Showing posts with label Twitter. Show all posts
پاکستان میں فیس بک کے غلط استعمال کی شرح میں خطرناک اضافہ..........
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خصوصاً فیس بک موجودہ عہد میں مفید اطلاعات کے پھیلاﺅ، تفریح اور علم کے حصول کے لیے موثر ذریعہ بن چکی ہے، مگر ہمارے معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے،تصاویر اور خاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کررہے ہیں۔
چند سال قبل جب فیس بک صارفین کی تعداد محدود تھی تو اسے تاریخی، کارآمد اور دلچسپ اطلاعات اور تصاویر کو شیئر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا مگر اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔فیس بک صارفین کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور متعدد افراد کے مختلف ناموں کے ساتھ ایک سے زیادہ اکاﺅنٹس ہیں، یہ فرضی فیس بک اکاﺅنٹس اکثر منفی سرگرمیوں جیسے بلیک میلنگ اور پروپگینڈہ وغیرہ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ماہرین کے خیال میں بیشتر نوجوانوں کے لیے فرضی ناموں کا استعمال کشش رکھتا ہے جبکہ لڑکیوں کی فرضی تصاویر کے ذریعے انہیں تیز اور بہت زیادہ توجہ ملتی ہے۔فیس بک ہر ایک کے لیے ہائیڈ پارک بن چکا ہے جہاں کوئی بھی اپنی پسند کی زبان استعمال کرسکتا ہے، کئی بار کوئی صارف معروف شخصیات جن میں زیادہ تر سیاستدان ہوتے ہیں، کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرتا ہے، یہاں تصاویر اپ لوڈ کرنے، تحریر اور کمنٹس پوسٹ کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔
سیاسی ورکرز فیس بک پر بہت زیادہ متحرک نظر آتے ہیں جو اس سائٹ کو عام طور پر پروپگینڈہ کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ لوگوں کی جانب سے سیاسی اور مذہبی رہنماﺅں کی بے عزتی کے لیے مضحکہ خیز فرضی تصاویر کو اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ان رہنماﺅں کی تصاویر کو لڑکیوں کے ساتھ مختلف پوز میں ایڈٹ کیا جاتا ہے اور پھر ان کی شخصیت پر دھبہ لگانے کے لیے انہیں عوام کے لیے اپ لوڈ کردیا جاتا ہے۔
سیاسی ورکرز خاص طور پر خواتین کی تصاویر کو فوٹو شاپ میں جسمانی ساخت کو تبدیل کرکے عجیب کیپشنز کے ساتھ پوسٹ کی جاتی ہیں، فیس بک کے بیشتر صارفین اب اس پورے عمل سے کافی واقف ہوچکے ہیں اور وہ جاننے لگے ہین کہ لوگ اس سائٹ کو پروپگینڈہ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔
فیس بک کے صارفین تعلیم یافتہ افراد ہوتے ہیں اور ان میں سے بیشتر رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، مگر وہ منفی سرگرمیوں میں بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں اور نہ صرف اس طاقتور پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہیں بلکہ وہ معاشرے میں بھی کوئی اچھائی نہیں پھیلا رہے۔طاقتور سوشل میڈیا کا غلط استعمال انتشار کا سبب بنتا ہے کیونکہ فرضی اکاﺅنٹس کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔
متعدد معروف شخصیات، حکومتی عہدیداران، سیاستدان اور یہاں تک کہ ججز نے فیس بک اکاﺅنٹس ہونے کی تردید کی ہے مگر ان کے نام کی آئی ڈیز سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ قابل اعتراض مواد سامنے آنے کے بعد بیشتر شخصیات کو اپنی صفائی پیش کرنا پڑ جاتی ہے۔دیگر افراد کی ٹائم لائن پر تصاویر ٹیگ کرنا ایک اور سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ کئی بار کوئی صارف قابل نفرت فوٹوز اور مواد دیگر شخص کی مرضی کے بغیر ٹیگ کردیتا ہے۔
غیرمصدقہ اور غیر مستند قرآنی آیات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شیئر کرنا بہت عام ہے اور لوگ انہیں ڈاﺅن لوڈ کرکے ان کے پرنٹ نکال کر استعمال بھی کرتے ہیں مگر کوئی بھی اس چیز کی زحمت نہیں کرتا ہے کہ اس کی تصدیق کسی مذہبی عالم سے کرالے۔
ایک سرکاری کالج کی طالبہ ماہ نور علی کا کہنا ہے" مجھے نہ صرف فیس بک بلکہ اخبارات اور ٹیلیویژن پر تشدد سے متاثرہ افراد کی خونریز تصاویر دیکھنے سے نفرت ہے،میڈیا کو اس طرح کے مواد کو دکھانے پر پابندی لگادینی چاہئے، جو معاشرے کو دہشت زدہ کردیتا ہے"۔
اسی طرح اسلامیہ کالج پشاور کے طالبعلم محمد اظہار علی شاہ بھی کہتے ہیں لڑکوں کی جانب سے لڑکیوں کی فرضی تصاویر کا استعمال عام معمول بن چکا ہے، جو کسی مہذب اور باشعور شخص کو زیب نہیں دیتا۔
اس کا اصرار ہے کہ طالبعلموں کو اس قابل قدر پلیٹ فارم کو مذموم مقاصد کی بجائے ایسی عام معلومات، تدریسی اور تاریخی مواد کو شیئر کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہئے۔
محمد اظہار نے سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد کو ٹیگ کرنے کے عمل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر فیس بک صارفین نوجوان طالبعلم ہیں، جنھیں اسے لوگوں کو بہکانے کے لےے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
اس کا کہنا تھا"ہر صارف کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سوشل میڈیا کو خاندان بھی استعمال کرتے ہیں اور غیرمعیاری مواد کو اپ لوڈ کرنا غیراخلاقی کام ہے، جس پر حکومت کے متعلقہ اداروں کو نظر رکھنی چاہئے۔ایک آئی ٹی ماہر نے بتایا کہ بے کار مواد کے استعمال پر پابندی لگائی جانی چاہئے جو عام صارف کو بہکانے کا سبب بنتا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کیمرہ اور موبائل فونز کے بہت زیادہ استعمال نے لوگوں کی زندگیوں کو غیرضروری ویڈیوز اور تصاویر کی بدولت قابل رحم بنادیا ہے۔اس نے کہا"کسی کو بھی عام صورتحال میں دیگر افراد کی پرائیویسی میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ کسی شخص کی زندگی کے کسی غیرمعمولی لمحے کی تصویر کو سوشل میڈیا تک پہنچنے میں کوئی وقت نہیں لگتا"۔اس ماہر کا مزید کہنا تھا کہ فیس بک کے بیشتر صارفین کے انٹرنیٹ پر بہت زیادہ دوست ہوتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ضرورت کے وقت کام نہیں آتا" وہ صرف سالگراﺅںپر پیغامات بھیجتے ہیں اور نئے مواد اپ لوڈ کرنے پر کمنٹس ہی کرتے ہیں"۔
آئی ٹی ماہر کے مطابق نوجوانوں نے اپنی زندگیاں فیس بک اور ٹوئیٹر کے لیے صرف کردی ہیں اور رات کو سونے کی بجائے اس طرح کی سرگرمیوں میں ہی مصروف رہتے ہیں۔اس نے کہا کہ طالبعلموں کے اندر کلاس رومز میں ویڈیو بنانے اور اسے اپ لوڈ کرنے کی عادت والدین اور اساتذہ کے لیے حیرت کا باعث بنتی ہے، ہر تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کو موبائل فونز اور ڈیجیٹیل کیمروں کے غلط استعمال پر نظر رکھنی چاہئے۔
ماہر کا کہنا تھا کہ فرضی آئی ڈی بنانے والے صارفین کے مقامات کو ڈھونڈا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز یونٹس کو بھرپور کوشش کرنا ہوگی۔ اس نے آئی ڈیز کی حقیقت پر نظر رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر نظر نہ رکھی جائے تو یہ لوگوں کے قتل کا باعث بھی سکتا ہے۔آئی ٹی ماہر کے مطابق" یہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا کو اپنے قابل نفرت مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ لڑکیوں کو چیٹ کے ذریعے ورغلاتے ہیں، ان کے فون نمبرز لے کر اپنے ذہن میں موجود بیمار ذہنیت کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں"۔
ایک اسپورٹس صحافی عظمت اللہ خان نے اس بارے میں رائے دیتے ہوئے کہا کہ فیس بک علم کے خزانے کی طرح ہے مگر نوجوانوں کی جانب سے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سیکھائے کہ کس طرح سوشل میڈیا کو علم کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایک اور صحافی انیلہ شاہین نے فیس بک کو ہر ایک تک اطلاعات کی رسائی کے لیے مفید ذریعے قرار دیا، جہاں ہر اس فرد کو اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کا موقع ملتا ہے جو ٹیلیویژن اور اخبارات میں ایسا نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مفت اور موثر پلیٹ فارم ہے" پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی جانب سے توہین آمیز اور بدنام کرنے والے بیانات کو جگہ نہیں ملتی مگر فیس بک پر ہر کوئی اپنے جذبات کے اظہار کے لیے آسانی سے سخت الفاظ کو پوسٹ کردیتا ہے"۔
انیلہ شاہین نے کہا کہ کئی بار تعلیم یافتہ افراد بھی فیس بک کو انتہائی غیرمعیاری وماد کو شیئر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہوں نے تجویز دی کہ قابل اعتراض مواد کو اپ لوڈ کرنے پر کچھ پابندیاں عائد ہونی چاہئے کیونکہ اس سے معاشرے میں معاشرتی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ایک اور آئی ماہر سگتین علی کا کہنا تھا" میں سوشل میڈیا کا استعمال اکثر گیمز کھیلنے کے لیے کرتا ہوں"۔
اس نے بتایا کہ جو لوگ اس سائٹ کے استعمال کو روزانہ کی بنیاد پراس طرح استعمال کرتے ہیں جیسے انہیں اس پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہو اور وہ پیسے دیئے جارہے ہوں۔ایف آئی اے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر عمران شاہد نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ سائبر کرائمز یونٹ اس طرح کے پلیٹ فارمز کے استعمال پر نظر رکھنے کے لیے کام کررہا ہے اور عوامی شکایات پر اقدام بھی کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا"ایف آئی اے کے سائبر کرائم یونٹ کے حوالے سے بیشتر افراد کو زیادہ معلومات حاصل نہیں، جو کہ انٹرنیٹ اور فیس بک پر موثر طریقے سے غیرمطلوب اور تضحیک آمیز مواد کی روک تھام کے لیے کام کررہا ہے، یہ یونٹ کسی بھی آئی ڈی کے حامل فرد کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے"۔عمران شاہد نے بتایا کہ شعور نہ ہونے کے باعث لوگ اپنی شکایات پولیس کے پاس درج کراتے ہیں مگر یہ پولیس کی ذمہ داری نہیں، کیونکہ صرف ایف آئی اے کے پاس ہی غیرضروری مواد پر نظراور بلاک کرنے کی سہولت موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں یہاں تک کہ یاہو اور گوگل تک سے بھی مدد لی جاتی ہے۔
حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس
