Showing posts with label Gaza under attack. Show all posts

Gaza residents celebrate Hamas 'victory' over Israel





Gaza residents celebrate Hamas 'victory' over Israel

People of Gaza , you are not Alone



 People of Gaza , you are not Alone

Western Media and the Gaza War by Khaled Al Maeena



اسرائیل کی غزہ پر تباہ کن بمباری، اس کی مکمل تباہی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی بچوں کے اہدافی قتل نے دنیا بھر کے عام لوگوں کو صدمے سے دوچار کردیا ہے۔
بمباری میں بچوں کے چیتھڑوں اور مسخ شدہ لاشوں، مساجد اور گرجا گھروں کی تباہی نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے لیکن ایسا مرکزی دھارے کے میڈیا کے ذریعے نہیں ہوا ہے بلکہ یہ تصاویر ٹویٹر اور فیس بُک کے ذریعے منظرعام پر آئی ہیں۔

سوشل میڈیا نے فلسطینی المیے اور انسانی مصائب کو اجاگر کیا ہے، ایسے لوگوں کے ہولوکاسٹ اور مکمل نسل کشی کو منظرعام پر لایا ہے جن کی واحد درخواست یہ ہے کہ انھِیں آزادی، امن اور وقار سے جینے دیا جائے۔
لیکن امریکا کے مرکزی دھارے کے میڈیا نے مکمل طور پر ایک سنگ دلانہ حکمتِ عملی اختیار کی ہے، قریب قریب تمام اخبارات ،سی این این، سی سپین ، فاکس اور ان سے وابستہ ادارے حماس کو اسرائیل پر حملہ آور ہونے کا الزام دے رہے ہیں، اس کو موجودہ صورت حال کا ذمے دار اور اسرائیل کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب قرار دے رہے ہیں۔

بعض اینکروں نے تو جھوٹ تراشنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ بعض دوسروں نے فلسطینیوں کو بالکل نظرانداز کردیا اور اپنی توجہ خیالی سرنگوں اور راکٹوں پر مرکوز کیے رکھی ہے۔انھوں نے جان بوجھ کر ہرکسی کی توجہ اس جانب مرکوز نہیں کی ہے کہ امریکا کی جانب سے آزادانہ طور پر مہیا کیے جانے والے ہتھیاروں، بموں اور راکٹوں نے بچوں کو زندہ جلا دیا، اسپتالوں میں بیماروں اور ضعیفوں کو مار دیا اور رمضان المبارک کی مقدس راتوں کے دوران عبادت کرنے والوں کو تہس نہس کردیا ہے، ان کے حُلیے بگاڑ دیے ہیں۔

یہ جنگ نہیں تھی۔ یہ ایک قتل عام تھا جس کو امریکا میں میڈیا نے مہمیز دی۔ ایسا میڈیا جو ننگے ہوکر تعصب کا مظاہرہ کررہا تھا،اس نے بالواسطہ طور پر حملوں کو نظر انداز کرکے اور ان کو نہ دکھا کر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ہسٹریائی کیفیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

میڈیا اس وقت اپنی غیراخلاقی پن کی حدوں کو چھورہا تھا جب اس نے براہ راست نشر کیے جانے والے پروگراموں کو بھی سنسر کرنا شروع کر دیا۔ ماضی میں موقر سمجھے جانے والے ادارے سی سپین نے بھی ایسے ہی کیا۔نسل کشی کے مخالف ماہرین کو نشریات میں بلانے سے گریز کیا گیا یا ان کو بولنے کا وقت ہی نہیں دیا گیا۔

لیکن لاطینی امریکا کے ممالک اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ فلسطینیوں کے ہولوکاسٹ کے خلاف بولے ہیں حالانکہ وہ خود امریکا کی خارجہ پالیسی کا شکار رہے ہیں مگر کسی یورپی یا مغربی لیڈر کو چیخنے،چلانے کی توفیق نہیں ہوئی ہے۔
امریکی حکومت اور اس کے قانون سازوں کا میڈیا سے اتنا تعلق رہا ہے کہ وہ اس کے ذریعے حماس سے یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ وہ اپنی جارحیت کو روکے۔ اس معاملے میں کینیڈا سب سے بڑا مجرم بن کر سامنے آیا ہے اور میں اپنے کاروباری حضرات سے یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ کسی کینیڈین وفد سے ہر قسم کا میل ملاقات بند کردیں بالکل ایسے جس طرح انھوں نے ماضی میں روس کے ساتھ کیا تھا۔ اس تحریک کا یورپی یونین کے رکن ممالک اور امریکا پر بھی اطلاق کیا جانا چاہیے اور امریکا تو سب سے زیادہ جارحیت پسند ثابت ہوا ہے۔
صدر اوباما نے اس دوران اسرائیل کے آئرن ڈوم پروگرام کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی ہے اور اسرائیل کے ہتھیاروں کے ذخیروں میں اضافے کے لیے لیزر گائِیڈڈ بموں اور راکٹوں کی بھاری کھیپ روانہ کی ہے۔

