Showing posts with label Orya Maqbool Jan. Show all posts

Iraq, Afghanistan and Pakistan by Ansar Abbasi


Iraq, Afghanistan and Pakistan by Ansar Abbasi

Operation, dialogue or third option by Ansar Abbasi


Operation, dialogue or third option by Ansar Abbasi

رونقِ شہر


جب کبھی دنیا کے کسی ایسے شہر میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے جہاں چکا چوند روشنیوں سے رات بھی دن کا سماں کیے ہوتی ہے، دن بھر کے کام کاج کے بعد رقص و سرور میں گم بہت سے لوگ تھیٹروں، سینما گھروں، نائٹ کلبوں اور شراب خانوں کی چہل پہل۔ کئی شہر تو ایسے ہیں جہاں رات ہوتی ہی نہیں۔ ایسے لگتا ہے سورج غروب ہونے کے بعد ایک دوسرا دن نکل آیا ہو۔ ان شہروں کا دن بھی گہما گہمی اور چہل پہل سے بھر پور ہوتا ہے۔ صبح سویرے ہر قسم کے ذرایع آمد و رفت انسانوں سے کچھا کھچ بھر جاتے ہیں۔ زیر زمین ٹرینوں اور بسوں میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔

ٹوکیو کی ٹرینوں کا تو یہ عالم ہے کہ انسانوں کو باقاعدہ باہر سے ٹھونس کر آٹو میٹک دروازے بند کیے جائیں تو ٹرین اگلی منزل کی جانب روانہ ہو پاتی ہے۔ پیرس، لندن، نیویارک اور ایسے دیگر شہروں کی ٹرینوں کا بھی اسی قسم کا حال ہوتا ہے۔ بسیں، ٹیکسیاں، کاریں، سائیکل سب رزق کی تلاش میں نکلے لوگوں کو تیز رفتاری سے منزل کی جانب پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی میرے جیسا شخص چند دنوں کے لیے ایسے شہرو ں میں آ نکلے جہاں اسے نہ صبح نوکری یا مزدوری پر جانا ہو اور نہ ہی واپس آ کر گھر کے بکھیڑوں میں الجھنا ہو تو اس کے لیے پورے کا پورا شہر ایک دلچسپ اور خوبصورت فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھومتا نظر آتا ہے۔

بڑی بڑی بلند و بالا عمارتیں جن میں لگے ہوئے برقی زینے یا تیز رفتار لفٹیں، پلازہ اور شاپنگ مال جن میں دنیا بھر کا سامان تعیش، کافی ہائوس کے باہر رکھی بید کی کرسیاں اور ان پر بیٹھے گفتگو کرتے لوگ، ریسٹورنٹ اور فاسٹ فوڈ کے پر رونق اور دل موہ لینے والے مقامات۔ اگر وہ شہر کے بیچوں بیچ کسی بڑے سے پارک میں چلا جائے تو اسے ہر طرح کے لوگ مل جائیں گے، ایسے بوڑھے بھی جن کی اولاد اپنی دنیا میں مصروف ہیں اور اپنی تنہائی دور کرنے یہاں آتے ہیں، اور ایسے جوڑے بھی جنھیں دنیا بھر کی مصروفیت کی کوئی پرواہ نہیں بس وہ اپنی محبت کا ایک گوشہ آباد کیے ہوتے ہیں۔ ذرایع آمد و رفت کے بہائو کے لیے سڑکوں کا جال اور تیز رفتاری کے لیے کئی کئی منزلہ پل۔ سیاحوں کے لیے مخصوص مقامات تو رونق اور رنگ کی ایک دنیا لیے ہوتے ہیں۔

پیرس کا ایفل ٹاور ہو یا لندن کا بگ بین، نیویارک کا بیٹری پارک ہو یا واشنگٹن کا وہ مقام جہاں ابراہیم لنکن کا مجسمہ اور آزادی کا مینار ہے۔ سب جگہ دنیا کی ہر قوم کا فرد آپ کو مل جائے گا اور ہر کوئی اس چہل پہل، رونق اور ہنستی مسکراتی زندگی سے متاثر نظر آ رہا ہو گا۔ مغرب میں لاس اینجلس سے لے کر مشرق میں ٹوکیو تک جب کبھی بھی کسی شہر کی رونقوں اور چہل پہل کی نیرنگیوں میں کھوتا ہوں تو پتہ نہیں کیوں قرآن پاک کی یہ آیت کانوں میں گونجنے لگتی ہے۔

