Showing posts with label Arab people. Show all posts

غزہ پر صہیونی ریاست کی وحشیانہ بمباری.......


جولائی بروز بدھ صہیونی ریاست نے غزہ کی شہری آبادی پر وحشیانہ فضائی اور بحری بمباری کر کے ایک دن میں 3 عورتوں اور بچوں کے بشمول 35 شہریوں کو ہلاک جبکہ تین دن سے جاری اس خونیں کھیل میں 61 فلسطینی لقمۂ اجل بن گئے اور 370سے زائد زخمی ہو گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ ان کی جانب سے اسرائیل کی سرزمین پر راکٹ باری ہوتی رہی ہے۔ صہیونی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائی کا مقصد اسرائیل پر راکٹ حملے روکنا ہے چنانچہ 7،8 جولائی اس نے 430 مقامات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ 9 جولائی کو مزاحمت کاروں کے 270 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ دو حملہ آور اسرائیلی طیاروں نے 9 جولائی کی صبح بیت حنون میں حماس کمانڈر حافظ احمد کے گھر پر بمباری کر کے ان سمیت پانچ اہل خانہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اسرائیلی بحریہ کے حملوں میں حماس کے چار عسکریت پسند مارے گئے۔ اس سے قبل 7 جولائی کو اسرائیل لڑاکا طیاروں نے حماس کے عسکری دھڑے عزالدین قسام کے 9 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا یہ کہنا غلط ہے کہ وہ صرف حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ جولائی کے پہلے ہفتے میں اسرائیلی حملے میں 16 فلسطینی بشمول عورتیں اور بچے ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 9 جولائی بدھ کے فضائی اور بحری حملوں میں پچاس گھر مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے اور ایک ہزار سات سو گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

حالیہ جھڑپوں کے دوران حماس عسکریت پسندوں نے اسرائیلی سر زمین پر اب تک ڈیڑھ سو راکٹ برسائے جس پر اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل چیخ پڑا کہ خبردار راکٹ باری نہیں ہونی چاہیے اور متحاربین تشدد سے گریز کریں۔ میں غزہ اسرائیل کی ہفتہ وار فضائی اور بحری بمباری سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا مندرجہ بالا سطور میں اجمالی ذکر کر چکا ہوں اور اس کے مقابلے میں فلسطینیوں کی راکٹ باری سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا تو ان دونوں کو مساوی جرائم کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟ نیز اسرائیل نے اپنی چالیس ہزار فاضل فوج (Reserve Force) طلب کر لی ہے جبکہ غزہ کی سرحد پر مزید ٹینک تعینات کر دیئے ہیں۔ کیا یہ وسیع تر جنگ کی تیاری نہیں ہے؟ ماضی میں اسرائیل 2008ء اور 2012ء میں غزوہ پر فوج کشی کر چکا ہے ۔ 2012ء میں اسرائیل غزہ پر بھرپور حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا تھا تو مصر اور ترکی کے دباؤ پر حماس اور اسرائیل میں ان شرائط پر جنگ بندی ہو گئی تھی کہ:

(1) صہیونی ریاست غزہ کی ناکہ بندی ختم کر دے جبکہ
(2) حماس اسرائیل کی سرزمین پر راکٹ حملے نہ کرے۔ حماس نے توراکٹ باری بند کر دی لیکن صہیونی ریاست نے غزہ کی ناکہ بندی ختم نہیں کی۔

اسرائیل سلامتی کونسل کی قرار داد اور جنیوا کنونشن چہارم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عربوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے امریکی مالی امداد کی رقم سے یہودی بستیاں تعمیر کرتا رہا ۔مذاکرات کی بحالی کو یہودی بستیوں کی تعمیر کے خاتمے سے مشروط کرنا پڑا۔ لیکن امریکہ نے نیتن یاہو کو یہودی بستیوں کی تعمیر سے روکنے کی بجائے محمود عباس پر دباؤ ڈال کر اس شرط پر مذاکرات میں حصہ لینے پر راضی کر لیا کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر کی رفتار سست کر دے گا اور محمود عباس راضی ہو گئے ۔ اب جبکہ الفتح اور حماس میں کئی سال کی محاذ آرائی کے بعد مفاہمت ہو گئی تو امریکہ اور صہیونی ریاست نے دونوں کی مخلوط حکومت کی اس بنا پر مخالفت کی کہ اس دہشت گرد تنظیم جس کے ساتھ الفتح کو حکومت نہیں بنانا چاہیے۔ صہیونی جارحیت کا الٹا اثر ہوا کہ محمود عباس نے اقوام متحدہ کے نمائندے برائے فلسطین رابرٹ سرے کے ہاتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی شہری آبادی پر صہیونی بمباری کے نتیجے میں پیدا شدہ تباہ کاری کی انکوائری کرائی جائے ۔ جب سے الفتح اور حماس کے مابین مفاہمت ہوئی ہے تو وہ ایک زبان ہو کر عالمی تنظیم سے اسرائیلی جارحیت کے سدباب کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مصر اور اردن نے بھی غزہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ (اسلام 10 جولائی 2014ء) یہ سب اپنی جگہ درست لیکن حماس کو بھی بلاوجہ اسرائیل کو اشتعال دینے سے احتراز کرنا چاہیے۔ مثلاً اسرائیلی نوجوانوں کا اغوا اور قتل انتہائی مذموم فعل ہے جتنا ابو قبطر کے انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں زندہ جلانا۔

یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس بار نیتن یاہو نے فلسطینی نوجوان کے اغوا اورقتل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس غیر انسانی فعل کے مرتکب یہودیوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے عز م کا عملی مظاہرہ کیاہے جبکہ اسرائیلی پولیس نے چھ مشتبہ یہودیوں پر ابو قبطر کے اغوا اور قتل کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ادھر یہودی ریاست پر بھی لازم ہے کہ اب وہ فلسطینی ریاست کے قیام میں مزاحمت نہ کرے ورنہ مقبوضہ علاقے کی آبادی قابض ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر مجبور ہو جائے گی کیونکہ بیرونی فوجی قبضہ خالی کرانے کے لیے مسلح جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ مانا کہ اسرائیل اپنی عسکری برتری سے فلسطین کو کھنڈر بنا سکتا ہے لیکن وہ بیس لاکھ فلسطینیوں کو صفحۂ ہستی سے نہیں مٹا سکتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل شام اور عراق کی خانہ جنگی میں ملوث عرب اور علاقائی ریاستوں کے باہمی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس کی کمر توڑنا چاہتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ مندرجہ بالا بحران کے باعث بڑی طاقتوں کی توجہ فلسطین پر مرکوز نہیں ہو گی اس لیے وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود حریت پسندوں کا قلع قمع کر دینا چاہتا ہے لیکن جب حریت پسندوں کی جڑیں عوام میں پیوست ہوں تو انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ اور نیٹو کی عبرتناک شکست استعمار کے مہم جوؤں کی ہمت شکنی کے لیے کافی ہے۔ کیا اس کے باوجود امریکہ یورپی استعمار اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ جس ملک اور قوم کو چاہے ان کی تسخیر کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ ویتنام، افغانستان اور عراق کے میدان جنگ سے راہ فرار نہ اختیار کرتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

