Showing posts with label ISI. Show all posts

اندرونی چوٹیں.........


ایک جھوٹ چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کل کون کون کتنا جھوٹ بول رہا ہے اور کس کس ادارے کو دنیا کے سامنے تماشہ بنا رہا ہے ۔ جیو ٹی وی پر غداری کا الزام لگا کر پیمراسے کارروائی کی درخواست کی گئی تھی ۔ پیمرا کی کارروائی سے قبل ہی جیو ٹی وی کی بندش شروع ہو گئی اور روزنامہ جنگ کی گاڑیوں پر حملے شروع ہو گئے۔ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد جیو کو نہ غدار ثابت کیا جا سکا نہ کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لایا گیا اور پیمرا نے جیو کو پندرہ یوم کیلئے معطلی اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ۔ جب جیو کیخلاف پیمرا کا فرمان مختلف ٹی وی چینلز پر گونج رہا تھا تو میں ایک دفعہ پھر ہاسپٹل جانے کی تیار کر رہا تھا ۔19 اپریل کو کراچی میں قاتلانہ حملے میں پیٹ میں لگنے والی ایک گولی نے مثانے کو بھی نقصان پہنچایا تھا جس کے باعث ایک گردہ بھی متاثر ہوا ۔ ڈاکٹروں نے طویل آپریشن کے دوران میرے گردے او مثانے میں ایک سٹنٹ ڈال دیا تھا ۔

اس سٹنٹ کو چھ ہفتوں کے بعد نکلوانا تھا ۔ چھ ہفتے پورے ہونے کو تھے دوستوں اور عزیزوں کا دبائو تھا کہ یہ کام بیرون ملک سے کرایا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کام راولپنڈی کے ایک ماہر ڈاکٹر کے ہاتھوں اسلام آباد کے ایک ہاسپٹل میں بخیرو عافیت انجام پا گیا ۔تمام دن ہاسپیٹل میں گزرا ڈاکٹر نے تاکید کی کہ کم از کم مزید ایک رات ہاسپیٹل میں ضرور گزاری جائے لیکن ہاسپیٹل کے عملے کی منت سماجت کرکے میں رات کو ہی گھر واپس آ گیا ۔ جسم سے سٹنٹ نکلنے کے بعد لمبی نیند آئی۔ اگلی صبح بیدار ہوا تو ایک صحافی دوست کا پیغام ملا کہ اسے شمالی وزیرستان کے ایک فون نمبر سے کال کرکے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ جیو چھوڑ دے ورنہ اس کا انجام برا ہو گا ۔ نجانے یہ خوفناک پیغام پڑھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ کیوں پھیل گئی شائد میں دھمکیاں دینے والوں کی بیوقوفی پر مسکرا رہا تھا ۔ اخبارات کا بنڈل کھولا تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی مایوسی سے ملاقات ہوئی ۔

خواجہ صاحب کے خیال میں پیمرا کی طرف سے جیو ٹی وی کو سنائی جانے والی سزا بہت کم ہے اور وزارت دفاع اس سزا پر نظرثانی کی درخواست کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ عمران خان کو بھی یہ سزا کم لگ رہی ہے بلکہ جیو اور حکومت کی ملی بھگت لگ رہی ہے تاہم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو یہ سزا بہت زیادہ لگی انہوں نے کہا کہ جیو کیلئے صرف ایک دن کی بندش ہی کافی تھی ۔ جس واقعے سے اس بحران نے جنم لیا وہ 19اپریل کو پیش آیا تھا ابھی تک حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ 19اپریل کو کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ کس نے کیا ؟اس دن پرویز مشرف کو کراچی لایا جا رہا تھا شہر میں ریڈالرٹ تھا ۔مجھ پر ایئر پورٹ کے قریب پہلی گولی چلائی گئی جو کندھے میں لگی پھر حملہ آوروں نے کئی کلو میٹر تک پیچھا کیا ۔ آخری گولی آغا خان ہاسپیٹل کے قریب ماری گئی اس پورے راستے میں پولیس اور رینجرز کہاں تھی ؟ سکیورٹی کیمرے کیوں بند تھے؟

ان سوالات کے جواب نہیں دیئے جا رہے الٹا یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ مجھ پر کوئی حملہ نہیں ہوا بلکہ میں نے کسی کے جسم میں چھ گولیاں اتار دی ہیں ۔ اسے کہتے ہیں چوری اور اس پر سینہ زوری ۔ کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے حملے کے نو روز کے بعد مجھے اصل کہانی بتا دی تھی اور کہا تھا کہ سب کچھ پتہ چل گیا ہے لیکن کراچی پولیس میں اتنی طاقت نہیں کہ اصل کہانی بتا دے ۔ اس افسر نے یہ کہہ کر میرا منہ بند کرا دیا کہ ہم پولیس والے تو وزیر دفاع سے بھی زیادہ بے اختیار ہیں ۔ مجھے جو کچھ معلوم تھا وہ میں نے جوڈیشل کمیشن کو بتا دیا اور اس معاملے پر فی الحال زیادہ بات نہیں کروں گا کیونکہ ادارے کے ایک سینئر ایڈیٹر اور جناب مجیب الرحمان شامی صاحب نے بزرگانہ محبت کے ساتھ مشورہ دیا ہے کہ میں صرف اپنی صحت یابی کی طرف توجہ دوں ۔

میرے جسم پر چھ گولیوں نے نو زخم لگائے تھے ۔سات زخم بہتر ہو چکے اب صرف دو زخموں کی ڈریسنگ ہوتی ہے اور اندرونی چوٹوں کے علاج کیلئے فزیو تھراپی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ میری اندرونی چوٹوں کو تیزی کے ساتھ بہتر کر رہا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ پاکستان کی اندرونی چوٹوں کا علاج کرنے کیلئے کوئی مسیحا کہاں سے آئے گا ؟یہ شدید گرمی کا موسم ہے رات کو جب بجلی چلی جاتی ہے اور صرف پنکھے کی ہوا پر گزارا شروع ہوتا ہے تو جسم پسینے سے بھیگ جاتا ہے ۔ جب میں اپنے زخموں کو پسینے سے بچانے کیلئے کروٹیں لینے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے شمالی وزیرستان کے وہ ہزاروں لوگ یاد آتے ہیں جنہوں نے پچھلے کچھ دنوں میں اپنا گھر بار چھوڑ کر بنوں اور پشاور کی طرف ہجرت کی ۔ اس گرمی میں بے سروسامانی کے ساتھ یہ ہزاروں مظلوم پاکستانی کیسے گزارا کرتے ہونگے ؟

مجھے یاد ہے کہ 2005ء میں میران شاہ میں اتمان زئی اور داوڑ قبائل کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا مجھے اس جرگے میں شامل ہونے کا موقع ملا اور میں نے جرگے میں شامل عمائدین کے خیالات کیپٹل ٹاک کے ذریعہ پوری دنیا تک پہنچائے ۔ پھر مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع اور آخر کار 2006ء میں دوامن معاہدوں کے راستے کھلے ۔ایک معاہدہ شمالی وزیرستان میں ہوگیا دوسرا باجوڑ میں ہونا تھا لیکن اس معاہدے کو امریکہ کے ڈرون حملے نے سبوتاژ کر دیا ۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ خود تو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے لیکن پاکستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات پر تحفظات کا شکار ہے ۔ امریکہ نے حال ہی میں اپنے ایک اغواء شدہ فوجی سارجنٹ برگدال کے بدلے میں گوانتا ناموبے سے افغان طالبان کے پانچ بڑے رہنمائوں کو رہا کر دیا ہے ۔

امریکہ کی قید سے رہائی پانے والوں میں ہرات کے سابق گورنر ملا خیر اللہ خیرخواہ اور بلخ کے سابق گورنر ملا نور اللہ نوری بھی شامل ہیں جو رہائی کے بعد ایک سال تک قطر میں رہیں گے ۔ ظاہر ہے کہ طالبان کے یہ رہنما قطری حکام کے ساتھ مل کر امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے لیکن دوسری طرف امریکی حکام شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے حق میں ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ لاہور سے اغوا ہونے والا ایک بزرگ امریکی وارن وائن سٹائن شمالی وزیرستان میں قید ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں 2006ء میں طے پانے والا امن معاہدہ ٹوٹ چکا ہے ۔ اس امن معاہدے کے فریق طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر نے اپنے علاقے میں حکومت کے خلاف مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے ۔ شمالی وزیرستان کی آدھی آبادی صوبہ خیبر پختونخوا کی طرف بھاگ رہی ہے اور ایک بڑی تعداد افغانستان کی طرف ہجرت کر رہی ہے ۔ یاد رکھئے کہ افغانستان ہجرت کرنے والے افغان حکام اور پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والے پاکستانی طالبان کے رحم وکرم پر ہونگے ۔ اب افغان طالبان پاکستان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے ۔

افغان طالبان اپنے معاملات نمٹا رہے ہیں اور ہم اپنے معاملات بگاڑ رہے ہیں ۔ شمالی وزیرستان کی نئی صورتحال کے بطن سے پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی ایک نئی نسل جنم لے گی ۔ پاکستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سب سے بڑے علمبردار عمران خان تھے ۔ انکی توجہ انتخابی دھاندلیوں کی طرف زیادہ ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ طاقتور لوگوں کے دبائو کے باعث وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زیادہ زور نہ دے پائیں لیکن وہ مت بھولیں کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے تحریک انصاف کو امن کے نام پر ووٹ دیئے تھے۔ مذاکرات کے ذریعہ امن لانا بنیادی طور پر وفاقی حکومت کا کام تھا وفاقی حکومت اس سلسلے میں بری طرح ناکام ہو چکی لیکن شمالی وزیرستان سے ہجرت کرکے بنوں اور پشاور کی طرف آنے والےمظلوم پاکستانیوں کو سنبھالنا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا مشترکہ فریضہ ہے ۔

 یہ دونوں آپس میں ضرور لڑیں لیکن شمالی وزیرستان کے مہاجرین کی دیکھ بھال کیلئے کوئی مشترکہ حکمت عملی ضرور بنائیں ۔ شمالی وزیرستان کے حالات کو نہ سنبھالا گیا تو پاکستانی معاشرے اور ریاست کیلئے اندرونی چوٹوں میں مزید اضافہ ہو گا ان اندرونی چوٹوں کا بروقت علاج نہ ہوا تو نقصان جسم کے صرف ایک عضو کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہو گا ۔

حامد میر
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

آئی ایس آئی کے خلاف مغربی استعمار کی پروپیگنڈا مہم.........