ان یورپی ممالک اور امریکا کے نزدیک فلسطینیوں کی زندگیوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ ان کے لیے ہم عرب محض ایک مارکیٹ ہیں، گیس اسٹیشنز ہیں اور ان کے لیے ایسے لوگ ہیں جنھیں ''آپ ہمارے اتحادی اور کاروباری شراکت دار ہیں'' ایسے الفاظ سے بہلایا پھسلایا جا سکتا ہے۔
ممکن ہے پہلے یہی معاملہ رہا ہو لیکن اب عرب عوام اس حقیقت کو جان گئے ہیں اور وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ وہ اب اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ برابری کا برتاؤ کیا جائے۔

اب ایسے تجارتی وفود کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جن میں کٹڑ صہیونی شامل ہوں جو اپنی چیزیں بیچنے اور دھوکا دہی سے جیبیں بھرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں،ایسے صحافیوں کو بھی خوش آمدید نہیں کیا جانا چاہیے جو یہاں کے داخلی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی ظاہر نہیں کی جانی چاہیے۔
مغرب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہم بعض پہلوؤں میں اگرچہ ناکام ہوگئَے ہیں لیکن ہم اس کے باوجود ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔اس مقصد کے لیے ہمیں امن درکار ہے اور آپ انصاف اور فلسطینی عوام کو ان کا حق دیے بغیر امن نہیں دے سکتے ہیں۔

آپ وہاں امن قائم نہیں کرسکتے جہاں عوام کی خواہشات اور امنگوں کو جبری دبا دیا جائے۔اگر مغرب انسانی حقوق کے ایشو کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا اور اپنے اقتصادی مفاد کے لیے مطلق العنان حکومتوں کو مضبوط کرتا ہے تو پھر امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

ان تمام سازشی کھیلوں کو فوری طور پر بند کرنا ہوگا۔دوسری صورت میں مغرب دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے اس کا خمیازہ بھگتے گا۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ دہشت گردی ان کی ناانصافیوں سے ہی پروان چڑھے گی کیونکہ جن لوگوں کے پاس کوئی قانونی راستہ نہیں بچے گا تو وہ پھر دہشت گردی کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
مغرب کو ہمارے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملہ کرنا چاہیے، ہمیں دوست چاہئیں، آقا نہیں۔

Western Media and the Gaza War by Khaled Al Maeena

اسرائیل معرکہ بھی ہارا اور جنگ بھی.......


ہم ایک عجیب و غریب دور میں جی رہے ہیں جیسا کہ شاعر بھی حیران ہے کہ ، سوچتا ہوں، دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی، اسی طرح عوام بھی دنیا کے متضادات سے حیرت زدہ ہیں۔ اگر کسی کی کبھی ختم نہ ہونے والی منافقت اور خود غرضی کی وجہ سے آپ پریشان ہیں تو وہیں دوسری جانب ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی انسانیت نوازی اور فیاضی کی بدولت انسانیت پر آپ کا اعتماد قائم ہے۔ اسرائیل کی حالیہ جارحیت میں یہ سب کچھ موجود ہے۔ اگر ایک جانب صہیونیوں کی سفاکیت اپنی بد ترین سطح پر پہنچی ہے تو دوسری طرف فلسطینیوں کی جانب سے انتہائی جانبازی اور بہادری کا بھی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ غیر مسلح فلسطینی حد درجہ کی مدافعت کا مظاہرہ کر کے مطلق العنیت کے خلاف جد و جہد جاری رکھ کر ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ ایک جانب امن کیلئے نوبیل انعام پانے والے بارک اوبامہ کی سربراہی میں پوری امریکی انتظامیہ مکمل طور پر اسرائیل کے ذریعے محصور اور غیر محفوظ عوام کے قتل عام کی حمایت اور مدد کر رہی ہے۔اس نے نہ صرف اسے امریکہ ہتھیاروں تک رسائی دے رکھی ہے بلکہ پچین ملین ڈالر کی اضافی امدادی رقم بھی دی ہے۔ دوسری طرف غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف مغربی ممالک بشمول امریکہ بڑے بڑے شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن عرب یا عالم اسلام میں کوئی مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ انسانی ہمدردی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔

