Showing posts with label Iran. Show all posts

مغربی طاقتیں، عراق اور ہم........


امریکا کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے بہت عمدہ بات کہی تھی کہ "اخبارات میں حقائق اگر کہیں ملتے ہیں تو صرف اشتہارات میں۔" یہ قابل حیرت ہے کہ ایک ایسے شخص نے جو ہمارے زمانے سے تقریبا دو صدی قبل اس دنیا میں رہا ہو، صحافت اور ’’پیڈ نیوز‘‘ کی حقیقت کو اتنی گہرائی سے سمجھ لیا تھا۔ آج ہمارے سامنے خبروں اور معلومات کا ایک سیلاب ہے اور ہم اطلاعات کی ترسیل کے انتہائی اہم اور جدید دور میں جی رہے ہیں۔ کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور نت نئے قسم کے موبائل فون کی شکل میں ہمارے سامنے اطلاعات کا گویا دھماکا ہو چکا ہے۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر کسی کے بھی تعلق سے اعداد و شمار اور حقائق تک پہنچنا اب انگلیوں کا کھیل ہو گیا ہے۔ اسکے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اب بھی کئی حقیقتوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ نیویارک ٹائمز سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے نامور صحافی اور کالم نگار تھامس ایل فریڈ مین، جارج بش کے مشرقی وسطیٰ کی آزادی کے مشن کے بڑے حامی رہے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بس جنگ کے میدان میں اترے نہیں، اس کے علاوہ اس جنگ کی حمایت میں انہوں نے سب کچھ کیا اور عراق پر فوج کشی کیلئے امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی۔ عراق پر حملے کرنے کیلئے فریڈمین نے ہی اپنی تحریروں کے ذریعے امریکا اور اسکے اتحادیوں کو اکسایا حتیٰ کہ اس مقصد کیلئے مغربی ممالک کے صحافیوں کی قیادت کا بھی بیڑا اٹھایا۔ انہی کی سربراہی میں مغرب نواز صحافیوں نے اپنے مضامین کے ذریعے مغربی طاقتوں کو عراق کی تاراجی کی داستان لکھنے کی ترغیب دی۔
عام تباہی کے ہتھیار رکھنے سے لے کر نائن الیون کی سازش میں ملوث ہونے تک صدام حسین کو مغربی طاقتوں نے ہر ہر جرم کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کی۔ اسکے بعد عراقیوں کی آزادی کا بہانہ بنایا گیا اور وہاں لوگوں کو جمہوریت کے قیام کے خواب دکھائے گئے۔ یعنی کہ حالات یک بہ یک پیدا نہیں ہو گئے بلکہ انہیں پورے منصوبہ بند طریقے سے پیدا کیا گیا اور قابل ذکر ہے کہ ان حالات کے پیدا کرنے میں تھامس فریڈمین اور ان جیسے دیگر مغرب نواز صحافیوں کا ہی عمل دخل تھا۔ پھر اس کے جو نتائج برآمد ہوئے وہ آج کسی سے بھی پوشیدہ 
نہیں ہیں۔

عراق کبھی دنیا کے امیر ترین اور قدیم ترین ممالک میں سے ایک تھا لیکن آج
 اسے پوری طرح برباد کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں سیاسی اور معاشی سطح پر بھی اس ملک کو ایسا زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے جو فی الحال تو ناقابل تلافی نظر آتا ہے۔ انتہا پسندی سر ابھار رہی ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد عروج پر ہے۔ نیز اس ملک کے دگرگوں حالات پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔ عراق جنگ کو 11 سال ہو گئے ہیں۔ یہ امریکا کا نئی صدی کا ایک منصوبہ تھا جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس نے یہ سب کچھ کیا۔ بہرحال عراق جنگ کے نتائج نے امریکا کے تمام دعوئوں اور وعدوں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ سب کچھ جھوٹ نکلا، بالکل سفید جھوٹ۔