19مئی کی شب کو بی بی سی کے سیربین پروگرام میں پاکستان کی قومی خبر ایجنسی آئی ایس آئی خاص موضوع گفتگو بنی رہی جس میں فوج کے سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ لیفٹیننٹ (ر) جنرل اطہر عباس، بریگیڈیئر (ر) سعد، شمالی امریکہ میں کسی فکری ادارے ( تھنک ٹینک نہیں کہہ سکتا کہ اس سے باردو کی بو آتی ہے) کے سربراہ کامران بخاری جو مشرق وسطیٰ جنوبی ایشیا ، امریکی امور اور تزویراتی علوم کے ماہر کی حیثیت سے متنوع موضوعات پر رائے زنی کے لے مدعو کیے جاتے ہیں نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر سے سامعین کو آئی ایس آئی کے کردار کے بارے میں باخبر کیا۔ ان مبصرین کی نظر میں آئی ایس آئی کی سرگرمیاں حد سے تجاوز کرنے کے باعث اندرون و بیرون ملک ریاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں لہٰذا انہیں محدود کرنے کی ضرورت ہے البتہ بریگیڈیر سعد نے سلامتی امور میں آئی ایس آئی کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے سراہا جبکہ اطہر عباس کا رویہ معذرت خواہانہ رہا اور انہوں نے فرمایا کہ ماضی میں اس ایجنسی کو آمروں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اس لیے اس کا کردار متنازع ہو گیا۔ آخر میں انہوں نے مشورہ دیا کہ آئی ایس آئی کو اپنے بارے میں منفی تاثر دور کرنے کے لیے ملک کی عسکری تنظیموں کی سرپرستی ترک کر دینی چاہیے جبکہ ایک اور مبصر تو آئی ایس آئی سے اتنے بدظن تھے کہ اسے دوٹوک مشورہ دیا وہ خاموش رہے تو بہتر ہے کیونکہ وہ جتنا ذرائع ابلاغ کو اپنی صفات کے لیے استعمال کرے گی وہ اتنی ہی متنازع ہوتی جائے گی۔ ہم آئی ایس آئی کے سربراہ پر کسی صحافی پر کیے گئے قاتلانہ حملے کا الزام لگانے اور جیو پر اس خبر کو آٹھ گھنٹے چلانے کے پس منظر میں آئی ایس آئی کے احتجاج کو قانونی اقدام سمجھتے ہیں اور اگر کوئی مسخرا یہ کہے کہ اس قومی ایجنسی کو اپنی صفائی میں بھی کچھ کہنے کا بھی حق نہیں ہے اور اسے خاموش رہنا چاہیے تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مؤقر ریاستی ادارہ اپنے اوپر عائد جھوٹے الزام کو تسلیم کر رہا ہے۔ کیا ادارے کے سربراہ کو جیو پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ آئی ایس آئی سے غلطیاں نہیں سر زد ہوئیں اور دنیا کی کونسی ایجنسی ہے جو ادائیگی فرض کے جوش میں اپنے اور غیر ملکی شہریوں کی حق تلفی نہیں کرتی۔ ایسی صورت میں خود ایجنسی یا فوج یا حکومت اس کی اصلاح یا سرزنش کرنے کا پورا حق رکھتی ہے ۔ اس مذاکرے میں برطانیہ ، امریکہ اور کینیڈا میں بیٹھے مبصرین کو آئی ایس آئی کی آنکھ میں پڑا تنکا تو نظر آ گیا لیکن سی آئی اے کی آنکھ میں دھنستی شہتیر نہیں دکھائی دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ سمندر پار بیٹھے تجزیہ نگار اُن ممالک کے شہری ہیں یا دہری شہریت کے حامل ہیں تاہم انہیں یہ مشورہ بارک اوباما کو دینا چاہیے کہ وہ سی آئی اے کو دوسرے ممالک کے شہریوں کو اغوا اور قتل کرنے سے روکے۔ کیا کسی ملک کی ایجنسی کو دوسرے ممالک کے خلاف جنگ کرنے کا اختیار ہ ہے؟ ان معترضین کو اپنے سامعین کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ افغانستان میں روسی افواج کی موجودگی پر مراکش ، الجزائر، تیونس، لیبیا، سعودی عرب، یمن، اردن اورپاکستان سے ایک لاکھ مجاہدین بھرتی کیے ،انہیں تربیت دی اور افغانستان میں داخل کیا تاکہ وہ روسی فوج اور اس کی اتحادی ببرک کارمل اور نجیب کی حکومت کے خلاف چھاپہ مارجنگ شروع کر دیں۔

ان مجاہدین کو امریکی صدر ریگن نے امریکہ کی جنگ آزادی کے سپاہیوں کے مثل قرار دیا اور ان میں مذہبی ولولہ (جسے اب انتہا پسندی کہا جا رہا ہے) پیدا کرنے کے لے اوکلا ہوما یونیورسٹی میں اردو، فارسی اور پشتو زبانوں میں جہاد کے فضائل پر پمفلٹ اور کتابچے شائع کر کے انہیں گھر گھر پہنچایا گیا یہی نہیں امریکی ڈالر اور سعودی ریال سے 1980ء تا 1988ء بے شمار مدارس قائم کیے گئے اور انہیں جہاد کے لیے متحرک کیا گیا۔ لیکن ستمبر 2001ء میں جب امریکہ اور ناٹو ٹولہ افغانستان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس پر قابض ہو گیا اور سی آئی اے نے بگرام میں عقوبت خانے کھولے جبکہ امریکی فوجیوں نے شہری بستیوں پر شب خون مارنا، مردوں کو قتل کرنا اور عورتوں کی عصمت دری شروع کر دی تو سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ افغان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اعلان جہاد کر دیا تو وہی جنگ آزادی دہشت گردی بن گئی اور وہی مجاہدین دہشت گرد بن گئے :
خرد کا نام رکھ دیا جنون اور جنون کا خرد
جو چاہے آ پ کا حسن کرشمہ سا ز کرے

یورپ اور امریکہ میں مقیم مبصرین مقامی حکومتوں کو مشورہ دیں کہ سی آئی اے کے اڈے کیوں نہیں بند کیے جاتے، سی آئی اے یمن، مالی ، صومالیہ، نائیجیریا اور پاکستان پر ڈرون حملے کیوں کرتی ہے؟ کیا کسی ریاست کی مخبر ایجنسی کو دسرے ممالک کے خلاف جنگ، تخریب کاری اور ان کے شہریوں کے قتل اور اغوا کا اختیار حاصل ہے؟ اگر ہے تو کس قانون یا اخلاقی ضابطے کے تحت؟ ہمیں تو مشرف جنتا سے یہی شکایت ہے کہ اس نے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو ایک ہمسایہ ملک پر حملہ آور فوج کی کیوں معاونت کی؟ امارات اسلامی افغانستان سے تو پاکستان کے نہ صرف سفارتی بلکہ خوشگوار برادرانہ تعلقات تھے۔ مشرف یا اس کے بعد سیاسی حکومت نے امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کو کیوں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی؟ امریکی انتظامیہ ہمیشہ افواج پاکستان اور سی آئی اے پر الزام لگاتی رہی کہ وہ طالبان سے ملے ہوئے ہیں۔ کامران بخاری امریکی انتظامیہ سے کہیں ناں کہ وہ سی آئی اے بلیک واٹر کے گماشتوں کو پاکستان میں کیوں داخل کرتی ہے؟ جبکہ ہم آئی ایس آئی سے پوچھیں گے کہ وہ انہیں ملک سے نکال باہر کیوں نہیں کرتی کیونکہ وہ سلامتی کے لیے ایک مہیب خطرہ بن گئے ہیں؟