’’دنیاکے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھر نا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے‘‘۔ یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے (آل عمران۔197) دنیا کے ان خوبصورت، دلکش اور دلفریب شہروں کو سیاح کی نظر سے دیکھنے والے میرے جیسے عام لوگ ایک ایسا خوش کن تاثر لے کر جب وطن لوٹتے ہیں تو انھیں اپنے شہر، گائوں، بستی اور ماحول سے الجھن سی ہونے لگتی ہے۔

ایک ایسا احساس محرومی جس کی کوکھ سے صرف اور صرف ایک ہی تصور جنم لیتا ہے کہ، دنیا کی ترقی اور رونق صرف اور صرف معاشی خوشحالی کے ساتھ وابستہ ہے، اور انسان کو سکون اور اطمینان کی دولت بھی سرمائے کی دولت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ یوں تو سرمائے پر مکمل بھروسے کے اس فلسفے کی ریت بہت قدیم ہے۔ اتنی ہی قدیم جتنی انسانی تہذیب۔ لیکن شاید قرآن پاک کی یہ آیت آج کے اس سرمایہ دارانہ دور میں آباد ہونے والے خوشنما بڑے بڑے شہروں پر کسقدر صادق آتی ہے کہ یہ دکھاوا صرف میرے جیسے سیاح صفت لوگوں کے لیے ہے کوئی ان میں رہنے کی اذیت تو برداشت کرے۔

یہ بڑے بڑے شہر بھی تو انسان نے اب بنائے اور ان بڑے بڑے شہروں کی آفتیں اور مصیبتیں بھی اپنے سر لے لیں۔ چہل پہل اور رونق سے بھرے ان شہروں کی آفتوں پر دنیا بھر میں مخصوص علم وجود میں آئے ہیں۔ جرائم کی ایک دنیا ہے جو ان بڑے شہروں سے وابستہ ہے۔ سوشیالوجی اور جُرمیات (Criminology) کا ایک بہت بڑا حصہ ایسے بڑے شہروں کی روز افزوں بڑھوتری (Urbanization) سے متعلق ہے۔ جرائم کا ایک انوکھا سلسلہ ہے جو ان شہروں کے رنگ و رونق سے جڑا ہوا ہے۔ بڑے بڑے مافیاز ہیں جو یہاں پلتے ہیں، جوان ہوتے ہیں اور اپنے غیر قانونی کاروبار کو وسعت دیتے ہیں۔ ان غیر قانونی کاروباروں کا سلسلہ دنیا بھر کے شہروں تک پھیلا ہوتا ہے۔

منشیات ایک ملک سے دوسرے تک ایسے قافلوں میں لے جائی جاتی ہے جن کے تحفظ کے لیے جہاز پر فائر کرنے والی مشین گنیں لگی ہوتی ہیں۔ جہاں کہیں غربت ، جنگ یا خانہ جنگی ہو وہاں سے معصوم کمسن بچیوں کو کبھی لالچ، کبھی دھونس اور کبھی اغوا کے ذریعے ان بڑے شہروں کی چکا چوند میں لایا جاتا ہے اور پھر ان سے شہریوں کے تعیش اور سیاحوں کے لیے نائٹ لائف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر کے بارے میں چھپنے والے سیاحوں کے کتا بچے اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ان میں ایک حصہ ’’نائٹ لائف‘‘ کے لیے مختص ملے گا۔ جواء اور پھر اس سے وابستہ دیگر سرگرمیاں تو ایسی ہیں جو کہیں سر عام ہوتی ہیں اور کہیں مافیا کی زیر زمین پناہ گاہوں میں۔

یہ سب اتنی آسانی سے وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے تربیت یافتہ گروہ بنائے جاتے ہیں جو قتل، اغوا تشدد اور لوٹ مار میں طاق ہوتے ہیں۔ یہ قتل و غارت وہ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سا تھ بھی۔ اس کاروبار کے راستے میں اگر ایک عام شہری بھی آ جائے وہ بھی موت کا سزاوار ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ چھوٹی بستیوں اور چھوٹے شہروں میں اس لیے نہیں ہو سکتا کہ وہاں آبادی ایک کپڑے میں لگی تاروں کی بُنت کی طرح آپس میں جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اجنبی بھی پہچانا جاتا ہے اور جرم کرنے والا بھی۔ اسے معاشرتی زبان میں ’’سوشل کنٹرول‘‘ کہتے ہیں۔