سعودی عرب کی با برکت امداد

شیخ سعدی کے کئی شعروں کی طرح یہ شعر بھی ہمارا ایک محاورہ بن گیا کہ

دوست آں باشد کہ گیرد دستِ دوست

در پریشاں حالی و درماندگی

کہ دوست وہ ہوتا ہے جو کسی دوست کی اس کی پریشان حالی اور درماندگی میں مدد کرے۔ سعودی عرب ہمارا پرانا اور صحیح دوست ہے لیکن وہ ایک ایسی دنیا میں آباد ہے اور تیل کی وجہ سے اتنا امیر ہے کہ عالمی تعلقات سے الگ تھلک نہیں رہ سکتا خصوصاً امریکا کی بیرونی پالیسیاں اسے پریشان کرتی رہتی ہیں لیکن یہ ملک پاکستان کو نہیں بھولتا اپنی مجبوریوں کے باوجود اسے یاد رکھتا ہے، یہ ملک علاوہ جغرافیائی اہمیت کے مسلمانوں کے لیے اپنے مقدس مقامات کی وجہ سے ایک ایسا ملک ہے کہ اس کے دفاع کے لیے جان قربان کر دینا کسی مسلمان کا سب سے بڑا اعزاز اور خوش نصیبی ہے۔ چنانچہ سعودی عرب سے کوئی طاقت یا ملک کتنا بھی ناراض رہے وہ ایک حد سے آگے نہیں جا سکتا۔ وہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو ناراض اور فراموش نہیں کر سکتا۔ یہ مسلمان سعودی عرب کا دفاعی حصار ہیں اور کوئی ہمارے فوجیوں سے پوچھے تو ایک ایک سپاہی اس کی تصدیق کرے گا۔

اسلام جس قدر برصغیر میں ہے اتنا کسی دوسرے خطے میں نہیں ہے۔ پھر پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے۔ پیغمبروں کی سرزمینوں پر آباد عرب تسلیم کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کو جس قدر برصغیر کے مسلمانوں نے سمجھا اتنا کسی دوسرے ملک میں نہیں سمجھا گیا۔ پاکستان کا وجود ہی اس کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ مسلمانوں نے یہ ملک اپنے وجود کے تحفظ کے لیے بنایا تا کہ اس میں ان کی تہذیب و ثقافت پھلے پھولے اور محفوظ رہے۔ سعودی عرب کو پاکستان اور اس خطے میں آباد مسلمانوں کے ان جذبات کا احساس ہے۔ آج پاکستان اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود ایک مضبوط ترین ملک ہے۔ عمر میں دنیا کے ہر مسلمان ملک سے چھوٹا مگر اسلامی شعور اور احساس میں سب سے بڑا ہے۔ ہمیں بے عمل اور گمراہ حکمرانوں نے بہت مارا ہے اور ہمارے اندر پوشیدہ اسلامی جوہر پر مسلسل ضربیں لگائی ہیں لیکن یہ جوہر ہمارے وجود کا حصہ ہے اسے نکال دیں تو پاکستان ایک غبارہ رہ جاتا ہے۔

بات مسلمانوں کے روحانی اور دنیاوی مرکز سعودی عرب اور پاکستان کے تعلق سے شروع ہوئی تھی جو جذبات میں ذرا دور نکل گئی۔ ہمارے پرلے درجے کے کرپٹ حکمرانوں نے جو کوئی نصف صدی سے ہمارے اوپر اپنی تمام تر بُری خواہشات کے مسلط ہیں ہمارے اس ملک کو اس کے لاتعداد وسائل کے باوجود ایک غریب ملک بنا دیا ہے۔ شہید حکیم سعید کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ رحمن میں جتنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے مسلمانوں کے اور پاکستانیوں کے پاس اس سے زیادہ ہیں، وہ گنتی بھی کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ کون کون سی نعمتیں زیادہ ہیں۔ تازہ مثال ہے تھر کے کوئلے کی جسے ہم اب نکال رہے ہیں اور جس سے ہم بجلی بنائیں گے۔ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے اس ملک میں کیا رکاوٹ تھی کہ بجلی کے لیے ہم نے اس سے پہلے یہ خزانہ نہیں کھولا یہ رکاوٹ ہمارے حکمران تھے جو جیسا بھی ہے اسے ایسا ہی چلنے دیں اور جو مال ہے وہ خود کھاتے رہیں۔ بیرونی ملکوں کے بینکوں میں جمع یہ اربوں ڈالر کیا ہمارے حکمرانوں کو ورثے میں ملے تھے۔ انھوں نے ملک کو برملا کھایا اور ملی بھگت کے ساتھ اسے ہضم کیا۔ یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ ہر پاکستانی ملک سے باہر جانے کو تیار ہے بلکہ بے چین ہے۔

ہماری اس غربت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے ہر مالیاتی ادارے کے سامنے ہمارے ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ کسی دربار کے فقیر کی طرح ہم اپنا کشکول لیے پھرتے ہیں اور جب کوئی ہمیں قرض دے دیتا ہے تو ہم بے شرم اس کا جشن مناتے ہیں۔ ہمارا جو وزیر قرض لینے میں کامیاب ہوتا ہے وہ ہمارا کامیاب وزیر ہوتا ہے۔ جیسے ان دنوں کوئی ڈار صاحب ہیں۔ سعودی عرب سے ہماری یہ حالت دیکھی نہ گئی اور اس نے ہمیں اچھی طرح ٹٹول کر فی الحال کچھ رقم دے ڈالی جو اسے کسی نہ کسی صورت میں واپس مل جائے گی۔ اس برادرانہ قرض سے ہمارا کام چل گیا اور ہمارا ڈوبتا ہوا روپیہ سر باہر نکال کر تیرنے لگا البتہ ہمارے باغ و بہار شیخ رشید صاحب کو ڈبو گیا۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے دو چار ارب ڈالر کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ اتنی رقم تو ہمارا کوئی پاکستانی سیٹھ بھی دے سکتا ہے اور کوئی اچھی حکومت قومی وسائل کو صحیح استعمال کر کے سال دو سال میں ان قرضوں سے نجات بھی پا سکتی ہے۔