وکی لیکس اور سنوڈن کے انکشافات سے یہ بات منظر عام پر آ گئی ہے کہ امریکہ نے اندرون و بیرون ملک جاسوسی کا ایسا جال بچھا رکھا ہے کہ نہ تو امریکہ کے کسی شہری کو نجی آزادی (Privacy) حاصل ہے، نہ چہار دیواری کا تقدس نہ مراسلے کے ارسال و حصول کا حق نہ ہی ذاتی بینک کھاتوں ، بیمہ پالیسیوں، جائیداد کی ملکیت کے دستاویزات کی ضمانت، حد تو یہ ہے کہ امریکہ کے وفادار نیٹو حلیف بھی ایجنسیوں کے دست برد سے محفوظ نہیں رہے۔ جرمنی کی چانسلر برازیل کی صدر کے نجی ٹیلیفون تک ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ اسے امریکہ اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اور انسداد دہشت گردی کے نام پر پے در پے جو قوانین پارلیمان منظور کرتی ہے ، اس میں ریاست کی ایجنسیوں کو بھی وہ سب کچھ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جو امریکہ نے سی آئی اے اور دیگر کو دے رکھا ہے۔ شہریوں کو راستے یا گھروں سے اٹھا کر لے جانا اور انہیں نامعلوم حراستی مراکز میں 90 دن تک قیدی رکھنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ اگر ایجنسیاں ان اختیارات کو استعمال کرتی ہیں تو بدنام ہو جاتی ہیں جبکہ اس کی ذمہ دار وہ پارلیمان ہے جو ایسے کالے قوانین منظور کرتی ہے لیکن اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی بلکہ خود بیشتر سیاسی پارٹیاں ایجنسی کی کردار 
کشی کی امریکی اور بھارت کی مہم کی حمایت کرنے لگتی ہیں۔

پروفیسر شمیم اختر
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

Enhanced by Zemanta

پاکستان کے دفاعی اداروں اور جیو نجی میڈیا گروپ کے درمیان محاذ آرائی میں شدت......

پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز نے اپنے لائسنس کی معطلی کے چند گھنٹے کے بعد ملک کے طاقتور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور وزارت دفاع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ کردیا ہے۔

جیو نیوز کے ملکیتی انڈی پینڈینٹ میڈیا گروپ نے یہ دعویٰ دفاعی اداروں کی جانب سے اپنے خلاف عاید کیے جانے والے ملک دشمنی کے الزامات کے جواب میں دائر کیا ہے۔پاکستان کے قومی اداروں اور جیو گروپ کے درمیان معروف صحافی حامد میر پر 19 اپریل کو کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد سے محاذ آرائی چل رہی ہے۔

جیونیوز نے حامد میر پر فائرنگ کے فوری بعد آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر اس حملے کا الزام عاید کردیا تھا اوراس نے اپنی نشریات میں کئی گھنٹے تک ان کی تصاویر اس انداز میں دکھائی تھیں کہ گویا وہی واقعے کے ذمے دار ہیں۔تاہم ابھی تک حامد میر پر حملہ کرنے والوں کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

وزارت دفاع نے گذشتہ ماہ جیونیوز کے خلاف پاکستان کے میڈیا ریگولیٹر ادارے پیمرا کے ہاں درخواست دائر کردی تھی اور اس کا لائسنس معطل کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس پر آج جمعہ کو پیمرا نے جیو نیوز کا پندرہ روز کے لیے لائسنس معطل کردیا ہے اور اس پرقواعد وضوابط کی خلاف ورزیوں پر ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عاید کیا ہے۔

اس کے ردعمل میں جیو اور جنگ گروپ نے وزارت دفاع ،انٹر سروسز انٹیلی جنس اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ایک قانونی نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں نے گروپ کو ملک دشمن قرار دے کر اس کی شہرت داغدار کی ہے اور اس کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس ادارے کے اخبار جنگ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق ''آٹھ ہزار سے زیادہ صحافی ،کارکنان اور پروفیشنلز اس گروپ سے وابستہ ہیں۔پاکستان بھر میں نہ صرف انھیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ان پر حملے بھی کیے گئے ہیں اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے''۔

جیو نیوز نے آئی ایس آئی سے کہا ہے کہ وہ چودہ روز میں ادارے پر عاید کردہ ملک دشمنی کے الزامات واپس لے اور معافی نامہ جاری کرے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نجی ادارے نے اس طرح آئی ایس آئی کو نوٹس جاری کیا ہے اور اس سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جیو کے اس اقدام اور پیمرا کے حکم سے ظاہر ہے کہ ملک میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری میڈیا کی لڑائی ختم نہیں ہوگی بلکہ اس میں اب اور بھی شدت آئے گی۔جیو نے اس سے پہلے خود آئی ایس آئی اور وزارت دفاع سے اپنی مذکورہ نشریات پر معافی طلب کی تھی لیکن اس کے باوجود اس کو معاف نہیں کیا گیا تھا اور اب اس نے جوابی وار کرتے ہوئے آئی ایس آئی سے معافی کا مطالبہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری کی ایک تین رکنی کمیٹی نے گذشتہ ماہ جیو ٹی وی نیٹ ورک کے تین ٹیلی ویژن چینلوں کے لائسنس عارضی طور پر منسوخ کرنے اور اس کے دفاتر سیل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا کیونکہ خود پیمرا نے ہی اپنے تین پرائیویٹ ارکان کے فیصلے سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔ پیمرا کے مذکورہ حکم سے قبل ہی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں جیو کی نشریات معطل ہیں یا پھر کیبل آپریٹروں نے حکام کے دباؤ پر اس کو آخری نمبروں پر کردیا ہے۔پاکستان کے دو تین اور نجی ٹی وی چینلز بھی جیو کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور اس کو اپنے ٹاک شوز میں ملک دشمن قرار دے رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بزعم خویش محب وطنوں نے اس چینل کے خلاف مہم شروع کررکھا ہے۔تاہم ملک کی صحافتی برادری اس چینل کی بندش کے خلاف ہے

نیزے پہ بھی سر اپنا سرفراز رہے گا.......


یہ کیسی بہادری ہے؟ ان لوگوں کی بہادری بندوق کی نالی کے پیچھے ایک آنکھ بند کر کے ٹریگر دبانے کا انتظار کرتی ہے۔ بندوق کی گولیوں میں موجود بارود کے بل بوتے پر یہ بہادر لوگ کسی بھی نہتے انسان کو غدار قرار دے ڈالتے ہیں، کافر قرار دے ڈالتے ہیں لیکن جب ان کے ہاتھ میں بندوق نہ ہو تو پھر یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ بھگوڑے بن جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچائی بندوق سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور سچ بولنے والوں کو اپنی بات منوانے کیلئے بندوق کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی بندوقوں والے سچے لوگوں کو خاموش کروا سکتے ہیں ظفر آہیر بھی وطن عزیز کے ان نہتے اور مظلوم صحافیوں میں سے ایک ہے جنہیں بندوق کی نالی کے پیچھے چھپ کر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں غدار اور غیر ملکی ایجنٹ کہا گیا لیکن ظفر آہیر صرف پاکستان کے اہل صحافت کا نہیں بلکہ عام لوگوں کا ہیرو بن کر سامنے آیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ظفر آہیر پر حملہ کس نے کیا لیکن حکومت حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

سب جانتے ہیں کہ جیو ٹی وی، جنگ گروپ اور ان اداروں سے وابستہ صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ کون ہے لیکن عدالتیں کہتی ہیں کہ ثبوت لیکر آئو۔ جب اعلیٰ عدالتیں حکم دیتی ہیں کہ جیو ٹی وی کی بندش غیر قانونی ہے اور جیو ٹی وی کو بحال کیا جائے تو ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا کیونکہ کیبل آپریٹروں کو بھی بندوق کی نالی کے پیچھے بیٹھی وحشت و درندگی سے خطرہ لاحق ہے ۔ پچھلے کچھ ہفتوں کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت اسی کے پاس ہے جس کے پاس بندوق ہے ۔ آئین و قانون صرف کمزور لوگوں کیلئے ہے۔ حکومت بے بس ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا ۔ حکومت آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات سے گریز کر رہی ہے۔

حکومت کا سارا زور لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کی ملاقات کی مذمت پر ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے کوئی لاکھ اختلاف کرے لیکن پاکستان آکر سیاست کرنا ان کا حق ہے ۔ حکومت ڈاکٹر طاہر القادری پر غصہ نکالنا چھوڑے اور ہمیں یہ بتائے کہ روزنامہ جنگ ملتان کے ایڈیٹر ظفر آہیر پر حملہ کرنے والے ریاست سے زیادہ طاقتور کیوں ہیں ؟ لاہور، راولپنڈی اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں جنگ کی گاڑیوں پر حملہ کرنے والوں کا سراغ کیوں نہیں لگایا جاتا ؟ کچھ وفاقی وزراء کہتے ہیں کہ صورتحال بڑی نازک ہے، ان کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیجئے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ’’ان‘‘ کا غصہ پاکستان کے آئین اور قانون سے زیادہ بڑا ہے ؟ اگر ’’ان‘‘ کا غصہ ہی پاکستان کا اصل آئین و قانون اور پاکستان کا اصلی قومی مفاد ہے تو پھر یہ غصہ ہمیں 1971ء میں کیوں نظر نہ آیا ؟ اس وقت تو بڑی سعادت مندی سے دشمن کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے گئے تھے ۔

