Showing posts with label Saleem Safi. Show all posts

اگر جمہوریت ختم ہوئی تو.......


بنوں اور کرک کے تپتے صحرائوں میں تڑپتی انسانیت سراپہ سوال ہے ۔ کہاں گئے مولانا سمیع الحق؟ انہوں نے تو اپنے آپ کو بیمار مشہور کرلیا لیکن کیا مولانا یوسف شاہ بھی بیمار ہیں۔ وہ جو روزانہ ٹی وی ٹاک شوز میں جلوہ گر ہوتے اور صبح، دوپہر، شام پریس کانفرنس کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ وہ قوم کو بتائیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کس نے اور کیوں ناکام کرایا؟ اس آپریشن کی تیاری فوج نےچھ ماہ قبل نہ صرف کرلی تھی بلکہ وزیرِ اعظم کو بریف بھی کیا تھا کہ وہ چھ گھنٹے کے نوٹس پر شروع کردیں گے۔ تب سردی کا موسم تھا۔

 عسکریت پسندوں کے لئے برف کی وجہ سے پہاڑوں میں چھپنا اور افغانستان منتقل ہونا مشکل تھا۔ آئی ڈی پیز کو بھی شدید گرمی کی اذیت برداشت نہ کرنا پڑتی۔ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو تب فوج کو کیوں روکا گیا؟ شدید ترین گرمی میں معصوم اور بیمار بچوں کو گود میں لئے شمالی وزیرستان کی تڑپتی لاکھوں مائیں اور بلکتے بچے، وزیر اعظم کے قادر الکلام مشیر خاص کالم نگار کو ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔ وہ ان کی زبانی جاننا چاہتی ہیں کہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے اور ان کو دربدر کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ مذاکراتی کمیٹی میں عمران خان کی نمائندگی کرنے والے رستم شاہ مہمند نے مجھے بتایا کہ وہ لمحہ بہ لمحہ عمران خان صاحب کو آگاہ کرتے رہے اور اللہ گواہ ہے کہ عمران خان مذاکراتی عمل سے متعلق قوم کو حقیقت نہیں بتا رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے مظلوم قبائلی عمران خان کی زبانی وہ حقیقت سننا چاہتے ہیں۔

وہ جاننا چاہتے ہیں کہ صحیح وقت پر آپریشن کے مخالف اور مذاکرات کے حامی، غلط وقت اور رمضان کی آمد پر آپریشن کے حامی کیوں بن گئے؟ وہ جن کی سیاست ڈرون حملوں کے گرد گھومتی تھی، آج ان کے دوبارہ آغاز پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا محض اس لئے کہ تحریک انصاف کی ترجمان کو اوپر سے ہدایت نہیں ملی اور انہوں نے عمران خان کو ہدایت کی ہے کہ ڈرون حملوں کے دوبارہ آغاز پر خاموش رہیں۔ آپریشن کے یہ متاثرین پوچھ رہے ہیں کہ پختونوں کے حقوق کے علم بردار اسفندیارولی خان صاحب کہاں ہیں؟ کیا پختونوں پر اس سے بھی زیادہ مشکل وقت آسکتا ہے۔ وہ تو خیر یہ عذر پیش کرسکتے ہیں کہ وہ اقتدار سے باہر اور بیمار ہیں لیکن ان متاثرین کی آنکھیں پختونوں کے ایک اور لیڈر محمود خان اچکزئی کو بھی ڈھونڈرہی ہیں جن کی اس وقت پانچوں گھی میں ہیں، جن کے خاندان کا کم و بیش ہر مرد اقتدار میں ہے اور جو ان دنوں وزیرِ اعظم کے خصوصی ایلچی کی حیثیت میں افغانستان کو پاکستان کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے کے لئے کابل کے دورے کررہے ہیں۔