آج اگر ہم غربت میں غوطے کھا رہے ہیں تو کل ہم بحال ہو کر ایک معمول کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور یہ کچھ بعید نہیں ہے۔ ایک عالمی مالیاتی ادارے نے حال ہی میں کہا ہے کہ پاکستان کبھی ختم نہیں ہو سکتا، یہ ناکام ریاست نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس کھانے کو اناج بہت ہے اور پاکستانی بھوکے نہیں مر سکتے۔ جو قوم اپنے گھر میں پیٹ بھر سکتی ہے وہ ناکام کیسے کہلا سکتی ہے لیکن اپنے لیڈروں کے بارے میں کیا کہیں اب تو یہ خود ہی اپنے پردے چاک کر رہے ہیں۔ ان کے ایک ساتھی نے ان کی راتوں کے بارے میں بہت کچھ بتا دیا ہے اور وہ بھی برملا۔ کیا پاکستان جیسے قرض دار ملک کے نمائندے اور حکمران ایسے ہونے چاہئیں جس دن ان کے دن اور راتیں ایک جیسی ہوں گی اس دن ہمارے دن روشن اور راتیں پر سکون ہو جائیں گی۔ سعودی عرب نے ہماری بر وقت مدد کی ہے شاید ہم نے بھی کسی شکل میں کچھ خدمت کی ہو لیکن ہم سر زمین حجاز کی خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے ان کی رحمت اور مغفرت کے طلب گار ہیں۔ ہمارا ہر سپاہی اور ہر پاکستانی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے اور سعودی عرب اس مدد کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

ہمارا روپیہ بڑی حد تک بحال ہو گیا ہے۔ گویا اپنی زندگی پر ہمارا اعتماد بحال ہوا ہے۔ میں کوئی ماہر معاشیات نہیں ہوں، میں تو اپنی تنخواہ کا حساب بھی نہیں رکھ سکتا لیکن اتنا دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے کاروباری لوگ قدرے اطمینان میں آ گئے ہیں۔ سعودی امداد اپنی مالیت سے زیادہ ہمارے لیے برکت میں بڑی ہے۔

عبدالقادر حسن

Enhanced by Zemanta

حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس


ایک خوش کن خبر ہے کہ حکومت نے فریضہ حج کی ادائیگی کے خواہش مند غریب شہریوں کی سہولت کے لیے حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس سروس کا آغاز آیندہ حج ایام سے ہوگا۔ وزیر پورٹس و شپنگ نے بتایا ہے کہ حج پر ساڑھے تین لاکھ کے قریب اخراجات آتے ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی کے لیے حج کا فریضہ انجام دینا بڑا مشکل کام ہے۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سستے حج کا منصوبہ بنایا ہے، اس سلسلے میں یورپ سے تیز رفتار بحری جہاز حاصل کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے حاجیوں کو 6 دنوں کے اندر سعودی عرب پہنچایا جائے گا، انھیں کھانے پینے کی سہولیات بھی فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ تاجر برادری کے اشتراک سے جہازوں میں تجارتی سامان بھی ساتھ لے جایا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسٹم اور امیگریشن کے معاملات پر بھی بات چیت چل رہی ہے، اس کے علاوہ اگلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران جانے والے زائرین کو بھی بحری راستے سے ایران بھیجا جائے گا۔ حکومت کی یہ کوششیں بلاشبہ لائق تحسین ہیں۔

حج و عمرہ کی ادائیگی ہر مسلمان کی جستجو و تمنا ہوتی ہے۔ غریب سے غریب مسلمان بھی کم معاشی وسائل ہونے کے باوجود بھی اپنا پیٹ کاٹ کر بنیادی ضروریات کو نظر انداز اور بہت سے فرائض کو موخر کرکے فریضہ حج کی ادائیگی کی کوششیں کرتا ہے لیکن آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی اور کاروباری نقطہ نظر سے حج وعمرہ کے روز افزوں اخراجات ، ہیرا پھیری، لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے اس کا متحمل نہیں ہو پاتا۔ غریب و متوسط طبقے کے لیے فریضہ حج کی ادائیگی تقریباً ناممکن ہوکر رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بحری سفری سہولت کی وجہ سے حج کرایوں میں تین چوتھائی کے قریب کمی واقع ہوگی کیونکہ اس منصوبے کے تحت بحری کرایے کی شرح 25 سے 30 ہزار روپے رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بڑی سہولت میسر آجائے گی۔

عازمین حج کے لیے حکومت پاکستان نے ابتدا میں غیر منافع بخش بنیادوں پر حج پالیسی متعارف کروائی تھی جس میں وقتاً فوقتاً بہتری لانے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں لیکن وزارت مذہبی امور میں نااہل، بددیانت اور خوف خدا سے بے بہرہ افراد کی تعیناتی اور سیاسی مداخلت و مفادات کی وجہ سے اس کی کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی گئی اور مسائل، مصائب اور شکایتوں میں اضافہ ہوتا گیا، ان خرابیوں، کوتاہیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے حکومت نے پرائیویٹ حج اسکیم کا اجرا کرکے اس عمل میں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو شامل کر ڈالا جس کی وجہ سے کسی بہتری کے بجائے مزید خرابیاں رونما ہوئیں اور کرپشن اور ملی بھگت کا سلسلہ وزارت مذہبی امور سے ٹور آپریٹرز تک دراز ہوگیا۔ عازمین حج و عمرہ کی پریشانیوں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔

رہائش، خوراک، سفری سہولیات، معاہدات کی خلاف ورزی کے لاتعداد واقعات سامنے آنے لگے جن پر حکومت نے کوئی توجہ نہ دی تو اس گمبھیر صورت حال پر عدالتوں کو ایکشن لینا پڑا۔ عدالت عظمیٰ کی کارروائیوں کے نتیجے میں وزیر و مشیر وزارت حج و مذہبی امور اور ٹور آپریٹرز جیلوں میں گئے، حجاج کو ان کی اضافی رقوم واپس کروائی گئیں۔ بدعنوانی اور لوٹ مار کو دیکھ کر سعودی حکومت بھی حرکت میں آئی، پاکستانی حکام سے سرکاری سطح پر اس کی شکایت کی گئی اور کافی ٹور آپریٹرز کو بلیک لسٹ کرکے تین سال تک کے لیے نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی گئی، مجبوراً حکومت پاکستان نے بھی سیکڑوں ٹور آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کیے تھے۔ کم سرمایہ کاری اور کم مالی خطرات کے اس کاروبار میں راتوں رات دولت مند بننے کے خواہش مند عاقبت نااندیش عناصر کو حکومتی حلقوں کی آشیرباد اور پشت پناہی بھی حاصل ہے جو ایک منظم مافیا کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔

ہمارے ملک میں ایک تو وہ طبقہ ہے جو دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد فریضہ حج و عمرہ کی ادائیگی کی تڑپ و جستجو میں لگا رہتا ہے اور بمشکل ہی اس کا متحمل ہوتا ہے، دوسری جانب ارباب اقتدار و اختیار اور مراعات یافتہ طبقہ ہے جس نے ان مذہبی عبادات کو سیاسی و سماجی رسم کی حیثیت دے ڈالی ہے۔ سیاست دانوں کے لیے یہ فریضہ سیاسی حالات سے وقتی فرار حاصل کرنے، سیاسی جوڑ توڑ، ڈیل اور رابطوں کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ خوشنودی، پذیرائی کے لیے رشوت کے طور پر سیاسی حلیفوں اور کارکنوں کو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجنے کا رجحان جڑیں پکڑ چکا ہے۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز مختلف قسم کے پرتعیش اور مختصر دورانیے کے ایسے حج و عمرہ پیکیج بھی متعارف کرائے جاتے ہیں جن کے اخراجات 20 لاکھ فی کس بتائے جاتے ہیں۔ حالانکہ حج کی اصل روح، تربیت اور فلسفہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کفن کی صورت حج کا احرام باندھ کر گھر سے نکلتا ہے، اپنے پیاروں کو زندگی کے تمام معاملات کو چھوڑ کر سفر کی مشقتیں برداشت کرتا، اﷲ کے حضور پیش قدمی کرتا ہے، عرفات میں حشر کے میدان کی طرح اﷲ کے حضور پیش ہوتا ہے، مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے بسر کرتا ہے جہاں نہ کوئی ادنیٰ ہوتا ہے نہ اعلیٰ، نہ امیر نہ غریب، نہ حاکم نہ محکوم، سب کے پیر و سر ننگے ہوتے ہیں، ایک جیسا لباس ہوتا ہے، ہر کوئی اپنی مشقتیں خود برداشت کرتا ہے بلکہ حکم ہے کہ حج کی مشقتیں و صعوبتیں بیان نہ کی جائیں۔

حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کے کپڑوں اور اجسام پر جمع ہونیوالے گرد و غبار اور میل کچیل پر اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں فخر کرتا ہے اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ تعلیمات عام مسلمانوں کے علم میں ہوتی ہیں، کاش ہم ان پر غور اور عمل کرکے حج و عمرہ جیسی عبادات کی اصل روح کو برقرار رکھ سکیں۔ دنیا کے بہت سے اسلامی بلکہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی عازمین حج کو اس فریضے کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر بہت سی رعایت و مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے عازمین حج کے لیے بحری جہازوں کے ذریعے سفری سہولت کی فراہمی بھی ایک مستحسن اور قابل تعریف اقدام ہے۔ حکومت کو اس سہولت کے اجرا سے قبل اس قسم کے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے اس سہولت کا فائدہ غریب و متوسط طبقے کو پہنچے مثلاً یہ کہ اگر کسی نے پہلے فریضہ حج ادا کیا ہوا ہو تو اس کو یہ سہولت فراہم نہ کی جائے، سہولت سے استفادہ حاصل کرنیوالے سے اقرار نامہ لیا جائے کہ وہ ہوائی سفر کے اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

اس بحری سفر میں سامان اور اس کے وزن کی بھی ایک متوازن حد مقرر کی جائے تاکہ کاروباری ذہنیت کے لوگ اس کا غلط استعمال نہ کرسکیں اور سب سے زیادہ اس کی سیکیورٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بحری جہاز تک ممنوع اشیا اور منشیات وغیرہ کا پہنچانا نسبتاً آسان ہے، خاص طور پر ایک ہفتے پر محیط اس بحری سفر کے دوران کسی سادہ لوح یا بزرگ حاجی کے سامان میں رد و بدل یا کچھ شامل کردینا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ زاد حج کی اشیا میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ چند سال پیشتر کراچی کے عازمین عمرہ کے دو خاندانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کی چپلوں میں ٹور آپریٹرز کے کارندوں نے ہیروئن چھپا رکھی تھی، اگر جامعہ بنوری کے مہتمم سعودی فرماں روا تک رسائی اور سینیٹ اور قومی اسمبلی اپنے اجلاس میں اس مسئلے پر آواز بلند نہ کرتیں تو ان کی گردن زنی ہوچکی ہوتی۔

حکومت کو وزارت مذہبی امور کے معاملات کا ازسر نو اور سنجیدگی سے جائزہ لے کر اس کو نااہل، بددیانت افراد سے پاک کرکے سیاست اور مفادات سے بالاتر ہوکر اچھی شہرت کے حامل دین کی سوجھ بوجھ اور خوف خدا رکھنے والے افراد کو تعینات کرنا چاہیے۔ عام کرایوں اور حج و عمرہ کے کرایوں کے فرق اور ٹیکس ختم کرکے رعایتی نرخ مقرر کرنے چاہئیں، ٹور آپریٹرز کی رجسٹریشن کی سخت شرائط اور معیار مقرر کرکے صرف ایسے آپریٹرز کو خدمات کی ذمے داری سونپنی چاہیے جو اسے محض کاروبار نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیں۔ بلیک لسٹ ہونے والا شخص یا ادارہ کسی دوسرے نام سے یہ کام دوبارہ نہ حاصل کرسکے۔ کوٹے کی تقسیم دیانتدارانہ ہونی چاہیے، پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اور عازمین کے درمیان ایک تحریری معاہدے کا جامع متن تیار کرکے حکومت کو اس کے ضامن کے طور پر دستخط کرکے اس پر عمل کو یقینی بنانا چاہیے، حکومت کے شکایتی سیل کو فعال متحرک اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرکے اس کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جانا چاہیے، ایسی ریگولیٹری باڈی بھی بنانی چاہیے جو معاہدے کے خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹور آپریٹرز کا لائسنس منسوخ اور سیکیورٹی ضبط کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ   