جرم و مافیاز کی داستان تو ہر بڑے شہر کا حصہ ہے لیکن کیا وہ لوگ جو ان شہروں کی روشنیوں کے اسیر ہو کر یہاں آباد ہو جاتے ہیں ان کی زندگیاں بھی ایسی ہی روشن ہوتی ہیں، کونسا ایسا بڑا شہر ہے جہاں خاندان ٹوٹ کر، بکھر کر تباہ و برباد نہیں ہو چکا۔ خاندانی زندگی خواب ہو چکی۔ میں یہاں اعداد و شمار سے تحریر کو بوجھل نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن ان چکا چوند شہروں کے انسانی زندگی کو دیے گئے چند تحفوں میں سے بے تحاشہ طلاق، کنواری کم عمر مائوں کی کثرت، سیریل کلر زکا نہ رُکنے والا ایک سلسلہ، اولاد کے ہاتھوں دھتکارے ہوئے بوڑھے والدین کے لیے اولڈ ایج ہوم، جسم فروشی اور نشہ آور ادویات کے استعمال کی کثرت، خاندانی زندگی سے نفرت کے بعد جنسی بے راہ روی اور اس طرح کے ایسے ہزاروں المیے ہیں جن پر ان شہروں کی چکا چوند اور روشنی نظر ہی نہیں پڑنے دیتی۔

لیکن اس المیے کا نتیجہ معیارِ زندگی کی دوڑ میں صبح سے شام تک دوڑتے بھاگتے مرو اور عورتیں۔ ضروریات زندگی اور شہر کے معیار زندگی کے عذاب کو پورا کرنے کے لیے ایک سے زیادہ نوکریاں کرتے ہوئے، مشین بنے ہوئے انسان۔ دن بھر کے تھکے ہارے کسی شراب خانے میں تھکن اتارتے ہوئے یا ہفتے بھر کے کام سے پژ مردہ کسی ’’نائٹ لائف‘‘ کے پرکشش ٹھکانے پر سکون حاصل کرتے ہوئے۔ یہ ہے وہ چہل پہل جس کے بارے میں میرے اللہ نے کیسا سچ سچ فرمایا۔ ’’دنیاکے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے‘‘۔

Enhanced by Zemanta

پاکستان کے حالات کی ابتری‘ بدحالی اور سیاسی عدم استحکام


جو لوگ یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ پاکستان کے حالات کی ابتری‘ بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ایک داخلی مسئلہ ہے‘ انھیں دنیا کی گزشتہ پچاس ساٹھ سال کی تاریخ اور اس میں بدلتی‘ ٹوٹتی حکومتوں کے قصے‘ ہنگامہ آرائیاں‘ قتل و غارت اور معاشی زوال کی داستانوں کا ضرور مطالعہ کر لینا چاہیے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جب دنیا کے افق پر امریکا اور روس دو عالمی طاقتوں کے طور پر ابھرے تو سرد جنگ کا آغاز ہوا‘ جس نے دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں کو وسعت دی۔ جنگیں اب سرحدوں پر نہیں بلکہ ملکوں کے اندر لڑی جانے لگیں۔

دونوں ملک اپنے ٹوڈی اور پروردہ حکمرانوں کو مسلط کرنے کے لیے کبھی فوج میں سرمایہ کاری کرتے اور کبھی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں کی پشت پناہی۔ دونوں صورتوں میں زمین پر آگ برستی‘ انسانوں کا خون بہتا اور ملک معاشی زوال کے دلدل میں پھنس جاتے۔ روس کے ٹوٹنے کے بعد یہ کردار اب صرف اور صرف امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے مخصوص ہو گیا۔ گزشتہ چند سالوں سے روس نے ایک بار پھر انگڑائی لی ہے لیکن اس کی انگڑائی کی وسعت اتنی ہی ہے اور وہ اپنے بازو اتنی دور تک پھیلاتا ہے جہاں تک امریکا یا مغرب کا مفاد ان کے زد میں نہیں آتا۔

