Showing posts with label Login. Show all posts

حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس


ایک خوش کن خبر ہے کہ حکومت نے فریضہ حج کی ادائیگی کے خواہش مند غریب شہریوں کی سہولت کے لیے حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس سروس کا آغاز آیندہ حج ایام سے ہوگا۔ وزیر پورٹس و شپنگ نے بتایا ہے کہ حج پر ساڑھے تین لاکھ کے قریب اخراجات آتے ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی کے لیے حج کا فریضہ انجام دینا بڑا مشکل کام ہے۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سستے حج کا منصوبہ بنایا ہے، اس سلسلے میں یورپ سے تیز رفتار بحری جہاز حاصل کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے حاجیوں کو 6 دنوں کے اندر سعودی عرب پہنچایا جائے گا، انھیں کھانے پینے کی سہولیات بھی فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ تاجر برادری کے اشتراک سے جہازوں میں تجارتی سامان بھی ساتھ لے جایا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسٹم اور امیگریشن کے معاملات پر بھی بات چیت چل رہی ہے، اس کے علاوہ اگلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران جانے والے زائرین کو بھی بحری راستے سے ایران بھیجا جائے گا۔ حکومت کی یہ کوششیں بلاشبہ لائق تحسین ہیں۔

حج و عمرہ کی ادائیگی ہر مسلمان کی جستجو و تمنا ہوتی ہے۔ غریب سے غریب مسلمان بھی کم معاشی وسائل ہونے کے باوجود بھی اپنا پیٹ کاٹ کر بنیادی ضروریات کو نظر انداز اور بہت سے فرائض کو موخر کرکے فریضہ حج کی ادائیگی کی کوششیں کرتا ہے لیکن آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی اور کاروباری نقطہ نظر سے حج وعمرہ کے روز افزوں اخراجات ، ہیرا پھیری، لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے اس کا متحمل نہیں ہو پاتا۔ غریب و متوسط طبقے کے لیے فریضہ حج کی ادائیگی تقریباً ناممکن ہوکر رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بحری سفری سہولت کی وجہ سے حج کرایوں میں تین چوتھائی کے قریب کمی واقع ہوگی کیونکہ اس منصوبے کے تحت بحری کرایے کی شرح 25 سے 30 ہزار روپے رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بڑی سہولت میسر آجائے گی۔

عازمین حج کے لیے حکومت پاکستان نے ابتدا میں غیر منافع بخش بنیادوں پر حج پالیسی متعارف کروائی تھی جس میں وقتاً فوقتاً بہتری لانے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں لیکن وزارت مذہبی امور میں نااہل، بددیانت اور خوف خدا سے بے بہرہ افراد کی تعیناتی اور سیاسی مداخلت و مفادات کی وجہ سے اس کی کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی گئی اور مسائل، مصائب اور شکایتوں میں اضافہ ہوتا گیا، ان خرابیوں، کوتاہیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے حکومت نے پرائیویٹ حج اسکیم کا اجرا کرکے اس عمل میں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو شامل کر ڈالا جس کی وجہ سے کسی بہتری کے بجائے مزید خرابیاں رونما ہوئیں اور کرپشن اور ملی بھگت کا سلسلہ وزارت مذہبی امور سے ٹور آپریٹرز تک دراز ہوگیا۔ عازمین حج و عمرہ کی پریشانیوں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔

رہائش، خوراک، سفری سہولیات، معاہدات کی خلاف ورزی کے لاتعداد واقعات سامنے آنے لگے جن پر حکومت نے کوئی توجہ نہ دی تو اس گمبھیر صورت حال پر عدالتوں کو ایکشن لینا پڑا۔ عدالت عظمیٰ کی کارروائیوں کے نتیجے میں وزیر و مشیر وزارت حج و مذہبی امور اور ٹور آپریٹرز جیلوں میں گئے، حجاج کو ان کی اضافی رقوم واپس کروائی گئیں۔ بدعنوانی اور لوٹ مار کو دیکھ کر سعودی حکومت بھی حرکت میں آئی، پاکستانی حکام سے سرکاری سطح پر اس کی شکایت کی گئی اور کافی ٹور آپریٹرز کو بلیک لسٹ کرکے تین سال تک کے لیے نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی گئی، مجبوراً حکومت پاکستان نے بھی سیکڑوں ٹور آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کیے تھے۔ کم سرمایہ کاری اور کم مالی خطرات کے اس کاروبار میں راتوں رات دولت مند بننے کے خواہش مند عاقبت نااندیش عناصر کو حکومتی حلقوں کی آشیرباد اور پشت پناہی بھی حاصل ہے جو ایک منظم مافیا کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔

ہمارے ملک میں ایک تو وہ طبقہ ہے جو دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد فریضہ حج و عمرہ کی ادائیگی کی تڑپ و جستجو میں لگا رہتا ہے اور بمشکل ہی اس کا متحمل ہوتا ہے، دوسری جانب ارباب اقتدار و اختیار اور مراعات یافتہ طبقہ ہے جس نے ان مذہبی عبادات کو سیاسی و سماجی رسم کی حیثیت دے ڈالی ہے۔ سیاست دانوں کے لیے یہ فریضہ سیاسی حالات سے وقتی فرار حاصل کرنے، سیاسی جوڑ توڑ، ڈیل اور رابطوں کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ خوشنودی، پذیرائی کے لیے رشوت کے طور پر سیاسی حلیفوں اور کارکنوں کو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجنے کا رجحان جڑیں پکڑ چکا ہے۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز مختلف قسم کے پرتعیش اور مختصر دورانیے کے ایسے حج و عمرہ پیکیج بھی متعارف کرائے جاتے ہیں جن کے اخراجات 20 لاکھ فی کس بتائے جاتے ہیں۔ حالانکہ حج کی اصل روح، تربیت اور فلسفہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کفن کی صورت حج کا احرام باندھ کر گھر سے نکلتا ہے، اپنے پیاروں کو زندگی کے تمام معاملات کو چھوڑ کر سفر کی مشقتیں برداشت کرتا، اﷲ کے حضور پیش قدمی کرتا ہے، عرفات میں حشر کے میدان کی طرح اﷲ کے حضور پیش ہوتا ہے، مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے بسر کرتا ہے جہاں نہ کوئی ادنیٰ ہوتا ہے نہ اعلیٰ، نہ امیر نہ غریب، نہ حاکم نہ محکوم، سب کے پیر و سر ننگے ہوتے ہیں، ایک جیسا لباس ہوتا ہے، ہر کوئی اپنی مشقتیں خود برداشت کرتا ہے بلکہ حکم ہے کہ حج کی مشقتیں و صعوبتیں بیان نہ کی جائیں۔

حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کے کپڑوں اور اجسام پر جمع ہونیوالے گرد و غبار اور میل کچیل پر اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں فخر کرتا ہے اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ تعلیمات عام مسلمانوں کے علم میں ہوتی ہیں، کاش ہم ان پر غور اور عمل کرکے حج و عمرہ جیسی عبادات کی اصل روح کو برقرار رکھ سکیں۔ دنیا کے بہت سے اسلامی بلکہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی عازمین حج کو اس فریضے کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر بہت سی رعایت و مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے عازمین حج کے لیے بحری جہازوں کے ذریعے سفری سہولت کی فراہمی بھی ایک مستحسن اور قابل تعریف اقدام ہے۔ حکومت کو اس سہولت کے اجرا سے قبل اس قسم کے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے اس سہولت کا فائدہ غریب و متوسط طبقے کو پہنچے مثلاً یہ کہ اگر کسی نے پہلے فریضہ حج ادا کیا ہوا ہو تو اس کو یہ سہولت فراہم نہ کی جائے، سہولت سے استفادہ حاصل کرنیوالے سے اقرار نامہ لیا جائے کہ وہ ہوائی سفر کے اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

اس بحری سفر میں سامان اور اس کے وزن کی بھی ایک متوازن حد مقرر کی جائے تاکہ کاروباری ذہنیت کے لوگ اس کا غلط استعمال نہ کرسکیں اور سب سے زیادہ اس کی سیکیورٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بحری جہاز تک ممنوع اشیا اور منشیات وغیرہ کا پہنچانا نسبتاً آسان ہے، خاص طور پر ایک ہفتے پر محیط اس بحری سفر کے دوران کسی سادہ لوح یا بزرگ حاجی کے سامان میں رد و بدل یا کچھ شامل کردینا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ زاد حج کی اشیا میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ چند سال پیشتر کراچی کے عازمین عمرہ کے دو خاندانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کی چپلوں میں ٹور آپریٹرز کے کارندوں نے ہیروئن چھپا رکھی تھی، اگر جامعہ بنوری کے مہتمم سعودی فرماں روا تک رسائی اور سینیٹ اور قومی اسمبلی اپنے اجلاس میں اس مسئلے پر آواز بلند نہ کرتیں تو ان کی گردن زنی ہوچکی ہوتی۔