میں طنز اور طعنوں کے ذریعہ کسی کو نیچا نہیں دکھانا چاہتا لیکن جن لوگوں نے ظفر آہیر کو بندوقوں کے بٹ مارتے ہوئے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیا ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بتائو1971ء میں کوئی جیو ٹی وی موجود تھا ؟ تاریخ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ 1971ء میں مغربی پاکستان کے اخبارات بشمول روزنامہ جنگ وہی کچھ لکھتے تھے جو ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کی حکومت انہیں بتایا کرتی تھی۔ سوائے ایک دو اخبارات کے چند صحافیوں کے کسی نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت نہ کی۔ پھر بھارت کے سامنے تاریخ کا اتنا بڑا سرنڈر کیوں کیا گیا ؟ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فوج کے بعض افسران اور جوانوں نے بڑی بہادری دکھائی لیکن جب راولپنڈی کے حکم پر سرنڈر کیا جا رہا تھا تو اس وقت خون کے آخری قطر ے اور آخری گولی تک لڑنے کے وعدے کہاں گئے تھے؟کیا ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ یہ پوچھیں کہ آپ کا سارا غصہ اور ساری حب الوطنی صرف اپنوں پر انگارے بنکر کیوں ٹوٹتی ہے ؟ 1971ءمیں تو جیو ٹی وی نہیں تھا پھر پاکستان کس نے توڑ دیا ؟ 1984ءمیں بھی جیو ٹی وی نہیں تھا پھر سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کیسے ہو گیا ؟ 1999ء میں بھی جیوٹی وی نہیں تھا پھر کارگل سے پسپائی کیوں ہوئی ؟ جیو ٹی وی 2002ء میں آیا اور جیو ٹی وی پر ہم جیسے صحافیوں نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی حکومت سے یہ پوچھنا شروع کیا کہ پاکستان کے فوجی اڈے غیر ملکی طاقتوں کو کس سے پوچھ کر دیئے گئے ؟ جیوٹی وی پر ہم جیسے صحافیوں نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ پاکستان کے فوجی اڈوں سے اڑنے والے ڈرون طیارے پاکستان میں کس کی اجازت سے حملے کر رہے ہیں ؟

جیو ٹی وی پر بیٹھے صحافیوں اور دوسرے چینلز نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ مشرف حکومت اور اسرائیل کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کے کیا مقاصد ہیں ؟ جیو ٹی وی پر بیٹھے اینکرز اورمہمانوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ مشرف حکومت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرکے بھارت کے ساتھ کیا سودے بازی کر رہی ہے ؟ جب یہ سوالات اٹھائے گئے تو پہلے مجھے غدار کہا گیا پھر جیو کو بھارت اور اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ جیو کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینے والے اپنے پیرومرشد سید پرویز مشرف کی کتاب پڑھ لیں ۔ اس کتاب میں موصوف نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ شکر ہے کہ ابھی تک یہ جرات کسی سیاست دان یا صحافی سے سرزد نہیں ہوئی ورنہ ابھی تک بندوق کی نالی کے پیچھے چھپی حب الوطنی اور دینی غیرت اپنا کام دکھا چکی ہوتی ۔

زیادہ تفصیل میں نہیں جائوں گا ۔ مختصر یہ کہ آج کل آپ کو پاکستان میں جو بحران نظر آ رہا ہے اس بحران نے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے کی کوکھ سے جنم لیا ہے ۔ بندوقوں والے بھارت و اسرائیل کے منظور نظر پرویز مشرف کو ہر صورت غداری کے مقدمے سے بچانا چاہتے ہیں ۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ سیاست و صحافت میں جو لوگ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہ چلانے کا مشورہ دے رہے تھے ان کی اصلیت سامنے آ چکی ہے ۔ ان میں سے اکثر سیاست دان، دانشور اور نام نہاد صحافی آج کل جیو ٹی وی کو غدار قرار دیکر اپنے اصلی آقائوں کو خوش کر رہے ہیں ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ۔ عوام کے سامنے سب کے چہروں سے نقاب اتر چکا۔ جن لوگوں نے 1971ء میں بنگالیوں کو غدار قرار دیکر انہیں گولیاں ماریں آج ہمارے پیچھے پڑے ہیں ۔ جن لوگوں نے بلوچوں کو غدار قرار دیکر انہیں لاپتہ کیا اور انکی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکیں آج جیو ٹی وی کو لاپتہ کرکے قتل کرنا چاہتے ہیں اور کچھ بھاڑے کے ٹٹو قلم فروش غداری کا ڈھول پیٹنے والوں کے آگے آگے بڑی بے شرمی کے ساتھ ناچ رہے ہیں ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قلم فروشوں اور ضمیر فروشوں کی اس چھوٹی سی ٹولی کو پاکستان کے اہل سیاست و صحافت کی بڑی اکثریت نے مسترد کر دیا ہے اور ان سے پوچھ رہی ہے کہ تمہاری قومی غیرت اور حب الوطنی اس وقت کہاں تھی جب ایک شب امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر ایبٹ آباد آئے اور ایک آپریشن میں تمہاری سب پھرتیوں اور چالاکیوں کو کفن میں لپیٹ کر افغانستان لے گئے ؟ اللہ کرے پاکستان کو جلد از جلد مشرف کی باقیات سے نجات ملے اور ہماری فوج ایک دفعہ پھر میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شریف شہید جیسے بہادروں کے کردار کا نمونہ بن جائے جو ظفر آہیر جیسے نہتے ہم وطنوں کیخلاف نہیں بلکہ طاقتور دشمن کے خلاف جنگ کرتے تھے ۔آخر میں ظفر آہیر پر حملہ کرنے والے مکاروں کے نام فیض احمد فیض کا یہ پیغام عرض ہے ۔

تاحشر زمانہ تمہیں مکار کہے گا

تم عہد شکن ہو، تمہیں غدار کہے گا

جو صاحب دل ہے، ہمیں ابرار کہے گا

جو بندہ حر ہے ،ہمیں احرار کہے گا

نام اونچا زمانے میں ہر انداز رہے گا

نیزے پہ بھی سر اپنا سرفراز رہے گا


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

جیو، جنگ گروپ فوج اور آئی ایس آئی سے معافی کے طلبگار........

Advice to Geo and Jang Group........غلطیوں کا ازالہ صرف معافی سے ممکن


جیو اور جنگ کی مینجمنٹ اور اس سے منسلک اپنے آپ کو اعلیٰ درجے کا دانشور سمجھنے والے چند مخصوص اینکرز اور تجزیہ نگار حضرات اپنے ساتھ ہونیوالے شدید عوامی ردعمل اور برتاؤ پر گریہ، آہ و بکا اور غیر مدلل چیخ و پکار کرنے کے بجائے ’’میڈیا کی آزادی اور باخبر ذرایع‘‘ جیسے استثنا اور استحقاق لیے ہوئے لفظوں کی آر میں ماضی بعید اور ماضی قریب مین معزز اشخاص اور اداروں کو رسوا اور بے عزت کرنیوالے رویے کا ادراک کریں اور احساس کریں کہ کس طرح ان کی غفلت اور غیر ذمے دارانہ تجزیاتی انداز نے صرف الزامات اور اپنی ذاتی پسند و ناپسند کے معیار پر قائم متعصبانہ Perception کے ہتھیار سے کتنے لوگوں کے عزت و وقار کو مجروح کیا۔ کتنے لوگوں کو ان کے جرم ثابت کیے بغیر قوم کے سامنے مجرم بناکر پیش کردیا۔

اسی کا شہر، وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقین تھا ہمارا قصور نکلے گا

دولت، شہرت اور فرمانبردار افرادی قوت کا ہمیشہ سے ہی یہ خاصا رہا ہے کہ یہ جب کسی ادارے کو حاصل ہو جائے تو وہ اس زعم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ ’’وہ اب سب کچھ کرسکتا ہے‘‘ مگر نہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا چونکہ ایک انسان دولت، شہرت اور افرادی قوت کی بنیاد پر ’’بہت کچھ کرسکتا ہے مگر سب کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا رونا رونے کے بجائے اپنی غلطیوں کا صدق دل اور کھلے ذہن سے تجزیہ کیجیے پچھلے دس بارہ سالوں میں اپنائی جانیوالی روش کا جائزہ لیجیے۔سب سے پہلے اس بات کا جائزہ لیجیے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ادارے کا رویہ انتہائی متعصبانہ نہیں رہا؟ حزب اختلاف کا دور ہو یا حزب اقتدار کا دور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی کردار کشی کرنے اسے رسوا کرنے اور اسے بدنام کرنے کی باقاعدہ عملی اور ابلاغی جدوجہد نہیں کی گئی؟

کیا محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی عظیم قائد اور ان کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری کو بغیر کسی ثبوت کے ایک بدعنوان ترین شخص بناکر پیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی؟ کیا بالواسطہ طور پر انھیں میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی سازش میں شامل کرنے کی کوششوں کو تقویت دینے اور اس الزام کو ہوا دے کر عوام میں انھیں غیر مقبول بنانے کی مبالغہ آرائی نہیں کی گئی؟کیا میمو گیٹ کے معاملے پرسابق صدر آصف علی زرداری کو ’’غدار‘‘ قرار دلوانے کی شعوری کوشش نہیں کی، کیا منصور اعجاز کو ہر قیمت پر پاکستان آکر گواہی اور ثبوت فراہم کرنے کی یقین دہانیوں کی بھرپور کمپین نہیں چلائی گئی؟