اگر اسلام آباد کے محلات میں پنجابی وزیرِ اعظم کے ساتھ بیٹھ کر انہیں وزیرستان کے متاثرین یاد نہیں آئے تو کابل کے یخ بستہ محل میں پختون حامد کرزئی کے ساتھ بیٹھ کر بھی انہیں قبائلی عوام کے دکھوں نے نہیں ستایا۔ شاید حکمرانوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی سیاستدان کو عزت سے نہیں رہنے دیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن کو پورے ایک سال تک تڑپا دیا۔ پہلے وزارتیں نہیں دے رہے تھے اور پھر جب وزارتیں دے دیں تو ان کو ان کی مرضی کے محکمے نہیں دیئے تھے۔ نتیجتاً وہ حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے اسلام اور قبائلیوں کے روایتی ہتھیار استعمال کرنے لگے۔ شمالی وزیرستان کے متاثرین کو غلط فہمی تھی کہ اگر ان کے علاقے میں آپریشن کا آغاز ہوا تو مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے مداح سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر راہ میں کھڑے ہوں گے لیکن وزیر اعظم بھی کمال کے ہوشیار نکلے ۔ ادھر سے آپریشن کی اجازت دے دی اور ادھر سے مولانا فضل الرحمٰن کے اکرم درانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ان کی مولانا کی مرضی کی وزارتیں دے دیں۔ مولانا کے ماضی کے بیانات اور ان کے ساتھ حکومت کی بدسلوکی کے تناظر میں قوم توقع کر رہی تھی کہ جب بھی آپریشن کا آغاز ہوگا تو وہ احتجاجاً کشمیر کمیٹی کی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ بھی چھوڑ دیں گے لیکن معاملہ الٹ نکلا۔ ادھر آپریشن کا آغاز ہوا اور ادھر وہ پورے کے پورے حکومت میں شامل ہوگئے۔ رہے سراج الحق صاحب تو شاید وہ صرف جماعت اسلامی کے امیر رہتے تو اس وقت ضرور میدان میں نکلتے لیکن افسوس کہ وہ ساتھ ساتھ پرویز خٹک صاحب کی ٹیم کے رکن بھی ہیں اور ان کی ٹیم کے رکن سے کسی قائدانہ کام کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یہ متاثرین آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے جو ہر وقت آپریشن آپریشن کی دہائیاں بلند کرتے تھے کی آمد کے بھی منتظر ہیں۔

پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارا کام صرف آپریشن کیلئے ورغلانا تھا۔ جس قوم کے ہاں سیاستدانوں کی بہتات اور لیڈروں کا فقدان ہو، اس کا یہی حشر ہوتا ہے جو اس وقت اس قوم کا ہو رہا ہے۔ فوج نے آپریشن کی تیاری چھ ماہ قبل کرلی تھی اور حکومت تین ماہ قبل اس نتیجے تک پہنچی تھی کہ آپریشن ہوگا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور وقت آنے پر ثابت کردوں گا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور عمران خان کو بھی بہت پہلے سے علم تھا کہ آپریشن ہو کر رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ پھر آئی ڈی پیز کے لئے مرکزی یا صوبائی حکومت نے تیاری کیوں نہیں کی؟
حالت یہ ہے کہ میرے گزشتہ کالم کو پڑھ کر صبح بحریہ ٹائون کے چیئرمین ملک ریاض صاحب نے رابطہ کیا کہ وہ پانچ کروڑ روپے آئی ڈی پیز کے لئے دینا چاہتے ہیں لیکن حیران ہیں کہ کیسے یہ رقم خرچ کریں۔ یہ اعلان ٹی وی پر بھی انہوں نے کیا لیکن دو دن گزرنے کے باوجود کسی مرکزی یا صوبائی حکومت کے کسی ادارے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ گزشتہ کالم پڑھنے کے بعد بیرون ملک اور اندرون ملک سے لوگ مجھ سے رابطہ کر کے امدادی فنڈ کے اکاونٹ کے بارے میں معلوم کرتے رہے لیکن پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس دن تک نہ صوبائی حکومت نے فنڈ قائم کر کے اکاونٹ نمبر مشتہر کیا تھا اور نہ صوبائی حکومت نے۔ صرف الخدمت تنظیم نے فنڈ قائم کیا تھا اور وہ متاثرین کی مدد کے لئے فعال بھی تھی۔ ان متاثرین کو پاکستان کے مخیر حضرات بھی سنبھال سکتے تھے لیکن بدقسمتی سے اب کے بار میڈیا اس طرح کی فضا بھی نہ بنا سکا جس طرح کہ سوات آپریشن کے ضمن میں پیدا کی گئی تھی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ میڈیا کی قیادت کرنے والے جیو نیوز کو پہلے سے خاموش کر دیا گیا تھا۔ دوسری طرف میڈیا علامہ طاہر القادری کے ڈرامے، عمران خان کے جلسے اور چوہدری برادران کے تماشے کو کور کرنے میں مصروف رہا۔ مجھے یقین ہے کہ میری ان دہائیوں کے بعد بھی ہماری مذہبی اور سیاسی قیادت کا ضمیر نہیں جاگے گا لیکن میرا سوال یہ ہے کہ جب آپریشن کا فیصلہ بھی فوج نے کرنا ہے، جب اسے کنڈکٹ بھی فوج نے کرنا ہے، جب آئی ڈی پیز کا انتظام بھی اس نے فوجی طریقے سے کرنا ہے، جب شہروں کی سیکورٹی بھی اس کی ذمہ داری قرار پائی ہے اور جب اسلام آباد میں ان کو آرٹیکل 245 کے تحت اختیارات بھی دئے جارہے ہیں تو پھر یہ جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