Enhanced by Zemanta

سعودی عرب سے ہماری سرد مہری پر کف افسوس


میں رجائیت پسند ہوں ، مجھے سب اچھا نظر آتا ہے، سعودی ولی عہد شہزادہ سلیمان بن عبد العزیز پاکستان آئے، میرا دل بلیوں اچھلنے لگاا ور میرے قلم سے محبت کے زمزمے بہہ نکلے ، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ پاکستان نے دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کے لئے معزز مہمان کی درخواست کو شرف قبولیت نہیں بخشا۔ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ کاش! یہ منحوس خبر غلط ہو مگر میں نے پاکستان کے اعلی حکومتی عہدیداروں کے بیانات پڑھے ہیں کہ ہم شام کے مسئلے پر سعودی عرب کا ساتھ نہیں دے سکتے۔عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے طیارہ شکن ہتھیار مانگے ہیں، انہی ذرائع کے مطابق یہ اسلحہ شامی مجاہدین نے بشار الا سد کی فضائیہ کے خلاف اپنے دفاع میں استعمال کرنا تھا مگر پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ اسلحہ طالبان کے ہاتھ لگ سکتا ہے جو با لآخر پاک فضائیہ کے خلاف استعمال ہو گا، اس لئے یہ سودا نہیں ہوا۔

میری اقتدار کے ایوانوں تک کوئی رسائی نہیں، حقیقت حال تک پہنچنا میرے لئے قطعی نا ممکن ہے ، میرا تبصرہ صرف سنی سنائی باتوں تک محدود ہو گا ، مگر یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں کہ سعودی ولی عہد کو دو روز قبل26 فروری کو بھارت جانا پڑا جہاں ایئر پورٹ پر انکا استقبال بھارت کے نائب صدر محمد حامد انصاری نے کیا۔ بھارت اور سعودی عرب کی باہمی تجارت پچھلے چار سال میں دوگنا ہو چکی ، اب اس کا حجم 44 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے ساتھ یہ تجارت 5 ارب ڈالر سے بھی نہیں بڑھ سکی۔ اس کی وجہ زرداری کا دور حکومت ہے جب پاک سعودی تعلقات نقطہ انجماد کو چھو رہے تھے۔ مگر اب ایک سال سے شریف برادران کادور دورہ ہے، وہ چین ، جرمنی،ترکی، امریکہ اور برطانیہ کے دورے پر دورے کر رہے ہیں مگر جو ملک ان کی غریب الوطنی کے دور میں کام آیا، وہ ان کی ترجیحات میں سر فہرست نظر نہیں آتا۔ شریف برادران کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت جلد اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ ادارہ نوائے وقت کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے مگر سعودی عرب نے تو ان کو شاہی محلات پیش کئے، اسٹیل مل لگانے کی اجازت دی۔ سپر اسٹور کھولنے اور چلانے کے لائسنس دیئے اور علاج کے لئے لندن جانے کی بھی اجازت دی حالانکہ یہ جلاوطنی کے معاہدے کی خلاف ورزی تھی ۔

پاکستان کے معاملات عوام کے ہاتھ میں ہیں، شریف برادران اس اختیار کو ہائی جیک نہیں کر سکتے، زرداری نے اس اختیار کو ہائی جیک کیا اور پاکستان کو اس کے عزیز ترین دوست سعودی عرب سے دور کر دیا۔ پاکستانی عوام کو حرمین شریفین سے عقیدت ہے، وہ اس پر جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہیں، پہلی خلیجی جنگ میں پاکستان نے اپنی فوج سعودی دفاع کے لئے بھیجی، سعودی فوج کی ٹریننگ کے لئے بھی ایک پروگرام جاری ہے، سعودی محبتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں، بھارت نے جب بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دینے کا حق ادا کر دیا۔ سعودی عرب نے بنگلہ دیش کی علیحدگی کی مخالفت کی۔ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمائت کی، شاہ فیصل نے بادشاہی مسجد میں آنسووں کی زبان میں کشمیر کی آزادی کے لئے دعا مانگی، پاکستان نے لائل پور کو فیصل آباد کانام دے کر شاہ فیصل سے اپنی گہری عقیدت کا ثبوت فراہم کیا، اسلام آباد کے افق پر شاہ فیصل مسجد کے بلندو بالا مینار دونوں ملکوں کے تعلقات کی معراج کا روشن منظر نامہ ہیں۔ اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس میں دونوں ملک یکساں سوچ کے ساتھ چلتے ہیں۔

تو پھر شام اور ایران کے مسئلے پر پاکستان نے سعودی عرب سے دوری کیوں اختیار کر لی ہے،اور وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب امریکہ نے سعودی عرب سے فاصلے بڑھا لئے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خطے کے دوسرے ممالک کی دوستی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ سعودی عرب نے احتجاج کے طور پر سلامتی کونسل کی سیٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا پاکستان کے رویے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہم امریکی خوشنودی میں اپنے عزیز تریں دوست اور حرمین شریفین کی خادم حکومت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کاش! میری سوچ اور میرا تجزیہ غلط نکلے اور حقیقت میں پاک سعودی دوری کا شائبہ تک نہ ہو لیکن یہ سب کچھ ہمارے کردار اور ہماری پالیسیوں سے ہویدا ہونا چاہئے۔آخر سعودی ولی عہد کو نئی دہلی کیوں جانا پڑا ، یہ بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب نواز شریف تو نہیں دیں گے لیکن مجھے اپنے بھائیوں جیسے دوست سرتاج عزیز سے یہ توقع ضرور ہے کہ وہ عوام کے ذہنوںمیں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں گے۔

شام کا مسئلہ کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی حکومت کو بیرونی مداخلت سے ختم نہیں کرنا چاہئے مگر آج کی دنیا نے عرب بہار کا خیر مقدم کیا،ہم نے بھی کیا، تیونس میں ، سوڈان میں ، لیبیا میں ،مصر میں، تبدیلیوں کا کھلے بازووں سے استقبال کیا۔ہم نے اپنے فوجی آمر جنرل مشرف کو بھی چلتا کیا۔ شام میں بشار الا سد کو حکومت ورثے میں ملی، اس کے باپ حافظ الاسد نے اقتدار پر شب خون مارا، یہ ایک فوجی انقلاب تھا، مصر میں ناصر نے اقتدار چھینا اور عوام کا جینا دو بھر کر دیا، شام میں حافظ الاسد نے عوام کو اپنی طویل آمریت کے شکنجے میں جکڑے رکھا، پھر اس کے بیٹے نے اس آمریت کو دوام بخشا، عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا اور اگر سعودی عرب ان مظلوم عوام کا ساتھ دے رہا ہے تو کونسا گناہ کر رہا ہے۔