19 جون 2012 کو اس وقت کے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو بار بار یہ بات یاد نہیں دلوائی گئی کہ کروڑوں ووٹوں سے منتخب شدہ وزیر اعظم نے آپ کی توہین کی ہے اور اب ہر صورت انھیں توہین عدالت کا مجرم قرار دے کر عدالت عالیہ کا وقار بلند کیا جائے کیا یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا؟ کیا اس ادارے نے کبھی اپنے اس انتہائی غیر ذمے دارانہ رویے اور برتاؤ کا تجزیہ کیا جس نے پیپلز پارٹی سے وابستہ کروڑوں افراد کے دلوں کو زخمی کردیا۔ کیا پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت جو ایک عظیم لیڈر کی شہادت کے نتیجے میں انھیں ملا تھا کیا۔کیا پچھلے پانچ سالوں میں کوئی ایک بھی تجزیاتی پروگرام ٹیلی کاسٹ کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی کے عوامی بھلائی سے متعلق کسی اقدام یا کسی مثبت پہلو کو اجاگر کرنے کی خفیف سی کوشش کی ہو؟

ارسلان افتخار کے معاملے پر اپنا سارا وزن چیف جسٹس آف پاکستان کے پلڑے میں نہیں ڈالا؟

پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ہونے کا اعزاز رکھنے کے باوجود ملکی تحفظ کے سب سے اعلیٰ ادارے کے خلاف ایسے بے بنیاد الزامات عائد کردیے جن الزامات کو عائد کرنے سے پہلے ہماری سالمیت کے دشمن بھی دس بار سوچتے ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ایسے الزام عائد کرکے دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کردی اور ہماری انتہائی مشکل ترین حالات سے نبرد آزما پاکستان کی بقا کی جنگ میں مصروف عظیم فوج کو مزید مشکلات سے دوچار کردیا۔ عقل، دانش اور فہم مشکل حالات کو صبر حوصلے اور قربانی کے ساتھ نمٹنے کا سبق دیتی ہے۔

گواہ اور ثبوت کے بغیر الزام محض الزام رہتا ہے جو ہمیشہ الزام لگانے والے کے لیے رسوائی اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ معلومات سے متعلقہ ذمے دار ادارے ’’افواہ‘‘ کو کبھی بھی ’’خبر‘‘ کا درجہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔ تدبر، فہم و فراست اور حقیقت کے متلاشی صاحب قلم لوگ ریٹنگ بڑھانے کے مقصد کے حصول کی خاطر اپنے قلم کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دیتے وہ مبینہ سے ’’مصدقہ‘‘ کا کٹھن سفر طے کرکے ہی اپنے ملک و قوم کو حقیقت اور سچائی سے آشنا کرنے کا عظیم کام کرتے ہیں۔ ملک و قوم کی بقا اور ان کی فلاح اور بہبود کے لیے قائم کیے گئے آئینی اداروں کا نہ صرف تحفظ کرتے ہیں بلکہ ان کی آبیاری اور نشو و نما میں اپنی دانش اور شعور کو استعمال کرکے اپنا قومی فریضہ نبھاتے ہیں۔

میری دانست میں مصلحت حالات کا تقاضا ہے کہ ماضی میں کی ہوئی مجرمانہ انداز فکر سے دست بردار ہوکر قوم سے اور ملک کے جغرافیے کی حفاظت پر معمور قوم کے ان عظیم سپوتوں سے اپنی غلطیوں پر غیر مشروط معافی مانگی جائے اور اپنی ذہنی اور ابلاغی صلاحیتوں کو پاکستانی فوج کے امیج اور حوصلوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کے موقف کو سپورٹ کیا جائے اور قوم کو ان کے مسائل پر تنقید اور صرف تنقید کے بجائے ان کے مسائل کو حل کرنے کی تدابیر بتائی جائیں تاکہ قوم مایوسی کے اندھیروں سے نکل سکے۔

یاد کریں وہ وقت جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں آپ کے ادارے کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو پوری پاکستانی قوم آپ کے ساتھ کھڑی تھی۔ اور وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج پوری قوم آپ کے اس ادارے کا بائی کاٹ کرکے ایسے بند کرنے کی خواہاں ہے۔ اب حکومت وقت کے سایہ تلے کسی ریلیف کی کوشش کرنے کے بجائے قوم سے معافی مانگیں اور اپنی پرانی مغرورانہ، ’’اور ہم سے بہتر کوئی نہیں‘‘ کے خود ساختہ اور پرفریب تصور سے باہر نکلیں۔ اور عوام کو اپنا ہم نوا بنائیں چونکہ جن لوگوں کے ساتھ قوم کھڑی ہو وہ ادارے نہ کبھی بند ہوتے ہیں اور نہ ہی کبھی ختم ہوتے ہیں ’’امن کی آشا‘‘ جیسے پروگرام ان ملکوں کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے جو ہمیں مستقبل میں ’’پیاسا‘‘ اور ’’بھوکوں‘‘ مارنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوں۔

تجویز:- اداروں میں ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل قوم کے لیے ہمیشہ سود مند رہتا ہے مشورہ ہے کہ ’’ایکسپریس ٹی وی چینل‘‘ پر موجود جاوید چوہدری ، معید پیرزادہ ، ایاز خان جیسے فہم و فراست کے مالک اینکر حضرات سے ’’ٹی وی ٹاک شوز‘‘ کو نشر کرنے کے سلیقے سیکھیے تاکہ مستقبل میں آپ کے ادارے کو ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میری اس رائے کو منفی نہیں مثبت انداز میں لیجیے گا۔

آئی ایچ سید  

جیو گروپ اور آئی ایس آئی… اصل لڑائی کیا ہے…؟........


ملک بھر کے صحافیوں کو نظرانداز بلکہ ان کی توہین کرنے والا اور اپنے کارکنوں اور صحافیوں کا استیصال کرنے والا ادارہ اب حامد میر کے معاملے میں کیوں ڈٹ گیا ہے اور چھوٹے چھوٹے افراد اور طاقتور گروپوں کے سامنے لیٹ جانے والے ادارے میں اچانک اس قدر جرأت کیسے آ گئی؟ یہیں سے یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ کہیں یہ کوئی سازشی کھیل تو نہیں؟ اور اچانک صحافیوں کی ہمدردی میں اور فوج کے خلاف ڈٹ جانے کے پیچھے کوئی غیر ملکی ایجنڈا تو نہیں ہے؟ کیونکہ ماضی میں یہی جنگ اور جیوکا ادارہ تمام فوجی آمروں کا پشت پناہ رہا ہے، ان سے بھرپور تعاون کے ساتھ مراعات بھی لیتا رہا ہے اور اس طاقت کے بل پر وہ دوسرے حریف اداروں کو نیچا دکھاتا رہا ہے۔ پرویزمشرف کے دور میں اس میڈیا گروپ کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ اس میں بہت سے صحافی تو براہِ راست آئی ایس آئی کے بھیجے ہوئے بیٹھے ہیں، اور بہت سوں نے بعد میں اس طاقت ور خفیہ ادارے سے اپنے روابط مضبوط کرلیے ہیں۔ صحافتی حلقوں میں اس گروپ کے اخبارات اور چینلز کے بہت سے سربراہوں کے بارے میں یہ باتیں عام تھیں کہ انہیں محض اس وجہ سے یہ عہدے دیے گئے ہیں کہ ان کے خفیہ اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔

 خود یہ میڈیا گروپ فوج اور خصوصاً آئی ایس آئی بلکہ آئی ایس پی آر تک کے بارے میں اس قدر محتاط، حساس اور فکرمند تھا کہ نہ صرف ہمیشہ ان کی ستائش میں رطب اللسان رہا بلکہ ان کو ناراض کرنے کا تصور تک نہیں کرتا تھا۔ 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران جن دس صحافیوں نے فوجی حکومت کے خلاف محضرنامہ پر دستخط کیے اور اس کے نتیجے میں وہ بے روزگار ہوگئے ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بڑے میڈیا گروپ نے اپنے اخبارات و جرائد میں جگہ نہیں دی۔ اسی گروپ سے وابستہ بعض صحافیوں کے بارے میں کسی بڑے سے بڑے ایڈیٹر اور چھوٹے سے چھوٹے ایڈیٹر کو یہ اختیار نہیں رہا کہ وہ ان کی خبروں میں کسی قسم کی قطع وبرید یا ایڈیٹنگ کرسکیں، حالانکہ انہیں تنخواہ ہی اس کام کی دی جاتی ہے۔

 اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ یہ صحافی بڑے مؤثر اور خفیہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ ضیاء الحق دور میں جنگ لاہور کے ایک رپورٹر نے ریفرنڈم کی خبر دی۔ یہ خبر شائع ہوئی تو فوجی حکومت غصے میں آگئی، چنانچہ اس رپورٹر کو پکڑ کر اُس وقت کے وزیر اطلاعات کے سامنے پیش کردیا گیا۔ اس دباؤ کے بعد رپورٹر کو تو نوکری سے نکال دیا گیا مگر اخبار ریفرنڈم کا اعلان ہونے پر ’جنگ کا اعزاز‘ کی سرخی کے تحت یہ خبر بار بار شائع کرتا رہا۔