امریکی یا مغربی میڈیا اپنی روایات کے مطابق اس سفاکانہ نسل کشی کے تعلق سے یک طرفہ خبریں ہی پیش کر رہا ہے لیکن دوسری جانب متبادل میڈیا مثلاً بلاگس اور سوشل میڈیا پر کچھ لوگ عوام تک حقیقت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ فلسطین کی زمین معصوموں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایسی حرکت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو پاک پیغمبر کے جانشین ہونے اور ہزاروں سال ستم رسیدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے بے بس لوگوں کے خلاف وحشیانہ حرکتیں کرنے میں نازیوں کو بھی مات دے دی ہے۔ ہٹلر کی فوجوں نے بھی ایسی غلط حرکتیں نہیں کی ہونگی۔ برطانیہ کے مشہور ماہر ماحولیات ڈیوڈ انین بورو نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ کوئی جانور بھی اسرائیلیوں جیسا ظالم نہیں ہو گا، مگر مچھ تک نہیں۔ وہ اسکولوں، اسپتالوں ، پناہ گزین کیمپوں ، یتیم خانوں ، اقوام متحدہ کے غذائی مراکز ، آب رسانی کے مقامات ، پاور پلانٹ، ایمبولنس اور سمندر کنارے کھیلنے والے بچوں تک کو اپنے بموں کا نشانہ نا چکا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو محصور کرنے کے علاوہ وہ اسکول جانے والے بچوں پر بھی گولی چلاتے ہیں۔ قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے انہیں ہیماریوں کے انجکشن لگاتے ہیں۔ وہ زمین ، سمندر اور ہوا سے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بے سہارا متاثرین کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ ‘‘ اقوام متحدہ جو کہ عالمی امن کی حفاظت کیلئے قائم کیا گیا تھا اپنے ہی دفاتر اور مدارس میں لوگوں کی حفاظت نہیں کر پا رہا۔ بے بس عالمی ادارے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل انہیں منہ چڑاتے ہوئے ہر ضابطے اور اصول کو پامال کر رہا ہے اور دنیا کو ٹھینگا دکھا رہا ہے۔ طاقتور عالمی لیڈر اختیارات اور وسائل ہونے کے باوجود اس طرح محض تماشائی بنے ہوئے ہیں جیسے ہالی ووڈ کا کوئی تھرلر دیکھ رہے ہوں۔ گویا ان کی آنکھ کے سامنے جو مارے جا رہے ہیں وہ حقیقی گوشت پوست کے انسان نہ ہوں۔ ماضی میں عرب مسلم لیڈروں نے اسرائیل کے خلاف زبانی احتجاج ہی سہی کیا تھا۔ اس مرتبہ وہ بھی نہیں ہوا۔

کچھ لوگ اس کیلئے خطہ میں پیچیدہ اور ہر وقت تبدیل ہونے والی سیاسی اور طاقت کی ادلا بدلی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ عالم اسلام کو فرقہ بندی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے نیو امریکن سینچوری پروجیکٹ کے تحت عراق اور دیگر ممالک میں بوئے گئے نفرت کے بیج کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ بہار عرب کے دوران احتجاج در احتجاج کے بعد پورے خطے میں نام نہاد سیاسی اسلام، ایک ناپسندیدہ لفظ بن گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حماس اور وسیع پیمانے پر فلسطین بالکل تنہا پڑ گیا ہے جس کا کوئی دوست نہیں ہے جبکہ دنیا کی طاقتور ترین فوج نہتے لوگوں پر خونریز حملے کر رہی ہے۔ لیکن اس میں نیا کیا ہے؟َ فلسطینیوں کو کسی نہ کسی فرضی یا دشمنوں کے ذریعہ پیدا کئے گئے جرم کی سزا بھگتنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ ماضی میں عرفات کی سربراہی والی فتح کی ضدی قرار دی جانے والی لیڈرشپ تھی جسے آخر کا ر زہر دے دیا گیا تو آج حماس کی مبینہ دہشت گردی ہے۔ جارح نظریات کے تحت اسرائیل کو وقت وقت پر گھاس کاٹنے کیلئے کسی بہانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ مہینے اسرائیل کی بے رحم فوجی طاقت اور ظالمانہ رویہ غزہ کو تباہ کر دینے کے باوجود عصبیت پسند حکومت اپنے مقصد میں بری طرح ناکام ہے۔ نام نہاد آپریشن پروٹیکٹیو ایج کی وجہ سے اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی ہے جیسا کہ 2006ء کی لبنان کے خلاف جنگ کے بعد ہوا تھا۔ فلسطینی بری طرح زخمی ہیں لیکن ٹوٹے نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔

جیسا کہ پاکستان کے سابق فوجی سربراہ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ ’’اسرائیلی جنگ کا مقصد حماس کی شہری اور فوجی کمان کے منصوبے اور ان کے بہادر جنگجوؤں کو ختم کرنا ہے لیکن اسرائیلی فوجیں اپنا مقصد حاصل کرنے میں دس فیصد بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ اسی کو شکست کہتے ہیں۔ حماس کی فتح ہوئی ہے کیونکہ مدافعت کے نظریہ کو شکست نہیں دی جا سکتی۔‘‘
اس بات پر توجہ دلاتے ہوئے کہ یہ 2 غیر متناسب فریقین کے بیچ سخت جنگ تھی، جنرل بیگ پیش گوئی کرتے ہیں کہ مضبوط قوت ارادی کے حامل افراد ہی فتح مند ہوتے ہیں۔ قدرت بھی حماس کی مدد کرتی ہے جبکہ اسرائیل کی پوری دنیا مذمت کر رہی ہے۔‘‘ تو بھلے ہی فلسطینی مقامی سطح پر خود کو تنہا پاتے ہوں لیکن بڑے پیمانے پر عالمی برادری کے کم ازکم با شعور افراد ان کے ساتھ ہیں۔ غزہ والوں کیلئے بڑھتی حمایت عالمی پیمانے پر پچھلے کچھ ہفتوں میں دیکھی گئی ہے جو اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ اسرائیل کے خلاف نفرت اپنے عروج پر ہے اور اسی آندھی میں ، نسلی بنیاد پر نا انصافی کے ذریعہ قائم کئے گئے اس ملک کے نابود ہو جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ سخت گیر جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوا تھا۔ پچھلے ہفتہ جنوبی امریکہ کے پانچ ممالک برازیل، چلی، ایکواڈور ، پیرو اور ایل سلواڈور نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور اسرائیلی سفیر کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا۔ قاہرہ میں واقع عرب پارلیمنٹ نے جنوبی امریکہ کے ممالک کا ان کے اقدام کیلئے شکریہ ادا کیا۔ اگر فلسطین کے تعلق سے یہ ہمدردی کچھ پہلے بیدار ہوگئی ہوتی تو اس کے کچھ خوشگوار نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ جیسا کہ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے کہا تھا کہ آخر میں ہم دشمن کے الفاظ نہیں بلکہ دوست کی خاموشی یاد رکھیں گے۔ اسی دوران دنیا کی نظروں میں اسرائیل کو جنگ اور معرکہ آرائی دونوں میں شکست فاش ہوئی ہے۔ فلسطینی پارلیمنٹ کے الفاظ میں ’’ فلسطین نے برداشت کیا، مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی۔‘‘ اور انہوں نے ساری پریشانیوں کے باوجود ہر مرحلے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آزادی اور مقابلہ آرائی کی روح ایک مرتبہ پھر ظلم و استبداد اور نو آبادیات کے خلاف کامیاب و کامران رہی ہے۔


بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب 

سعیدہ وارثی کی اخلاقی جراٗت.........


فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت اور بربریت کو کتنے ہی دن گزر گئے، بمباری ہوتی رہی، معصوم فلسطینی مرتے رہے، ساری دنیا اور دنیا کی وہ طاقتیں جن کے اشارے پر جنگیں شروع ہوتیں اور جن کے اشارے پر جنگ بندی ہوتی ہے، بڑے سکون اور خاموشی سے انسانوں کا قتلِ عام دیکھتے رہے۔ ننھے بچوں کی کٹی پھٹی ، بریدہ لاشیں، دنیا بھر کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر دکھائی جاتی رہیں مگر کوئی دل نہیں پسیجا۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے اس قتل عام پر یوں خاموش رہے جیسے وہ اس سارے کھیل کا حصہ ہوں، امریکہ سے لے کر برطانیہ تک اور دوسرے یورپی ممالک تک سب کے سب ایک مجرمانہ خاموشی کا شکار رہے۔

امریکی پالیسیوں کو امریکہ کی ویپن انڈسٹری کنٹرول کرتی ہے اور اس جنگ میں اسرائیل امریکی گولہ بارود استعمال کر رہا ہے۔ صرف امریکہ ہی نہیں برطانیہ بھی اسرائیل کو بارہ ملین ڈالر کے جنگی ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ گولہ بارود بم کی صورت میں، موت کا ساماان اگر استعمال نہیں ہو گا تو مزید خریدنے کی طلب کیسے ہو گی سو اگر اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر یہ جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے تو پھر اس سے زیادہ امریکہ اور برطانیہ کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات کیا ہوسکتی ہے، ظاہر ہے ان کے کارخانوں میں بننے والے جنگی سامال کی طلب بڑھے گی۔

اسرائیل کی صورت میں ایک خریدار موجود ہے اور وہ اس جنگ کی مذمت کر کے اپنے کاروباری حلیف کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ شاید وہ تو اس جنگ کی طوالت کے متمنی ہوں۔ اگر معصوم فلسطینی بچے اور عورتیں اس جنگ میں مارے جا رہے ہیں تو اس میں کونسی قیامت ہے، جنگ میں تو ایسا ہوتا ہی ہے۔ اسی سوچ کا پردہ عالمی طاقتوں کے ضمیر پر پڑا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نام نہاد مہذب دنیا میں جہاں تک کتے کی موت پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ہنگامہ برپا کر سکتی ہیں، وہاں بچوں کے معصوم جسموں کو بارود سے اڑایا جاتا ہے مگر اس کی مذمت میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔
خاموشی کے ایسے صحرا میں سعیدہ وارثی نے ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ سے استعفیٰ اس بنیاد پردیا کہ انہیں غزہ میں مسلمانوں کی قتل عام پر برطانوی حکومت کی پالیسی سے شدید اختلاف ہے۔ اپنے استعفیٰ میں مس وارثی نے لکھا کہ "انسان کو زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزارنے کا حق ہے۔ جبکہ غزہ میں معصوم لوگوں کا قتل عام اور دوسری جان خود کو برطانوی کابینہ کا حصہ ہونے کی اس صورت حال میں مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے اس حق سے محروم ہو چکی ہوں۔ میں انتہائی افسوس کے ساتھ اپنا استعفیٰ پیش کرتی ہوں۔"

ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں سعیدہ وارثی مسلمان اقلیت کی قابلِ قدر آواز سمجھی جاتی تھیں۔ استعفیٰ دینا یقینا ایک اخلاقی جراٗت ہے جس کا اظہار کر کے انہوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں خصوصاً برطانوی مسلمانوں اور پاکستانی مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب عرب دنیا پر ایک موت جیسی خاموشی طاری ہے، وہاں سعیدہ وارثی کی جراٗت انکار نے انہیں ایک بہادر اور 
صاحبِ ضمیر خاتون ثابت کیا ہے۔

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

غزہ کےمسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یک جہتی پر استعفیٰ دینے والی سعیدہ وارثی کو پوری دنیا سلام پیش کر رہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف مسلمان ہی ان کی اس اخلاقی جراٗت کو سلام پیش نہیں کر رہے بلکہ برطانوی سیاست کے اہم افراد بھی سعیدہ وارثی کی جراٗت کو سراہ رہے ہیں۔ برطانوی ابارات بشمول مشہور روزنامہ ٹیلی گراف نے لکھا کہ سعیدہ وارثی نے اخلاقی جراٗت کا ثبوت دیا۔ کنزرویٹو پارٹی کے سابق رکن کابینہ نکولس سومز نے اپنے ٹویٹر پر لکھا کہ حکومت کو سعیدہ وارثی کے استعفیٰ سے سیھنا چاہیے۔ اہم انسانی مسئلے پر سعیدہ وارثی کا استعفیٰ دینا صائب قدم ہے۔