کل اگر طاہر القادری یا عمران خان کی التجائوں اور دہائیوں پر لبیک کہہ کر کوئی اس جمہوریت کو رخصت کرنے آ گیا تو کسی شہری کو کیا پڑی ہے جو اس کو بچانے کے لئے سیاسی قیادت کی پکار پر لبیک کہے گا۔ کوئی آمر حکمران رہے یا پھر نوازشریف، عمران خان یا آصف زرداری، قوم کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ پھر وہ کیوں کر جمہوریت کے لئے جیل جائے یا پھر کوڑے کھائے گا۔ پھر یہی قوم کہے گی کہ بھاڑ میں جائے اس میڈیا کی آزادی کہ جس کے پاس علامہ طاہر القادری کے ڈراموں کی کوریج کے لئے تو بہت وقت ہے لیکن پاکستان کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھنے والے ایشو یا پھر سات لاکھ انسانوں کے مسئلے کی کوریج کے لئے اس کے پاس وقت نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

Waziristan operation - سات لاکھ خودکش by Saleem Safi



یوں تو وہ بھی ہماری طرح پاکستانی ہیں لیکن قصور ان کا صرف یہ تھا کہ وہ رائے ونڈ کے بجائے شمالی وزیرستان میں پیدا ہوئے اور پھر اسلحہ اٹھانے کے بجائے کتاب سے اپنی اور خاندان کی زندگی بدلنے کی کوشش کی۔ رسول داوڑ نے بڑی مشقت سے ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد مختلف اخباروں میں کام کیا اور اب پشاور میں ایک قومی چینل کے ساتھ فعال رپورٹر کے طور پر وابستہ ہیں۔ وہ اور انکے بچے پشاور میں مقیم ہیں لیکن اس تنخواہ میں وہ پورے خاندان کو یہاں منتقل نہیں کر سکتے۔ اپنی مٹی اور علاقے سے لگائو کی وجہ سے یوں بھی انکے والدین اور بھائی وزیرستان چھوڑنے پر آمادہ نہیں تاہم جب بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کا غلغلہ بلند ہوتا ، وہ اپنے خاندان کو پشاور منتقل کردیتا ہے۔ پہلے سرجیکل اسٹرائکس ہوئے تو دوسرے قبائلیوں کی طرح ان کو بھی شک ہوا کہ اب آپریشن شروع ہو رہا ہے چنانچہ راتوں رات انہوں نے اپنے خاندان کو وہاں سے نکال کر پشاور منتقل کیا لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ حکومت مذاکرات کرنے جا رہی ہے چنانچہ پشاور میں کرائے پر لیا گیا گھر واپس کرکے انکے اہل خانہ واپس وزیرستان چلے گئے۔ کچھ عرصہ قبل دوبارہ سرجیکل اسٹرائیکس کے بعد ایک بار پھر آپریشن کا امکان پیدا ہوا تو دوبارہ انہوں نے اس عمل کو دہرایا۔