ایک خوش کن خبر ہے کہ حکومت نے فریضہ حج کی ادائیگی کے خواہش مند غریب شہریوں کی سہولت کے لیے حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس سروس کا آغاز آیندہ حج ایام سے ہوگا۔ وزیر پورٹس و شپنگ نے بتایا ہے کہ حج پر ساڑھے تین لاکھ کے قریب اخراجات آتے ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی کے لیے حج کا فریضہ انجام دینا بڑا مشکل کام ہے۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سستے حج کا منصوبہ بنایا ہے، اس سلسلے میں یورپ سے تیز رفتار بحری جہاز حاصل کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے حاجیوں کو 6 دنوں کے اندر سعودی عرب پہنچایا جائے گا، انھیں کھانے پینے کی سہولیات بھی فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ تاجر برادری کے اشتراک سے جہازوں میں تجارتی سامان بھی ساتھ لے جایا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسٹم اور امیگریشن کے معاملات پر بھی بات چیت چل رہی ہے، اس کے علاوہ اگلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران جانے والے زائرین کو بھی بحری راستے سے ایران بھیجا جائے گا۔ حکومت کی یہ کوششیں بلاشبہ لائق تحسین ہیں۔
حج و عمرہ کی ادائیگی ہر مسلمان کی جستجو و تمنا ہوتی ہے۔ غریب سے غریب مسلمان بھی کم معاشی وسائل ہونے کے باوجود بھی اپنا پیٹ کاٹ کر بنیادی ضروریات کو نظر انداز اور بہت سے فرائض کو موخر کرکے فریضہ حج کی ادائیگی کی کوششیں کرتا ہے لیکن آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی اور کاروباری نقطہ نظر سے حج وعمرہ کے روز افزوں اخراجات ، ہیرا پھیری، لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے اس کا متحمل نہیں ہو پاتا۔ غریب و متوسط طبقے کے لیے فریضہ حج کی ادائیگی تقریباً ناممکن ہوکر رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بحری سفری سہولت کی وجہ سے حج کرایوں میں تین چوتھائی کے قریب کمی واقع ہوگی کیونکہ اس منصوبے کے تحت بحری کرایے کی شرح 25 سے 30 ہزار روپے رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بڑی سہولت میسر آجائے گی۔
عازمین حج کے لیے حکومت پاکستان نے ابتدا میں غیر منافع بخش بنیادوں پر حج پالیسی متعارف کروائی تھی جس میں وقتاً فوقتاً بہتری لانے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں لیکن وزارت مذہبی امور میں نااہل، بددیانت اور خوف خدا سے بے بہرہ افراد کی تعیناتی اور سیاسی مداخلت و مفادات کی وجہ سے اس کی کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی گئی اور مسائل، مصائب اور شکایتوں میں اضافہ ہوتا گیا، ان خرابیوں، کوتاہیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے حکومت نے پرائیویٹ حج اسکیم کا اجرا کرکے اس عمل میں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو شامل کر ڈالا جس کی وجہ سے کسی بہتری کے بجائے مزید خرابیاں رونما ہوئیں اور کرپشن اور ملی بھگت کا سلسلہ وزارت مذہبی امور سے ٹور آپریٹرز تک دراز ہوگیا۔ عازمین حج و عمرہ کی پریشانیوں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔
رہائش، خوراک، سفری سہولیات، معاہدات کی خلاف ورزی کے لاتعداد واقعات سامنے آنے لگے جن پر حکومت نے کوئی توجہ نہ دی تو اس گمبھیر صورت حال پر عدالتوں کو ایکشن لینا پڑا۔ عدالت عظمیٰ کی کارروائیوں کے نتیجے میں وزیر و مشیر وزارت حج و مذہبی امور اور ٹور آپریٹرز جیلوں میں گئے، حجاج کو ان کی اضافی رقوم واپس کروائی گئیں۔ بدعنوانی اور لوٹ مار کو دیکھ کر سعودی حکومت بھی حرکت میں آئی، پاکستانی حکام سے سرکاری سطح پر اس کی شکایت کی گئی اور کافی ٹور آپریٹرز کو بلیک لسٹ کرکے تین سال تک کے لیے نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی گئی، مجبوراً حکومت پاکستان نے بھی سیکڑوں ٹور آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کیے تھے۔ کم سرمایہ کاری اور کم مالی خطرات کے اس کاروبار میں راتوں رات دولت مند بننے کے خواہش مند عاقبت نااندیش عناصر کو حکومتی حلقوں کی آشیرباد اور پشت پناہی بھی حاصل ہے جو ایک منظم مافیا کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایک تو وہ طبقہ ہے جو دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد فریضہ حج و عمرہ کی ادائیگی کی تڑپ و جستجو میں لگا رہتا ہے اور بمشکل ہی اس کا متحمل ہوتا ہے، دوسری جانب ارباب اقتدار و اختیار اور مراعات یافتہ طبقہ ہے جس نے ان مذہبی عبادات کو سیاسی و سماجی رسم کی حیثیت دے ڈالی ہے۔ سیاست دانوں کے لیے یہ فریضہ سیاسی حالات سے وقتی فرار حاصل کرنے، سیاسی جوڑ توڑ، ڈیل اور رابطوں کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ خوشنودی، پذیرائی کے لیے رشوت کے طور پر سیاسی حلیفوں اور کارکنوں کو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجنے کا رجحان جڑیں پکڑ چکا ہے۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز مختلف قسم کے پرتعیش اور مختصر دورانیے کے ایسے حج و عمرہ پیکیج بھی متعارف کرائے جاتے ہیں جن کے اخراجات 20 لاکھ فی کس بتائے جاتے ہیں۔ حالانکہ حج کی اصل روح، تربیت اور فلسفہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کفن کی صورت حج کا احرام باندھ کر گھر سے نکلتا ہے، اپنے پیاروں کو زندگی کے تمام معاملات کو چھوڑ کر سفر کی مشقتیں برداشت کرتا، اﷲ کے حضور پیش قدمی کرتا ہے، عرفات میں حشر کے میدان کی طرح اﷲ کے حضور پیش ہوتا ہے، مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے بسر کرتا ہے جہاں نہ کوئی ادنیٰ ہوتا ہے نہ اعلیٰ، نہ امیر نہ غریب، نہ حاکم نہ محکوم، سب کے پیر و سر ننگے ہوتے ہیں، ایک جیسا لباس ہوتا ہے، ہر کوئی اپنی مشقتیں خود برداشت کرتا ہے بلکہ حکم ہے کہ حج کی مشقتیں و صعوبتیں بیان نہ کی جائیں۔
حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کے کپڑوں اور اجسام پر جمع ہونیوالے گرد و غبار اور میل کچیل پر اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں فخر کرتا ہے اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ تعلیمات عام مسلمانوں کے علم میں ہوتی ہیں، کاش ہم ان پر غور اور عمل کرکے حج و عمرہ جیسی عبادات کی اصل روح کو برقرار رکھ سکیں۔ دنیا کے بہت سے اسلامی بلکہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی عازمین حج کو اس فریضے کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر بہت سی رعایت و مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے عازمین حج کے لیے بحری جہازوں کے ذریعے سفری سہولت کی فراہمی بھی ایک مستحسن اور قابل تعریف اقدام ہے۔ حکومت کو اس سہولت کے اجرا سے قبل اس قسم کے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے اس سہولت کا فائدہ غریب و متوسط طبقے کو پہنچے مثلاً یہ کہ اگر کسی نے پہلے فریضہ حج ادا کیا ہوا ہو تو اس کو یہ سہولت فراہم نہ کی جائے، سہولت سے استفادہ حاصل کرنیوالے سے اقرار نامہ لیا جائے کہ وہ ہوائی سفر کے اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔
اس بحری سفر میں سامان اور اس کے وزن کی بھی ایک متوازن حد مقرر کی جائے تاکہ کاروباری ذہنیت کے لوگ اس کا غلط استعمال نہ کرسکیں اور سب سے زیادہ اس کی سیکیورٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بحری جہاز تک ممنوع اشیا اور منشیات وغیرہ کا پہنچانا نسبتاً آسان ہے، خاص طور پر ایک ہفتے پر محیط اس بحری سفر کے دوران کسی سادہ لوح یا بزرگ حاجی کے سامان میں رد و بدل یا کچھ شامل کردینا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ زاد حج کی اشیا میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ چند سال پیشتر کراچی کے عازمین عمرہ کے دو خاندانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کی چپلوں میں ٹور آپریٹرز کے کارندوں نے ہیروئن چھپا رکھی تھی، اگر جامعہ بنوری کے مہتمم سعودی فرماں روا تک رسائی اور سینیٹ اور قومی اسمبلی اپنے اجلاس میں اس مسئلے پر آواز بلند نہ کرتیں تو ان کی گردن زنی ہوچکی ہوتی۔
حکومت کو وزارت مذہبی امور کے معاملات کا ازسر نو اور سنجیدگی سے جائزہ لے کر اس کو نااہل، بددیانت افراد سے پاک کرکے سیاست اور مفادات سے بالاتر ہوکر اچھی شہرت کے حامل دین کی سوجھ بوجھ اور خوف خدا رکھنے والے افراد کو تعینات کرنا چاہیے۔ عام کرایوں اور حج و عمرہ کے کرایوں کے فرق اور ٹیکس ختم کرکے رعایتی نرخ مقرر کرنے چاہئیں، ٹور آپریٹرز کی رجسٹریشن کی سخت شرائط اور معیار مقرر کرکے صرف ایسے آپریٹرز کو خدمات کی ذمے داری سونپنی چاہیے جو اسے محض کاروبار نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیں۔ بلیک لسٹ ہونے والا شخص یا ادارہ کسی دوسرے نام سے یہ کام دوبارہ نہ حاصل کرسکے۔ کوٹے کی تقسیم دیانتدارانہ ہونی چاہیے، پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اور عازمین کے درمیان ایک تحریری معاہدے کا جامع متن تیار کرکے حکومت کو اس کے ضامن کے طور پر دستخط کرکے اس پر عمل کو یقینی بنانا چاہیے، حکومت کے شکایتی سیل کو فعال متحرک اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرکے اس کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جانا چاہیے، ایسی ریگولیٹری باڈی بھی بنانی چاہیے جو معاہدے کے خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹور آپریٹرز کا لائسنس منسوخ اور سیکیورٹی ضبط کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ
سوشل میڈیا پاکستانی معاشرے کا آئینہ بن گیا

پاکستانی معاشر ے میں سوشل میڈیا کی جڑیں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس کے استعمال کرنے والوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سر فہرست ہیں۔ یہ نوجوان کیسے نظر آنا چاہتے ہیں، ان کے شب و روز کا معمول کیا ہے، وہ کب اٹھتے اور کب سوتے ہیں۔ یہ سب کچھ سوشل میڈیا کے آئینے میں صاف نظر آتا ہے۔
پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی نے ’زی سوشل پرائیوٹ لمیٹڈ‘ کی مرتب کردہ ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا نے دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان آپسی رابطوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت لوگ ہر وقت ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔
انتہائی پاور فل سوشل میڈیا نے پرنٹ، آن لائن اوریہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا کو بھی بعض حوالوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ متذکرہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس ’فیس بک‘، ’ٹوئیٹر‘ اور ’لنکڈ ان‘ سے بچہ بچہ واقف ہے۔ ان سائٹس پر آکر پاکستانی عوام کیا کچھ تلاش کرتی ہے اور اس کا رجحان کس طرف ہے اسے نہایت دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق پچھلے مہینے یعنی جنوری 2014ء میں 10لاکھ لوگوں نے فیس بک جوائن کی۔ مجموعی جائزہ لیں تو پاکستان میں ہر مہینے ایک کروڑ چھبیس لاکھ افراد فیس بک پر کوئی نہ کوئی سرگرمی ضرور دکھاتے ہیں۔ ان میں پچاس 50فیصد سے زائد افراد کی عمریں 18سے 34سال کے درمیان ہیں جبکہ باقی افراد میں اکثریت 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔
سب سے مقبول کون ؟
اگر یہ معلوم کیا جائے کہ ’ٹوئیٹر‘ فینز کے درمیان پاکستان میں فی الوقت سب سے زیادہ مقبول شخصیت کون سی ہے تو بلاشبہ جواب ملے گا ’عمران خان‘۔ ان کے بعد بالترتیب جیو ٹی وی کے میزبان حامد میر پھر کرکٹر وسیم اکرم، سنگر اور ایکٹر علی ظفر اور آخر میں ایک اور ٹی وی اینکر مبشر لقمان کا نمبر آتا ہے۔
اسی ویب سائٹ پر پانچ سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے برانڈز میں موبائل فون کمپنی ’موبی لنک‘ اور بعد ازاں ’وارد‘ کا نمبر آتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برانڈ کی تشہیر کے لئے فیس بک ایک ایسا طاقتور میڈیم بن گیا ہے جو فینز کو ’کنزیومرز‘ میں تبدیل کردیتا ہے۔ جیسے ’ایف ایم سی جی‘ کے پاکستان میں سب سے زیادہ تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ فینز ہیں۔
سوشل میڈیا کے جائزے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی فیشن کے دلدادہ ہیں اور ہر گھڑی فیشن سے متعلق اپ ڈیٹ رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ فیشن پیجز پسند کرنے والوں میں پاکستان کا نمبر دوسرا ہے جہاں 1کروڑ 40لاکھ پاکستانی فیشن پیجز لوگوں کی خاص توجہ کاباعث ہیں۔
فیشن کے بعد ٹیلی کام کو لائیک کرنے والوں کی تعداد 1 کروڑ ہے۔ پاکستانیوں کی پسند کے لحاظ سے پانچواں نمبر بیوٹی پیجز کا ہے۔ ایڈوانس ٹیلی کام کے فینز کی تعداد 97,000 تک پہنچ گئی ہے ۔ ’تھریڈز اینڈ موٹفس‘ فیشن کا دوسرا اور ’جابز ان دبئی‘ یعنی ’دبئی میں آسامیوں‘ کا نمبر تیسرا ہے۔
سوشل میڈیا کی تجزیاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی نظر میں دبئی دنیا کے باقی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ’گلیمرس اور مالدار لائف اسٹائل‘ رکھتا ہے ۔ اکثریت کسی بھی یورپی ملک کے مقابلے میں دبئی میں سب سے آسان رسائی کا خیال رکھتی ہے۔
وسیم صدیقی
Social Media in Pakistan
Water Crisis in Pakistan
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں پاکستان کے پاس صرف 30 دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، جب کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حامل ایسے ممالک کے لیے 100 دن کی سفارش کی گئی ہے۔ پاکستان کو دنیا کے ان ممالک کی درجہ بندی میں رکھا گیا ہے جو سب سے زیادہ پانی کی کمی کے شکار ہیں، پانی کی کمی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں توانائی کا بحران ہے، توانائی کا بحران نہ صرف معیشت بلکہ پاکستانیوں کے مفادات کو بھی نقصان دے رہا ہے۔ اکثر شہری اس کے لیے احتجاج کرتے ہیں اور اپنی حکومتوں سے اس کا حل مانگتے ہیں اور یہ احتجاج اکثر پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ آبادی کے بے پناہ اضافے سے ملکی ہیئت تبدیل ہو رہی ہے، پانی کی طلب رسد سے زیادہ ہے، دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1506.79 اور منگلا ڈیم میں 1192.3 فٹ ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 96 ہزار 600 کیوسک جب کہ منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 46 ہزار 389 کیوسک اور اخراج 15 ہزار کیوسک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تمام صوبوں کو کوٹہ اور طلب کے عین مطابق پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب کی طلب اور کوٹہ کے مطابق ایک لاکھ 34 ہزار 300 ، سندھ کو 195000، بلوچستان کو 14000 جب کہ خیبر پختونخوا کو 3600 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ دریائے سندھ سے کراچی کو جس کی آبادی پونے دو کروڑ کے قریب ہے کو مزید 7 کروڑ گیلن پانی کی فراہمی کا منصوبہ ہے لیکن فی الوقت کراچی کے لیے منظور شدہ 1200 کیوسک میں سے تقریباً 70 ایم جی ڈی پانی کم دیا جا رہا ہے اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ دسمبر 2013 تک کراچی میں پانی صارفین کی تعداد صرف 3 لاکھ ہے یعنی اس وقت پانی استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد پانی بل ادا نہیں کرتی ہے۔
جب کہ دوسری طرف پانی چوری کرکے فروخت کرنے کا کاروبار عروج پر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلدیہ، شیرشاہ، کورنگی، پاک کالونی، قصبہ، کنٹونمنٹ بورڈ، پی اے ایف، ماڑی پور، مسروربیس اور دیگر اداروں کے انتظامی علاقوں میں قائم غیر قانونی ہائیڈرنٹس واٹر بورڈ کی بلک فراہمی آب کی لائنوں سے ناجائز کنکشن حاصل کرکے پانی چوری کرکے فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کے سبب واٹر بورڈ شہریوں کو منصفانہ و مساویانہ طور پر پانی فراہم کرنے سے قاصر ہے، کراچی کے بہت سے علاقے واٹر بورڈ کی ٹیم کے لیے نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں جہاں ٹیم کنکشن منقطع کرنے نہیں جاسکتی، انھیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور فائرنگ کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔ ان غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے قیام سے ایک طرف تو واٹر بورڈ کو مالی طور پر نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف واٹر بورڈ کا سسٹم تباہ ہونے کا خدشہ ہے، یہ عناصر روز بروز مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، یہ نہایت حساس نوعیت کا معاملہ بن گیا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس کی نشاندہی پر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے، ان کے کنکشنز منقطع کیے جاتے ہیں، سازو سامان ضبط کیا جاتا ہے اور ایف آئی آر تک بھی درج کرائی جاتی ہے لیکن چند روز بعد یہ ہائیڈرنٹس دوبارہ کھل جاتے ہیں جب کہ پولیس انھیں دوبارہ قائم ہونے سے نہیں روک پاتی، حالات کا تقاضہ ہے کہ ایک بھرپور اور منظم آپریشن کرکے ان کا جڑ سے خاتمہ کردیا جائے۔
برطانوی اخبارگارجین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں آبی وسائل پر قبضے کی خطرناک علاقائی دوڑ جاری ہے، ہمالیائی خطے میں پاکستان سمیت 4 ایشیائی ممالک 4 سو سے زائد ڈیمز بنائیں گے، ان میں بھارت 292، چین 100، نیپال13 اور پاکستان 9 سے زائد ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے بنا رہے ہیں، دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلے میں ان ڈیموں کی تعمیر خطے اور ماحول کے لیے تباہی لاسکتی ہے۔ اگر 4 سو سے زائد ڈیم مکمل ہوگئے تو ان سے ایک لاکھ 60ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی جو برطانوی استعمال سے 3 گنا زیادہ ہے۔ ڈیمز کی تعمیر سے گلیشیر کے بہاؤ میں 20 فیصد کمی ہوجائے گی۔ اس سے نہ صرف دریاؤں میں پانی کی کمی ہوگی بلکہ خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ بھارت اور چین اس وادی کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔
آیندہ 20 برس میں ہمالیہ دنیا کا خطرناک خطہ بن جائے گا جب کہ چین دنیا کی 40 فیصد آبادی کے پانی پر کنٹرول حاصل کرلے گا۔ چین اور بھارت کے تنازعات زمین سے پانی پر منتقل ہو رہے ہیں جب کہ بھارتی ڈیم منصوبوں سے بنگلہ دیش بھی خوفزدہ ہے کیونکہ دریاؤں کے پانی میں 10 فیصد کمی اسے بنجر بنادے گی۔ چین اور بھارت نے گزشتہ 30 سالوں میں ڈیمز کی تعمیر کی خاطر کروڑوں افراد کو بے گھر کیا ہے لیکن سرکاری سطح پر ان کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ڈیم کی تعمیر سے دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو 20 ہزار افراد کو متاثر کرتی ہے، اس سے زیر زمین پانی میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گلیشیرز سکڑنے کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں پانی کی قلت نہیں ہوگی، کوہ ہمالیہ کی چٹانوں کے گلیشیرز بڑی تعداد میں سکڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا اور رواں صدی میں لوگوں کی پانی کی ضروریات نہیں پوری ہوگی۔ محققین کا کہنا ہے کہ 2100 میں ہمالیہ کے دو بڑے گلیشیرز میں نصف حد تک کمی واقع ہوگی۔
اگرچہ یہ حوصلہ افزا خبر ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سارے عوامل نے مل کر کرہ ارض کو جانداروں کے لیے خطرناک بنادیا ہے۔ اس معاملے میں ترقی یافتہ ممالک سب سے آگے ہیں۔ انسان نے اگر ان معاملات پر توجہ نہ دی تو پھر ساری ترقی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ پاکستان، بھارت اور چین ہمالیہ اور قراقرم کے سلسلے میں واقعے ہیں۔ یہ دنیا کے بلند ترین اور طویل ترین پہاڑی سلسلے ہیں۔ یہ قدرت کا انمول تحفہ ہے جو اس خطے کو عطا کیا گیا ہے۔ اس سارے وسیع و عریض خطے میں بہنے والے تمام دریا، ندی نالے، چشمے اور جھرنے ان ہی پہاڑی سلسلوں سے پھوٹتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، چین، نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان یہاں تک کہ برما کے حکمرانوں کو ایسی پالیسی تیار کرنی چاہیے جس سے ہمالیائی سلسلے سے بھرپور فائدہ بھی لیا جاسکے اور اس سے ماحولیاتی انتشار بھی پیدا نہ ہو۔ یہی انسانی ذہانت کا کمال ہوگا۔
شبیر احمد ارمان
Water Crisis in Pakistan
Pakistan and Saudi Arabia Relations
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی وزیر سیاحت و نوادرات شہزادہ سلطان بن سلمان سے ملاقات کے دوران کیا جنھوں نے گورنمنٹ ہاؤس مری میں ان سے ملاقات کی ۔ شہزادہ سلطان نے صدر مملکت ممنون حسین سے بھی ملاقات کی۔ صدر ممنون حسین نے اس موقع پر سعودی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں انفرااسٹرکچر، توانائی، سیاحت و ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ صدر نے پاکستان کے سیاحتی شعبہ جات و عجائب گھروں اور سعودی کمیشن برائے سیاحت کے درمیان وسیع تر تعاون پر بھی زور دیا اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کی فراخدلانہ معاونت پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