مس وارثی کے لیے پذیرائی یقینا ایک کامیابی ہے۔ اس سے پہلے وہ افغان وار کے حوالے سے برطانوی مسلمانوں کے جارحانہ رویے کا سامنا کر چکی ہیں۔ ایک بار ان پر انڈے اور ٹماٹر اس لیے برسائے گئے کہ وہ اس حکومت کا حصہ ہیں جس نے اپنی فوجیں افغان وار میں بھیج رکھی ہیں۔ آخر وہ مسلمان ہو کر امریکی اور برطانوی جارحیت کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ مس وارثی کسی سیاسی مصلحت کے تحت اس ایشو پر آواز نہ اٹھا سی ہوں وگرنہ ان کے سیاسی کیرئیر پر نگاہ ڈالیں تو بیشتر موقعوں پر انہوں نے برطانوی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا اور وہ اس میں کامیاب رہیں۔ جیسے 2006ء میں ہاؤس آف کامنز ے لیڈر مسٹر جیک سٹرا نے پارلیمنٹ میں مسلمان خواتین کے نقاب لینے کے حوالے سے ایک ڈبیٹ کا آغاز کیا۔ جیک سٹرا نے پردے کے لیے نقاب اوڑھنے کے مخالفت میں ایک مقامی روزنامے میں آرٹیکل لکھا، اس نے ایک فقرے میں کہا کہ

“He would like to see the veil abolished in the United Kingdom.
اس کے بعد برطانیہ کے مختلف اخبارات میں مزید آرٹیکل چھپنا شروع ہو گئے کہ مسلمان خواتین کو برطانیہ میں پردے کے لیے چہرہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ایسے موقع پر سعیدہ وارثی نے مسلم واتین کے پردے کے حق میں موثر آواز اٹھائی اور پارلیمنٹ ے اندر اور باہر اس حق کو منوایا کہ لباس کے انتخاب میں فرد کے اختیار کو ختم کرنا اس کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ جیسے اگر کوئی مجھے یہ حم دے کہ میں سکرٹ پہنوں یا پھر میں اپنا چہرہ ڈھانپوں تو مجھے یہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ برطانویہ معاشرے میں رہتے ہوئے مس وارثی نے پاکستانی شلوار قمیض پہن کر اپنے الگ شناخت بنائی ہے ایک برطانویہ میگزین نے مس وارثی کا انٹرویو شائع کیا تو اس گلابی شلوار قمیض ڈوپٹے کی الگ سے نمایاں تصویر چھاپی، جو انہوں نے حکومتی آفس جوائن کرنے سے پہلے روز زیب تن کیا تھا۔

گوجر خان کے صفدر حسین کی چوتھی بیٹی، سعیدہ وارثی کو اس وقت پوری دنیا سلام پیش کر رہی ہے۔ کچھ حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک شخص کے استعفیٰ دینے سے کیا فرق پڑے گا تواس کا جواب یہ ہے کہ سعیدہ وارثی نے وہی کچھ کیا جو ایک فرد کی حیثیت سے وہ کر سکتی ہیں اور ایک فرد کے کردار کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن اصولوں کی خاطر وہ مخالف ہواؤں کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔ سعیدہ وارثی نے عالمی طاقتوں کی بہیمانہ بربریت اور انتہائی بے حسی کے مقابل انسانیت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ ل تک وہ برطانیہ میں صرف مسلم اقلیت کی نمائندگی کر رہی تھیں مگر آج انہوں نے اخلاقی جراٗت کا اظہار کر کے اور فلسطینی مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہو کر دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے دل جیت لیے ہیں۔ یوں سعیدہ وارثی کے اس قدم نے ظلم کی تاریکی میں ایک شمع روشن کی ہے اور اندھیرے کو چیرنے کے لیے روشنی کی ایک ننھی کرن بھی کافی ہوتی ہے۔

شکوہٗ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ظلم اور برائی کو دیکھو تو اسے طاقت سے روکو ، اگر انہیں تو اسے زبان سے برا کہو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو دل میں ہی اسے برا بھلا کہوں اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
سعیدہ وارثی نے تو ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر صاحب ایمان ہونے کا ثبوت دیا۔
عرب ملکوں کے وہ حکمران جو ظلم کرنے والی عامی طاقتوں کے دہلیز نشین ہیں، چپ چاپ فلسطینی بچوں کو مرتا دیکھتے ہیں، کیا وہ ایمان کے کمزور ترین درجے پر بھی فائز نہیں؟


Sayeeda Warsi Resigns From UK Government 

فٹ بالر میسی کا غزہ کے بچوں ساتھ اظہار یکجہتی........