گزشتہ ہفتے اچانک حکومت کی طرف سے آپریشن کا اعلان کیا گیا اور اسی روز وزیرستان کے بعض علاقوں میں بمباری بھی کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے ذرائع نے انہیں بتایا کہ اس بمباری میں ایک 150 مبینہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ بمباری جہاں ہوئی، وہ ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا۔ چنانچہ اسٹوری فائل کرنے کے بعد وہ اپنی والدہ، بھابھیوں اور دیگر اہل خانہ کو لینے کیلئے راتوں رات وزیرستان روانہ ہو گئے اور ان کی بیوی اور چھوٹے بچے پشاور میں انتظار کرتے رہ گئے ۔ انکے اہل خانہ مویشیوں اور گھر کی دیگر اشیاء کو چھوڑ کر علاقے سے نکلنے کیلئے رخت سفر باندھ گئے لیکن علاقے میں کوئی سواری میسر نہیں تھی۔ دوسری طرف اسی رات انکے بھائی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور انکی بھابھی کو اسی حالت میں اسی رات گھر سے نکلنا پڑا۔

رسول داوڑ انہیں لینے کیلئے بنوں پہنچ گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ آگے نہیں جا سکتے کیونکہ آگے کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے گورنر سیکرٹریٹ، پولیٹکل انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز میں اپنے جاننے والوں سے بہت رابطے کئے کہ کوئی حل نکلے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ چنانچہ تین دن تک انکے اہل خانہ سامان باندھے، موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا نو زائیدہ بچے کو تڑپتا دیکھ کر خود بھی تڑپتے اور گرمی سے تباہ حال ہوتے رہے جبکہ رسول داوڑ بنوں میں بیٹھے کرفیو کے اٹھنے کا انتظار کرتے رہے۔ آپریشن کے اعلان اور آغاز کے تین دن بعد کرفیو اٹھا دیا گیا تو ان کے اہل خانہ بنوں کی طرف روانہ ہوئے لیکن اب مسئلہ ٹرانسپورٹ کا تھا۔ دوسری طرف ایک ہی دن میں لاکھوں لوگوں نے نکل کر بنوں پہنچنا تھا۔ ادھر سے ٹریفک پولیس نہ ہونے کی وجہ سے سڑک جگہ جگہ بلاک ہوگئی تھی۔

بہر حال انکے اہل خانہ جان لیوا گرمی میں چودہ گھنٹے میں میران شاہ سے بنوں پہنچے۔ بنوں پہنچتے ہی وہ پہلی فرصت میں اپنے نوزائیدہ بھتیجے کو اسپتال لے گئے لیکن وہاں پہلے سے مریض سیکڑوں کی تعداد میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے جبکہ ڈاکٹر نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ بیمار بھتیجے کو لے کر پشاور جانے کا پروگرام بنا رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ ان کا بھانجا بنوں میں پانی کی بوتل کی طرف لپکتے ہوئے سڑک پار کر رہا تھا کہ انہیں گاڑی نے ٹکر ماری۔ رسول داوڑ رشتہ داروں اور دوستوں کی مدد سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا نو زائیدہ بھتیجے اور زخمی بھانجے اور دیگر اہل خانہ سمیت پشاور منتقل ہو گئے۔ اب پشاور کے اسپتال میں ان کا بھانجا کومہ میں ہے جبکہ بھتیجا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا۔ وہ حیران ہیں کہ مہاجر بننے والے اہل خانہ کیلئے پشاور میں کرائے کے گھر کا بندوبست کریں یا کہ اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا معصوموں کی تیمارداری کریں۔ آج ان سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست مل کر چندہ جمع کر رہے ہیں تاکہ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کیلئے قبرستان کی زمین خرید لیں ۔ انکا کہنا تھا کہ اب ہم لوگوں کو جینے کی امید نہیں لیکن روزانہ جو آئی ڈی پیز مر رہے ہیں، انکو دفن کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس لئے ہماری ترجیح اب قبرستان کیلئے زمین کی خریداری ہے۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ اس وزیرستانی کے ساتھ ہو رہا ہے جو نامور صحافی ہے جنکے سیاستدانوں کیساتھ بھی تعلقات ہیں، فوجیوں کیساتھ بھی اور حکومتی اہلکاروں کیساتھ بھی۔ اب اندازہ لگا لیجئے کہ شمالی وزیرستان سے مہاجر بننے والے عام قبائلی کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا؟