 جب 1990ء میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں انتخابی شکست آئی جے آئی نے نہیں بلکہ آئی ایس آئی نے دی ہے تو یہ میڈیا گروپ بے نظیر کے ساتھ نہیں تھا۔  یہی مصلحت پسند اور کاروباری مزاج کا میڈیا گروپ اِس بار ملک کے سب سے طاقتور ادارے کو چیلنج کررہا ہے، لیکن کیوں؟ کچھ لوگوں کا خدشہ ہے کہ یہ بھی آئی ایس آئی کے کسی ایجنڈے کا حصہ نہ ہو۔ کچھ کا خیال ہے کہ اِس بار یہ میڈیا گروپ کسی غیر ملکی ایجنڈے پر ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ محض بریکنگ نیوز کے شوق میں اس سے ایک غلطی ہوگئی جسے وہ مجبوراً تاحال چلائے جارہا ہے۔ اسی لیے وہ کبھی پسپائی اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی جارحیت کے موڈ میں نظر آتا ہے، کبھی قانونی جنگ کی دھمکی دیتا ہے اور کبھی صفائیاں پیش کرنے لگتا ہے۔ لیکن واقفانِ حال کہتے ہیں کہ اس بار غلط اندازے کے باعث وہ اپنی کاروباری بقا (صحافتی بقا نہیں) کی جنگ لڑ رہا ہے اور بیک وقت سارے حربے استعمال کررہا ہے۔ اس میڈیا گروپ کے اندر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کی بقا کے لیے ڈٹے ہیں کیونکہ فوجی اور سیاسی قیادت میں اختلافات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی حکومت نے امریکہ کے ساتھ بعض ایسے وعدے کرلیے ہیں جو فوج کو پسند نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان سے مذاکرات شروع کردیے گئے۔ سعودی عرب اور شام کے ساتھ سیاسی حکومت کے معاملات پر بھی فوج کو تحفظات ہیں۔

جبکہ پرویزمشرف کے معاملے میں سیاسی حکومت کا رویہ انصاف پر مبنی نہیں بلکہ انتقام اور تذلیل و تحقیر کا ایجنڈا ہے، اس لیے عسکری قیادت سیاسی حکومت کو نیچا دکھانا چاہتی ہے اور ہم جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی قیادت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ شاید اس غیر اعلانیہ باہمی تعاون کی وجہ سے ہی وزیر اعظم بنفس نفیس کراچی میں حامد میر کی عیادت کے لیے پہنچ گئے۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر اطلاعات پرویز ر شید نے وزیر اعظم کو اس پر آمادہ کیا۔ سیاسی و صحافتی حلقوں بلکہ خود مسلم لیگ(ن) کے اندر کے لوگوں کا خیال ہے کہ پرویز رشید اپنی وزارت صرف جیو اور جنگ گروپ کے سر پر چلا رہے ہیں۔ وہ نہ صرف جنگ اور جیو پر بے پناہ انحصار کرتے ہیں بلکہ اس گروپ کے علاوہ کسی میڈیا گروپ کو گھاس نہیں ڈالتے۔ انہی وجوہات کی بنا پر وہ دوسرے میڈیا گروپوں اور صحافیوں کے درمیان کوئی پسندیدہ شخص نہیں ہیں۔

 ان کے جنگ گروپ پر انحصارکا یہ عالم ہے کہ 11ماہ کی وزارت کے دوران انہوں نے ابھی تک اپنے زیر انتظام اداروں پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان، اے پی پی اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا انتظامی دورہ تک نہیں کیا۔ اگر کہیں ان اداروں میں گئے بھی ہیں تو بطور مہمان۔

 جنگ اور جیو کے اندر باخبر لوگ اس لڑائی کی ایک اور وجہ بھی بتاتے ہیںکہ پاکستان میں بہت بڑی تیاریوں کے ساتھ، جدید سہولیات سے آراستہ اور بہت زیادہ مالی وسائل کے ساتھ ’’بول‘‘ نامی میڈیا گروپ آ رہا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اس گروپ کے پیچھے آئی ایس آئی ہے۔ اس انجانے خوف نے جیو گروپ کے مالکان اور ان کے کم فہم مشیروں کو پریشان کر رکھا ہے، چنانچہ اسی خوف کی وجہ سے جیسے ہی انہیں حامد میر پر حملہ میں آئی ایس آئی کو ملوث کرنے کا موقع ملا، انہوں نے اسے سنہری موقع جانا اور اس کے اثرات پر غور کیے بغیر آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف مہم شروع کردی۔

 در اصل جیو گروپ کو اس معاملے کو پوری طرح سمجھنے میں شدید غلطی ہوئی۔ اس کے اندازے غلط نکلے۔ اس کا خیال تھا کہ حامد میر بڑا اینکر اور آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کا عَلم بر دار ہے۔ اس پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں مجبوراً ہمارے ساتھ ہوں گی، کیونکہ ہم ماضی میں انہیں بے پناہ کوریج دیتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی وہ ہماری محتاج ہیں۔ جیو چونکہ سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے اس لیے تمام میڈیا گروپ اور چینلز اس کی تقلید شروع کردیں گے اور آزادیٔ صحافت کے نام پر ہمارے ساتھ ہوں گے۔ جیو گروپ کے ملازمین تو ہمارے ہی ہیں اور ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہیں، یہ باہر نکلیں گے تو باقی صحافی برادری بھی ان کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجائے گی۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ سیاسی جماعتوں نے حامد میر پر حملے کی تو مذمت کی لیکن آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کی زیادہ شدت سے مخالفت و مزاحمت کی جو اب تک جاری ہے۔ خود جیو کے پروگراموں میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے جیو گروپ کی کھل کر مخالفت کی۔ میڈیا گروپ جو پہلے ہی جیو اور جنگ سے تنگ تھے کہ ایک تو کاروباری رقابت تھی، دوسرے جیو جنگ گروپ اور اس کے ملازمین معمول کی مجلسوں میں دوسرے میڈیا گروپوں کی توہین کرتے ہیں اور ان سے وابستہ صحافیوں کو کم تر اور حقیر جانتے ہیں۔ چنانچہ اتنے بڑے واقعہ اور جیو کے طوفان اٹھا دینے کے باوجود نہ تو معاصر میڈیا گروپ جیو کی حمایت میں نکلے اور نہ سیاسی جماعتیں اور نہ ہی سول سوسائٹی… بلکہ سیاسی جماعتیں تو خم ٹھونک کر آئی ایس آئی کی حمایت میں نکل آئیں۔ جماعت اہل سنت اور جماعت الدعوۃ کے بعد مسلم لیگ (ق) نے آئی ایس آئی کی حمایت میں ملک بھر میں جلوس نکالے۔ معاصر میڈیا گروپوں نے جیو کے خلاف پروگرام شروع کرا دیے، جبکہ ملازم صحافی باہم تقسیم ہوگئے اور ان کی غالب اکثریت جنگ جیو کی مخالفت کررہی تھی۔ ابتدا میں مختلف شہروں کے پریس کلبوں نے حامد میر کی حمایت میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے کیے، لیکن تین دن بعد صرف لاہور پریس کلب میں احتجاجی کیمپ قائم رہ سکا، جو سسکتا اور دم توڑتا ہوا اب تک جاری ہے۔

اس کی وجہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ہیں، وہ طویل عرصہ جنگ لاہور میں رہ چکے ہیں اور ان کے بڑے بھائی رئیس انصاری جیو کے ڈائریکٹر ہیں۔ لاہور پریس کلب کے حالیہ انتخابات میں ارشد انصاری کو اپنی انتخابی مہم کے دوران جنگ اور جیو کے دفاتر کے اندر داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ جنگ اور جیو دفاتر میں ان کا داخلہ میر شکیل الرحمن نے روکا تھا یا جنگ اور جیو کے اعلیٰ افسران نے؟ یہ عقدہ اب کھل جانا چاہیے۔ شاید اب ارشد انصاری اپنے بڑے بھائی کی وجہ سے یہ کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں، لیکن کیفیت یہ ہے کہ 2000 ارکان پر مشتمل لاہور پریس کلب میں لگے ہوئے اس کیمپ میں احتجاج کے وقت 30 سے 35 افراد شامل ہوتے ہیں، یا مقامی این جی اوز کے چند افراد۔
اس مایوس کن صورت حال کا یہ حل نکالا گیا کہ 30اپریل کو لاہور میں آل پاکستان پریس کلب کنونشن بلالیا گیا۔