ایک طرف سے امریکہ نے ایٹمی ایران سے دوستی کی خاطر سعودی عرب سے دوری اختیار کر لی، دوسری طرف روسی صدر پوتن نے دھمکی دی کہ روسی افواج سعودی عرب کو جارحیت کا نشانہ بنائیں گی۔ یہ پچھلے سال اگست کی بات ہے اور چھ ماہ بعد سعودی ولی عہد ہم سے مدد چاہنے کے لئے آئے اور اگرہم نے ان کو خالی ہاتھ لوٹا دیا ہے تو تف ہے ہمارے ان ایٹمی ڈھیروں پر جو پہاڑوں کی غاروں میں پڑے گل سڑ رہے ہیں۔ یہ ایٹم بم حرمین شریفین کی حفاظت اور حرمت پر قربان نہیں ہو سکتے تو میری طرف سے ان میں کیڑے پڑ جائیں۔

ہم نے ایٹمی دھماکوں کے بعد مفت سعودی تیل کے مزے اڑائے، افغان مجاہدین کی دیکھ بھال کا مسئلہ ہو، زلزلے کی تباہی یا سیلاب کی قیامت ، ہر وقت سعودی عرب پیش پیش۔ سعودی عرب میں ہمارے پاکستانی بھائیوں کی ترسیلات، اوور سیز پاکستانیوں کی کل ترسیلات کا تیس فیصد ہیں، یہی زر مبادلہ ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اسے کہتے ہیں جس تھالی میں کھانا ، اسی میں چھید کرنا۔

شریف برادران براہ کرم اپنے محسنوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کریں۔ یہ ان کی ذات ہی کے محسن نہیں ، پورے پاکستانیوں کے محسن ہیں، انڈو نیشیا سے بوسنیا تک پورے عالم ا سلام کے محسن ہیں، میں کبھی بتاﺅں گا کہ بوسنیا کے لئے بظاہر سعودی حج پروازوں میں کیا کچھ جاتا رہا۔ سی ون تھرٹی کی ان پروازوں نے بوسنیا کی آزادی کی بنیاد رکھی۔ آج سعودیہ کی ضرورت ہے۔ ان کی ضرورت کے وقت ان کا ہاتھ مت جھٹکیں۔


بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

Enhanced by Zemanta

Pakistan and Saudi Arabia Relations


وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی وزیر سیاحت و نوادرات شہزادہ سلطان بن سلمان سے ملاقات کے دوران کیا جنھوں نے گورنمنٹ ہاؤس مری میں ان سے ملاقات کی ۔ شہزادہ سلطان نے صدر مملکت ممنون حسین سے بھی ملاقات کی۔ صدر ممنون حسین نے اس موقع پر سعودی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں انفرااسٹرکچر، توانائی، سیاحت و ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ صدر نے پاکستان کے سیاحتی شعبہ جات و عجائب گھروں اور سعودی کمیشن برائے سیاحت کے درمیان وسیع تر تعاون پر بھی زور دیا اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کی فراخدلانہ معاونت پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

پاک سعودی تعلقات کا تاریخی تناظر کسی تعارف کا محتاج نہیں، خلیجی اور شرق اوسط کی سیاسی ،تزویراتی اور عسکری امور کے تناظر میں سعودی عرب کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ جریدہ ’’اکنامسٹ‘‘اور بی بی سی نے سعودی عرب کے سیاسی، عسکری ، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ترقی و ترویج پر تجزیاتی رپورٹیں شایع کی ہیں جن میں اس کا مشرق وسطیٰ کے صحرائی خطے میں تیل کی دولت سے مالامال عرب و مسلم دنیا میں ایک طاقتور کردار کے طور پر جائزہ لیا گیا ہے ۔ پاکستان کو سعودی عرب سے ایک خاص دینی، سماجی، تاریخی اور روحانی نسبت ہے، اور برس ہا برس سے حرمین شریفین کو اہل پاکستان نے ہمیشہ اپنے دل میں احترام و عقیدت سے جگہ دی ہے، دونوں ملک اپنے لازوال رشتوں اور سیاسی تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، عالمی امور میں جہاں سعودی حکومت نے پاکستانی موقف کی ہمیشہ تائید وحمایت کی وہاں اقتصادی ، تعلیمی اور سماجی شعبے میں بھی پاک سعودی تعلقات ہر دور میں مستحکم رہے چنانچہ سماجی، دینی و روحانی نسبت سے عالمی امور اور دو طرفہ سے اسیروابط آئندہ بھی اسی جذبہ اور دوطرفہ مفاہمت اور اشتراک و تعاون سے جاری رہیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع کی موجود گی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب سیاحت کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، انھوں نے سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان کو پاکستان بھر کے تفریحی مقامات کے تفصیلی دورے کی دعوت بھی دی ۔ سیاحت وہ اہم شعبہ ہے جس میں سعودی سرمایہ کاری کے بیش بہا امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم اور سعودی شہزادہ برف سے ڈھکے کشمیر پوائنٹ کے خوبصورت نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پاکستان کے کئی صحرا اور چٹیل میدان پاک سعودی مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سرسبز و شاداب علاقوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف نے سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کی والدہ سلطانہ ترکی السدیری کے نام سے منسوب سلطانہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ تعلیم وتحقیق اور سماجی ترقی‘‘ کے مرکز کے نئے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے تعلیم کے حصول کو کلیدی کردار حاصل ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی سے اقتصادی خرابیاں دور ہو سکتی ہیں اور ساتھ ہی قوم کی سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں مسلم ممالک بہت پیچھے ہیں ، سعودی عرب کی قیادت میں تمام اسلامی ممالک اپنے جدید علمی اور ٹیکنالوجیکل ضروریات کی تکمیل کے لیے وسیع تر اشتراک عمل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے تعلیم کے لیے سلطانہ فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہزادہ سلطان بن سلمان کی یہاں موجودگی پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان پائیدار اور دائمی دوستانہ تعلقات کی واضح علامت ہے ، پاکستان اور سعودی عرب عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ تعلیم وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان اور سعودی ماہرین تعلیم کے فروغ ، فکری پسماندگی ، جہالت کے خاتمہ اور جدید ترین علمی تحقیق کے نئے در کھول سکتے ہیں، شہزادہ ترکی الفیصل پہلے ہی ایک متحدہ اسلامی فورس کے قیام کی ڈاکٹرائن پیش کرچکے ہیں اس پر مسلم ممالک کے تحفظات ہو سکتے ہیں تاہم تعلیمی شعبے میں ایسی کوئی فورس بن جائے تو آئندہ کئی نسلیں مغرب کے تعلیمی تقابل کے قابل ہوسکتی ہیں ۔ پاک سعودی تزویراتی و عسکری تعاون بھی روبہ عمل لایا جارہا ہے ،پاکستان کو خطے میں بدامنی اور امن امان کی ابتری کا مسئلہ درپیش ہے جب کہ سعودی حکومت علاقائی سلامتی کے اقدامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے، عالم اسلام کو آنے والے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پر امن بقائے باہمی اور علاقائی سلامتی کے معاہدوں سمیت ملت اسلامیہ کی اجتماعی نگہبانی کا بھی کوئی میکنزم وضع کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں متعلقہ بین الاسلامی اداروں کا احیا ضروری ہے جب کہ اس کام کی ابتدا سعودی قیادت کے مفید مشاورت سے کی جانی چاہیے ۔

