پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو28ارب 45کروڑ98لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ دنیاکے امن کی خاطر2002 سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پرپاکستان نے102.51ارب ڈالر (8ہزار264ارب روپے) جھونک دیے،سرمایہ کاری پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے تجارتی سرگرمیاں ماند ہونے سے ٹیکس وصولیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔
اکنامک سروے رپورٹ برائے سال 2013-14میں پاکستان میں گزشتہ 3 سال کے دوران دہشت گردوں کے حملوں اور گزشتہ13سال کے دوران افغان جنگ کے سبب پاکستان پرپڑنے والے مالی بوجھ کے بارے میں خصوصی باب شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق مالی سال2011-12سے مالی سال2013-14کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی نے معیشت کو28ارب 45کروڑ98لاکھ ڈالر کانقصان پہنچایا جس میں سے ایکسپورٹ کو2ارب 29کروڑ ڈالرکانقصان ہوا۔
دہشت گردی کے سبب معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے سبب ٹیکس وصولیوں کی مد میں6ارب47کروڑ99لاکھ ڈالر،غیرملکی سرمایہ کاری کی مد میں 8 ارب 6 کروڑ 70 لاکھ ڈالر، نجکاری کے منصوبوں میں تاخیر کے باعث 4ارب 99کروڑ64لاکھ ڈالر، انفرااسٹرکچر کو 2ارب 47 کروڑ ڈالر،متاثرین کی بحالی کی مد میں5کروڑ 92لاکھ ڈالر، صنعتی پیداوار میں کمی کے سبب 76کروڑ97لاکھ ڈالر، غیر یقینی صورتحال کے سبب20کروڑ47لاکھ ڈالر،جاری اخراجات میں اضافے کے سبب64کروڑ 45لاکھ ڈالر اور متفرق2ارب47کروڑ53لاکھ ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی سال2011-12کے دوران دہشت گردی نے معیشت کو11ارب 79کروڑ75لاکھ ڈالر کا نقصا ن پہنچایا۔
مالی سال 2012-13کے دوران دہشت گردی کے سبب معیشت کو9ارب 96کروڑ86لاکھ ڈالرکا نقصان پہنچاجبکہ مالی سال 2013-14 میں 6 ارب 69کروڑ37لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔ افغانستان میں جاری دہشت گردی کی جنگ پر پاکستان نے کسی ایک سال میں سب سے زیادہ23.77ارب ڈالر خرچ کیے ، سال2009-10 میں13.56ارب ڈالر جبکہ سال2011-12کے دوران11.98ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ اعدادوشمار وزارت خزانہ، وزارت دفاع اور وزارت خارجہ پر مشتمل مشترکہ وزارتی کمیٹی نے مرتب کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں امریکی یلغار کے بعد پاکستان کو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا افغانستان سے لاکھوں افراد پاکستان نقل مکانی کرگئے اس کے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی کی کاررروائیوں میں بھی شدت پیدا ہوگئی، داخلی سیکیورٹی اور معیشت کو درپیش یہ خطرات اب بھی موجود ہیں اور معاشی ترقی و استحکام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور پاکستان قیمتی جانی نقصان کے ساتھ بھاری مالی نقصان برداشت کررہا ہے ، دہشت گردی کے سبب پاکستان میں تجارتی اور پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس سے نہ صرف پیداواری لاگت بڑھ گئی بلکہ ایکسپورٹ آرڈرز بھی بروقت پورے نہ ہونے سے ایکسپورٹ کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈی میں اپنامقام برقرار رکھنا دشوار تر ہوتا چلاگیا۔
The Economic costs of Pakistan's war against terror
پولیس اہلکار سید علی شاہ کے لیے آج کل زندگی گزارنا کسی آذیت سے کم نہیں۔ وہ چار سال پہلے پشاور میں ایک خودکش حملے کا نشانہ بنے جس کی وجہ سے وہ اپنے دونوں پاؤں سے محروم ہوئے۔
سید علی شاہ کے لیے اب مصنوعی اعضاء ہی سہارا ہیں تاہم ایسی صورتحال میں وہ محنت مزدوری نہیں کرسکتے، وہ چھ بچوں کے باپ بھی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب سے وہ معزور ہوئے ہیں محکمہ پولیس نے انہیں اس طرح نظر انداز کردیا ہے کہ جیسے وہ کبھی اس کا حصہ نہیں رہے۔