مسلم امہ کے ممالک کو ابتری‘ بدحالی‘ خونریزی‘ خلفشار اور سیاسی خانہ جنگی میں مسلسل مبتلا رکھنے کا خواب ان دونوں کا مشترک مفاد ہے۔ جن ممالک میں حکمران امریکا مفادات کے ساتھ ہیں وہاں خانہ جنگی کرنے والوں کی مدد روس اور اس کے حواریوں کے ذمے اور جہاں حکمران روس کے حاشیہ نشین ہیں وہاں باغیوں کی مدد امریکا اور اس کے دوست ممالک کی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔ یہی صورت حال روس کے ٹوٹنے سے پہلے سرد جنگ کے دوران بھی تھی۔ یہ سرد جنگ ایک بار پھر ہلکے ہلکے سلگ رہی ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں کے دوران امت مسلمہ کے درمیان بھی ایک سرد جنگ شروع ہے جسے آہستہ آہستہ مغرب نے آگ دکھا کر ایک بہت بڑے معرکے میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس جنگ کے دونوں سرخیل سعودی عرب اور ایران بھی امریکا اور روس کی طرح بظاہر کسی بھی جنگی محاذ پر برسرپیکار نہیں ہیں‘ نہ ہی دونوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں‘ لیکن امت مسلمہ کے ممالک پر غلبے اور اثر و رسوخ کے ہیجان نے ان دونوں ممالک کی مدد سے کتنے ملکوں میں خانہ جنگی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ الجزائر سے لے کر پاکستان تک کوئی خطہ اس عفریت سے محفوظ نہیں۔ اس جنگ کو، جو دونوں ملکوں کے ذاتی غلبے کی جنگ تھی‘ مغرب نے اپنی مخصوص چالبازی اور مدد سے شیعہ سنی تنازعہ کی شکل دے دی ہے اور اس خانہ جنگی سے صرف وہی ملک محفوظ ہیں جن میں ایک ہی فقہہ کے ماننے والے واضح اکثریت میں رہتے ہیں۔ جیسے بنگلہ دیش‘ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور شمالی افریقہ کے کچھ ممالک۔ باقی سب جگہ دونوں گروہ اللہ‘ رسولﷺ‘ صحابہ رسولؐ اور خانوادہ رسول کے نام پر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ یہ وہ صورت حال ہے جو امریکا‘ روس اور مغرب کے ممالک کے لیے آئیڈیل ہے۔

انھی اختلافات میں سے اس استعمار نے اپنا راستہ نکالنا ہے‘ کہیں نام نہاد جمہوری جدوجہد اور حقوق کی تحریکیں‘ تو کہیں شدت پسند اور دہشت گرد گروہ اور پھر کہیں اس ملک کی مسلح افواج… جو بھی ان کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اسے اقتدار پر بٹھانے اور مخالف کو مسند اقتدار سے اتارنے کی کوشش کرنا اور اپنے مفادات کا اس ملک میں تحفظ کرنا ان کی ترجیح ہے۔ ان سب کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ لیکن چند ایک کامیاب اور ناکام کوششیں تحریر کر رہا ہوں تا کہ اندازہ ہو سکے کہ یہ طاقتیں کیسے ملکوں کے اندر حکومتیں بدلتی اور خانہ جنگی پیدا کر کے اپنے مفاد کا تحفظ کرتی ہیں۔ ان کا طریقہ کار کیا ہے اور کیسا ہوتا ہے۔

شام میں شکری الکواتلی کی حکومت تھی امریکا اور یورپ تیل کی سپلائی کے لیے پائپ لائن بچھانا چاہتے تھے۔ حکومت نے انکار کیا توسی آئی اے نے سوشل نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر تحریک شروع کروائی‘ یہاں تک کہ اپنے دو ایجنٹوں مائلز کوپلینڈ (Miles Copeland) اور اسٹیفن می ایڈ Stephen Meade کو حالات خراب کرنے کی نگرانی کے لیے بھیجا۔ جب حالات بگڑے تو آرمی چیف حسنی الزیم کے ذریعہ 29 مارچ کو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 1953ء کو ایرانی وزیر اعظم مصدق کے خلاف جنرل فضل اللہ ہادی کی سربراہی میں فوجی بغاوت کرائی گئی۔ اس سے پہلے ایران میں عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے جلوس اور ہنگامے برپا کیے گئے۔