اس کے باوجود حد درجہ افسوس کا مقام ہے کہ امریکا کے سابق صدر جارج بش، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور تھامس فریڈ مین جیسے ان حامیوں نے کبھی پچھتاوے یا معافی کے طور پر ایک لفظ تک نہیں کہا۔ مزید افسوس کا مقام یہ ہے کہ عراق کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس پر پچھتانے یا معافی مانگنے کی بجائے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے دریدہ دہنی کا ثبوت دیتے ہوئے عراق کی طرز پر دیگر مسلم ممالک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی حمایت ظاہر کی ہے جبکہ تھامس فریڈمین نے نیویارک ٹائمز میں 10 جون کو شائع ہونے والے اپنے حالیہ مضمون بعنوان 'دی رئیل وار آف آئیڈیاز' میں جو باتیں کہی ہیں ان سے ایک اشارہ ملتا ہے کہ عراق کی موجودہ صورتحال پر انہیں کچھ افسوس ہوا ہے۔

تھامس فریڈمین کو عراق جنگ سے تباہ ہونے والے کھیت کھلیانوں اور زرخیز علاقوں پر افسوس ہے۔ انہیں افسوس ہے کہ اس جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے کردستان کے جنگلاتی خطے کو بڑی حد تک متاثر کیا نیز یہاں کی حیوانی اور نباتی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ مختصراً یہ کہ اپنے اس مضمون میں انہوں نے مذہبی شدت پسندوں اور کارکنان تحفظ ماحولیات کے درمیان جنگ کو نظریات کی اصل جنگ قرار دیا ہے اور عراق کی ماحولیاتی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فریڈمین کے مطابق 'عراق میں اگر شدت پسندوں کو جیت حاصل ہوتی ہے (حالات بتا رہے ہیں وہ جیتنے کے قریب ہیں) تو یہ خطہ انسانی اور ماحولیاتی تباہی کا خطہ بن جائے گا۔ اگر ماحولیات کے تحفظ کیلئے سرگرم گروپ فاتح رہتے ہیں تو اسکا سبب یہ ہو گا کہ کافی لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر انہوں نے ماحول اور اپنی زمینوں کی حفاظر کرنا نہیں سیکھا تو وہ یا تو خود ایک دوسرے کو تباہ کر دیں گے یا قدرت کا قہر انہیں برباد کر دے گا۔ عراق اور اس کے ماحول کے تئیں فریڈمین کی یہ تشویش کچھ کچھ دل کو چھونے والی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دریائے دجلہ اور فرات سے سیراب ہونے والی اس سر زمین کا خاتمہ یہی ہے؟ کیا ہزاروں سال پرانی عراقق تہذیب وثقافت کا انجام یہی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ عراق صرف ماحولیاتی سطح پر برباد نہیں ہوا ہے بلکہ تمام پہلوٗوں سے یہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔ ہلاکتوں کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو عراق کیلئے 2014ء سب سے زیادہ درد ناک ثابت ہوا۔ عراق دن بہ دن خون آلود ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں تھامس فریڈمین کا صرف ماحولیاتی تباہی پر اظہار افسوس کرنا اس منافقت کا غماز ہے جو ہمیشہ سے ہی مغرب اور مغرب کے حامیوں کا طرہ امتیاز رہی ہے۔ ان کا یہ خیال منافقت سے کچھ زیادہ اپنے اندر مجرمانہ پہلو بھی لئے ہوئے ہے۔ کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے کہ عراق کی اس صورتحال کیلئے جو طاقتیں ذمہ دار ہیں وہ اس طرز کے مزید منصوبوں کی وکالت کر رہی ہیں؟َ مشرق وسطیٰ کے موضوع پر اپریل میں ٹونی بلئیر نے اپنے ایک خطاب میں واضح طور پر اسلام کے خلاف جنگ چھیڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔
انہوں نے مسلم دنیا کے ہنگاموں کو ناقابل فہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ ہماری حمایت کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ٹونی بلئیر کا یہ خطاب اشتعال انگیز اور سخت تھا اور کہا جاسکتا ہے کہ کافی طویل وقت کے بعد کسی مغربی لیڈر نے اس طرح کی تقریر کی تھی۔ بہرحال اس خطاب کے ذریعے جنہیں نشانہ بنایا گیا تھا یعنی مسلم ممالک، انہوں نے اس پر توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔ ٹونی بلئیر نے اپنی منفی ذہنیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اکسویں صدی میں عالمی سلامتی کیلئے اسلامی شدت پسندی ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ خطرہ کم نہیں ہو رہا ہے بلکہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اس خطرے سے طبقات بلکہ قومیں تک متزلزل ہو رہی ہیں۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں یہ خطرہ باہمی امن و امان کے ساتھ رہنے کے امکان کو بھی کم کر رہا ہے اور ہم اس کا سامنہ کرنے کیلئے کمزور پڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔'