پاک سعودی تعلقات کا تاریخی تناظر کسی تعارف کا محتاج نہیں، خلیجی اور شرق اوسط کی سیاسی ،تزویراتی اور عسکری امور کے تناظر میں سعودی عرب کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ جریدہ ’’اکنامسٹ‘‘اور بی بی سی نے سعودی عرب کے سیاسی، عسکری ، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ترقی و ترویج پر تجزیاتی رپورٹیں شایع کی ہیں جن میں اس کا مشرق وسطیٰ کے صحرائی خطے میں تیل کی دولت سے مالامال عرب و مسلم دنیا میں ایک طاقتور کردار کے طور پر جائزہ لیا گیا ہے ۔ پاکستان کو سعودی عرب سے ایک خاص دینی، سماجی، تاریخی اور روحانی نسبت ہے، اور برس ہا برس سے حرمین شریفین کو اہل پاکستان نے ہمیشہ اپنے دل میں احترام و عقیدت سے جگہ دی ہے، دونوں ملک اپنے لازوال رشتوں اور سیاسی تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، عالمی امور میں جہاں سعودی حکومت نے پاکستانی موقف کی ہمیشہ تائید وحمایت کی وہاں اقتصادی ، تعلیمی اور سماجی شعبے میں بھی پاک سعودی تعلقات ہر دور میں مستحکم رہے چنانچہ سماجی، دینی و روحانی نسبت سے عالمی امور اور دو طرفہ سے اسیروابط آئندہ بھی اسی جذبہ اور دوطرفہ مفاہمت اور اشتراک و تعاون سے جاری رہیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع کی موجود گی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب سیاحت کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، انھوں نے سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان کو پاکستان بھر کے تفریحی مقامات کے تفصیلی دورے کی دعوت بھی دی ۔ سیاحت وہ اہم شعبہ ہے جس میں سعودی سرمایہ کاری کے بیش بہا امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم اور سعودی شہزادہ برف سے ڈھکے کشمیر پوائنٹ کے خوبصورت نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔
اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پاکستان کے کئی صحرا اور چٹیل میدان پاک سعودی مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سرسبز و شاداب علاقوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف نے سعودی شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کی والدہ سلطانہ ترکی السدیری کے نام سے منسوب سلطانہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ تعلیم وتحقیق اور سماجی ترقی‘‘ کے مرکز کے نئے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے تعلیم کے حصول کو کلیدی کردار حاصل ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی سے اقتصادی خرابیاں دور ہو سکتی ہیں اور ساتھ ہی قوم کی سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں مسلم ممالک بہت پیچھے ہیں ، سعودی عرب کی قیادت میں تمام اسلامی ممالک اپنے جدید علمی اور ٹیکنالوجیکل ضروریات کی تکمیل کے لیے وسیع تر اشتراک عمل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے تعلیم کے لیے سلطانہ فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہزادہ سلطان بن سلمان کی یہاں موجودگی پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے درمیان پائیدار اور دائمی دوستانہ تعلقات کی واضح علامت ہے ، پاکستان اور سعودی عرب عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ تعلیم وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان اور سعودی ماہرین تعلیم کے فروغ ، فکری پسماندگی ، جہالت کے خاتمہ اور جدید ترین علمی تحقیق کے نئے در کھول سکتے ہیں، شہزادہ ترکی الفیصل پہلے ہی ایک متحدہ اسلامی فورس کے قیام کی ڈاکٹرائن پیش کرچکے ہیں اس پر مسلم ممالک کے تحفظات ہو سکتے ہیں تاہم تعلیمی شعبے میں ایسی کوئی فورس بن جائے تو آئندہ کئی نسلیں مغرب کے تعلیمی تقابل کے قابل ہوسکتی ہیں ۔ پاک سعودی تزویراتی و عسکری تعاون بھی روبہ عمل لایا جارہا ہے ،پاکستان کو خطے میں بدامنی اور امن امان کی ابتری کا مسئلہ درپیش ہے جب کہ سعودی حکومت علاقائی سلامتی کے اقدامات پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہے، عالم اسلام کو آنے والے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پر امن بقائے باہمی اور علاقائی سلامتی کے معاہدوں سمیت ملت اسلامیہ کی اجتماعی نگہبانی کا بھی کوئی میکنزم وضع کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں متعلقہ بین الاسلامی اداروں کا احیا ضروری ہے جب کہ اس کام کی ابتدا سعودی قیادت کے مفید مشاورت سے کی جانی چاہیے ۔
دریں اثناشہزادہ سلطان بن سلمان نے کہا کہ سلطانہ فاؤنڈیشن کا قیام ان کی والدہ کا آئیڈیا تھا ، فاؤنڈیشن کے آئندہ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم اپنے پروگراموں کو اسکولز سے کالجز اور میڈیکل کالجز کے ساتھ ساتھ ضرورت مند طلبہ کے لیے وظائف تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں یہ ترقی کے مزید منازل طے کرے گا، ہم پاکستان کا مستقبل تابناک اور روشن دیکھتے ہیں ، تعلیم اور طب کے شعبے میں پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے۔ تعاون و امداد کی اس یقین دہانی کے ثمرات کے حصول کے لیے ہمہ جہت منصوبہ بندی کی جائے ۔ وزیراعظم نواز شریف کو سعودی محبتوں ،اور خیر سگالی کا جو تحفہ ملا ہے اس سے اہل وطن کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی زندگی میں انقلاب آنا چاہیے۔ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز السعودکا دورہ بلاشبہ دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اورپاکستان سے سعودی عوام اور حکمرانوں کی دلی قربت و وابستگی کو مستحکم کرنے میں اہم پیش رفت کا باعث بنے گا۔
Pakistan and Saudi Arabia Relations
لطیفے گھڑنے والے خود لطیفہ بن جاتے ہیں
دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا شخص ہو جو کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ سے تو آشنا ہو مگر بل گیٹس کو نہ جانتا ہو۔ یہ شخص جس نے مائیکروسوفٹ جیسی بزنس ایمپائر کھڑی کی،مسلسل19سال تک کوئی مائی کا لال دنیا کے امیر ترین شخص کا ٹائٹل اس سے نہ چھین سکا،یہاں تک کہ اس نے اپنی دولت دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی۔ بل گیٹس کی زندگی کے بیشمار پہلو ہیں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس پہلو کو روشن ترین کہاجائے۔لیکن مجھے بل گیٹس کے ذاتی اوصاف سے کوئی سروکار نہیں۔مجھے اس کی شہرہ ء آفاق کمپنی کی کامیابیوں سے بھی کوئی غرض نہیں، جس کی نیٹ ورتھ 69.96ارب ڈالر ہے یعنی پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائر سے 11گنا زیادہ۔میں جب بھی بل گیٹس کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے بھارتی وزیر اعظم نہرو یاد آتے ہیں۔تقسیم ہند کے بعد ایک مغربی صحافی نے پوچھا ،آپ کے ہاں تو کوئی قابل ذکرپیداوارنہیںجسےبرآمدکر سکیں۔زرمبادلہ کیسے کمائیں گے ۔نہرو نے ہنستے ہوئے کہا ،ہم با صلاحیت افراد ایکسپورٹ کریں گے،یہ افراد ہمارازرمبادلہ ہیں۔آج اس کی یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے اورمیں تب سے رشک اور حسد کے سنگم پر مبہوت کھڑا ہوں جب سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک بھارتی نژاد آئی ٹی ایکسپرٹ ستیا نڈیلا کو مائیکروسوفٹ کا نیا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔مائیکروسوفٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیو بالمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور نئے سی ای او کا انتخاب کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں 100 ماہرین کے نام زیر غور تھے۔نہ صرف اس منصب کے لئے ایک بھارتی شہری کو منتخب کیا گیا ہے بلکہ حیدرآبادکے باسی ستیانڈیلا کے بعد جس شخص کا نام مائیکروسوفٹ کے نئے سربراہ کے طور پر لیا جا رہا تھا اس کا تعلق بھی بھارت سے ہے۔بھارت کی اس سے بڑی کامیابی کیا ہو گی کہ امریکہ کی سب سے بڑی آئی ٹی فرم کے سی ای او کا چنائو تھا اور مسابقت حیدرآباد کے ستیا نڈیلا اور چنائی کے سندر پچھائی کے مابین تھی...وہ لوگ جو امریکہ میں آئی ٹی کے گڑھ سلیکان ویلی کے بارے میں جانتے ہیں ،ان کے لئے یہ خبر ہرگز غیر متوقع نہیں ہے کہ ایک انڈین کو مائیکروسوفٹ کا سربراہ بنا دیا گیا ہے کیونکہ سلیکان ویلی کی تمام آئی ٹی فرموںمیں 80فیصد انجینئروںکا تعلق بھارت سے ہے۔مائیکرو سوفٹ میں ہر تیسرے فرد کا تعلق بھارت سے ہے۔ نہ صرف سلیکان ویلی میں بھارتیوں کی اجارہ داری ہے بلکہ بھارتی اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر ان آئی ٹی فرموں کو سمندر پار لانے میں کامیاب ہوئے اور اب مائیکروسوفٹ اور یاہو سمیت تمام معروف آئی ٹی فرمیں بھارت میں کام کر رہی ہیں۔ ایک بڑی موبائل فون کمپنی کے پروڈکشن یونٹ انڈیا میں کام کر رہے ہیں۔سلیکان ویلی کے بعد اگر سرمایہ کار آئی ٹی کے حوالے سے کسی اور شہر کا نام لیتے ہیں تو وہ بنگلور ہے۔صرف آئی ٹی ہی کیا بھارتی شہری امریکہ اور یورپ سے لیکر عرب ممالک تک نہ صرف کاروبار کی دنیا کے بے تاج بادشاہ مانے جاتے ہیں بلکہ نچلے درجے کی ملازمتوں سے لیکر اعلیٰ پائے کے انتظامی عہدوں تک ہر طرف اپنی قابلیت کا سکہ منوا چکے ہیں۔تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کلیدی عہدوں پر آپ کو ہندو نظر آئیں گے۔پیپسیکو جو ایک عالمی شہرت یافتہ کولامشروب بناتی ہے،اس کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر Indra Nooyiہیں،ماسٹرز کارڈز کے سی ای او Ajay Bangaہیں،امریکہ کے ایک معروف بینک کی سربراہی Anshu Jainکے پاس ہے۔اور معرف بنک کا انتظام ہندوئوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر یہودی لابی کے بعد امریکہ میں کوئی کمیونٹی سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ہے تو وہ بھارتی کمیونٹی ہے۔چند برس قبل فوربز میگزین نے دس ایسی بڑی کمپنیوں کی فہرست جاری کی تھی جن کی سربراہی بھارتی شہریوں کے ہاتھ میں ہے۔کیلی فورنیا،نیویارک،نیو جرسی،ٹیکساس اور فلوریڈا میں 100سے زائد ایسی فرمیںہیں جن میں بھارتی شہریوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہیں یا پھر وہ کلیدی انتظامی عہدوں پرہیں۔آپ ان کافر ممالک کو چھوڑیں ۔شائد یہاں پاکستانیوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تعصب کا سامنا ہو،آپ برطانیہ میں بھی بھارتی شہریوں کی کامیابیاں نظر انداز کر دیں کہ شائد ایسٹ انڈیا کمپنی اور ہندوئوں کا گٹھ جوڑ تاحال قائم ہو۔ آپ دبئی اور شارجہ سے لیکر قطر،عمان،بحرین اور سعودی عرب تک کسی عرب ملک کے اعداد و شمار جمع کر لیں۔آپ ملائیشیا سے انڈونیشا اور ترکی سے مصر تک کسی بھی مسلم ملک میں سروے کرا کے دیکھ لیں ،آپ کو ہندوئوں کی سبقت واضح طور پر محسوس ہوگی۔ اگر کوئی تعمیراتی کمپنی کسی عرب کی ہے تو اس میں انجینئر اور ٹیکنیشن بھارتی ہوں گے ،مزدوروں میں بھی کچھ بنگالی ہوں گے اور کچھ پاکستانی۔اگر کوئی کلینک ہے تو ڈاکٹر ہندو ہو گا،اگر کوئی گروسری سٹور ہے۔کوئی پیٹرول پمپ ہے،کوئی سروس اسٹیشن اور شوروم ہے تو اس کی ملکیت بھارتی شہریوں کے پاس ہو گی اور پاکستانی کسی پیٹرول پمپ پر نوکری کر رہے ہوں گے،کسی ہوٹل میں ویٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہوں گے، کسی سروس اسٹیشن پر گاڑیاں دھو رہے ہوں گے، کہیں ٹیکسی چلا رہے ہوں گے یا کسی تخریب اور فراڈ کی ترکیب سوچ رہے ہوں گے۔
