Showing posts with label Pakistan Poverty. Show all posts

غربت اور بھوک.........


مزدوروں کے چہروں پر غربت تھی‘ بھوک نہیں‘ میں سڑک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گیا‘ فٹ پاتھ پر ان کے اوزار پڑے تھے‘ ٹول باکس بھی تھے‘ کُھرپے بھی‘ گینتیاں بھی‘ ہتھوڑے بھی اور کسّیاں بھی‘ یہ لوگ سڑک کی تین فٹ اونچی دیوار پر بیٹھے تھے‘ یہ جینز اور شرٹس میں ملبوس تھے‘ وہ قہوہ اور سگریٹ پی رہے تھے اور چند مزدور تاش‘ شطرنج اور کیرم بورڈ کھیل رہے تھے‘ یہ جارجیا کے مزدور تھے اور یہ تبلیسی شہر کی ایک سڑک کا منظر تھا‘ یہ ہمارے مزدوروں کی طرح فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتے ہیں‘ لوگ گاڑیوں میں آتے ہیں۔

ان کا انٹرویو کرتے ہیں‘ انھیں کام بتاتے ہیں اور پھر گاڑی میں بٹھا کر گھر‘ دفتر یا فیکٹری لے جاتے ہیں‘ ہمارے فٹ پاتھوں پر روزانہ ایسے سیکڑوں ہزاروں مزدور‘ مستری‘ مکینک اور پلمبر آ کر بیٹھتے ہیں‘ لوگ آتے ہیں اور انھیں ساتھ لے جاتے ہیں‘ یہ منظر جارجیا اور پاکستان دونوں ملکوں میں مشترک ہیں لیکن جارجیا کے مزدوروں اور ہمارے مزدوروں میں ایک فرق ہے‘ وہ لوگ صرف غریب دکھائی دیتے ہیں‘ ان کے چہروں پر بھوک نہیں ہوتی جب کہ ہمارے مزدوروں کے چہروں پر بھوک کا لیپ ہوتا ہے‘ ہمارے مزدور دو کلو میٹر سے بھوکے دکھائی دیتے ہیں‘ یہ فرق کیوں ہے؟ اس کی محض ایک وجہ ہے‘ جارجیا کے لوگ خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہیں‘ یہ صدیوں سے ’’کھاچا پوری‘‘ بنا اور کھا رہے ہیں۔

کھاچا پوری میں پنیر کی آدھ انچ موٹی تہہ ہوتی ہے‘ ایک کھاچا پوری دو سے تین لوگوں کے لیے کافی ہوتی ہے‘ یہ لوگ قہوہ‘ چائے یا کولڈ ڈرنک کے ساتھ کھاچا پوری کھاتے ہیں اور پورا دن گزار لیتے ہیں‘ ملک میں سیکڑوں ہزاروں تنور ہیں‘ ان تنوروں پر کھاچا پوری ملتی ہیں‘ آپ خریدیں اور دن گزار لیں‘ لوگ خاندان کی ضرورت کے مطابق گھروں میں سبزی اور پھل بھی اگاتے ہیں‘ یہ لوگ ایک آدھ گائے بھی رکھ لیتے ہیں اور یوں یہ خوراک کے معاملے میں خودکفیل ہوتے ہیں‘ میں نے اکثر گھروں میں ایک دو مرلے کا ’’فارم ہاؤس‘‘ دیکھا‘ یہ لوگ اس ’’فارم ہاؤس‘‘ میں سبزیاں بھی اگاتے ہیں‘ پھلوں کے درخت بھی لگاتے ہیں اور مرغیاں بھی پالتے ہیں۔