یہ ایک دو نہیں بلکہ سات لاکھ لوگوں کا حال ہو رہا ہے۔ وہ حکومت جو اسلام آباد میں تعیش کیلئے میٹرو بس کے ایک کلومیٹر پر سوا ارب روپے خرچ کررہی ہے، اس نے آپریشن کے بعد ان سات لاکھ لوگوں کیلئے محض پچاس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔ اب کیا ان لوگوں کو دانستہ پاکستان سے متنفر نہیں کیا جارہا ہے؟ میں رسول داوڑ اور ان جیسے دیگر لاکھوں قبائلیوں کے اس سوال کا کیا جواب دوں کہ ہمارا قصور کیا یہ ہے کہ ہم لاہور کے بجائے وزیرستان میں پیدا ہوئے ہیں؟ وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تم میڈیا والوں کے پاس تو طاہر القادری کی کوریج کیلئے بہت وقت ہے لیکن ہم سات لاکھ انسانوں کی کوریج کرنے سے تم لوگ قاصر ہو۔ وزیرستان آپریشن میں اب تک درجنوں فوجی اور سیکڑوں قبائلی زندگی قربان ہوچکے ہیں۔ وہ ہم میڈیا والوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ انسان اور پاکستانی نہیں ہیں۔ میڈیا کے وہ بہن بھائی جنہوں نے پوری قوم کو چند ڈرامہ بازوں کے ڈراموں کا یرغمال بنارکھا ہے، سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ رسول داوڑ کی جگہ ہوتے تو کیا پھر بھی انکے کیمروں کا رخ بنوں اور وزیرستان کے بجائے علامہ صاحب کے ہنگامے کی طرف ہوتا۔

منتخب وزیراعظم کے احترام کو میں اپنے اوپر واجب سمجھتا ہوں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر رسول داوڑ جیسی صورت حال سے آج ان کے بچے یا بھتیجے گزرتے یا پھر ان کی بھابھی کی کیفیت سے ہماری بہن مریم نواز گزرتی تو کیا پھر بھی ہمارے وزیراعظم کا یہی رویہ ہوتا؟ اگر ان بے گھر ہونیوالوں میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے حسن محی الدین اور انکے بچے بھی شامل ہوتے تو کیا علامہ صاحب پھر بھی اس ہنگامہ آرائی سے باز نہ آتے؟ اگر عمران خان صاحب کے بیٹے بھی لندن کے بجائے میران شاہ میں مقیم ہوتے تو کیا وہ پھر بھی بنوں کیمپ کے دورے کے موقع پر طاہر القادری کے ڈرامے اور اپنے چار حلقوں کا ذکر ضروری سمجھتے؟ اللہ کے بندو! اس ملک اور اس قوم پر رحم کرو۔ ہماری خاطر نہیں اپنی اولاد کی خاطر۔ یہ سات لاکھ آئی ڈی پیز نہیں ہیں۔ آپ لوگوں کا رویہ یہ رہا تو یہ سات لاکھ خودکش بمبار بن جائیں گے۔ آج آپ لوگ سیاست اور اقتدار کے نشے میں مبتلا ہو لیکن یاد رکھو! آپ پر بھی کبھی یوسف رضا گیلانی والا وقت آ سکتا ہے اور خاکم بدہن آپ میں سے بھی کسی کا بیٹا حیدر گیلانی یا شہباز تاثیر بن سکتا ہے۔