میں رشک اور حسد کے سنگم پر کھڑا سوچ رہا ہوں کہ آخر بھارتیوں کو ایسے کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ پوری دنیا میں راج کر رہے ہیں اور ہم ہر جگہ تذلیل و تحقیر کا نشانہ بن رہے ہیں؟آخر ان کے پاس ایسا کونسا ہنر اور ایسی کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا بن جاتی ہے اور ہم سونے پر ہاتھ رکھتے ہیں تو وہ مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے؟کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ سلیکان ویلی کی قیادت پاکستانیوں کے ہاتھ ہوتی؟کیا یہ ممکن نہ تھا کی مائیکرو سوفٹ، گوگل، یاہو اور نوکیا کی سرمایہ کاری کے لئے بنگلور کے بجائے لاہور کا انتخاب کیا جاتا؟یہ سوال جس شخص سے بھی کیے جائیں گے وہ اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ان کا جواب دے گا۔ کسی کاخیال ہوگاکہ ہمیں کام چوری کے باعث یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں،کوئی سوچتا ہو گا کہ ہم بے ایمانی کے باعث رسوا ہو رہے ہیں۔یہ سب باتیں درست ہیں مگر میرا خیال یہ ہے کہ ہم لطیفوں کی وجہ سے ناکام ہیں۔جی ہاں، ہم کامیاب انسانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں،لطیفے بُنتے ہیں اور ہر بات ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم خود لطیفہ بن گئے ہیں۔ہم سکھوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں،ہر طرح کی حماقتیں ان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں یا پھر پٹھانوں کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ہم ہر اس شخص کا مذاق اُڑاتے ہیں،جو اپنی محنت کے بل بوتے پر کامیابی کی منازل طے کرتا ہے۔نمونے کے طور پر میں ایک لطیفہ نقل کر رہا ہوں۔مجھے نہیں معلوم ،یہ لطیفہ کس کی اختراع ہے مگر آپ کی طرح میں نے بھی یہ لطیفہ کئی بار سنا اور پڑھا ہے۔آپ یہ لطیفہ پڑھیں اور پھر فیصلہ کریں، کیا اس طرح کے لطیفے گھڑنے والی قوم کا کوئی فرد مائیکرو سوفٹ کا سربراہ بن سکتا ہے:ـ’’ایک پٹھان نے مائیکرو سوفٹ کے سربراہ بل گیٹس کو خط لکھا۔کی بورڈ میں ABC کی ترتیب ٹھیک نہیں۔صحیح اے بی سی والا کی بورڈ کب بنائیں گے؟ ونڈوز میں ا سٹارٹ کا بٹن ہے مگر اسٹاپ کا بٹن کیوں نہیں؟جب کی بورڈ میں Any keyکا بٹن نہیں تو پھر کمپیوٹر یہ کیوں کہتا ہے کہ Press any key۔ ہم مس ورڈ(MS Word) تو استعمال کرتے ہیں مگر مسٹر ورڈ کب لانچ ہو گا؟اگر آپ بُرا نا مانیں تو یہ بھی بتا دیں کہ آپ کا نام بل گیٹس ہے تو آپ ونڈوز کیوں بناتے ہیں؟‘‘
محمد بلال غوری
بشکریہ روزنامہ 'جنگ
Microsoft Indian President
تشدد کی فضا، رائے عامہ اور لائحہ عمل
آج پاکستان میں یہ بحث عروج پر ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں یا فوجی آپریشن کا راستہ اختیار کیا جائے؟ کیا مذاکرات کامیاب ہوں گے یا ناکام؟ہم یہاں پر ائے عامہ کے جائزوں کی بنیاد پر نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
گیلپ نے ۰۸۹۱ء سے ۰۱۰۲ء تک کا ۰۳ برس کا ایک جائزہ پاکستان میں جرائم اور خصوصیت سے دہشت گردی کے بارے میں پیش کیا ہے۔
جس میں عوام کی نگاہ میں دہشت گردی کی سب سے بڑی ذمہ داری بھارتی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں پر ہے، یعنی ۲۳ فی صد اور ۱۳ فی صد۔ گویا ۳۶فی صد کی نگاہ میں اس بدامنی، تشدد اور دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ سب سے بڑا محرک ہے۔ دہشت گردوں کو براہِ راست ذمہ دار ٹھیرانے والے ۶۲ فی صد ہیں۔ ۹۰۰۲ء میں طالبان کا نام لینے والے صرف ایک فی صد تھے۔ بعد کے متعدد جائزوں میں ’گیلپ‘ اور ’پیو‘ (PEW) دونوں ہی کے جائزوں میں طالبان کی تائید میں نمایاں کمی آئی ہے اور طالبان کی کارروائیوں کی مذمت کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ’پیو‘ کے ۱۱۰۲ء کے سروے میں ۳۲ فی صد نے طالبان سے خطرہ محسوس کیا اور اور گیلپ کے ایک سروے کے مطابق دسمبر ۹۰۰۲ء میں طالبان کے حوالے سے منفی تصور ۲۷ فی صد تک بڑھ گیا۔ عام انسانوں کی ہلاکت اور مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، اسکولوں اور مدرسوں پر حملوں کے ردعمل میں طالبان کے بارے میں منفی رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ البتہ گیلپ کے سروے کی روشنی میں دہشت گردی کے متعین واقعات کے بارے میں، طالبان یا ان کے نام پر ذمہ داری قبول کیے جانے کے اعلانات کے باوجو د عوام کا تصور بڑا حیران کن ہے۔ مثلاً پشاور/بنوں کے ۹۰۰۲ء کے دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری کے سلسلے میں عوام کا ردعمل یہ تھا:
۱۔ یہ واقعات انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی کا ردعمل ہیں ۴۴ فی صد
۲۔ ان واقعات میں غیرملکی ایجنسیاں ملوث ہیں۲۴ فی صد
۳۔ معلوم نہیں۴۱ فی صد
واضح رہے یہ دونوں واقعات خودکش حملوں کا نتیجہ تھے۔
اسی طرح ۹۰۰۲ء میں راولپنڈی جی ایچ کیو (پاکستانی مسلح افواج کے مرکز) پر کیے جانے والے حملے کے بارے میں کہ: ’’ذمہ دار کون ہے؟‘‘ عوامی راے یہ تھی:
بھارت: ۹۱ فی صد طالبان: ۵۲ فی صد امریکا: ۶۱ فی صد
فارن ایجنسی: ۷۲ فی صد لوکل ایجنسی: ۲ فی صد سیاسی جماعتیں: ایک فی صد
ہم نے یہ چند مثالیں عوامی جذبات، احساسات اور ان کی سوچ کے رُخ کو سمجھنے کے لیے دی ہیں۔ عوام کے ذہن کو سمجھنے کے لیے ایک سروے کی طرف مزید اشارہ کرنا ضروری ہے۔ یہ گیلپ کا سروے دسمبر ۳۱۰۲ء میں امیرجماعت سیّدمنور حسن صاحب اور مولانا فضل الرحمن صاحب کی جانب سے بیت اللہ محسود کے امریکی ڈرون کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے پر ردعمل سے متعلق تھا۔
سوال: ’’حال ہی میں سیّدمنورحسن اور مولانا فضل الرحمن نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا ہے۔ آپ اس بیان کی کس حد تک حمایت یا مخالفت کرتے ہیں؟‘‘
بہت زیادہ حمایت: ۴۱ فی صد بہت زیادہ مخالفت: ۹۲ فی صد
کسی حد تک حمایت: ۵۲’’کسی حد تک مخالفت: ۹۲‘‘
مجموعی حمایت: ۹۳ ’’مجموعی مخالفت: ۸۵ ‘‘
معلوم نہیں: ۰۱
قابلِ غور بات یہ ہے کہ مئی ۳۱۰۲ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماے اسلام (ف) کو مجموعی طور پر ۵ فی صد ووٹ ملے اور دونوں قا ئدین کے بیانات کے بعد میڈیا پر ان کی مخالفت میں ایک طوفان برپا تھا، لیکن آبادی کے تقریباً ۰۴ فی صد نے ان کی راے سے اتفاق کا اظہار کیا۔ (گیلپ انٹرنیشنل، ۹دسمبر ۳۱۰۲ء)
یہاں پر ہمارا مقصد کسی قانونی، فقہی یا سیاسی پہلو کو زیربحث لانا نہیں ہے، صرف توجہ کو اس طرف مبذول کرانا ہے کہ ملک کے عوام طالبان اور طالبان کے نام پر جو کچھ کیا یا کہا جارہا ہے اسے اس کے ظاہری خدوخال پر نہیں لیتے، بلکہ پورے مسئلے، یعنی دہشت گردی اور اس میں امریکا کے کردار کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ ان دو عالمی جائزوں سے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے سے ہمارا مقصد اصل مسئلے کے جملہ پہلوؤں کی طرف توجہ کو مبذول کرانا ہے۔ ان معروضات کی روشنی میں، پالیسی سازی کے لیے چند نہایت اہم پہلو سامنے آتے ہیں، جن کی ہم نشان دہی کرنا چاہتے ہیں:
۱۔ پالیسی سازی میں اصل اہمیت ملک اور قوم کے مقاصد، اس کے مفادات اور اس کے عوام کی سوچ، خواہش اور عزائم کی ہونی چاہیے۔ جو پالیسی بیرونی دباؤ، عصبیت یا جذبات کی روشنی میں بنائی جائے گی، وہ مفید اور مناسب نہیں ہوگی۔
۲۔ اصل مسئلہ امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ‘ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ بلاشبہہ دوسری انواع کی دہشت گردیاں بھی ہیں اور ان کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی اور پروگرام درکار ہیں، لیکن مرکزی اہمیت بہرحال امریکا کی اس جنگ اور اس میں ہمارے کردار سے منسوب ہے۔
پاکستانی عوام، پاکستان کو امریکا کی اس جنگ سے نکالنے اور ایک آزاد خارجہ پالیسی بنانے کے حق میں ہیں۔ مئی ۳۱۰۲ء کے انتخابات میں انھوں نے اُن جماعتوں پر اعتماد نہیں کیا، جو اس جنگ میں پاکستان کی شرکت کی ذمہ دار تھیں اور ان جماعتوں کو اعتماد کا ووٹ دیا جو آزاد خارجہ پالیسی کی داعی اور اس جنگ سے نکلنے اور سیاسی حل کی خواہش مند تھیں۔ عوام کا یہ موقف ۱۰۰۲ء سے واضح تسلسل رکھتا ہے۔ اصل مسئلہ پالیسی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ابہام کا نہیں ہے، حکومت اور اس کے اداروں کی طرف سے قومی پالیسی پر عمل نہ کرنے کا ہے۔
۳۔ پاکستان میں پائی جانے والی دہشت گردی کی کم از کم پانچ بڑی شکلیں ہیں جن میں ہر ایک کی نوعیت، اسباب اور اہداف کو سمجھنا اور اس کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانا ضروری ہے:
پہلی اور سب سے اہم شکل وہ ہے جس کا تعلق امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘، افغانستان پر فوج کشی، افغانستان میں امریکی استعمار کی مزاحمت، اور پاکستان کے اس جنگ میں امریکا کے حلیف اور مددگار بننے سے رُونما ہوئی ہے۔ لیکن جب ہماری فوج کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا، تو افسوس ناک ردعمل بھی رُونما ہوا، جو بڑھتے بڑھتے خود ایک فتنہ بن گیا۔ باجوڑ اور اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ بھی اس خونیں سلسلے کے سنگ میل بن گئے۔ پھر مسجد اور مدرسہ، سرکاری دفاتر اور افواج کے مورچے، حتیٰ کہ بازار اور گھربار سب نشانہ بننے لگے اور معصوم انسانوں کا لہو ارزاں ہوکر بہنے لگا۔ بچے، عورتیں، مسافر، مریض، کوئی بھی اس خون آشامی کی زد سے نہ بچ سکا۔
شریعت، قانون، اخلاق، روایات کون سی حد ہے جو اس میں پامال نہیں کی گئی اور بدقسمتی سے ہرفریق کی طرف سے یہ ظلم روا رکھا گیا۔ معصوم انسانوں کی ہلاکت اور قومی وسائل کی تباہی، جس کے ہاتھوں بھی ہوئی، قابلِ مذمت ہے۔ لیکن انتقام در انتقام مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش ہی اس عذاب سے نکلنے کا راستہ ہے۔ امریکا خود افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کی راہیں تلاش کررہا ہے اور اب تو اسی کے مقرر کردہ افغان صدر حامد کرزئی تک نے کہہ دیا ہے کہ: ’’امریکا طالبان سے مذاکرات کرے اور پاکستان اس کی معاونت کرے، اس کے بغیر افغانستان میں امن نہیں آسکتا‘‘، یعنی اس سلسلے میں سطحی جذباتیت حالات کو بگاڑ تو سکتی ہے، اصلاح کی طرف نہیں لاسکتی۔ (جاری ہے)
پروفیسر خورشید احمد
بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'
Subscribe to:
Posts (Atom)
Popular Posts
-
آپریشن ضربِ عضب نہ تو اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے نہ ہی آخری......