یہ ہے اس لیڈر کی تقریر جسے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کیلئے متعین کیا ہے۔ کوئی مسلم لیڈر اگر اس طرح عیسائیت اور صہیونیت کے خلاف بیان دے تو ہنگامہ مچ جائے۔ مختلف جنگوں کے ذریعہ انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان کس نے پہنچایا، مسلمانوں نے یا مغربی طاقتوں نے؟ کچھ صدیوں پہلے تک دنیا پر استعماری اور استبدادی نظام کے ذریعے حکمرانی کس نے کی، مسلمانوں نے یا مغربی طاقتوں نے؟ دنیا کے مختلف حصوں میں کن طاقتوں نے فوجی اڈے اور اسلحہ کے کارخانے بنا رکھے ہیں؟ افسوس کہ ہم مسلامان بھی خاموش ہیں۔ کیا ہم ٹونی بلئیر جیسے لیڈروں کو مذید جارحیت کا موقع نہیں دے رہے ہیں؟

اعجاز ذکاء سید
بشکریہ روزنامہ ’’انقلاب 

عراقی وزیر اعظم اور داعش کی کامیابیاں.........

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی فرقہ واریت پر مبنی داخلی پالیسی رواں ہفتے اس وقت بری طرح ناکام ہوئی جب مسلکی بنیادوں پر منظم کردہ عراقی فوج دولت عراق و شام 'داعش' کے جنگجووں کا سامنے ایک ہی آن میں ڈھیر ہو گئی۔

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل، صدام حسین کے آبائی علاقے تکریت اور تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک میں عراقی فوجی یونٹوں کے سقوط نے سنہ 2003ء میں بغداد کے صدر دروازے پر صدام حسین فوج کے سقوط کی یاد تازہ کر دی۔

سنہ 2003ء میں عراقی فوج روس کے زنگ آلود اسلحہ سے لیس تھی اور چند ہی سال قبل ہمسایہ ملک ایران اور کویت سے دو بڑی جنگیں لڑنے کی وجہ سے بے حال تھی۔ صدام حسین کی فوج کا مقابلہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے ساتھ تھا، اس لئے اس کی شکست پر بہت سوں کو زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔

نوری المالکی کی فوج صدام حسین کی فوج سے مختلف ہے۔ اس کے پاس امریکی ساختہ اپاچی ہیلی کاپٹرز، گن شپ، ایف سولہ لڑاکا جہاز، ابرم اور ہمویز ٹینکوں سمیت جدید امریکی اسلحہ کی بھرمار ہے۔ قابض امریکی حکام نے عراقی فوج کی تعمیر نو پر تقریباً سولہ ارب ڈالر جھونک دیئے۔ واشنگٹن کو یہ امید تھی کہ یہ فوج جدید عراق کا مضبوط سہارا بنے گی۔

خطیر رقم خرچ کر کے تیار کی جانے والی نوری المالکی کی فوج مسلح جہادیوں کا ذرا بھی مقابلہ نہیں کر سکی کیونکہ داعش کے جنگجووں نے بہت کم ہی عرصے میں ایک کے بعد دوسرے اہم عراقی شہروں پر قبضہ کر لیا۔

منگل کی صبح سرکاری فوجیوں نے شمالی عراق کا شہر موصل چھوڑ دیا۔ جاتے ہوئے وہ اپنی گاڑیاں، گولہ بارود حتی کہ وردیاں تک چھوڑ گئے۔ فوج کے متعدد سرکردہ کمانڈر مبینہ طور پر کردوں کے زیر کنڑول علاقوں کی جانب فرار ہوتے دیکھے گئے۔

ویڈیو فوٹیج میں داعش کے جنگجو عراقی فوج کی متروکہ گاڑیوں میں موصل کی سڑکوں پر گشت کرتے نظر آئے۔

نوری المالکی نے اپنی فوجی یونٹوں کی شکست کو 'سازش' کا نتیجہ قرار دیا حالانکہ عراقی فوج انہی کے ہم مسلک شیعہ اہلکاروں پر مشتمل تھی۔ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ نوری المالکی متاثرہ شہروں میں فوجی سقوط کے خود ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے فوج کو کسی نظم و ضبط اور ٹھوس فوجی نظریئے کی بنیاد پر استوار کرنے کے بجائے اس میں مسلکی بنیادوں پر بھرتی میں عافیت جانی۔

