Showing posts with label Shariah. Show all posts

شریعت پہلے یا اچھی حکومت


ہم مسلمان ہیں اور مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک یہ اللہ‘ اس کے رسولؐ اور قرآن مجید پر ایمان نہ لے آئے اور جب اللہ‘ اس کا رسولؐ اور قرآن مجید تینوں اکٹھے ہوتے ہیں تو شریعت بنتی ہے‘ ہم اگر شریعت سے قرآن مجید کو خارج کر دیں تو یہ شریعت نہیں رہے گی‘ ہم اس میں نبی اکرم ؐ کو سائیڈ پر کر دیں تو بھی شریعت نہیں ہو گی اور ہم اگر اس میں سے اللہ تعالیٰ کو نکال دیں تو بھی شریعت شریعت نہیں رہے گی لیکن اب سوال یہ ہے‘ کیا ریاست کے لیے صرف شریعت کافی ہے یا پھر ریاست کو اچھی حکومت‘ اچھا انتظام بھی چاہیے اور اگر ریاست کو اچھی حکومت چاہیے تو کیا اچھی حکومت پہلے آئے گی یا پھر شریعت۔ ہمارا قومی مستقبل اس سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنایا‘ جنہوں نے ملک میں شراب اور جوئے پر پابندی لگائی‘ جنہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا‘ جنہوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بنائی‘ جنہوں نے سرکاری اداروں میں نماز کے لیے وقفے رکھوائے اور جنہوں نے مذہبی تہواروں کے لیے چھٹیوں کا نیا نظام وضع کروایا۔ ہم جنرل ضیاء الحق کو اسلامی اقدار کا کریڈٹ دیتے ہیں جب کہ جنرل ضیاء الحق کا اسلام صرف ویسٹ کوٹ اور شیروانی تک محدود تھا‘ اصل کارنامہ ذوالفقار علی بھٹو نے سرانجام دیا تھا‘ بھٹو صاحب نے ملک کو ایک ایسا متفقہ آئین دیا جس پر ملک کے تمام جید علماء نے دستخط بھی کیے اور اسے تسلیم بھی کیا مگر پھر اس کا کیا نتیجہ نکلا‘ ملک تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا‘ وہ ملک جسے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ایشیا کا لیڈر کہا جاتا تھا‘ اس کے ادارے اس قدر ڈیفالٹ میں چلے گئے کہ ملک کو فوج ’’ٹیک اوور‘‘ کرنے پر مجبور ہو گئی‘ کیوں؟ کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے آئین‘ نفاذ شریعت کے عزائم اور اسلامی نظریاتی کونسل کو اچھی حکومت کی سپورٹ دینے میں ناکام ہو گئے تھے‘ بھٹو صاحب نے ملک کو متفقہ اور اچھا آئین تو دے دیا لیکن یہ ملک کو متفقہ اور اچھی حکومت نہ دے سکے لہٰذا ملک تمام تر نیک خواہشات کے باوجود اسلامی جمہوریہ نہ بن سکا۔ یہ ناکامی فاتح افغانستان جنرل ضیاء الحق خلدمکانی کے حصے میں بھی آئی‘ یہ بھی اپنی تمام تر دینی خواہشات اور نفاذ شریعت کے عزائم کے باوجود پاکستان کو اسلامی ریاست نہ بنا سکے۔

یہ شہادت سے قبل افغانستان میں نصف درجن امیرا المومنین بنا گئے اور ان امراء المومنین نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دی مگر جنرل صاحب پاکستان کے لیے سلطان صلاح الدین ایوبی یا حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جیسے حکمران کا بندوبست نہ کر سکے‘ یوں بھٹو بھی ناکام رہا اور جنرل ضیاء الحق بھی اور ان کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی اور حتیٰ کہ چوہدری شجاعت حسین بھی۔ چوہدری صاحب کی مٹی ختم ہو گئی لیکن پاکستان میں نفاذ شریعت کا پودا سر نہ اٹھا سکا‘ ہم جمہوریہ بن سکے اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ!اس کی وجہ وہی تھی‘ ہماری دینی خواہشات کو اچھی اور مضبوط حکومت نہ ملی سکی۔ میں دنیا کے نامور مورخین‘ جید علماء کرام اور پاکستان کے سکہ بند مفتیان سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ’’کیا نبی اکرمؐ نے مدینہ منورہ میں ریاست پہلے قائم کی تھی یا شریعت پہلے نافذ کی تھی؟‘