حکومت کو وزارت مذہبی امور کے معاملات کا ازسر نو اور سنجیدگی سے جائزہ لے کر اس کو نااہل، بددیانت افراد سے پاک کرکے سیاست اور مفادات سے بالاتر ہوکر اچھی شہرت کے حامل دین کی سوجھ بوجھ اور خوف خدا رکھنے والے افراد کو تعینات کرنا چاہیے۔ عام کرایوں اور حج و عمرہ کے کرایوں کے فرق اور ٹیکس ختم کرکے رعایتی نرخ مقرر کرنے چاہئیں، ٹور آپریٹرز کی رجسٹریشن کی سخت شرائط اور معیار مقرر کرکے صرف ایسے آپریٹرز کو خدمات کی ذمے داری سونپنی چاہیے جو اسے محض کاروبار نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیں۔ بلیک لسٹ ہونے والا شخص یا ادارہ کسی دوسرے نام سے یہ کام دوبارہ نہ حاصل کرسکے۔ کوٹے کی تقسیم دیانتدارانہ ہونی چاہیے، پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اور عازمین کے درمیان ایک تحریری معاہدے کا جامع متن تیار کرکے حکومت کو اس کے ضامن کے طور پر دستخط کرکے اس پر عمل کو یقینی بنانا چاہیے، حکومت کے شکایتی سیل کو فعال متحرک اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرکے اس کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جانا چاہیے، ایسی ریگولیٹری باڈی بھی بنانی چاہیے جو معاہدے کے خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹور آپریٹرز کا لائسنس منسوخ اور سیکیورٹی ضبط کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ   

Enhanced by Zemanta

سوشل میڈیا پاکستانی معاشرے کا آئینہ بن گیا



پاکستانی معاشر ے میں سوشل میڈیا کی جڑیں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس کے استعمال کرنے والوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سر فہرست ہیں۔ یہ نوجوان کیسے نظر آنا چاہتے ہیں، ان کے شب و روز کا معمول کیا ہے، وہ کب اٹھتے اور کب سوتے ہیں۔ یہ سب کچھ سوشل میڈیا کے آئینے میں صاف نظر آتا ہے۔

پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی نے ’زی سوشل پرائیوٹ لمیٹڈ‘ کی مرتب کردہ ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا نے دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان آپسی رابطوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت لوگ ہر وقت ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔

انتہائی پاور فل سوشل میڈیا نے پرنٹ، آن لائن اوریہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا کو بھی بعض حوالوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ متذکرہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس ’فیس بک‘، ’ٹوئیٹر‘ اور ’لنکڈ ان‘ سے بچہ بچہ واقف ہے۔ ان سائٹس پر آکر پاکستانی عوام کیا کچھ تلاش کرتی ہے اور اس کا رجحان کس طرف ہے اسے نہایت دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پچھلے مہینے یعنی جنوری 2014ء میں 10لاکھ لوگوں نے فیس بک جوائن کی۔ مجموعی جائزہ لیں تو پاکستان میں ہر مہینے ایک کروڑ چھبیس لاکھ افراد فیس بک پر کوئی نہ کوئی سرگرمی ضرور دکھاتے ہیں۔ ان میں پچاس 50فیصد سے زائد افراد کی عمریں 18سے 34سال کے درمیان ہیں جبکہ باقی افراد میں اکثریت 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔

سب سے مقبول کون ؟

اگر یہ معلوم کیا جائے کہ ’ٹوئیٹر‘ فینز کے درمیان پاکستان میں فی الوقت سب سے زیادہ مقبول شخصیت کون سی ہے تو بلاشبہ جواب ملے گا ’عمران خان‘۔ ان کے بعد بالترتیب جیو ٹی وی کے میزبان حامد میر پھر کرکٹر وسیم اکرم، سنگر اور ایکٹر علی ظفر اور آخر میں ایک اور ٹی وی اینکر مبشر لقمان کا نمبر آتا ہے۔