"میں نے اپنی جوانی پولیس کےلیے قربان کی اور یہاں تک فرائض کے بجا آوری کے دوران میرے دونوں پاؤں بھی کٹ گئے لیکن بدقسمتی سے محکمے کے تمام افسران اور قریبی دوستوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے جن کے ساتھ کئی برسوں تک ایک تھالی میں کھایا پیا۔"
انہوں نے کہا ’میں نے اپنی جوانی پولیس کےلیے قربان کی اور یہاں تک فرائض کے بجا آوری کے دوران میرے دونوں پاؤں بھی کٹ گئے لیکن بدقسمتی سے محکمے کے تمام افسران اور قریبی دوستوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے جن کے ساتھ کئی برسوں تک ایک تھالی میں کھایا پیا۔‘
سید علی شاہ کے مطابق ’معاشی پریشانیوں نے گھر میں بسیرا کیا ہوا ہے، میرا خاندان بھی بڑا ہے صرف تنخواہ پر گزارا نہیں ہوتا ایسے دن بھی آتے ہیں کہ بجلی کے بل اور مکان کا کرایہ تک ادا نہیں کرسکتے۔‘
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری مبینہ جنگ میں ڈیوٹی کے دوران اب تک 800 سے زائد پولیس اہلکار جان دے چکے ہیں جن میں سپاہی سے لے کر ڈی آئی جی رینک تک کے افسران شامل ہیں۔ تاہم مرنے والے اکثریتی اہلکار چھوٹے رینک کے بتائے جاتے ہیں جو عام طورپر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
اکثر اہلکاروں کے اہل خانہ حکومتی وعدے پورے نہ ہونے پر انتہائی مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔
چار سال پہلے پشاور پریس کلب پر ہونے والے ایسے ہی ایک خودکش حملے میں پولیس کانسٹیبل ریاض الدین بھی ہلاک ہوئے تھے۔
ان کے صاحبزادے عزیر ریاض کا کہنا ہے کہ ’سابق دور حکومت میں شامل وزراء اور دیگر اہلکار کسی نہ کسی حد تک ان سے رابطے میں رہتے تھے اور ان کے مسائل بھی حل کراتے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے وزراء تو مرنے والے اہلکاروں کے جنازوں میں بھی نہیں جاتے وہ شہداء کے ورثاء کی کیا امداد کریں گے۔‘
"سابق دور حکومت میں شامل وزراء اور دیگر اہلکار کسی نہ کسی حد تک ان سے رابطے میں رہتے تھے اور ان کے مسائل بھی حل کراتے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے وزراء تو مرنے والے اہلکاروں کے جنازوں میں بھی نہیں جاتے وہ شہداء کے ورثاء کی کیا امداد کریں گے۔"
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان کے خاندان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو چار سال گزرگئے لیکن اس کے باوجود وہ ایفا نہیں کیے گئے جس سے ان کا خاندان سخت مایوس ہوچکا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات محمکۂ پولیس لوگ ہی مرنے والے ساتھیوں کے ورثاء کو ملنے والی مراعات کے راہ میں روکاٹیں ڈالتے ہیں۔
پشاور کے سنئیر صحافی علی حضرت باچا نے بتایا کہ ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو تیس لاکھ روپے، پلاٹ اور کفن دفن کےلیے بھی تین لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ اپنے ہی لوگ بیواؤں سے رشوت طلب کرتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کسی ریاست کی بے حسی اس سے زیادہ اور کیا ہوگی جب وہ اپنے ہی لوگوں کی قربانیوں کی قدر نہ کرے اور ایسی صورتحال میں کوئی اور ریاست کی خاطر جان جیسی قیمتی قربانی کیوں کر دے گا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر پاکستانی عوام کی جانب سے کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہ کرنا (اگرچہ چند ایک حلقوں کی جانب سے ردِعمل کا اظہار کیا گیا لیکن یہ ردِعمل پاکستانی قوم کے شایانِ شان نہ تھا) میرے لئے ناقابل فہم ہے۔