‘ آپ کا جواب اگر شریعت ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے‘ قرآن مجید کی آخری آیت 10 ہجری کو نازل ہوئی اور مدینہ منورہ کی ریاست پہلی ہجری میں قائم ہوئی لہٰذا پہلی ہجری سے 10 ہجری تک مدینہ منورہ کا نظام کیا تھا؟ کیا پھر یہ حقیقت نہیں مدینہ منورہ میں اس وقت اچھی حکومت تھی اور اچھی حکومت مدینہ منورہ میں شریعت سے قبل آئی تھی‘ اللہ کے رسولؐ نے سود کے خاتمے کا اعلان میدان عرفات میں حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا ‘ میں دنیا کے اس عظیم سماجی چارٹر میں سے وہ فقرے آپ کے حضور پیش کرتا ہوں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اور آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے لیکن تم اپنی اصل رقم واپس لے سکتے ہو مگر تم بے انصافی نہیں کرو گے اور نہ تم سے بے انصافی ہو گی‘ اللہ کا فیصلہ ہے سود جائز نہیں اور جو سود سب سے پہلے ختم کیا جاتا ہے‘ وہ عباسؓ بن عبدالمطلب کا سود ہے‘ یہ سب کا سب کالعدم ہے‘‘ آپ لوگ عالم دین ہیں‘ آپ قرآنی آیات کے نزول کے دن نکال کر دیکھ لیجیے‘ حضرت عباسؓ نے کب اسلام قبول کیا تھا اور ان کے سود کو کب کالعدم قرار دیا گیا تھا؟ شریعت پھر اتنا عرصہ سود کے معاملے میں کیوں خاموش رہی؟ ہم مسلمان ہیں اور کوئی مسلمان سود کی حمایت نہیں کر سکتا کیونکہ اسے ہمارے اللہ اور ہمارے اس رسولؐ نے ناجائز قرار دیا جن کی آن پر ہماری ہزاروں جانیں قربان لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے‘ ریاست میں اچھی اور مضبوط حکومت پہلے آتی ہے اور شریعت بعد میں۔

ہم اب اچھی حکومت کی طرف آتے ہیں‘ ہندوستان کا ایک بادشاہ تھا غیاث الدین بلبن‘ یہ ترک النسل تھا اور سلطان التتمش کا غلام تھا‘ یہ 1266ء میں ہندوستان کا بادشاہ بنا اور 21 سال حکمران رہا‘ یہ سخت مزاج‘ ڈسپلن کا پابند اور امن و امان کا داعی تھا‘ بلبن کے بارے میں کہا جاتا تھا‘ یہ خود ہنستا تھا اور نہ ہی اس کے سامنے کسی کو ہنسنے کی جرأت ہوتی تھی‘ بلبن جوانی میں ہر قسم کے عیب میں مبتلا تھا‘ یہ شراب بھی پیتا تھا‘ یہ رقص و سرود کی محفلیں بھی برپا کرتا تھا اور یہ دولت لٹانے کی عادت بد میں بھی مبتلا تھا لیکن جوں ہی اقتدار سنبھالا ‘ اس نے تمام بری عادتوں سے توبہ کرلی‘ یہ ہمیشہ باوضو رہتا تھا‘ تہجد‘ چاشت اور اشراق تک کی نماز قضا نہیں کرتا تھا‘ علماء کا احترام کرتا تھا‘ راضی برضا رہتا تھا‘ روز قبرستان جاتا تھا‘ قبریں دیکھتا تھا اور ہر حال میں ساتھیوں کے جنازوں میں شریک ہوتا تھا‘ اس کے غلاموں نے اسے کبھی ننگے سر اور ننگے پاؤں نہیں دیکھا تھا لیکن ان تمام مذہبی عادات کے باوجود وہ لاء اینڈ آرڈر پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرتا تھا‘ باغی چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم وہ اسے پوری طاقت سے کچل دیتا تھا.