ہماری خاطر نہیں اپنے بچوں کی خاطر ان سات لاکھ وزیرستانیوں کی طرف توجہ دو تاکہ وہ خودکش بمبار، طالب یا پھر اغوا کار بن کر مستقبل میں آپ کے بچوں کے ساتھ وہ کچھ نہ کریں جو انہوں نے ایک سابق گورنر اور سابق وزیر اعظم کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے اور ہاں میرے میڈیا کے ساتھیو ! جب افغانستان میں یہ ظلم ہو رہے تھے تو ہم پشاور میں بیٹھ کر بڑے مزے سے تم لوگوں کی طرح طاہر القادری جیسوں کے ہنگاموں اور تیزیوں کو انجوائے کرتے تھے، تب ہمارے اوپر بھی دولت اور شہرت کمانے یا طاقتور لوگوں سے تعلقات بنانے کا خبط سوار تھا۔ آج جب ہم اس صورت حال سے دو چار ہوئے تو ہمیں پتہ چل گیا کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور جنگ کی تباہ کاریاں کیا ہوتی ہیں۔ آپ کسی کے مہرے بن کر کرتے رہو جو کچھ کرنا ہے لیکن یاد رکھو یہ آگ پشاور اور وزیرستان تک محدود نہیں رہے گی۔ تم لوگ انہی ڈرامہ بازیوں میں مصروف رہے تو وہ وقت دور نہیں جب آپ کے اسلام آباد اور لاہور کی ان جنتوں تک بھی وہ آگ پہنچ جائے گی پھر ہماری طرح افسوس کرتے رہو گے لیکن وقت گزر گیا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

Waziristan operation - سات لاکھ خودکش by Saleem Safi

Future of MQM by Saleem Safi



Future of MQM by Saleem Safi
Enhanced by Zemanta

میڈیا کی بے توقیری......



Degrading media by Saleem Safi
Enhanced by Zemanta

The Inside Story of the Peace Talks with Taliban



The Inside Story of the Peace Talks with Taliban

سیاست اور میڈیا


برق صرف بے چارے پاکستانیوں پر ہی کیوں گرتی ہے؟اس سوال کا جواب بہت ڈھونڈا۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران چین سے جنوبی کوریا تک ‘ امریکہ سے برطانیہ تک اور سعودی عرب سے ملائیشیا و انڈونیشیا تک‘ دنیا کے کونے کونے میں گھومنے کا موقع ملا۔ ہر جگہ دوسری اقوام سے اپنی قوم کا موازنہ کرتارہا۔ ہمارے ملک میں بے حیائی ہے لیکن دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ پاکستان میں کرپشن ہے لیکن دنیا کا کوئی ملک بھی کرپشن سے یکسرپاک نہیں۔ نمازیں پاکستان میں زیادہ پڑھی جاتی ہیں،عمرے اور حج پر جانے والوں میں پاکستانی سرفہرست ہیں، مدرسے یہاں پر زیادہ ہیں،دینی جماعتوں کی یہاں بہتات ہے،تبلیغی جماعت دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں یہاں سب سے زیادہ مضبوط ہے، اللہ اور رسول کے نام پر لڑنے اور مرنے والے دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں پاکستان کے اندر زیادہ ہیں پھر امریکہ اور جاپان یا ترکی اور یو اے ای کے بجائے پاکستان ہی کیوں دہشتستان بنا ہوا ہے۔ باقی دنیا کیوں جنت کا منظر پیش کررہی ہے اور پاکستان میں جینا کیوں عذاب بن گیا ہے؟