-
Pakistan Air Force Female Fighter Pilot, Ayesha Farooq
-
حماس کے عسکری ونگ نے اسرائیلی فوجی کو پکڑ لیا
-
K-8 Karakorum Fighter Jet Trainer with Rocket & Gun Pods
-
NATO Attack Was A Deliberate Act: DGMO Pak Army
-
Pak army song
-
US Transport Aircraft Lands at Shamsi Air Base For Evacuation
-
General Kayani Witness Formation Level Training Exercises
-
Geo News Live Geo TV Live Online
-
Join Army As Captain/Major Through Short Service Regular Commission
Labels
- 10 Years
- 10 Years of Face Book
- 1947–1958
- 1971–1977
- 1977–1999
- 2002 Gujarat violence
- 2010 FIFA World Cup
- 2014 Fifa World Cup
- 2014 World Cup Brazil
- 28 May “Youm-e-Takbeer”
- 35 Punctures
- 3G/4G
- 3G/4G auction in #Pakistan
- Aafia Siddiqui
- Aaj Tv
- Aamir Khakwani
- Aangan Terha
- Abdul Qadeer Khan
- Abdul Wali Khan
- Abdullah Tariq Sohail
- Abdusalam
- Abortion
- Abseiling
- Abu Bakr
- Abu Bakr al-Baghdadi
- Abu Hamza Rabia
- Abu Laith al-Libi
- Abu Sulayman Al-Jazairi
- Accidents
- Adward Snowden
- Afghanistan
- Afghanistan war
- Afghanistan Wars Cost
- Africa
- Aftab Iqbal
- Agence France Presse
- Ahmad Kamal
- Ahmed Shehzad
- Air Force
- Air Show
- Air-to-Air Refueling
- AirForce and Navy
- Airport security
- Airstrike
- Akbar
- Akram Khan Durrani
- Al Arabiya
- Al Qaeda
- Al Sharpton
- Al-
- Al-Ikhlas
- Al-Khidmat Foundation
- Al-Qaeda
- Al-Shifa
- Al-Shifa Hospital
- AlKhidmat Foundation Pakistan
- Allah
- alqaeda
- ALS
- ALS Association
- Altaf Hussain
- Altaf Hussain arrested in London
- Altaf Hussain Qureshi
- Amazon Mechanical Turk
- Ambulance
- Ambulance Drivers of Karachi
- American Medical Association
- American Muslims
- American Osteopathic Association
- Amir Mir
- Amman
- Amna Masood Janjua
- Amnesty International
- Amyotrophic lateral sclerosis
- Anantnag
- Anarkali
- Ancient World
- Andhra Pradesh
- Andrew McCollum
- Ankahi
- Annals of Internal Medicine
- ANP
- Ansar Abbasi
- Anti-Ship Missiles
- Anti-statism
- Anti-Submarine Helicopters
- Anti-Submarine Warfare
- Antonio
- Antonio Inoki
- Apache
- Apostle
- Arab people
- Arabian Sea
- Arabic language
- Arena Amazônia
- Arena de São Paulo
- Arena Fonte Nova
- Arena Pantanal
- Armored Vehicles
- Army operation
- Art
- Arts
- Arts and Entertainment
- Arvind Kejriwal
- ARY
- ARY Digital
- ARY News
- ARY News Live
- ARY News Online
- Asad Umar
- Asia
- Asia Cup
- Assam
- Associate Members
- Associated Press
- Atmospheric Sciences
- Atomic nucleus
- Attack Helicopters
- Attack on Hamid Mir
- Auction
- Author
- Autogrill
- Aviation
- AWACS
- Awami National
- Awami National Party
- Ayaz Amir
- Ayesha Gazi
- Azad Kashmir
- Azadi March
- Babar Suleman
- Baitul-Maqdis
- Bajaur Agency
- Balakot
- Ballistic Missile
- Baloch people
- Balochistan
- Balochistan Pakistan
- Balochistan Crises
- Balochistan Liberation Army
- Balochistan Pakistan
- Baluchistan
- Bangladesh
- Bangladesh Liberation War
- Bangladesh Nationalist Party
- Banking in Switzerland
- Bannu
- Baptists
- Bara
- Barack Obama
- Barak Obama
- Barbados
- Bari Imam
- Baroness Sayeeda Warsi
- Bashar al Assad
- BBC
- Beautiful Mosques
- Beautiful Places
- Beauty of Pakistan
- Beheading of US journalist
- Behroze Sabzwari
- Beijing
- Belgium
- Benazir Bhutto
- Benjamin Netanyahu
- Bharatiya Janata
- Bharatiya Janata Party
- Bhutto
- Big Ben
- Big Disasters
- Big Three
- Bihar
- Bilal Ghuri
- Bilawal Bhutto Zardari
- Bill & Melinda Gates Foundation
- Bill Gates
- BJP
- Blasphemy
- Blog
- Board of Control for Cricket in India
- Bob Sapp
- Bodyart
- Bodypainting
- Bogor
- Books
- Boston
- Brahmaputra River
- Brazil
- Brazil national football team
- Breast cancer
- Britain
- Brown
- Build Pakistan
- Bund
- Burkina Faso
- Burma
- Business
- Business and Economy
- Cabinet of the United Kingdom
- Camps
- Canada
- Canadian cultural protectionism
- Capital punishment
- Caribbean
- casualties
- Ceasefire
- Central Jail Gujranwala
- Central Prison Karachi
- Chairman of the Conservative Party
- Chanel
- Charge Sheet Against Geo News
- Chaudhry Pervaiz Elahi
- Chaudhry Shujaat Hussain
- Chenab River
- Chennai Super Kings
- Chhipa Ambulance
- Chief Justice Nasir–ul–Mulk
- Chief Minister of Punjab Pakistan
- Child
- Child Abuse
- Child Abuse in Pakistan
- Child Marriage
- Child Marriage in Pakistan
- Child Protection in Pakistan
- Children
- China
- Chinese
- Chinese New Year
- Cholistan Desert
- Chris Hughes
- Christmas
- Circumvesuviana
- Clock
- Clock face
- Cold War
- Colombia
- Conservative
- constitution and pakistan
- Constitution of Pakistan
- Construction
- Coronavirus
- Corruption in Pakistan
- Countries with the largest Muslim populations
- Credit Suisse
- Cricket
- Crime
- Crown Jewels of the United Kingdom
- Cruise Missile
- Current deployments
- Cyclone Nanauk
- Daily Jang
- Damascus
- Darya-ye Noor
- Data Darbar Lahore
- David Cameron
- Dawa
- DawnNews
- Dead city
- Debaltseve
- Defence Ministry
- Democracy
- Democracy in India
- Depression
- Dera Ismail Khan
- Dhoop Kinare
- Displaced person
- Domestic violence
- Donetsk
- Donetsk Oblast
- Dr. Aafia Siddiqui release
- Dr. Akramul Haq
- Dr. Hasanat
- Dr. Mujahid Mansoori
- Dr. Safdar Mehmood
- Dr. Shahid Hassan
- Dr. Shahid Siddiqui
- Drought
- Drug
- Drug interaction
- drug war
- Dubai
- Dubi Air Show
- Dunya News
- Dustin Moskovitz
- Earth Sciences
- East India Company
- Eastern Ukraine
- Ebola
- Ebola outbreak
- Ebola virus disease
- Economic growth
- Economics
- Edinburgh
- Eduardo Saverin
- Education
- Education system in Pakistan
- Egypt
- Election
- Election Commission of India
- Elections in India
- Electronic media
- Ellen Johnson Sirleaf
- Emergency service
- End enforced disappearances in Pakistan
- Energy Crises in Pakistan
- England
- Engro Corporation
- ER (TV series)
- Ethel Kennedy
- Ethiopia
- Eurasian Union
- Europe
- European
- European Union
- Express News
- Express Tribune
- Ezzedine Al-Qassam Brigades
- F-16
- Face Book
- Face Book History
- Facepainting
- Facts and Statistics
- Faisalabad
- Falah-e-Insaniat Foundation
- Famous Cricket Players And Their Kids
- Farmer
- Fashion
- Fast Attack Missile Craft
- Fatah
- Fatima Surayya Bajia
- Fellowship
- Female Pilots
- Ferguson
- Ferguson Missouri
- FIF
- FIFA
- FIFA World Cup
- Fighter Aircrafts
- Fighter Jet Trainer
- Finance minister
- Financial Services
- Flash flood
- Flood
- Flood in Pakistan
- Floods
- Follow Follow
- Food Standards Agency
- Football
- Foreign and Commonwealth Office
- Fortaleza
- France
- Friday
- Frigates
- Fuji Television
- Full Members
- Fundamental Rights Agency
- Future of Electronic Media in Pakistan
- G-3S Rifle
- G.M.F
- Gauhati
- Gaza
- Gaza Children
- Gaza City
- Gaza Strip
- Gaza under attack
- Gaza War
- General election
- genetically modified food
- Geo
- Geo apologizes
- Geo News
- Geo News Live Geo TV Live Online
- Geo TV
- geonews
- geotv
- German language
- Ghulam Noor Rabbani Khar
- GM Syed
- Gmail
- Golden Temple
- Google Authorship
- Google Blog Search
- Google Password
- Google+
- Government
- Government College University
- Government of Pakistan
- Granja Comary
- Great Comet
- Great Football Players
- Greece
- Guinea
- Gujarat
- Gulabo
- Gullu Butt
- Guru Nanak Stadium
- Guwahati
- Habib Jalib
- Hadith
- Hadrat
- Hafiz Muhammad Saeed
- Haitham al-Yemeni
- Hajj
- Hajj by Sea
- Hamas
- Hamid Karzai
- Hamid Mir
- hamidmir
- Happy Pakistan Independence Day 2014
- Hardcover
- Haris Suleman
- Hasb-e-Haal
- Haseena Moin
- Health
- Health Canada
- Heavy Rain
- Helicopters
- Henry Bartle Frere
- Herculaneum
- Heroes Of Pakistan Police? Pakistan
- Higher Education in Pakistan
- Hijab
- Hina Rabbani Khar
- Hindu
- Hindu nationalism
- Hiroshima
- History
- Hiv And Aids
- Holidays in Pakistan
- Home
- Honor killing
- Honour killing in Pakistan
- Horseshoe Falls
- Houses of Parliament
- How do you treat the worst democracy?