یہ اب تک ایک کاغذی تنظیم تھی۔ یکم مئی کو ویمن جرنلسٹ کنونشن بلایا گیا۔ جبکہ 2، 3 اور 4 مئی کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ برنا گروپ کے ایک دھڑے افضل بٹ گروپ اور آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن (صبیح الدین اشرف گروپ) کی مجالس عاملہ کے اجلاس طلب کرلیے گئے۔ ان تینوں پروگراموں کے لیے سینکڑوں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو ملک بھر سے بلایا گیا۔ انہیں لاہور کے قیمتی ہوٹلوں میں تین سے پانچ دن تک ٹھیرایا گیا۔ خواہش یہ تھی کہ وہ جیو گروپ کی حمایت کا اعلان کریں۔ اس دوران لاہور پریس کلب میں یہ افواہ مسلسل گردش کرتی رہی کہ ان پروگراموں کے لیے جیو گروپ نے55 لاکھ روپے دیے ہیں جبکہ پرویز رشید نے سرکاری وسائل بڑے پیمانے سے فراہم کیے ہیں۔ لیکن اس تمام کوشش سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جاسکے۔ آل پاکستان پریس کلب ایسوسی ایشن کا اجلاس لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں شروع ہوا تو پہلے مقرر نے ہی یہ سوال اٹھا دیا کہ منتظمین وضاحت کریں کہ انہوں نے کس مقصد کے لیے ہمیں اکٹھا کیا ہے؟ ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ کیا ہمیں حامد میر کی حمایت کرنی ہے، یا ہم جیو گروپ کی حمایت کرنے کے لیے بلائے گئے ہیں؟ یا ہمیں آئی ایس آئی یا فوج کی مخالفت کے لیے بلایا گیا ہے؟ اس کے بعد بیشتر مقررین نے حامد میر کی حمایت کی مگر ساتھ جنگ جیو مالکان کی حمایت سے انکار کیا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شہریار، کراچی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عامر لطیف اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر کے علاوہ دیگر متعدد مندوبین نے واضح طور پر کہا کہ مالکانِ اخبارات و چینلز صحافیوں کا استیصال کرتے رہے ہیں، یہ اپنے مقاصد کے لیے صحافیوں کی حمایت چاہتے ہیں، اس لیے ہم مالکان کی حمایت کرنے کو تیار نہیں، البتہ جنگ یا جیو کی بندش کی مخالفت کریں گے۔ ایک مقرر نے تو یہاں تک کہا کہ جنگ اور جیو کو کوئی بند نہیں کررہا… لیکن جیو ٹی وی اور جنگ اخبار نے یہ حصے حذف کردیے اور حامد میر کی حمایت اور جنگ، جیو کی بندش کے معاملے کو نشر اور شائع کیا، جس پر شرکا یہ کہتے پائے گئے کہ جنگ، جیو کی آزادیٔ صحافت تو یہیں پر ننگی ہوگئی

ہے۔ اس دوران وہاڑی پریس کلب کے صدر نوید اقبال قریشی نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی جاوید اقبال قریشی جو جنگ لاہور کے نمائندے تھے انہیں 1983ء میں ایک مقامی مافیا گروپ نے شدید فائرنگ کرکے زخمی کردیا، وہ تقریباً ایک سال تک بستر پر رہے لیکن جنگ مالکان اور انتظامیہ نے ان کی خبر تک نہ لی۔ جب انہوں نے اس کی شکایت کی تو انہیں ڈانٹ کر خاموش کرا دیا گیا۔

 اس دوران پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے رانا عظیم گروپ نے بھی ایوانِ لاہور میں یوم آزادی صحافت کے نام پر ایک شو کر ڈالا جہاں جیو لاہور کے بیوروچیف نے تقریر کرتے ہوئے جوشِ جذبات میں ایک میڈیا گروپ کے سربراہ کے لیے حرامزادے تک کا لفظ استعمال کر ڈالا۔ جنگ اور جیو کے لوگ اس سے پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں جبکہ مالکان جنگ گروپ اپنے حریف اخبارات و چینلز کو بند کرانے کے تمام حربے استعمال میں لاتے رہے ہیں۔

مجھے آئی ایس آئی سے کیوں محبت ہے؟

 


آج کے پاکستان میں بس دو ہی ٹیمیں ہیں جن پر قومی وقار کا دارومدار ہے۔کرکٹ اور آئی ایس آئی۔ان دنوں کرکٹ کی باگ ڈور صحافی نجم سیٹھی کے ہاتھ میں ہے ۔حسنِ اتفاق سے وہ اور آئی ایس آئی ایک دوسرے سے بوجوہ بخوبی واقف ہیں۔ چونکہ کرکٹ ٹیم ان دنوں وقفے سے ہے لہٰذا قومی محبت کا دھارا پوری شدت کے ساتھ ٹیم آئی ایس آئی کی طرف ہے۔

حامد میر ایپی سوڈ کے بعد سے پنڈی اسلام آباد میں بالخصوص اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بالعموم فرقہ، ذات، پیشے، چینل، رنگ و نسل و نظریے اور کالعدم و غیر کالعدم کے فرق سے بالا سب ہی مکاتیبِ فکر قومی تحفظ کی ضامن ایجنسی سے اظہارِ محبت میں

’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘ کی تفسیرِ متبادلہ بن چکے ہیں۔

قومیں اپنے اکابرین، نظریے اور شناخت کے لیے تو سڑکوں پر والہانہ پن دکھاتی آئی ہیں ۔لیکن کسی انٹیلی جینس ادارے کے لیے جوشِ محبت کا یوں امڈنا ؟ اللہ اللہ ۔۔

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

ظاہر ہے ایسے روح پرور ماحول کا اثر ہر شخص پر ہوتا ہے سو مجھ پر بھی ہوا۔اور اپنی آنکھوں سے تعصب کے جالے اتار کر جو دیکھا تو کچھ عجب ہی دکھائی دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ آئی ایس آئی نے اب تک پوری توجہ اپنے بنیادی کام یعنی داخلی و خارجی سلامتی کی نگرانی پر مرکوز رکھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک سبھوں نے اسے سیاست میں گھسیٹنے کے لیے کیا کیا ڈورے نہ ڈالے۔لیکن آئی ایس آئی نے ہمیشہ یہ عذرِ آئینی پیش کرکے خود کو سیاسی کت خانے سے بچائے رکھا کہ،

ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

آپ دیکھیں کہ پورے ضیا دور میں آئی ایس آئی نے اپنی توجہ اس ہدف پر رکھی کہ افغان دلدل میں پاکستان کو دھنسنے سے کیسے روکا جائے۔ بعد از ضیا ہر درد مند قومی ادارے کی طرح آئی ایس آئی کی بھی تمنا رہی کہ کسی طرح اقتدار اس کے صحیح حقداروں یعنی عوام کے منتخب اداروں کو مننتقل ہوجائے۔ مگر جمہوریت دو جماعتی نظام کی صورت میں بحال ہو تاکہ مسابقت کی آب و ہوا میں جمہوریت کا پودا پھلتا پھولتا پھیلتا رہے۔

قومیں اپنے اکابرین، نظریے اور شناخت کے لیے تو سڑکوں پر والہانہ پن دکھاتی آئی ہیں ۔لیکن کسی انٹیلی جینس ادارے کے لیے جوشِ محبت کا یوں امڈنا؟ اللہ اللہ ۔۔

چنانچہ آئی ایس آئی نے بےنظیر بھٹو کی ممکنہ یک جماعتی آمرانہ سوچ کو لگام دینے کے لیے کچھ قبلہ درست سیاست دانوں کی جانب سے اسلامی جہموری اتحاد ( آئی جے آئی ) کی تشکیل کا رسمی سا خیرمقدم تو ضرور کیا مگر یہ بھی واضح کردیا کہ فیصلہ شفاف انتخابی اکھاڑے میں ہی ہوگا اور جیتنے والے سے پورا تعاون کیا جائے گا۔لہٰذا وعدے کا پاس کرتے ہوئے مرکز میں جیتنے والی بےنظیر اور فاتح پنجاب نواز شریف سے پورا پورا تعاون کیا گیا اور اتنا کیا گیا کہ قوم پکار اٹھی،

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے ( علیم )

اسی طرح سنہ اکیانوے کے انتخابات میں کسی ٹچے سے مہران بینک کے کسی ایویں ای سے یونس حبیب نے جانے کس کس کا الٹا سیدھا نام لے کر آئی ایس آئی کو زبردستی چند سو ملین روپے تھما دیے کہ بینک کا کمپیوٹر سسٹم کام نہیں کررہا لہٰذا آپ یہ رقم فلاں فلاں کسٹمر تک فوراً پہنچوا دیں۔ سادہ طبیعت آئی ایس آئی نے خدمتِ خلق کے جذبے میں یہ کام انجام دے دیا۔اگر پتہ ہوتا کہ یہ اسے پھنسوانے کا ڈرامہ ہے تو کاہے کو وہ یہ سب کرتی۔چنانچہ سب ہی صاف صاف نکل گئے اور ایک ڈائری میں ہاتھ سے لکھے چند ناموں کی بنیاد پر ایجنسی کے خلاف سلطانی گواہ بن گئے۔اور نام بھی کیا تھے۔شیخ صاحب ، سردار صاحب ، قاضی صاحب ، پیر صاحب ، میاں صاحب وغیرہ وغیرہ۔ بندہ پوچھے کہ شیخ صاحب سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ یہ شیخ رشید ہے یا شیخ بدرو ۔پیر صاحب سے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ پیر پگارا کا ہی ذکر ہے یا پیر کوڑل شاہ کا۔اور میاں صاحب سے کیسے ۔۔۔تو یہ ہے آج کل کے زمانے میں کسی سے نیکی کرنے کا صلہ۔

خدمتِ خلق

سنہ اکیانوے کے انتخابات میں کسی ٹچے سے مہران بینک کے کسی ایویں ای سے یونس حبیب نے جانے کس کس کا الٹا سیدھا نام لے کر آئی ایس آئی کو زبردستی چند سو ملین روپے تھما دیے کہ بینک کا کمپیوٹر سسٹم کام نہیں کررہا لہٰذا آپ یہ رقم فلاں فلاں کسٹمر تک فوراً پہنچوا دیں۔ سادہ طبیعت آئی ایس آئی نے خدمتِ خلق کے جذبے میں یہ کام انجام دے دیا۔