ارجنٹینا کے مقبول عام فٹ بالر لائنیل میسی نے غزہ کے مظلوم فلسطینی بچوں کے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' ایک باپ اور یونیسیف کا سفیر ہونے کے ناطے میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد سامنے آنے والی فلسطینی بچوں کی تصاویردیکھ کر سخت خوف زدہ ہوا ہوں۔ ''
واضح رہے آٹھ جولائی سے اب تک غزہ میں 1900 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی اور لگ بھگ چار سو سے زائد بچے شہید ہوئے ہیں، جبکہ زخمی بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
میسی نے فلسطینی بچوں کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار فیس بک پر کیا ہے۔ میسی کے فیس بک فالوورز کی تعداد چھ کروڑ اسی لاکھ تنتالیس ہزار نو سو تیرہ ہے۔
میسی جنہوں نے حال ہی میں بارسلونا کے لیے کھیلا ہے اپنے فیس بک پر مزید لکھا ہے '' اسرائیل اور حماس کا تنازعہ بچوں نے کھڑا نہیں کیا تھا لیکن اس کی سب سے بھاری قیمت بچوں کو ہی ادا کرنا پڑی۔ ''
میسی نے زور دے کر کہا '' یہ احمقانہ تشدد ضرور رکنا چاہیے، ہمیں جنگی مضمرات کے حوالے سے بچوں کے تحفظ کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔''
میسی کے ان انسانی ہمدردی پر مبنی جذبات کا ایک پہلو یہ ہے کہ میسی نے انہیں انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں فیس بک پر دیا ہے۔ جبکہ ایک زخمی فلسطینی بچے کی تصویر بھی ساتھ لگائی گئی ہے جس کی ڈاکٹروں نے مرہم پٹی کر رکھِی ہے۔
میسی کے اس پیغام کو اب تک 63 ہزار سے زائد لوگ پسند کر چکے ہیں اور 12 ہزار سے زائد نے شئیر کیا ہے۔ اس پر بعض نے اعتراض بھی کیا ہے کہ ایک بین الاقوامی سٹار نے فلسطینیوں کی حمایت کی ہے۔ ایک نے لکھا ہے '' آپ عرب دنیا کی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں
بعض نے اس کی تحریر اور جذبات کے حوالے سے اس کی زبردست تحسین کی ہے۔ میسی نے جولائی کے دوران فلسطینی بچوں کے لیے دس لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا تھا۔٫

The Ruins Of Gaza

Palestinians sit next to their destroyed house after returning to the Shejaia neighbourhood, which witnesses said was heavily hit by Israeli shelling and air strikes during the Israeli offensive, in the east of Gaza City  . Israel pulled its ground forces out of the Gaza Strip on Tuesday and began a 72-hour truce with Hamas mediated by Egypt as a first step towards negotiations on a more enduring end to the month-old war. Gaza officials say the war has killed 1,834 Palestinians, most of them civilians. Israel says 64 of its soldiers and three civilians have been killed since fighting began on July 8, after a surge in Palestinian rocket launches. — REUTERS



The Ruins Of Gaza

اگر دعاؤں سے فرصت ملے تو۔۔۔.........


تین روز قبل اسرائیل کے بقول سیکنڈ لیفٹننٹ ہادار گولڈن کو حماس کے چھاپہ مار 72 گھنٹے کی جنگ بندی شروع ہونے کے فوراً بعد اغوا کر کے لے گئے۔ لہٰذا اسرائیل کو جنگ بندی کے صرف چار گھنٹے بعد مجبوراً پھر سے بمباری کرنی پڑی اور 100 کے لگ بھگ مزید فلسطینی بادلِ نخواستہ ہلاک ہوگئے۔باقی دنیا نے حماس کی جانب سے اغوا کی پرزور تردید کے باوجود ہادار گولڈن کے دن دہاڑے اغوا کے اسرائیلی دعوے پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے کہا کہ یہ واردات اس بات کا ثبوت ہے کہ حماس کو جنگ بندی سے کوئی دلچسپی نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون، امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور صدر اوباما نے ہادار گولڈن کی غیر مشروط فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی گھٹیا حرکتوں سے غزہ میں جنگ بندی کے امکانات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔غزہ کے عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی افسوسناک ہیں لیکن لیفٹننٹ ہادار گولڈن کا اغوا ایک بہیمانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
 