سی آئی اے کی وہ دستاویزات جو امریکی سفارتخانے سے ملی تھیں ان کے مطابق 25 ہزار ڈالر بسوں اور ٹرکوں کے کرایے کے طور پر ادا کیا گیا‘ جن میں مظاہرین کو بھر کر تہران لایا گیا تھا۔ مصدق کی حکومت الٹنے کی وجہ آبادان آئل ریفانری تھی جس کو مصدق نے قومیانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ گوئٹے مالا میں امریکا کی مدد سے ایک آمر جارج اوبیکو برسراقتدار تھا۔ لیکن 1950ء کے الیکشن میں ایک شخص جیکب آر بیز Jecobo Arbez بے تحاشا اکثریت سے الیکشن جیت گیا۔ اس نے عام کسانوں کو ملکیتی حقوق دینے کا آغاز کیا۔ زمینوں پر امریکی کمپنیاں قابض تھیں۔

ایک امریکی کمپنی یو ایف سی او (UFCO) نے کانگریس کے ارکان کو گوئٹے مالا کی حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا۔ امریکی کانگریس کے جمہوری حکمران انھی کمپنیوں کے پیسے سے الیکشن جیتتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان جمہوری حکمرانوں نے سی آئی اے کی مدد سے گوئٹے مالا میں 1954ء میں فوجی بغاوت کر وا دی۔ تبت میں 16 مارچ 1959ء کو مسلح جدوجہد کا آغاز کروا یا گیا۔ دلائی لامہ کو عالمی ہیرو بنا کر پیش کیا گیا سی آئی اے کے کیمپ ’’ہالی‘‘ میں 259 گوریلے تیار کر کے تبت بھیجے گئے جو وہاں لوگوں کو تربیت دیں۔ 1962ء تک یہ جنگ جاری رہی۔ چین کی افواج نے قابو پایا تو گوریلوں کو شمالی نیپال میں اکٹھا کیا گیا لیکن 1974ء میں چین سے تعلقات بہتر ہوئے تو اسے سی آئی اے نے ختم کروا دیا۔

جنوبی ویت نام میں جہاں امریکا کے اپنے پٹھو ڈونک وان منہ کی حکومت تھی اسے صرف اس جرم کی سزا دی گئی کہ وہ امریکا کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والے بدھ بھکشوئوں پر نرمی برتتا تھا۔ یہ بدھ بھکشو لوگوں کے درمیان خود کو آگ لگا کر خود کشی کرتے تھے۔ وہاں پر موجود کیتھولک عیسائیوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا جنہوں نے بدھووں کے مذہبی مراکز اور دیہات پر حملے کیے اور قتل و غارت کیا۔ ملک میں بدامنی پھیلی تو ڈونک وان منہ کو گرفتار کر کے اگلے روز اس کے بھائی کے ہمراہ پھانسی دے دی گئی۔ برازیل کے صدر جووا گولارٹ Joao Goulart نے امریکی کمپنیوں کے منافع میں سے عوام کو فائدہ پہنچانے والی اسکیمیں شروع کیں تو اس کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز ’’برادر سام‘‘ نامی آپریشن سے کروایا گیا۔ نیو جرسی سے 110 ٹن اسلحہ برازیل بھیجا گیا۔

بدامنی پھیلی تو یکم اپریل 1964ء کو اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ چلی تو لاپتہ افراد اور امریکی سی آئی اے کے تیار کردہ افراد کے ہاتھوں مارے جانے والے لاکھوں انسانوں کا ملک ہے۔ 11 ستمبر 1973ء میں بدنام زمانہ ڈکٹیٹر جنرل پنوشے کو امریکی آشیر باد اور فوج کے ذریعے برسر اقتدار لایا گیا اس کے بعد کی کہانی بہت خونچکاں ہے۔ ارجنٹائن میں ازابیل پیرون صدر منتخب ہوئیں۔ وہاں موجود کیمونسٹ گوریلوں کو بہانہ بنایا گیا اور انھیں علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے کر 26 مارچ 1976ء کو جنرل رافیل کے ذریعے ازابیل کا تختہ الٹ دیا گیا۔