وہ ایک شخص کی بغاوت یا سرکشی پر پورا شہر اور سارا لشکر قتل کرا دیتا تھا‘ وہ ہر حال میں قانون پر عمل درآمد کراتا تھا اور وہ اس کے لیے کسی بھی شخص کو کسی بھی قسم کا استثنیٰ نہیں دیتا تھا‘ مجرموں کے معاملے میں وہ اس قدر سنگ دل واقع ہوا تھا کہ وہ ان کی گرفتاری کے لیے فوج کو جنگ میں جھونک دیتا تھا‘ اس کا دور ہندوستان کے سنہری ترین ادوار میں شمار ہوتا تھا‘ وہ 1287ء میں انتقال کر گیا لیکن آپ اس کی رٹ ملاحظہ کیجیے‘ غیاث الدین بلبن کے مرنے کے ساٹھ سال بعد تک ہندوستان کی سڑکیں محفوظ رہیں‘ لوگوں کا خیال تھا غیاث الدین بلبن ہمیں قبر میں دیکھ رہا ہے اور ہم نے جوں ہی کسی کو لوٹنے کی کوشش کی‘ وہ قبر سے اٹھے گا‘ ہماری گردن اتارے گا اور دوبارہ قبر میں جا کر سو جائے گا‘ یہ ہوتی ہے ریاست اور یہ ہوتی ہے اچھی حکمرانی۔ آپ آج کے دور میں ڈنمارک کی مثال لیجیے‘ یہ چھوٹا سا ملک ہے‘ ہم اس کو اخلاقی لحاظ سے قطعاً آئیڈیل ملک نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس ملک میں جنسی بے راہ روی بھی ہے‘ سودی کاروبار بھی‘ فحاشی بھی‘ عریانی بھی‘ شراب خانے بھی اور رقص گاہیں بھی مگر آپ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ملاحظہ کیجیے‘ ڈنمارک میں 75 برس میں قتل کی صرف 15 وارداتیں ہوئیں جب کہ ڈاکہ زنی‘ چوری اور زنا کاری کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں‘ ڈنمارک میں پولیس اور عدالتی عملہ فارغ بیٹھا رہتا ہے۔

حکومت جیلیں ختم کر کے انھیں ہاسٹل اور ہوٹلز میں تبدیل کر رہی ہے‘ ہم اس کے مقابلے میں اپنے ملک کو دیکھیں تو صرف کراچی شہر میں روزانہ 15لوگ ناحق مارے جاتے ہیں‘ ہمارے پاس پانچ لاکھ پولیس اہلکار ہیں مگر ہم ان کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں‘ ہمارے ججوں کے پاس روزانہ دو دو‘ تین تین سو مقدموں کی فائلیں آتی ہیں‘ ہماری جیلوں میں قتل کے پانچ ہزار قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں‘ 87 ہزار مجرم جیلوں میں بند ہیں اور ہمیں اگلے دس برسوں میں جیلوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ کرنا پڑے گا‘ ہمارے ملک میں چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے‘ عورتوں کے منہ پر تیزاب پھینکا جاتا ہے‘ مسجدوں کے دروازے سے جوتے اٹھائے جاتے ہیں‘ مسجدوں کے پنکھے چوری ہوتے ہیں اور قبروں کی سلیں تک اٹھا لی جاتی ہیں‘ بینک بھی لوٹے جاتے ہیں‘ لوگ بھی اغوا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو مسجدوں میں نماز کے دوران شہید بھی کر دیا جاتا ہے چنانچہ ملک کون سا اچھا ہوا‘ وہ جس میں 75 برسوں سے صرف 15 قتل ہوئے یا پھر وہ جس کے ایک ایک شہر میں روزانہ 15 قتل ہو رہے ہیں‘ آپ کبھی ٹھنڈے دل سے سوچئے گا؟ سعودی عرب ہمارے لیے محترم ترین ملک ہے لیکن لوگ احرام میں ہیروئن چھپا کر جدہ اترتے ہیں‘ لوگوں کو وہاں سنگ سار بھی کیا جاتا ہے‘ ان کی گردنیں بھی اتاری جاتی ہیں اور ان کے ہاتھ بھی کاٹے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود جرائم نہیں رک رہے‘ آپ دوسرے اسلامی ملکوں کو بھی دیکھ لیجیے‘آپ کو وہاں کی صورتحال بھی آئیڈیل نظر نہیں آئے گی‘ کیوں؟ کیونکہ ہم سب مسلمان نبی اکرمؐ کی ترتیب کے مطابق نہیں چل رہے‘ ہم حکومتی نظام اور حکمرانوں کو بہتر بنانے سے قبل شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم اچھی حکومت قائم کرنے کے بجائے ریاست کو شریعت سے اسٹارٹ کرنا چاہتے ہیں اور یوں ہم الجھ جاتے ہیں۔