- How Does Google Work?
- How to Avoid Food Poisoning
- HTML5
- Huangpu
- Huangpu River
- Humaima Malick
- Human behavior
- Human Rights Commission
- Hyderabad
- Iam Malala
- Ibtisam Elahi Zaheer
- ICC
- Ideas-2012
- IDF
- Idrees Bakhtiar
- Ikramul Haq
- Illegal drug trade
- Illegal immigration by sea
- Imam Haram
- Important Darbars in Pakistan
- Imran Farooq
- Imran Khan
- Imran Khan calls for civil disobedience
- Independence Day
- India
- India Election
- India national cricket team
- India–Pakistan relations
- Indian
- Indian Air Force
- Indian Elections
- Indian general election
- Indian National Congress
- Indian Ocean
- Indian Premier League
- Indiana
- Indo-Pakistani War of 1947
- Indonesia
- Indus River
- Inqilab March
- Insaf
- Inter Service Public Relations
- Inter-Services Intelligence
- Inter-Services Public Relations
- Interior ministry
- Internally displaced person
- International Civil Aviation Organization
- International Cricket Council
- International Security Assistance Force
- Internet
- Internet monitoring
- Internet access
- IPL 2014 in Pictures
- Iran
- Iran Pro League
- Iran's nuclear program
- Iraq
- Iraq War
- Irfan Siddiqui
- Ironside
- Irshad Ahmed Arif
- Ishaq Dar
- Ishtiaq Ahmed
- Ishtiaq Baig
- ISI
- ISIL
- Islam
- Islamabad
- Islamabad Dharna
- Islami Shariah
- Islamic banking
- Islamic State
- Islamic State of Iraq and ash Sham
- Islamic terrorism
- Israel
- Israel Defense Forces
- Israeli
- Istanbul
- Italy
- Jahangir
- Jakarta
- Jama'at-ud-Da'wah
- Jamaat-e-Islami
- Jamat Islami
- James Foley
- Jamia Binoria
- Jamiat Ulema-e-Islam
- Jammu
- Jammu and Kashmir
- Jammu Kashmir
- Jammu-Kashmir
- Jamrud
- Jamsed Dasti Allegations
- Jamshed Dasti
- Jang
- Jang Group
- Jang Group of Newspapers
- Jang Group Open Letter To The Government And PEMRA
- Japan
- Japan's new immigration law
- Javed Chaudhry
- Javed Hashmi
- Jazz
- Jeddah
- Jerusalem
- JF-17 Thunder
- Jhang
- Jhelum District
- Jhelum River
- Jim Breyer
- Jin Mao Tower
- Jinnah International Airport
- Job Opportunities in Pakistani Armed Forces
- John Adams
- Joint Military Exercise
- Joko Widodo
- Jordan
- Journalist
- Judicial Watch
- July 8
- June
- June 2014
- Kabaddi
- Kabul
- Kalabagh
- Kalabagh Dam
- Kanwar Dilshad
- karachi
- Karachi Airport Attack
- Karachi Division
- Karachi operation
- Karachi Stock Exchange
- Karl Lagerfeld
- Karnataka
- Kashf ul Mahjoob
- Kashmir
- Kashmir Day
- Kashmir Solidarity Day
- Kashmiri
- Kashmiri Pandit
- KESC
- Khabarnaak
- Khair Bakhsh Marri
- Khaled Al Maeena
- Khalid Almaeena
- Khan Younis
- Khan Yunis
- Khattak
- Khuda Ki Basti
- Khuzaa
- KHYBER PAKHTUNKHWA
- Khyber Pakhtunkhwa Assembly
- Khyber Pukhtoonkhwa
- Khyber-Pakhtunkhwa
- King Abdullah
- Koh-i-Noor
- Koh-i-Noor Hira
- Konark
- Kounsarnag
- Kuala Lumpur
- Kulgam district
- Lahore
- Lahore High Court
- Lahore Metro Train Project
- Lake Malawi
- Landslide
- Larkana
- Law
- LCA Tejas
- League of Nations
- Levant
- Liberia
- Lieutenant General Raheel Sharif
- Lifeboat (rescue)
- Lionel Messi
- List of diplomatic missions in Pakistan
- Literature
- Load-shedding
- Login
- Loksabha
- London
- Long March
- Love Pakistan
- Luhansk
- Luis Suárez
- Lupanar
- Lyari
- Mads Gilbert
- Maha
- Mahira Khan
- Mahmoud Abbas
- Major Shaheed
- Major problems in Pakistan
- Major Raja Aziz Bhati Shaheed
- Makes and Models
- Malala Yousafzai
- Malala Yousef Zai
- Malaysia
- Malaysia Airlines
- Malaysia Airlines flight
- Malaysia Airlines MH17
- Malaysia Airlines MH370
- Malik Riaz Hussain
- Mall of the World
- Mama Qadeer
- Mama Qadeer Baloch
- Manmohan Singh
- Manzoor Ijaz
- Manzoor Wattoo
- Mao Zedong
- Map
- Marina Khan
- Maritime Patrol Aircraft
- Marri
- May Allah
- Mazar-e-Quaid
- Mecca
- Médecins Sans Frontières
- Media
- Media of Pakistan
- Media studies
- Member state of the European Union
- Mers Virus
- Met Office
- Meteorology
- MH370 Flight Incident
- Michael Brown
- Microscope
- Microsoft
- Middle East
- Migration of Waziristan Children
- Minhaj-ul-Quran
- Ministry of Defence
- Mir Shakil
- Mir Shakil-ur-Rahman
- Mirpur Khas
- Mirza Aslam Baig
- Missile
- Missing People from Blochistan
- Mission
- Missouri State Highway Patrol
- Mithi
- Modi
- Mohammad Asghar
- Mohammed Ali Jinnah
- Mohammed bin Rashid Al Maktoum
- Mohammed Yousaf
- Mohenjo-daro
- Mohmand
- Mohtarma Fatima Jinnah
- Money laundering
- Mood (psychology)
- Mosul
- Mount Vesuvius
- MQM
- MQM Resignations
- Mubashir Luqman
- Mufti Muneeb ur Rehman
- Mughal
- Mughal Empire
- Muhammad
- Muhammad Ali Jinnah
- Muhammad Tahir-ul-Qadri
- Mujahid Mansoori
- Mujahideen
- Multan
- Multi Barrel Rocket Launcher
- Mumbai
- Murder
- Music
- Muslim
- Muslim Achievements
- Muslim Countries of the World
- Muslim Leaders
- Muslim scientists
- Muttahida Qaumi Movement
- Nablus
- Nagarparkar
- Najam Sethi
- Nalanda
- Nalanda district
- Nanauk
- Naples
- Narendra Modi
- Nasim Zehra
- Nasrullah Shaji
- Naswar
- National
- National Awami Party
- National Disaster Response Force
- National Football League
- National Security Agency
- NATO
- Navy
- Nawab
- Nawabzada Nasrullah Khan
- Nawaz Sharif
- Nawz Sharif
- Nazism
- Nek Muhammad Wazir
- Nepal
- Netanyahu
- New Delhi
- New World Order
- New Year
- New york
- Neymar
- Niagara Falls
- Niagara Falls Ontario
- Nigeria
- Nisar Ali Khan
- Nishan e Haider
- Noor
- Noor Muhammad
- North Africa
- North Korea
- North Waziristan
- Northern Ireland
- NSA
- Nuclear Weapons
- Nurpur Shahan
- Obesity
- Old Pakistani TV dramas
- Oman
- One Day International
- Online Petition for Aafia's Release
- Ontario
- Operation Blue Star
- Orange Order
- Organization and Command Structure
- Organizations
- Oriental Pearl Tower
- Orya Maqbool Jan
- Pacific Ocean
- Pak Army Arms
- Pak Army Arms Traning
- Pak Navy
- Pak Navy S.S.G
- Pakistan
- Pakistan and IMF
- Pakistan and India Relations
- Pakistan and Saudi Arabia Relations
- Pakistan and War on Terror
- Pakistan Armed Forces
- Pakistan Army
- Pakistan Awami Tehreek
- Pakistan blocked unregistered mobile SIMs
- Pakistan Constitution
- Pakistan Democracy
- Pakistan Disabled Peoples
- Pakistan Economy
- Pakistan Education System
- Pakistan Electronic Media Regulatory Authority
- Pakistan Flood Destruction
- Pakistan government
- Pakistan History and Introduction
- Pakistan Income Tax System
- Pakistan Industry
- Pakistan Judiciary
- Pakistan Media
- Pakistan Muslim League
- Pakistan Muslim League (N)
- Pakistan Muslim League (Q)
- Pakistan Navy
- Pakistan New World Records
- Pakistan Ordinance
- Pakistan Parliament
- Pakistan Peace Talks with Taliban
- Pakistan People
- Pakistan Peoples Party
- Pakistan Police
- Pakistan Political Crisis
- Pakistan Politics
- Pakistan Post
- Pakistan Postage
- Pakistan Poverty
- Pakistan Rangers
- Pakistan Rupee
- Pakistan Rupee against US Dollar
- Pakistan Tehreek
- Pakistan Tehreek-e-Insaf
- Pakistan Unrest
- Pakistan Working Women
- PAKISTAN: International Women's Day
- Pakistan's military operations
- Pakistani
- Pakistani Air Force
- Pakistani Dramas Classics
- Pakistani people
- Pakistani television
- Pakistani UAV Industry
- Pakistanis in the United Arab Emirates
- Pakistanis set new world records Business
- PakistanRailways
- Pakitan Vip Culture
- Palace of Westminster
- Palestine
- Palestine’s unity government
- Palestinian people
- Palestinian refugee
- Palestinian rocket attacks on Israel
- Palestinian territories
- Paper
- Paris
- Paris Air Show
- Parliament of Pakistan
- Passenger Plane
- PAT
- Pat Quinn
- PCB
- peace
- Peace Talks
- Peace Talks with Taliban
- Pemra
- PEMRA suspends licenses of Geo TV
- Pentagon
- People
- Personal computer
- Pervez Hoodbhoy
- Pervez Musharraf
- Peshawar
- Pew Research Center
- Philip Hammond
- Physical exercise
- PIA
- Pir Panjal Range
- Plane Crash
- PML-N
- Poetry
- Polar vortex
- Police
- Police officer
- Poliomyelitis
- Politics
- Politics of Pakistan
- Polling place
- Pompeii
- Portable Document Format
- Postage stamp
- Postage stamps and postal history of Pakistan
- Poverty
- Poverty in Pakistan
- Poverty threshold
- Power of Social Media
- Prabowo Subianto
- Prescription drug
- President of the United States
- President of Turkey
- Primary Education in Pakistan
- Prime Minister of India
- Prime Minister of Pakistan
- Prince Salim
- Prince Salman
- Princess Diana
- Professor Dr Ajmal khan