مجھے ایک ہی وجہ نظر آئی۔ منافقت اور دوغلے پن میں ہم نمبرون ہیں، کسی قوم میں اتنی منافقت دیکھنے کو نہیں ملتی جتنی کہ پاکستان میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ یہ وہ ملک ہے جہاں منافقت اور دوغلے پن کی وجہ سے بہادر اور بزدل ‘ شریف اور کمینے‘ حرام خور اور حلال خور ‘ سچے اور جھوٹے ‘ رہبر اور رہزن حتیٰ کہ محب وطن اور غدار کا فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہاں فرشتوں کے روپ میں شیطان پھرتے ہیں اور بعض شیطان مشہور ہونے والوں کو قریب سے دیکھو تو فرشتہ دکھائی دے گا۔ یہاں جھوٹا‘ سچ کی تبلیغ کرتا ہوا نظر آتا ہے اور سچے کے سچ پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ گیدڑوں نے شیر کا روپ دھار لیا ہے اور شیروں سے گیدڑوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ رحمت سید لولاکﷺ پر کامل ایمان کے باوجود پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو یہاں پر بسنے والی امت سید لولاکﷺ سے خوف آتا ہے ۔ منافقت کی یہ لعنت معاشرے کی رگ رگ میں سرائیت کرچکی ہے حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ آخرت میں منافق کا ٹھکانہ کافروں سے بھی بدتر ہوگا ۔ رب کائنات نے شاید دنیا میں بھی منافقت کی سزا کفر سے بدتر مقرر کی ہے ‘ اس لئے آج عالم کفر سکون میں اور ہم پاکستانی ایک دردناک اور کربناک عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اسی منافقت کا نتیجہ ہے کہ ہمارا ملک سیاستدانوں سے بھر گیا لیکن لیڈر یا رہنما کوئی نظر نہیں آتا۔ سیاستدان قوم کے جذبات سے کھیلتا تو لیڈر ان کے جذبات کو قابو میں لاتا اور اسے عقل و شعور کے تابع بناتا ہے۔

سیاستدان قوم کا رخ دیکھ کر اس کے پیچھے چلتا ہے جبکہ لیڈر قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ سیاستدان وہی موقف اپناتا ہے جو قوم کو اچھا لگے لیکن لیڈر قوم کو حاضر و موجود سے بے زار اور تلخ حقائق سے روشناس کراتا ہے۔ آج ہر طرف نظر دوڑائیں تو ہماری مجموعی قومی قیادت (مذہبی اور سیاسی) ان بیماریوں کی شکار نظر آتی ہے لیکن افسوس کہ اب میڈیاکا بھی ایک حصہ سیاستدانوں کے نقش قدم پر چلنے لگا ہے۔ مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کی طرح پاکستانی میڈیا بھی بظاہر بہت متحرک نظر آتا ہے لیکن ان کی طرح اس میں بھی منافقت کی بیماری بدرجہ اتم داخل ہوگئی ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ نہیں بلکہ سیاستدان میڈیا ہے ۔ پاپولرزم اس کا دین اور سطحیت اس کا وتیرہ بن گیا ہے۔ مستثنیات سے کوئی شعبہ مستثنیٰ نہیں اور جس طرح سیاستدانوں یا مذہبی رہنمائوں میں بعض کی ریٹنگ اللہ اور قوم کے دربار میں اچھی ہے ‘ اسی طرح میڈیا میں بھی بعض لوگ مذکورہ بیماریوں سے پاک ہوں گے تاہم ان میں سے بعض ویورشپ اور ریڈرشپ کے غلام ہیں جو ٹاک شو کرتے یا خبر دیتے وقت قوم کی آگاہی یا ایجوکیشن نہیں بلکہ ریٹنگ ہی کو مد نظررکھتے ہیں اور کالم لکھتے وقت بھی یہ بعض کالم نگاروں کے پیش نظر یہی رہتا ہے کہ کس طرح اس پر اکثریت کی طرف سے واہ واہ کے نعرے بلند ہوں۔

سیاستدانوں کی طرح بعض میڈیا والے بھی بزدل ہو کر بہادر دکھنا چاہتے ہیں،ان کی طرح بعض لکھنے والے بھی وہی موقف اپناتے ہیں جس پر دیکھنے اور پڑھنے والوں کی اکثریت خوش ہو۔ بعض سیاستدانوں کی طرح یہ بھی اندر سے کھوکھلے ہیں لیکن باہر سے پارسائی کی چادر اوڑھ رکھی ہوتی ہے۔ ان کی طرح بعض نے یہ وتیرہ بھی اپنا رکھا ہے کہ ٹی وی پر آکر جس کو للکارتے ہیں‘ شام کو ان کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے میڈیا کا ایک حصہ خبر کے نام پر قوم کو بے خبر بنا رہا ہے۔