میرا علماء کرام سے ایک اور سوال بھی ہے ’’شریعت پر عمل کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے‘ حکومت پر یا علماء کرام پر؟ کیا ہمیں شریعت کے نفاذ کے لیے مضبوط اور اچھی حکومت کی ضرورت نہیں پڑے گی مگر جس ریاست میں گاؤں کے لوگ گیس پائپ لائین کی مرمت نہ کرنے دیں یا شر پسند عناصر پائپ لائین اڑا جائیں اور ریاست انھیں گرفتار نہ کر سکے کیا وہ ریاست ملک میں شریعت نافذ کر سکے گی اور جس میں حکومت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکاء اشرف سے اپنا فیصلہ نہ منوا سکے‘ جس میں حکومت عوام سے بجلی کے بل وصول نہ کر سکے‘ کنڈے نہ اتروا سکے اور جس میں حکومت ٹرین کے وقت ریلوے کے پھاٹک بند نہ کروا سکے‘ کیا آپ سمجھتے ہیں وہ حکومت ملک میں اسلامی قوانین نافذ کر دے گی‘‘ اچھی اور مضبوط حکومت کے بغیر شریعت آ سکے گی اور نہ ہی اسلامی قوانین ‘ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہمیں بہرحال تسلیم کرنا ہوگا۔

جاوید چوہدری   

یہ ہے شریعت


والدہ نے سات دن دودھ پِلایا، آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا، ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی، یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی، یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا، مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے، ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھے، ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے، مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کے لیے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے، یہ ہے شریعت۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں، یہ ملاقات کے لیے آئیں، دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں، میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے، وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں، اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا، غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں، یہ بھی ذہن میں رہے، حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں، فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی، ماں کے بارے میں پوچھا، بتایا گیا، وہ انتقال فرما چکی ہیں، رسول اللہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے، رضاعی خالہ کو لباس، سواری اور ایک سو درہم عنایت کیے، رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی، پتہ چلا تو انھیں بلایا، اپنی چادر بچھا کر بٹھایا، اپنے ہاں قیام کی دعوت دی، حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی، رضاعی بہن کو غلام، لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا، یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں، یہ ہے شریعت۔

جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے، ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے، لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا، حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے، کافروں کا ایک شاعر تھا، سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا، یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا، سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا، حضرت عمرؓ نے تجویز دی، میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا، تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا ’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں، میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا، یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے، سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا، یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت۔

غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجیے‘ عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا، ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا، اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی، کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انھیں خطرہ تھا، مسلمان ان پر تیر برسا دیں گے، کفار نے اپنا سفیر بھجوایا، سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی، رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں، ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے، یہ ہمارے لیے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی، خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے، تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کے لیے جگانے کی ذمے داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی، حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی، سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی، رسول اللہ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ جس ذات نے آپؐ کو سلایا، اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘ تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی، آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سفر کر رہے تھے، کفار جنگ بدر کے لیے مکہ سے نکلے، کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا، آپ سے پوچھا گیا، آپ کہاں جا رہے ہیں، حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو، آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا، یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی، جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہ ؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تو مدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا، رسول اللہ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انھیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انھیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘ یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا، یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا۔

ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا، آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا، حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا، یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انھوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’آج لڑائی کا دن ہے، آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے، ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا، ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں، رحمت اور معاف کرنے کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا، مدینہ سے رقم جمع کی، خوراک اور کپڑے اکٹھے کیے اور یہ سامان مکہ بھجوا دیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے، آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔ مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا، رسول اللہ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔

ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا، اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، اس نے انکار کر دیا، یہ تین دن قید میں رہا، اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی، یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا، اس نے راستے میں غسل کیا، نیا لباس پہنا، واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے، رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں، یہ کافر تھے، یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے، مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا، یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی، صاحبزادی مشورے کے لیے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرو مگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کے لیے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘ مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا ’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کر دو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا، آپ ملاحظہ کیجیے، حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کے لیے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ نے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا، یہ ہے شریعت۔

حضرت عائشہ ؓنے ایک دن رسول اللہ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا، وہ دن جب میں طائف گیا اور عبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے، میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا، عبدیالیل طائف کا سردار تھا، اس نے رسول اللہ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا، اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں، یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا، عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا، رسول اللہ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا، رسول اللہ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے، اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے۔

عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا، یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کے لیے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا، میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہوسکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کے لیے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں، آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت۔

ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا، آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں، آپ لوگوں کے لیے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں، آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے چھٹ جاتے‘‘ اور یہ ہے شریعت لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں، ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کرسکتا ہے؟۔


بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

Whose Shariah? Which Shariah? By Ansar Abbasi


Whose Shariah? Which Shariah? By Ansar Abbasi