اسی ویب سائٹ پر پانچ سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے برانڈز میں موبائل فون کمپنی ’موبی لنک‘ اور بعد ازاں ’وارد‘ کا نمبر آتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برانڈ کی تشہیر کے لئے فیس بک ایک ایسا طاقتور میڈیم بن گیا ہے جو فینز کو ’کنزیومرز‘ میں تبدیل کردیتا ہے۔ جیسے ’ایف ایم سی جی‘ کے پاکستان میں سب سے زیادہ تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ فینز ہیں۔

سوشل میڈیا کے جائزے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی فیشن کے دلدادہ ہیں اور ہر گھڑی فیشن سے متعلق اپ ڈیٹ رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ فیشن پیجز پسند کرنے والوں میں پاکستان کا نمبر دوسرا ہے جہاں 1کروڑ 40لاکھ پاکستانی فیشن پیجز لوگوں کی خاص توجہ کاباعث ہیں۔

فیشن کے بعد ٹیلی کام کو لائیک کرنے والوں کی تعداد 1 کروڑ ہے۔ پاکستانیوں کی پسند کے لحاظ سے پانچواں نمبر بیوٹی پیجز کا ہے۔ ایڈوانس ٹیلی کام کے فینز کی تعداد 97,000 تک پہنچ گئی ہے ۔ ’تھریڈز اینڈ موٹفس‘ فیشن کا دوسرا اور ’جابز ان دبئی‘ یعنی ’دبئی میں آسامیوں‘ کا نمبر تیسرا ہے۔

سوشل میڈیا کی تجزیاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی نظر میں دبئی دنیا کے باقی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ’گلیمرس اور مالدار لائف اسٹائل‘ رکھتا ہے ۔ اکثریت کسی بھی یورپی ملک کے مقابلے میں دبئی میں سب سے آسان رسائی کا خیال رکھتی ہے۔

وسیم صدیقی

Social Media in Pakistan 

Enhanced by Zemanta

Pakistan and Saudi Arabia Relations


وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی وزیر سیاحت و نوادرات شہزادہ سلطان بن سلمان سے ملاقات کے دوران کیا جنھوں نے گورنمنٹ ہاؤس مری میں ان سے ملاقات کی ۔ شہزادہ سلطان نے صدر مملکت ممنون حسین سے بھی ملاقات کی۔ صدر ممنون حسین نے اس موقع پر سعودی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں انفرااسٹرکچر، توانائی، سیاحت و ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ صدر نے پاکستان کے سیاحتی شعبہ جات و عجائب گھروں اور سعودی کمیشن برائے سیاحت کے درمیان وسیع تر تعاون پر بھی زور دیا اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کی فراخدلانہ معاونت پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