ہائے بے چارہ ہادار گولڈن !! ابھی23 برس کا ہی تو سن تھا۔چند ہی ہفتے بعد اس کی شادی ہونے والی تھی۔اس کے دادا اور دادی نازیوں کے گیس چیمبر میں دھکیلے جانے سے بال بال بچے اور پھر دونوں نے بطور شکرانہ فلسطین میں آ کر اسرائیل کی جنگِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔

غزہ کے عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی افسوسناک ہیں لیکن لیفٹننٹ ہادار گولڈن کا اغوا ایک بہیمانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
لیفٹننٹ ہادار گولڈن کے والد سمبا اور والدہ ہیڈوا کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے اور اب پروفیسر سمبا تل ابیب یونیورسٹی میں تاریخ ِ یہود کے استاد ہیں۔ہادار کا جڑواں بھائی زور اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ جبکہ ایک بھائی مینہم اور بہن ایلات زیرِ تعلیم ہیں۔ایسے پڑھے لکھے محبِ وطن امن پسند خاندان کے لیے اپنے جگر گوشے کے اغوا اور پھر اس کی ہلاکت دونوں کی نیتن یاہو حکومت کی جانب سے تصدیق کسی قیامت سے کم نہیں۔

چنانچہ جس طرح اسرائیل کی بری و فضائی افواج نے ہادار کے مبینہ اغوا کے غم میں جنگ بندی کی بے فکری میں ضروریاتِ زندگی خریدنے والے اہلِ غزہ کو نشانہ بنایا اسی طرح ہادار کی ہلاکت کی تصدیق کے سوگ میں ایک اور اسکول پر حملہ کردیا جس میں اقوامِ متحدہ کے تحفظ میں بہت سے فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔

اب آپ کہیں گے کہ مجھے 1700 کے لگ بھگ فلسطینیوں کی لاشیں اور 
9000 زخمی اور پانچ لاکھ دربدر اہلِ غزہ اور اقوامِ متحدہ کے جھنڈے والےدفاتر اور سکولوں میں پناہ گزین ڈیڑھ لاکھ لوگ اور ان عمارتوں پر ہونے والی بمباری کیوں نظر نہیں آتی۔ مجھے غزہ کی مسلسل کئی برس کی بحری ، فضائی اور بری ناکہ بندی کیوں دکھائی نہیں دیتی۔میں صرف لیفٹننٹ ہادار گولڈن کے دکھ میں کیوں مرا جا رہا ہوں۔
 
مجھے ٹی وی چینلز پر اقوامِ متحدہ کا پھوٹ پھوٹ کر رونے والا اہل کار کرس گنیس کیوں نظر نہیں آتا۔میں ان چار بچوں کا ذکر کیوں نہیں کرتا جو ساحل پر کھیلتے ہوئے کسی اسرائیلی جنگی کشتی کے گولے کا نشانہ بن گئے۔میں کریم ابو زید کی بات کیوں نہیں کرتا جو غزہ کی موجودہ جنگ شروع ہونے سے سولہ روز پہلے پیدا ہوا ۔تئیس روز نہ سمجھ میں آنے والے دھماکوں سے ڈر کر ماں کی چھاتی سے چمٹا رہا اور اب سے تین روز پہلے اپنی عمر کے 40 دن پورے کرکے جسم یہیں پے چھوڑ گیا۔

مسلمان دنیا کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ 11000 کلو میٹر پرے جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا نے غزہ کے یتیم اور زخمی فلسطینی بچوں کو گود لینے کی پیش کش کی ہے۔ بھری مساجد میں رقت آمیز دعاؤں سے فرصت ملے تو وینزویلا کو اسلامی کانفرنس کی صدارت پیش کرنے پر غور کیجئے گا۔

وسعت اللہ خان