دریں اثناشہزادہ سلطان بن سلمان نے کہا کہ سلطانہ فاؤنڈیشن کا قیام ان کی والدہ کا آئیڈیا تھا ، فاؤنڈیشن کے آئندہ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم اپنے پروگراموں کو اسکولز سے کالجز اور میڈیکل کالجز کے ساتھ ساتھ ضرورت مند طلبہ کے لیے وظائف تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں یہ ترقی کے مزید منازل طے کرے گا، ہم پاکستان کا مستقبل تابناک اور روشن دیکھتے ہیں ، تعلیم اور طب کے شعبے میں پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے۔ تعاون و امداد کی اس یقین دہانی کے ثمرات کے حصول کے لیے ہمہ جہت منصوبہ بندی کی جائے ۔ وزیراعظم نواز شریف کو سعودی محبتوں ،اور خیر سگالی کا جو تحفہ ملا ہے اس سے اہل وطن کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی زندگی میں انقلاب آنا چاہیے۔ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز السعودکا دورہ بلاشبہ دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اورپاکستان سے سعودی عوام اور حکمرانوں کی دلی قربت و وابستگی کو مستحکم کرنے میں اہم پیش رفت کا باعث بنے گا۔

Pakistan and Saudi Arabia Relations

Enhanced by Zemanta

لطیفے گھڑنے والے خود لطیفہ بن جاتے ہیں


دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا شخص ہو جو کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ سے تو آشنا ہو مگر بل گیٹس کو نہ جانتا ہو۔ یہ شخص جس نے مائیکروسوفٹ جیسی بزنس ایمپائر کھڑی کی،مسلسل19سال تک کوئی مائی کا لال دنیا کے امیر ترین شخص کا ٹائٹل اس سے نہ چھین سکا،یہاں تک کہ اس نے اپنی دولت دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی۔ بل گیٹس کی زندگی کے بیشمار پہلو ہیں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس پہلو کو روشن ترین کہاجائے۔لیکن مجھے بل گیٹس کے ذاتی اوصاف سے کوئی سروکار نہیں۔مجھے اس کی شہرہ ء آفاق کمپنی کی کامیابیوں سے بھی کوئی غرض نہیں، جس کی نیٹ ورتھ 69.96ارب ڈالر ہے یعنی پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائر سے 11گنا زیادہ۔میں جب بھی بل گیٹس کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے بھارتی وزیر اعظم نہرو یاد آتے ہیں۔تقسیم ہند کے بعد ایک مغربی صحافی نے پوچھا ،آپ کے ہاں تو کوئی قابل ذکرپیداوارنہیںجسےبرآمدکر سکیں۔زرمبادلہ کیسے کمائیں گے ۔نہرو نے ہنستے ہوئے کہا ،ہم با صلاحیت افراد ایکسپورٹ کریں گے،یہ افراد ہمارازرمبادلہ ہیں۔آج اس کی یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے اورمیں تب سے رشک اور حسد کے سنگم پر مبہوت کھڑا ہوں جب سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک بھارتی نژاد آئی ٹی ایکسپرٹ ستیا نڈیلا کو مائیکروسوفٹ کا نیا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔مائیکروسوفٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیو بالمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور نئے سی ای او کا انتخاب کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں 100 ماہرین کے نام زیر غور تھے۔نہ صرف اس منصب کے لئے ایک بھارتی شہری کو منتخب کیا گیا ہے بلکہ حیدرآبادکے باسی ستیانڈیلا کے بعد جس شخص کا نام مائیکروسوفٹ کے نئے سربراہ کے طور پر لیا جا رہا تھا اس کا تعلق بھی بھارت سے ہے۔بھارت کی اس سے بڑی کامیابی کیا ہو گی کہ امریکہ کی سب سے بڑی آئی ٹی فرم کے سی ای او کا چنائو تھا اور مسابقت حیدرآباد کے ستیا نڈیلا اور چنائی کے سندر پچھائی کے مابین تھی...وہ لوگ جو امریکہ میں آئی ٹی کے گڑھ سلیکان ویلی کے بارے میں جانتے ہیں ،ان کے لئے یہ خبر ہرگز غیر متوقع نہیں ہے کہ ایک انڈین کو مائیکروسوفٹ کا سربراہ بنا دیا گیا ہے کیونکہ سلیکان ویلی کی تمام آئی ٹی فرموںمیں 80فیصد انجینئروںکا تعلق بھارت سے ہے۔مائیکرو سوفٹ میں ہر تیسرے فرد کا تعلق بھارت سے ہے۔ نہ صرف سلیکان ویلی میں بھارتیوں کی اجارہ داری ہے بلکہ بھارتی اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر ان آئی ٹی فرموں کو سمندر پار لانے میں کامیاب ہوئے اور اب مائیکروسوفٹ اور یاہو سمیت تمام معروف آئی ٹی فرمیں بھارت میں کام کر رہی ہیں۔ ایک بڑی موبائل فون کمپنی کے پروڈکشن یونٹ انڈیا میں کام کر رہے ہیں۔سلیکان ویلی کے بعد اگر سرمایہ کار آئی ٹی کے حوالے سے کسی اور شہر کا نام لیتے ہیں تو وہ بنگلور ہے۔صرف آئی ٹی ہی کیا بھارتی شہری امریکہ اور یورپ سے لیکر عرب ممالک تک نہ صرف کاروبار کی دنیا کے بے تاج بادشاہ مانے جاتے ہیں بلکہ نچلے درجے کی ملازمتوں سے لیکر اعلیٰ پائے کے انتظامی عہدوں تک ہر طرف اپنی قابلیت کا سکہ منوا چکے ہیں۔تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کلیدی عہدوں پر آپ کو ہندو نظر آئیں گے۔پیپسیکو جو ایک عالمی شہرت یافتہ کولامشروب بناتی ہے،اس کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر Indra Nooyiہیں،ماسٹرز کارڈز کے سی ای او Ajay Bangaہیں،امریکہ کے ایک معروف بینک کی سربراہی Anshu Jainکے پاس ہے۔اور معرف بنک کا انتظام ہندوئوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر یہودی لابی کے بعد امریکہ میں کوئی کمیونٹی سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ہے تو وہ بھارتی کمیونٹی ہے۔چند برس قبل فوربز میگزین نے دس ایسی بڑی کمپنیوں کی فہرست جاری کی تھی جن کی سربراہی بھارتی شہریوں کے ہاتھ میں ہے۔کیلی فورنیا،نیویارک،نیو جرسی،ٹیکساس اور فلوریڈا میں 100سے زائد ایسی فرمیںہیں جن میں بھارتی شہریوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہیں یا پھر وہ کلیدی انتظامی عہدوں پرہیں۔آپ ان کافر ممالک کو چھوڑیں ۔شائد یہاں پاکستانیوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تعصب کا سامنا ہو،آپ برطانیہ میں بھی بھارتی شہریوں کی کامیابیاں نظر انداز کر دیں کہ شائد ایسٹ انڈیا کمپنی اور ہندوئوں کا گٹھ جوڑ تاحال قائم ہو۔ آپ دبئی اور شارجہ سے لیکر قطر،عمان،بحرین اور سعودی عرب تک کسی عرب ملک کے اعداد و شمار جمع کر لیں۔آپ ملائیشیا سے انڈونیشا اور ترکی سے مصر تک کسی بھی مسلم ملک میں سروے کرا کے دیکھ لیں ،آپ کو ہندوئوں کی سبقت واضح طور پر محسوس ہوگی۔ اگر کوئی تعمیراتی کمپنی کسی عرب کی ہے تو اس میں انجینئر اور ٹیکنیشن بھارتی ہوں گے ،مزدوروں میں بھی کچھ بنگالی ہوں گے اور کچھ پاکستانی۔اگر کوئی کلینک ہے تو ڈاکٹر ہندو ہو گا،اگر کوئی گروسری سٹور ہے۔کوئی پیٹرول پمپ ہے،کوئی سروس اسٹیشن اور شوروم ہے تو اس کی ملکیت بھارتی شہریوں کے پاس ہو گی اور پاکستانی کسی پیٹرول پمپ پر نوکری کر رہے ہوں گے،کسی ہوٹل میں ویٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہوں گے، کسی سروس اسٹیشن پر گاڑیاں دھو رہے ہوں گے، کہیں ٹیکسی چلا رہے ہوں گے یا کسی تخریب اور فراڈ کی ترکیب سوچ رہے ہوں گے۔