پاک سعودی تعلقات کا تاریخی تناظر کسی تعارف کا محتاج نہیں، خلیجی اور شرق اوسط کی سیاسی ،تزویراتی اور عسکری امور کے تناظر میں سعودی عرب کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ جریدہ ’’اکنامسٹ‘‘اور بی بی سی نے سعودی عرب کے سیاسی، عسکری ، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ترقی و ترویج پر تجزیاتی رپورٹیں شایع کی ہیں جن میں اس کا مشرق وسطیٰ کے صحرائی خطے میں تیل کی دولت سے مالامال عرب و مسلم دنیا میں ایک طاقتور کردار کے طور پر جائزہ لیا گیا ہے ۔ پاکستان کو سعودی عرب سے ایک خاص دینی، سماجی، تاریخی اور روحانی نسبت ہے، اور برس ہا برس سے حرمین شریفین کو اہل پاکستان نے ہمیشہ اپنے دل میں احترام و عقیدت سے جگہ دی ہے، دونوں ملک اپنے لازوال رشتوں اور سیاسی تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، عالمی امور میں جہاں سعودی حکومت نے پاکستانی موقف کی ہمیشہ تائید وحمایت کی وہاں اقتصادی ، تعلیمی اور سماجی شعبے میں بھی پاک سعودی تعلقات ہر دور میں مستحکم رہے چنانچہ سماجی، دینی و روحانی نسبت سے عالمی امور اور دو طرفہ سے اسیروابط آئندہ بھی اسی جذبہ اور دوطرفہ مفاہمت اور اشتراک و تعاون سے جاری رہیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع کی موجود گی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب سیاحت کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، انھوں نے سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان کو پاکستان بھر کے تفریحی مقامات کے تفصیلی دورے کی دعوت بھی دی ۔ سیاحت وہ اہم شعبہ ہے جس میں سعودی سرمایہ کاری کے بیش بہا امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم اور سعودی شہزادہ برف سے ڈھکے کشمیر پوائنٹ کے خوبصورت نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پاکستان کے کئی صحرا اور چٹیل میدان پاک سعودی مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سرسبز و شاداب علاقوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف نے سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کی والدہ سلطانہ ترکی السدیری کے نام سے منسوب سلطانہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ تعلیم وتحقیق اور سماجی ترقی‘‘ کے مرکز کے نئے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے تعلیم کے حصول کو کلیدی کردار حاصل ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی سے اقتصادی خرابیاں دور ہو سکتی ہیں اور ساتھ ہی قوم کی سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں مسلم ممالک بہت پیچھے ہیں ، سعودی عرب کی قیادت میں تمام اسلامی ممالک اپنے جدید علمی اور ٹیکنالوجیکل ضروریات کی تکمیل کے لیے وسیع تر اشتراک عمل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے تعلیم کے لیے سلطانہ فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہزادہ سلطان بن سلمان کی یہاں موجودگی پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان پائیدار اور دائمی دوستانہ تعلقات کی واضح علامت ہے ، پاکستان اور سعودی عرب عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ تعلیم وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان اور سعودی ماہرین تعلیم کے فروغ ، فکری پسماندگی ، جہالت کے خاتمہ اور جدید ترین علمی تحقیق کے نئے در کھول سکتے ہیں، شہزادہ ترکی الفیصل پہلے ہی ایک متحدہ اسلامی فورس کے قیام کی ڈاکٹرائن پیش کرچکے ہیں اس پر مسلم ممالک کے تحفظات ہو سکتے ہیں تاہم تعلیمی شعبے میں ایسی کوئی فورس بن جائے تو آئندہ کئی نسلیں مغرب کے تعلیمی تقابل کے قابل ہوسکتی ہیں ۔ پاک سعودی تزویراتی و عسکری تعاون بھی روبہ عمل لایا جارہا ہے ،پاکستان کو خطے میں بدامنی اور امن امان کی ابتری کا مسئلہ درپیش ہے جب کہ سعودی حکومت علاقائی سلامتی کے اقدامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے، عالم اسلام کو آنے والے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پر امن بقائے باہمی اور علاقائی سلامتی کے معاہدوں سمیت ملت اسلامیہ کی اجتماعی نگہبانی کا بھی کوئی میکنزم وضع کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں متعلقہ بین الاسلامی اداروں کا احیا ضروری ہے جب کہ اس کام کی ابتدا سعودی قیادت کے مفید مشاورت سے کی جانی چاہیے ۔

دریں اثناشہزادہ سلطان بن سلمان نے کہا کہ سلطانہ فاؤنڈیشن کا قیام ان کی والدہ کا آئیڈیا تھا ، فاؤنڈیشن کے آئندہ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم اپنے پروگراموں کو اسکولز سے کالجز اور میڈیکل کالجز کے ساتھ ساتھ ضرورت مند طلبہ کے لیے وظائف تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں یہ ترقی کے مزید منازل طے کرے گا، ہم پاکستان کا مستقبل تابناک اور روشن دیکھتے ہیں ، تعلیم اور طب کے شعبے میں پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے۔ تعاون و امداد کی اس یقین دہانی کے ثمرات کے حصول کے لیے ہمہ جہت منصوبہ بندی کی جائے ۔ وزیراعظم نواز شریف کو سعودی محبتوں ،اور خیر سگالی کا جو تحفہ ملا ہے اس سے اہل وطن کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی زندگی میں انقلاب آنا چاہیے۔ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز السعودکا دورہ بلاشبہ دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اورپاکستان سے سعودی عوام اور حکمرانوں کی دلی قربت و وابستگی کو مستحکم کرنے میں اہم پیش رفت کا باعث بنے گا۔

Pakistan and Saudi Arabia Relations

Enhanced by Zemanta