- Programs
- Protection of Pakistan Ordinance
- Protest
- Protests against Geo TV
- Provinces
- Provincial Assembly of the Punjab
- PTA
- PTI
- Punjab
- Punjab Pakistan
- Punjab Festival
- Punjab Pakistan
- Punjab Police
- Punjab Province
- Punjab region
- Pyongyang
- Qadiriyya
- Qadri
- Qatar
- Queen Victoria
- Quetta
- Quied-e-Azam
- Quran
- Qurtaba Mosque Spain
- Rafah
- Rahman
- Rain in Punjab
- Rajouri district
- Ramallah
- Rana Sanaullah Khan
- Rape
- Rashid Minhas Major Aziz Bhati
- Rawalpindi
- Reality of Jamat-e-Islami
- Reality-Based
- Recent Dialouge with Taliban
- Recep Tayyip Erdogan
- Recep Tayyip Erdoğan
- Recreation
- Red Zone
- Rehman
- Rehman Malik
- Relative Ranks of Pak Army
- Religion and Spirituality
- Research papers
- Reuters
- Rio de Janeiro
- River Chenab
- Rizwan Wasti
- Robert Fisk
- Robert Gates
- Rohingya
- Rome
- Rowland Hill
- Royal Philatelic Collection
- Russia
- Rustam Shah Mohmand
- Safe Pakistan
- Sahih al-Bukhari
- Sakhawat Naz
- Salafi
- Salah
- Saleem Safi
- Salim
- Salim Nasir
- Sami ul Haq
- San Jose State University
- SAu
- Saudi Arabia
- Save Children
- Say No To Drugs
- Sayeeda Warsi
- Saylani Welfare Trust
- Scinde Dawk
- Scotland
- Scotland Yard
- Scottish independence
- Scottish independence referendum 2014
- Search for Malaysia Airlines MH370
- Searching
- Select (magazine)
- Self Growth
- Shah Abdul Latif Kazmi
- Shahbaz Sharif
- Shahid Afridi
- Shahid Hassan
- Shahid Khaqan Abbasi
- Shahnaz Sheikh
- Shaista Lodhi
- Shaista Wahidi
- Shakeel
- Shakil
- Shanghai
- Shariah
- Shariah in Pakistan
- Sharif
- Shehnaz Sheikh
- Sheik Mohammed bin Rashid Al Maktoum
- Sheikh Sudais
- Shenawaz Farooqi
- Sher Shah
- Sher Shah Multan
- Sher Shah Suri
- Shifa
- Shinzō Abe
- Shooting of Trayvon Martin
- Sierra Leone
- Sindh
- Sindh Festival
- Sindh government
- Singapore
- Sirajul Haq
- Sisi
- Sitting
- SlideShare
- Smartphone
- Snoker
- Soccer
- Social media
- Social Media in Pakistan
- Social networking service
- Social Sciences
- South Africa
- South America
- South Asia
- South Asian Association for Regional Cooperation
- South Waziristan
- Sport
- Sports
- Sri Lanka
- Srinagar
- SSG
- St. Louis
- States presidential election 2012
- Steven Sotloff
- Stop Child Abuse
- Strategic Dialogue
- Strikes in Karachi
- Submarine
- Substance abuse
- Sudan
- Sufism
- Suharto
- Suicide in Pakistan
- Sunday Aug. 17 2014
- Sunni Islam
- Support group
- Supreme Court of Pakistan
- Surface to Air Missiles
- Swiss Banks
- Switzerland
- Syed Saleem Shahzad
- Syria
- Syria Chemical Attack
- Syria Crises
- Syria Elections
- Syria War
- Tafsir
- Tahir
- Tahirul Qadri
- Talat Hussain
- Taliban
- Taliban insurgency
- Tamil Nadu
- Tank
- Tanvir Ashraf Kaira
- Targeted killing
- Tawi River
- Tax Collection In Pakistan
- Tears of Waziristan
- Technology
- Tehrik-i-Taliban Pakistan
- Tel Aviv
- Telenor
- Television
- Television channel
- Terrorism
- Test cricket
- Thar
- Thar Desert
- Thar Drought
- Tharparkar
- Tharparkar District
- The Children of Gaza
- The Ice Bucket Challenge
- Think Before Speak
- Third World
- Thomas Jefferson
- Thul
- Tissue paper
- Tobacco
- Tokyo
- Top Stories
- Transport Aircraft
- Transportation
- Transportation and Logistics
- Tribute to Nasrullah Shaji
- TTP
- Turkey
- Turkey Elections
- Turkey President in Pictures
- UAE
- UAV
- Ukraine
- Ulama
- Ummah
- Ummat
- Unemployment Rate
- UNICEF
- Union
- United
- United Arab Emirates
- United Kingdom
- United Nations
- United Nations and Philistine
- United Nations Relief and Works Agency for Palestine Refugees in the Near East
- United State
- United States
- United States of America
- Universal Declaration of Human Rights
- University of Punjab
- UNO
- Upper Dir District
- Urdu
- Urdu Books
- Urdu Columns
- Urdu Ghazal
- Urdu poetry
- Urdu vs English
- US Army
- US Dollar
- US Drone Attacks in Pakistan
- USA
- USA is Spying on Millions of People
- Uttar Pradesh
- Vadnagar
- Valentine Day
- Valentine's Day
- Veena Malik
- Vice Chancellor Islamia University
- Video
- Violence against women
- Wali Babar murder case
- Wali Khan Babar
- Walking: Why it’s so important
- Wapda
- War crime
- War on Poverty
- War on Terror
- War on Terrorism
- Warfare and Conflict
- Washington
- Water Crisis in Pakistan
- Waziristan
- Waziristan IDPs
- Waziristan Operation
- Weather Phenomena
- Web search engine
- Wedding
- Welfare
- West
- West Africa
- West Bank
- West Florissant Avenue
- Western Culture
- Western Media and the Gaza War
- Why did Facebook buy WhatsApp? United States
- Women
- Word expensive cities
- Wordpress
- WordPress.com
- Work
- World Cup
- World economy
- World Health Organization
- World least expensive cities
- World Literature
- World War
- World War I
- World War II
- World's most expensive stamp
- World's worst air accidents
- Wusat Ullah Khan
- Xi Jinping
- Yarmouk
- Yarmouk Camp
- Yasir Pirzada
- Year of the Horse
- Yousaf Raza Gillani
- YouTube
- Yvonne Ridley
- Zaheer ul-Islam
- Zaid Hamid
- ZDK-03 AEW Aircraft
- Zindagi Gulzar Hai
- کشف المحجوب
About Me
Powered by Blogger.
Blog Archive
-
▼
2014
(520)
-
▼
September
(76)
- Pak army song
- Pak army modified guns
- اب عمران خان کیا کریں گے؟.......
- انسانی سمگلر ڈوبنے والے کا تمسخر اڑا رہے تھے.........
- دشمن بچے --- شاہنواز فاروقی....
- بغاوت اور باغی --- شاہنواز فاروقی......
- پاکستان :65برس میں سیلاب سے 40ارب ڈالرکانقصان........
- یورپ کے جنگی جنون کی کہانی: جنگِ عظیم اول و دوم
- قوم کی تقدیر کی پرواز بھی کسی وی آئی پی کی منتظر ہ...
- سیلاب زدگان کی مدد کیجیے......
- سویلین حکومتیں اور فوج......
- The Kalabagh Dam
- Energy crisis and Kalabagh Dam
- زبان کا سرکش گھوڑا.......
- Flood victims arrive in Sher Shah, Pakistan
- Buldings are surrounded by floodwater in Shuja Aba...
- باغیوں کی ضرورت ہے.....
- جب خاموشی بہتر سمجھی جائے.......
- Thousands of Orange Order supporters marched in a ...
- Kashmiri men evacuate women and the elderly from a...
- People stand on a damaged bridge on the Tawi River...
- بات کرنی مجھے مشکل ،کبھی ایسی تونہ ...تھی
- کتابیں‘ جنہوں نے زندگی پر اثر ڈالا.......
- Falah-e-Insaniat Foundation load relief supplies t...
- Pakistani Floods - Soldiers load relief supplies d...
- Pakistan Floods - Army soldiers unload boats to be...
- کیا دھرنوں کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہوا؟...
- Flood victims sit beside their belongings as they ...
- مسلح افواج اور پاکستان کی سیاست......
- کہانی دھرنوں کی: سکرپٹ، کیریکٹرز اور ڈائریکٹرز.......
- مجھے اس شہر میں رہنے سے خوف آتا ہے.....
- An aerial photograph shows homes surrounded by flo...
- ARY News Live ARY News Online
- Geo News Live Geo TV Live Online
- صارفین پاس ورڈ تبدیل کر لیں، گوگل کی ہدایت.......
- دو راتیں آنکھوں میں کاٹی ہیں......
- سیلاب جو ساری متاع بہا لے گیا.......
- حکومتی .....بدانتظامیوں کی داستان..
- یہ ایسے تو نہیں ہوگا.....
- Pakistan Floods - WATER EVERYWHERE
- پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد افراد خودکشی کرن...
- دھرنے کی افادیت......
- بارشوں اور سیلاب سے اب تک 50 ارب روپے تک کا نقصان....
- لگتا ہے لائن ڈراپ ہوگئی......
- احساس زیاں جاتا رہا......
- Navy Reples Attack on PNS Zulfiquar (251) F-22P Zu...
- Facebook addiction can leave you lonely, depressed
- "شوباز شریف "...
- اسلامک ا سٹیٹ آف عراق اینڈ شام.....(Islamic State ...
- تباہی کی داستانیں رقم کرتے سیلابی ریلوں کا سفر جار...
- پاک فوج کے اصل دشمن.....
- دنیا کا مطلوب ترین انسان ....World Most Wanted Man
- Revival of Pakistan Railways : Railways records im...
- People stand on the rooftop of their flooded house...
- Tahir ul-Qadri addressing supporters in front of P...
- اصل جنگ......
- People stand near their submerged houses on the fl...
- جنگل بیابان میں گزرے برس.......
- سوشل میڈیا کی طاقت.......Power of Social Media
- شدید بارشوں نے لاہور میں تباہی مچادی
- تھر کے قحط زدہ لوگ خودکشیاں کرنے لگے......
- Open Letter to PTI Chairman Imran Khan
- Muslim groups denounce beheading of US journalist ...
- MQM Resignations By Ansar Abbasi
- سدا بہار باغی......
- Economic Cost of of Imran Khan Azadi March and Inq...
- باغی کی خطرناک بغاوت.......
- کیسا انقلاب؟......
- Real Leader and Hero Recep Tayyip Erdogan
- Heroes Of Pakistan Police?
- Asad Umar
- Do you believe the Pakistan political crisis is sc...
- Javed Hashmi
- یہ محمد علی جناح کا پاکستان ہے؟
- حکومت کے پاس کیا بچا ہے؟.....
- ساٹھ برس پرانی تازہ کہانی.....
-
▼
September
(76)