میں رشک اور حسد کے سنگم پر کھڑا سوچ رہا ہوں کہ آخر بھارتیوں کو ایسے کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ پوری دنیا میں راج کر رہے ہیں اور ہم ہر جگہ تذلیل و تحقیر کا نشانہ بن رہے ہیں؟آخر ان کے پاس ایسا کونسا ہنر اور ایسی کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا بن جاتی ہے اور ہم سونے پر ہاتھ رکھتے ہیں تو وہ مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے؟کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ سلیکان ویلی کی قیادت پاکستانیوں کے ہاتھ ہوتی؟کیا یہ ممکن نہ تھا کی مائیکرو سوفٹ، گوگل، یاہو اور نوکیا کی سرمایہ کاری کے لئے بنگلور کے بجائے لاہور کا انتخاب کیا جاتا؟یہ سوال جس شخص سے بھی کیے جائیں گے وہ اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ان کا جواب دے گا۔ کسی کاخیال ہوگاکہ ہمیں کام چوری کے باعث یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں،کوئی سوچتا ہو گا کہ ہم بے ایمانی کے باعث رسوا ہو رہے ہیں۔یہ سب باتیں درست ہیں مگر میرا خیال یہ ہے کہ ہم لطیفوں کی وجہ سے ناکام ہیں۔جی ہاں، ہم کامیاب انسانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں،لطیفے بُنتے ہیں اور ہر بات ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم خود لطیفہ بن گئے ہیں۔ہم سکھوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں،ہر طرح کی حماقتیں ان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں یا پھر پٹھانوں کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ہم ہر اس شخص کا مذاق اُڑاتے ہیں،جو اپنی محنت کے بل بوتے پر کامیابی کی منازل طے کرتا ہے۔نمونے کے طور پر میں ایک لطیفہ نقل کر رہا ہوں۔مجھے نہیں معلوم ،یہ لطیفہ کس کی اختراع ہے مگر آپ کی طرح میں نے بھی یہ لطیفہ کئی بار سنا اور پڑھا ہے۔آپ یہ لطیفہ پڑھیں اور پھر فیصلہ کریں، کیا اس طرح کے لطیفے گھڑنے والی قوم کا کوئی فرد مائیکرو سوفٹ کا سربراہ بن سکتا ہے:ـ’’ایک پٹھان نے مائیکرو سوفٹ کے سربراہ بل گیٹس کو خط لکھا۔کی بورڈ میں ABC کی ترتیب ٹھیک نہیں۔صحیح اے بی سی والا کی بورڈ کب بنائیں گے؟ ونڈوز میں ا سٹارٹ کا بٹن ہے مگر اسٹاپ کا بٹن کیوں نہیں؟جب کی بورڈ میں Any keyکا بٹن نہیں تو پھر کمپیوٹر یہ کیوں کہتا ہے کہ Press any key۔ ہم مس ورڈ(MS Word) تو استعمال کرتے ہیں مگر مسٹر ورڈ کب لانچ ہو گا؟اگر آپ بُرا نا مانیں تو یہ بھی بتا دیں کہ آپ کا نام بل گیٹس ہے تو آپ ونڈوز کیوں بناتے ہیں؟‘‘


بشکریہ روزنامہ 'جنگ

Microsoft Indian President

Enhanced by Zemanta