حواس باختہ نوری المالکی نے بدھ کے روز ملک میں ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "القاعدہ اور داعش کی افرادی قوت سرکاری فوج اور پولیس کے مقابلے میں انتہائی کم تھی، لیکن پھر کیا ہوا اور کیونکر ہوا؟ کیسے کچھ فوجی یونٹ آنا فانا ہتھیار ڈالتے گئے؟ مجھے اس کی وجہ معلوم ہے، تاہم آج ہم اس اقدام کرنے والوں کو ذمہ دار نہیں ٹھرائیں گے۔"

وزیر اعظم نوری المالکی نے دوسرا سانس لئے بغیر کہا کہ "فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز ان کے [داعش] کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، تاہم وہ ایک دھوکے اور سازش کا شکار ہوئے۔ ان شاء اللہ، ہم اپنی طاقت، عوامی عزم اور عراقی قوم کے ارادے کو بروئے کار لاتے ہوئے داعش کا خاتمہ کریں گے۔"

ناکام ریاست

بغداد میں مقیم سیاسی تجریہ کار عدنان حسین قدہم نے 'العربیہ' کو بتایا کہ فوجی ناکامی اس کمزور سیاسی عمل کا نتیجہ تھی جسے نوری المالکی نے سنہ 2006ء سے اختیار کر رکھا تھا۔

عدنان حسین کے بقول: "مسلکی بنیادوں پر اختیارات کی تقسیم نے معاشرے کے مختلف شعبوں کے درمیان رسہ کشی کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔" انہوں نے مزید کہا کہ مسلکی بنیادوں پرکھڑی کی گئی فوج میں کرپشن بہت زیادہ سرایت کر چکی تھی۔ فوجی کمانڈروں کا تعین صلاحیت کے بجائے ان کی مسلکی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا تھا۔ اس طرح تشکیل پانے والے ادارے سے آپ موثر کارکردگی کی توقع کیونکر رکھ سکتے ہیں۔"

شیعہ رہنما مقتدا الصدر کی سیاسی تحریک کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ کار حیدر موسوی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "زیادہ تر فوج اہل تشیع پر مشتمل تھی جس سے دنیا کو یہی تاثر ملتا تھا کہ ایک عرب ملک میں یہی مسلک اکثریت کا حامل ہے۔"

حیدر موسوی کے مطابق فوج میں زیادہ تر افراد مادی ضرورتوں کی تکمیل کی خاطر بھرتی جاتے تھے، یہ افراد امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بدحالی سے بری طرح متاثر تھے۔ معاشی آسودگی فراہم کرنے کے لئے انہیں فوج میں بھرتی کیا جاتا۔"

نوری المالکی نے اپنی نشری تقریر میں اعلان کیا تھا کہ جن علاقوں کو داعش کے جنگجووں نے اپنے کنڑول میں لے لیا ہے وہاں وہ باقاعدہ فوج کے مدد کے لئے 'رضاکاروں' کی فوج بھی تیار کریں گے۔

موسوی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح نوری المالکی شیعہ مسلکی مذہبی رضاکاروں پر مشتمل ایک متوازی فوج بنا لیں گے جو ان کی دانست میں القاعدہ نواز دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے جنگجووں کی بیخ کنی کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اگلے چند ہفتے یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو شیعہ مسلک دینی جماعتیں سنی مسلک داعش جنگجووں کے زیر قبضہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لئے اپنی ملیشیا بھیج سکتے ہیں۔

خانہ جنگی؟

اردن میں مقیم سیاسی تجزبہ کار احمد العبیاد نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی بھی قسم کی موبلائزیشن سے ملک کئی برسوں تک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں الجھ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں اگر مقامی عناصر ان کے ہمنوا بن گئے تو اس کے بعد مرکزی حکومت کو وہاں اپنی رٹ نافذ کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال عراق کی 'نرم تقسیم' کے اس امریکی خواب کی تکمیل ہے کہ جس کا تانا بانا امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے سنہ 2007 میں بنا تھا۔

یہ منصوبہ سنہ 1995ء میں بوسینیا کی تقسیم کے منصوبے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد عراق کو خود مختار کرد، سنی اور شیعہ علاقوں میں تقسیم کرنا ہے، جنہیں بغداد کی مرکزی حکومت یکجا رکھے۔

لیاری .....The story of Lyari