مجھے کوئی قائل کرے کہ آئی ایس آئی سویلین حکومتوں کی اگر ایسی ہی دشمن تھی تو صرف بی بی اور ان کے حواری ہی کیوں چیختے رہے۔ میاں صاحب نے تیسری دفعہ وزیرِ اعظم بننے کے باوجود کبھی کیوں نہیں کہا کہ ان کی دو برطرفیوں کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا؟ کامن سنس کی بات ہے کہ ایک ادارہ جو براہ راست وزیرِ اعظم سیکرٹیریٹ کے ماتحت ہو کیسے اپنے باس کے خلاف کسی سازش میں کسی اور کا ساتھ دے سکتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ دو ہزار دو کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ق جنرل مشرف کے کہنے پر آئی ایس آئی نے بنوائی اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کی غیر معمولی کامیابی کے لیے بھی انتخابی میدان ہموار کیا۔فرض کریں ایسا ہی ہوا تو کیا ہوا؟ سب جانتے ہیں کہ پرویز مشرف نہ صرف چیف آف آرمی سٹاف تھے بلکہ بطور چیف ایگزیکٹیو وزیرِ اعظم کے اختیارات بھی استعمال کر رہے تھے۔چنانچہ اگر آئی ایس آئی ان کے پرائم منسٹرانہ احکامات بجا لائی تو کون سا قانون توڑ دیا؟

اور ہاں! غیر ملکی آلہ کاروں کے بقول آئی ایس آئی افغانستان میں بھی مسلسل مداخلت کرتی رہتی ہے۔بھائیو کچھ تو عقل کو ہاتھ مارو۔ ایک افغان پچھلے چالیس برس سے دوسرے افغان کے ساتھ جو جو کر رہا ہے وہاں آئی ایس آئی کو اضافی ہتھیلی لگانے کی بھلا کیا ضرورت؟

اچھا جی آئی ایس آئی نے جہادی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی ۔ہاں کی تو پھر؟؟؟؟ یہ اعتراض وہ نام نہاد لبرل سیکولر فاشسٹ کرتے ہیں جو جہادِ فی سبیل للہ کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ اور یہ کوئی کیوں نہیں دیکھتا کہ آئی ایس آئی نے اقبال کا تصورِ شاہین جیسا سمجھا ویسا کس نے سمجھا؟

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

کل کو آپ اقبال پر بھی الزام لگا دیں کہ دراصل ان کے اشعار ہی پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں۔۔۔۔۔۔

یہ بھی طنز کیا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی تو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہے تو پھر اسے یہ کیوں نہیں پتہ چلا کہ اسامہ ایبٹ آباد میں رہتا ہے اور پھر یہ کیوں نہیں پتہ چلا کہ امریکی اسے لینے آ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ؟ اس سے پہلے کہ میں اس گھٹیا اعتراض کا دندان شکن جواب دوں زرا ایک بات تو بتائیے۔

ظہیر تیرے جانثار۔بے شمار بے شمار ۔ظالمو جواب دو ، آئی ایس آئی کو حساب دو۔۔۔۔

اگر آپ مجھ سے کہیں کہ یار وسعت زرا چار پان تو لے آ ،چھالیہ کم اور چونا بہت تیز نہ ہو اور ہاں ایک پیکٹ بینسن سگریٹ کا بھی پکڑ لینا، لوکل نہیں فارن کیا سمجھے؟ ابے سن ، واپسی پر محمود مستری کے ہاں بھی جھانکتے ہوئے آنا ، دیکھ لینا اس نے انجن کھولا یا نہیں اور اگر وہ کوئی رنگ پسٹن منگوانا چاہے تو لکھوا کر پرچی جیب میں رکھ لینا اور یہ لے دو ہزار روپے وہ جو قاسم مٹھائی والا ہے نا! اسے خاموشی سے جا کر دے آئیو۔کہنا خادم بھائی نے بھجوائے ہیں ۔۔اور سن ، جاتے ہوئے عاصم کلینک میں بھی پوچھ لینا کہ ڈاکٹر صاحب شام کو کب بیٹھتے ہیں؟ اب بھاگ کے جا اور ایسے آ جیسے گیا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

یہ بتائیے کہ ان میں سے مجھے کتنے کام پورے یاد رہیں گے، کتنے آدھے اور کتنے بالکل بھی نہیں۔اب آپ میری جگہ آئی ایس آئی کو رکھیں۔ایک اکیلی ایجنسی اور اس پر ہزار فرمائشیں۔۔۔آئندہ اگر کسی نے نام بھی لیا ایبٹ آباد کا تو ننانوے مار کے ایک گنوں گا۔اور جب تک ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ نہ آئے میں ایک لفظ سننے کا روادار نہیں۔ اور اگر اس رپورٹ میں کسی ایجنسی کا نام آ گیا تو جو چور کی سزا وہ میری ۔۔۔امید ہے اب آپ اس موضوع پر مزید بک بک نہیں فرمائیں گے۔

ہی ہی ہی ہی۔۔چلو آپ کہتے ہیں تو جبری گمشدگیوں کے ڈرامے پر بھی بات کرلیتے ہیں؟ مگر یہ بھی خوب ہے کہ اٹھائے پولیس اور نام آئی ایس آئی کا۔اٹھائے ایف سی اور ٹوپی آئی ایس آئی پر۔ بندہ بیرونِ ملک فرار ہو جائے اور تلاش پر لگا دیں آئی ایس آئی کو۔اغوا کرے را، موساد اور سی آئی اے اور گردن آئی ایس آئی کی پتلی۔۔۔۔

دفع کریں اس بحث کو ایک قصہ سنئے۔پچھلی رات ایک بھوت میرے گھر پے آیا۔ہم دونوں نے ساتھ ڈنر کیا، آئس کریم کھائی اور کنگنا رناوت کی فلم کوئین ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھی اور پھر وہ بھوت ہاتھ ملائے بغیر غائب ہوگیا؟ کریں گے آپ میری اس بات پر یقین ؟؟

قومی مفاد

بلاشبہہ آئی ایس آئی نے اب تک جو کیا قومی مفاد میں کیا اور سینہ ٹھونک کر کیا۔اور کسی بھی حساس قومی ادارے کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔

لیکن اگر میں کہوں کہ رات آئی ایس آئی والے میرے گھر پے آئے اور خطرناک دھمکیاں دیں؟ آپ میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو آنکھیں بند کرکے اس کہانی پر فوراً یقین نہ کرلے۔ اے لال بھجکڑو! اگر واقعی ایسا ہوتا تو فاٹا کے حیات اللہ سے اسلام آباد کے سلیم شہزاد تک کسی صحافی کے قتل میں تو آئی ایس آئی کا نام ثابت ہوتا۔ظاہر ہے اب آپ لوگ کھسیانے پن میں اس قسم کے چچھورے اشعار کا سہارا لیں گے کہ

دامن پے کوئی چھینٹ نہ خنجر پے کوئی داغ

 تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

 بلاشبہہ آئی ایس آئی نے اب تک جو کیا قومی مفاد میں کیا اور سینہ ٹھونک کر کیا۔اور کسی بھی حساس قومی ادارے کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔کیا فیض صاحب نے گواہی نہیں دی تھی کہ،

ہر داغ ہے اس دل میں بہ جز داغِ ندامت ۔

آئی ایس آئی دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے۔یہ مسلسل جاگتی ہے تاکہ اٹھارہ کروڑ شہری چین سے سو سکیں اور اٹھ سکیں۔لہٰذا اپنے نمک کی لاج رکھو اور حب الوطنی کے ثبوت میں ایسے دھاڑو کہ دشمنوں کے دل پارہ پارہ ہوجائیں۔۔۔ظہیر تیرے جانثار۔بے شمار بے شمار ۔ظالمو جواب دو ، آئی ایس آئی کو حساب دو۔۔۔۔

سب آنکھوں کا ہے یہ تارہ ، سیاست گروں کا راج دلارا ، ملک و قوم کا حتمی سہارا ، ہم نے تجھ پے یہ دل وارا ، آب پارہ آب پارہ ۔۔۔

وسعت اللہ خان

Zaheer ul-Islam


Zaheer ul-Islam  is the current Director-General of the Inter-Services Intelligence (ISI); he was appointed to the position on 9 March 2012. Islam took over the position from his predecessor Ahmed Shuja Pasha, who left on 18 March.[1] At the time of his appointment, he was serving as the Corps Commander V Corps, Karachi.
In 2013, he was ranked by Forbes as 52nd most powerful person in the world.[2]

Family

Islam comes from a family with a prominent military background. His father retired as a brigadier in the Pakistan Army,[3] while his three brothers and his brother-in-law Major Ejaz Aziz also retired as military officers.[4] In addition, he is a nephew of the Indian National Army general and politician Shah Nawaz Khan, who was also the adoptive maternal grandfather of Bollywood film actor Shahrukh Khan.[5] However, the Inter Services Public Relations (ISPR) refused to acknowledge any distant familial links between Zaheerul Islam and Shahrukh Khan.[3]

Military career

Zaheerul Islam was commissioned in the Punjab Regiment in the 55th PMA Long Course on 16 April 1977. He served as Corps Commander V Corps in Karachi before appointment of ISI Chief. Zaheer served as DG (C) in the ISI before he was promoted as a 3-star general and moved to Karachi as corps commander. He was GOC Murree for some time before coming to the ISI. He also served as Chief of Staff in the Army Strategic Force Command for 2004-2006.