کی تنخواہیں تعلیمی ڈھانچہ اور روزگار کی شرائط میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اسرائیل میں 2003ء میں گریجویشن کرنے والے طلبا کی شرح 89 فیصد تھی جو 2010ء میں بڑھ کر 92 فیصد ہو گئی۔

یہ رپورٹ 34 ممبر ملکوں کے سروے سے تیار کر کے جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لحاظ سے دنیا کا نمبر ون ملک ہے۔ جب کہ اس کے برعکس پاکستان کے دیہی علاقوں میں اسکول جانے کی عمر کے تمام بچوں خصوصاً بچیوں میں سے 23 فیصد اسکولوں سے باہر ہیں، سرکاری اسکولوں کے 6 اور نجی اسکولوں کے 25 فیصد طالب علم ٹیوشن پڑھنے جاتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت کے 68 اور نجی اسکولوں کے 43 فیصد طالب علم گنتی کی پہچان نہیں کرسکتے، تیسری جماعت کے سرکاری اسکولوں کے 57 اور نجی اسکولوں کے 31 فیصد طالب علم انگریزی الفاظ پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں جب کہ 5 ویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے 57 اور نجی اسکولوں کے 36 فیصد طالب علم اردو کے جملے پڑھنے سے قاصر ہیں۔ اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے ذریعہ تعلیم کے حوالے سے 46 فیصد کی پہلی ترجیح اردو، 37 کی گھروں میں بولی جانے والی اور 17 فیصد کی انگریزی زبان ہے۔ دیہات میں غریب ترین طبقے کے 54، غریبوں کے 67 امیروں کے 73 اور امیر ترین طبقے کے 81 فیصد بچے اسکول جاتے ہیں۔

ماضی میں صوبہ سندھ کا تعلیمی معیار دیگر صوبوں سے بہتر تھا مگر اس وقت سندھ دیگر صوبوں سے پیچھے ہے۔ سندھ میں 60 لاکھ بچے ابھی بھی اسکولوں سے دور ہیں۔ سندھ کے 40 ہزار میں سے 38 ہزار اسکول فعال ہیں یعنی 11 ہزار اسکول غیر فعال ہیں۔ جمعرات 20 فروری 2014 کو سندھ اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ’’سیاسی چارٹر‘‘ کی منظوری دی جس میں عہد کیا گیا ہے کہ سندھ میں اسکولوں کی 100 فیصد داخلے یقینی بنا کر تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ یہ قرارداد سینئر وزیر برائے تعلیم و خواندگی نثار احمد کھوڑو نے پیش کی تھی۔ یہ چارٹر کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں منظور کیا گیا تھا اور اس عہد کی سندھ اسمبلی سے بھی منظوری لے لی گئی ہے یہ عہد 2 نکات پر مشتمل ہے یعنی سندھ میں 100 فیصد داخلے ہوں اور معیار تعلیم بہتر ہو۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کا بجٹ 132 ارب روپے ہے ان میں سے 110 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں خرچ ہوجاتے ہیں باقی 22 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہے۔ حکومت سندھ کے کل 15 لاکھ ملازمین ہیں جن میں سے ڈھائی لاکھ ملازمین صرف محکمہ تعلیم میں ہیں۔

ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم میں بدانتظامی اور مبینہ کرپشن افسوس ناک ہے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا بجٹ ملتا ہے لیکن وہ سندھ میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو بروقت کتابیں مہیا نہیں کرسکتا ۔ ہر دفعہ جب نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے تو پورے سندھ میں درسی کتب نہ ملنے پر چیخ و پکار شروع ہوجاتی ہے۔ کتابوں کی اشاعت کے ٹھیکے دینے پر اب تک سندھ میں کئی کئی اسکینڈلز منظر عام پر آچکے ہیں لیکن اب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ صرف سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں ہی نہیں بلکہ پورے محکمہ تعلیم میں بدانتظامی اور کرپشن کے سوا کوئی اچھی بات سننے کو نہیں ملتی۔ صرف موجودہ حکومت میں ہی یہ صورت حال نہیں ہے بلکہ سابقہ حکومتوں میں بھی محکمہ تعلیم کے حالات کو ٹھیک کرنے کے بجائے مزید بگاڑا گیا ہے اور یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ سندھ میں تعلیم کا شعبہ واحد نہیں ہے جو تباہ حالی کا شکار ہو۔ صوبے میں گڈ گورننس بھی ایک بہت بڑا مسئلہ رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سال بھی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت رہی لیکن گورننس پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان پانچ سالوں کے دوران بھی ہزاروں غیر فعال اسکولوں کو فعال نہیں کیا جا سکا۔ گھوسٹ اساتذہ کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکی۔ اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ معیار تعلیم کے مسلسل انحطاط کو نہیں روکا جا سکا۔ عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے سندھ میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے امداد اور قرضے کی مد میں جو رقم فراہم کی تھی، وہ ضایع کر دی گئی اور جتنے بھی نئے منصوبے شروع کیے گئے وہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔ اس پورے عرصے میں سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال نہ کیا جا سکا۔

مذکورہ بالا صورت حال کے پیش نظر آپ خود فیصلہ کریں کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں؟ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں یا کہ تنزلی کی جانب رواں دواں ہیں؟ الغرض یہ کہ دہشت گردی جیسے مسائل کے حل میں تعلیم اسی وقت اپنا موثر کردار ادا کر سکتی ہے جب آپ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقعوں کا بھی بندوبست کریں۔ نوجوانوں کو قومی مفاد میں استعمال کرنے کی حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔ اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر تعلیم دہشت گردی، اخلاقی انحطاط اور غربت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

Primary Education in Pakistan

Enhanced by Zemanta

حکومت بے یقینی کا شکار ہے


Pakistan Polictics
Enhanced by Zemanta