میں گزشتہ بائیس سال سے ترکی میں قیام پذیر ہوں اور اس دوران ترکی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان واقعات پر ترک عوام کے شدید ردِعمل کو اپنی نگاہوں سے دیکھ چکا ہوں۔ ترکی میں ایک دور وہ بھی تھا جب روزانہ ہی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ تقریباً چالیس سال جاری رہنے والی دہشت گردی جس میں چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں آخر کار قابو پا لیا گیا۔ ترکی میں طویل عرصے جاری دہشت گردی کی وجہ سے کئی ایک سیاسی جماعتیں اقتدار سے محروم ہو گئیں اور کئی ایک سیاسی جماعتیں اس پرقابو پانے کی وجہ سےعوام کی آنکھوں کا تارا بن کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس کی ایک مثال مرحوم وزیراعظم بلنت ایجوت حکومت کی ہے۔ بلنت ایجوت حکومت ایک دور میں جب عوام میں اپنی ساکھ کھونے کے قریب تھی تو اس دوران ترکی کی دہشت گرد تنظم PKK کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو گرفتار کئے جانے پر مرحوم بلنت ایجوت کو عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہو گئی اور ان کی جماعت اگلے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ برسراقتدار آ گئی۔ اسی طرح جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد اس جماعت کو بھی ملک میں جاری دہشت گردی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک موقع پر دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے فوجیوں کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی تو عوام اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکےاور انہوں نے نماز ِجنازہ کی ادائیگی کے فوراً بعد اس جنازے میں شریک کئی ایک وزراء اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کا گھیراؤ کرلیا جس پر ان وزراء اور اسپیکر اسمبلی کو مسجد میں پناہ لینا پڑی۔ عوام کے اس شدید ردِعمل نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور حکومت نے اپنی تمام تر توجہ دہشت گردی پرقابو پانے کی جانب مرکوز کردی اور آخر کار دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی بھی حاصل کی۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستانی عوام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے اس ردِعمل کا اظہار کیوں نہیں کر پا رہے ہیں جس کا اظہار وقت کا اور وطن کا تقاضا ہے۔
پاکستانی عوام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے صرف حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں پر ہی کیوں نگاہیں لگائے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ان کی اپنی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ خود آگے بڑھیں اور سیاسی رہنماوں کو دہشت گردی کے خلاف ایکشن لینے پر مجبور کریں؟ آج اگر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کی جانب سے ان واقعات پر خاموشی اختیار کیا جانا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں کے عوام اپنی اپنی حکومت اور ریاست کا کھل کر ساتھ دیتے ہیں۔ ترکی کے علاوہ اسپین جہاں پر طویل عرصے دہشت گردی جاری رہی اس دہشت گردی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا اور حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن لینے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پالیا گیا۔ اب اسی قسم کا فیصلہ پاکستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے لئے کرنا ہے۔وہ کب تک روز جیتے اور روز مرتے رہیں گے؟ ان کے خوف نے ان دہشت گردوں کے حوصلے بلند کررکھے ہیں اور دہشت گردوں نے اب تک پچاس ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ ان دہشت گردوں نے کسی عبادت گاہ، مسجد ، اسکول اورحتیٰ کہ جنازہ گاہ تک کو نہیں چھوڑا ہے ۔ عوام انہی حملوں کی وجہ سے شدید خوف میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ "گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے"۔ اگر انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف اٹھتے ہوئے ریاست کے ہاتھ مضبوط نہ کئے اور حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور نہ کیا تو پھر وہ اپنی اور ملک کی بقا کو خطرے میں ڈالنے کا براہ راست حصہ بن جائیں گے۔