امریکی موقف یہ تھا کہ سیاسی حکومت ان گوریلوں کے ساتھ امن مذاکرات میں لگی ہوئی ہے۔ ملک کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا اور فوج کے ذریعے تشدد پسندوں کو ختم کرنے کے بہانے قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ 1979ء میں نکارا گوا میں کونٹرا گوریلوں کی خفیہ مدد کی گئی۔ اس دفعہ تشدد پسند گوریلے امریکا کے منظور نظر تھے۔ یہی کونٹرا گوریلے تھے جن کا اسلحہ خفیہ طور پر ایران کو فراہم کیا گیا۔ کونٹرا سکینڈل دنیا کا مشہور ترین سکینڈل ہے۔ وینزویلا کے ہیگو شاویز کے خلاف ناکام عوامی تحریک تو پرائیویٹ میڈیا چینلز اور سرمائے کے بل بوتے پر مظاہرین کے ذریعے برپا کی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہیوگوشاویز کی مقبولیت کی وجہ سے دم توڑ گئی۔

یہ ہیں تاریخ کی چند مثالیں۔ یہ اس زمانے کی ہیں جب کیمونزم کو خطرہ بنا کر دنیا کو ڈرایا جا رہا تھا اور ملکوں کے اندر اپنے مفاد کے لیے کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔ ایسے تمام ممالک جہاں کیمونزم کا خطرہ تھا انھیں بدامن، ابتر، بدحال اور خانہ جنگی کا شکار رکھا جاتا تھا۔ اب دنیا کو باور کرانا ہے کہ خطرہ مسلمانوں اور اسلام سے ہے۔ جب تک مسلم امہ کے تمام ممالک بدامنی‘ بدحالی‘ ابتری اور خانہ جنگی کا شکار نہیں ہوتے یہ تاثر نہیں دیا جا سکتا کہ مسلمان دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ عرب بہار سے مصر‘ مراکش‘ تیونس‘ شام اور یمن میں بے چینی کی لہر کو پہلے جمہوری جدوجہد اور جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا اور پھر ان ملکوں کو دوبارہ خانہ جنگی میں الجھایا گیا۔

لیبیا میں قذافی کے خلاف ایسے دہشت گردوں کی مدد کی گئی جنھیں خود امریکا دہشت گرد کہتا تھا۔ شام اور عراق میں شیعہ سنی تنازع میں لاکھوں انسانوں کو قتل کرنے کے لیے سعودی عرب اور ایران کی سرد جنگ کو اسلحہ فراہم کر کے تیز کیا گیا۔ اس سارے ماحول میں پاکستان کیسے نگاہوں سے اوجھل رہ سکتا تھا۔ دنیا بھر کے کارپوریٹ سیکٹر کے پیسے خصوصاً بھارتی کارپوریٹ کے سرمائے کو بھارت میں نریندر مودی کو جتوانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب افغانستان میں حامد کرزئی کی نرم پالیسی کی وجہ سے پاکستان مخالف حکمران منتخب کروانے کی کوشش ہوئی‘ ایران کو سعودی اثر و نفوذ کی وجہ سے مخالف بنایا گیا۔

ایسے میں جب کوئی پڑوسی ساتھ نہ ہو تو پھر مسلم امہ کی سرد جنگ کے علم بردار دونوں ممالک اس مملکت خداداد پاکستان میں اپنے جتھے مضبوط کرنے لگے۔ شمال میں طالبان جنوب میں قوم پرست اور فرقہ پرست‘ ملک تشدد اور خانہ جنگی کا شکار ہو گیا تھا لیکن ایک عوامی تحریک کی ضررت ہوتی ہے تا کہ حکومت کا تختہ کسی جواز کی بنیاد پر الٹا جائے۔ جنگ کی بساط بچھ چکی ہے۔ مسلم امہ کی خفیہ سرد جنگ اورامریکا اور یورپ کی منصوبہ بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔ کب کس وقت اور کیسے شہ مات ہوتی ہے۔ وقت کا انتظار کرو۔

اوریا مقبول جان 

 

Dusti, Speaker Aur Glass Fellows by Ansar Abbasi


Dusti, Speaker Aur Glass Fellows by Ansar Abbasi    
Enhanced by Zemanta

Pakistan Constitution & Shariah by Ansar Abbasi


Pakistan Constitution & Shariah by Ansar Abbasi
Enhanced by Zemanta

ثنا خوانِ تقدیسِ مغرب



Pain of Pakistani Mother by Ansar Abbasi


Pain of Pakistani Mother by Ansar Abbasi
Enhanced by Zemanta