دعویٰ یہ ہے کہ وہ قوم کی تربیت کررہا ہے لیکن اندر سے قوم کو کنفیوزڈ کررہا ہے۔ طالبان کے مسئلے کو لے لیجئے۔ پچھلے دس سالوں میں میڈیا کے ایک حصے نے جتنی زیادہ خبریں اس موضوع سے متعلق دی ہیں‘ کسی اور موضوع سے متعلق نہیں دیں۔ جتنے تبصرے اس موضوع پر ہوئے ‘ کسی اور موضوع پر نہیں ہوئے ۔ جتنے کالم اس سے متعلق لکھے گئے‘ کسی اور موضوع سے متعلق نہیں لکھے گئے ۔ جتنے ٹاک شوز کا اہتمام اس موضوع سے متعلق کیا گیا ‘ اس کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن ان سب کچھ کے باوجود آج بھی قوم طالبان کی حقیقت سے بے خبر ہے۔ سول سوسائٹی کے پڑھے لکھے لوگوں سے لے کر پارلیمنٹیرین تک ‘ اس موضوع کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جس بھی محفل میں بیٹھیں پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ طالبان کون ہیں؟ جتنے منہ اتنی باتیں والا معاملہ ہے۔ کسی کے نزدیک وہ اسلام کے سپاہی تو کسی کے نزدیک دہشت گرد ہیں۔ کوئی انہیں پاکستانی ایجنسیوں کا تو کوئی غیرملکی ایجنسیوں کے ایجنٹ سمجھتا ہے ۔ کوئی انہیں پختونوں سے جوڑ رہا ہے تو کسی کے نزدیک یہ پختونوں کے خلاف سازش ہے۔ کسی کے نزدیک وہ مدرسوں کی تو کسی کے نزدیک یہ معاشی جنگ کی پیداوار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا نمبرون مسئلہ بن جانے کے باوجود آج پوری ریاست اس مسئلے سے متعلق کنفیوزڈ ہے اور اسی کنفوژن کی وجہ سے آج ریاستی ادارے بے بس نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف سب فریق میڈیا پر برہم ہونے لگے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو شکوہ ہے کہ میڈیا طالبانائزیشن پھیلارہا ہے اور طالبان میڈیا کو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ سمجھتے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ یہ الزام دے رہا ہے کہ میڈیا امریکہ اور ہندوستان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور دوسری طرف امریکہ پاکستانی میڈیا کو اپنے خلاف فضا کا ذمہ دار سمجھتا ہے ۔ سیاستدان سب سے زیادہ میڈیا پر برہم ہیں اور مذہبی طبقات اس کی زبان بندی کے خواہشمند ۔ میڈیا سب کو خوش کرنا چاہتا تھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج اپنے بھی خفا ہم سے ہیں بیگانے بھی ناخوش والا معاملہ ہے۔ ہم میڈیا والوں کی گناہوں کی فہرست بہت طویل ہے اور ان کی تلافی کرتے کرتے عمر گزر جائے گی لیکن کیوں نہ تلافی کا آغاز کرتے ہوئے ہم آج ہم یہ عہد کرلیں کہ کم ازکم طالبان اور عسکریت پسندی کے مسئلے پر ہم اپنی صحافت نہیں چمکائیں گے ۔ کم ازکم اس مسئلے پر جذبات سے نہیں کھلیں گے۔ سچ نہیں بول سکتے تو کم ازکم جھوٹ نہیں بولیں گے ۔ عافیہ صدیقی اور لال مسجد کی ہم اگر حقیقت سامنے نہیں لاسکتے تو ان جیسے ایشوز پر غلط بیانی نہیں کریں گے۔ ہم اگر اپنی اور قوم کی کنفیوژن ختم نہیں کرسکتے تو کم ازکم اس مسئلے پر بول بول اور لکھ لکھ کر اس میں مزید اضافہ نہیں کریں گے۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Taliban and Pakistani Politicians by Saleem Safi




Peace Talks with Taliban by Saleem Safi


 Peace Talks with Taliban by Saleem Safi

Enhanced by Zemanta

Pakistan is suffering from political confusion By Saleem Safi


 Pakistan is suffering from political confusion By Saleem Safi

Enhanced by Zemanta