حکومت جو اس وقت دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے( وزیرستان میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے اور جس سے دہشت گردوں کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے اور اسی وجہ سے طالبان حکومت سے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور بھی ہوئے ہیں) اس آپریشن کو متعدد سیاستدانوں کے بیانات اور عوام کو خوف میں مبتلا کرنے کی پروا کئے بغیر جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کے عوام کی بھاری اکثریت بھی اس فوجی کارروائی کے حق میں اور اب جبکہ ان کے حوصلے بلند ہیں اور فوج کی پشت پناہی کرنے کے لئے تیار ہیں کو پست قدمی پر مجبور نہ کریں۔طالبان جو پاکستان پر امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کو یا پھر براہ راست امریکہ اور مغربی ممالک کو اپنا نشانہ کیوں نہیں بناتے ہیں؟ کیا ان کا زور صرف نہتے پاکستانی مسلمانوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر ان کو امریکہ اور مغربی ممالک سے اتنی نفرت ہے تو وہ خود کیوں امریکی اسلحہ اور مغربی ممالک کے تیار کردہ ٹیلی فون، کمپیوٹر اور دیگر سازو سامان استعمال کرتے ہیں؟ ان کو سب سے پہلے ان ہتھیاروں کو اپنے اوپر استعمال کرتے ہوئے دنیا کو اپنے قول و فعل میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہ ہونے سے آگاہ کر دینا چاہئے۔
آخر میں عمران خان سے ایک سوال۔ کیا آپ کبھی میچ کھیلے بغیر مخالف ٹیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ تو پھر ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کیوں؟ اگر آپ نے ان کو ایک دفعہ گھر کےاندر آنے کا موقع دے دیا تو پھر آپ اپنے گھر سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ میرا اگلا سوال ان تمام مذہبی جماعتوں کے رہنماوں سے ہے جو شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر رہی ہیں اور وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے فوجیوں کی شہادت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ کیا آپ دنیا میں ایسے کسی اسلامی ملک کا نام بتاسکتے ہیں جہاں پر دہشت گردوں کو شہید کا رتبہ دیا جاتا ہو؟ خانہ کعبہ کے امام تک خودکش حملہ کرنے والوں کو "حرام کی موت مرنے" (کیونکہ اسلام میں خودکشی کرنا یا کسی کو خودکشی پراکسانا حرام ہے) کا فتویٰ دے چکے ہیں تو پھر یہ کیوں دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے ہوئے ان کے حوصلے بلند کرتے ہیں؟وزیراعظم نوازشریف سے درخواست ہے کہ وہ بھی ترک وزیراعظم ایردوان کی طرح ملک میں مکمل طور پر دہشت گردی کا صفایا کرتے ہوئے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دہشت گردوں کے خلاف جس طرح اب کھل کر بیان دینا شروع کردیئے ہیں اس سے ان کے قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔کاش کہ ان کی پارٹی اپنے دور اقتدار میں ان کی طرح بہادری کا مظاہرہ کرتی۔ایم کیو ایم جو بڑے بڑے جلسے کرنے میں بڑی ایکسپرٹ ہے ایک بار صرف پاکستان کے لئے پورے پاکستان (خیبر سے کراچی تک) میں صرف پاکستانی پرچموں ( کسی بھی پارٹی کو اپنا پرچم اٹھانے یا نمائش کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے) پر مشتمل ملین مارچ کا بندوبست کرے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے اور عوام کے کس قدر بہادر ہونے کا ثبوت فراہم کیا جا سکے۔
بشکریہ روزنامہ "جنگ"