جارجیا میں شاید ہی کوئی گھر ہو گا جس میں انگور کی بیل نہ ہو یا گھر کے لوگ گھر سے سیب‘ اخروٹ‘ بادام‘ آڑو‘ چیری اور آلو بخارہ حاصل نہ کر رہے ہوں‘ اس ’’ فارم ہاؤس‘‘ میں کاشت کاری کا کام گھر کی خواتین اور بچے سرانجام دیتے ہیں‘ یہ لوگ گھر کی ضرورت کے لیے اچار‘ چٹنیاں‘ مربے‘ جیم اور پنیر خود تیار کرتے ہیں‘ یہ لوگ اگرچھوٹے گھروں میں رہتے ہوں تو کرائے پر زمین لے کر سبزیاں اور پھل اگا لیتے ہیں اور یہ بھی اگر ممکن نہ ہو تو یہ گھر کے باہر یا صحن میں کاشت کاری کر لیتے ہیں جب کہ ہمارے لوگ‘ ہمارے مزدور عمر بھر خوراک کی محتاجی میں مبتلا رہتے ہیں‘ یہ آٹا‘ گھی اور چینی خریدنے کے لیے مزدوری کرتے ہیں اور ہمارے اس رویے نے ہمارے چہرے پر بھوک مل دی ہے‘ ہم سب کی آنکھوں میں بھوک درج ہو چکی ہے۔

ہم ہمیشہ ایسے نہیں تھے‘ ہمارے ملک میں تیس سال قبل بھوک نہیں تھی‘ صرف غربت تھی اور اگر غربت میں بھوک نہ ہو تو غربت قابل برداشت ہو جاتی ہے‘ غریب شخص اس وقت مجرم‘ درندہ اور ظالم بنتا ہے جب اس کی غربت میں بھوک شامل ہو جاتی ہے‘ ہمارے ملک کی 70 فیصد آبادی آج بھی دیہات میں رہتی ہے‘ یہ لوگ 30 سال پہلے تک خوراک کے معاملے میں خود کفیل تھے‘ ہمارے دیہات کے ہر گھر میں بھینس‘ گائے‘ بکری‘ مرغی اور گدھا ہوتا تھا‘ خاندان بھینس اور گائے سے دودھ‘ دہی‘ مکھن‘ لسی‘ بالائی اور گھی کی ضرورت پوری کر لیتا تھا‘ بکری اور مرغی‘ انڈے اور گوشت کا مسئلہ حل کر دیتی تھی‘ گدھا باربرداری کے کام آتا تھا اور رہ گیا اناج تو یہ لوگ سبزیاں اور گندم بھی اپنی اگا تے تھے۔

گاؤں کے ہر گھر میں گندم اسٹور کرنے کا مٹی‘ لوہے یا لکڑی کا ’’پڑہولا‘‘ ہوتا تھا‘ یہ لوگ چولہے میں لکڑیاں اور اُپلے جلاتے تھے‘ واش روم کھیت ہوتے تھے اور نہانے دھونے کا فریضہ ٹیوب ویلوں اور کنوؤں پر ادا ہوتا تھا چنانچہ یہ لوگ خوراک اور رہائش دونوں معاملوں میں خود کفیل تھے‘ گھر کا ایک آدھ فرد چھوٹی بڑی نوکری کر لیتا تھا‘ وہ فوج میں بھرتی ہو جاتا تھا‘ ڈاک خانے‘ فیکٹری یا ریلوے میں ملازم ہو جاتا تھا یا پھر راج مستریوں کے ساتھ لگ جاتا تھا‘ اس شخص کی آمدنی خاندان کی بچت ہوتی تھی‘ بہ بچت شادی بیاہ کے کام آتی تھی یا بیماری اور حادثوں کے اخراجات پورے کر دیتی تھی یا پھر گھر میں نئے کمرے ڈالنے کے کام آتی تھی۔

جارجیا کی کھاچا پوری کی طرح ہمارے دیہات اور شہروں کی بھی کوئی نہ کوئی مخصوص خوراک ہوتی تھی‘ گاؤں کے لوگ تنوری روٹی پر مکھن لگا کر یا پھر اچار رکھ کر دن گزار لیتے تھے‘ لسی پورے گاؤں کا مشروب تھی‘ آپ جہاں جاتے‘ آپ کو وہاں لسی کا پیالہ ضرور ملتا‘ آپ اگر معزز مہمان ہیں تو آپ کو دودھ کا پیالہ عنایت ہو جاتا تھا‘ یہ دودھ مکمل غذا ہوتی تھی‘ شہروں میں کلچے‘ نان اور دال روٹی ملتی تھی‘ پورے شہر میں سیکڑوں تنور ہوتے تھے‘ آپ کسی تنور سے ایک نان اور دال لیتے اور پورا دن گزار لیتے تھے‘ ہم نے اپنی سماجی بے وقوفی سے صدیوں میں بنا یہ سسٹم ختم کر دیا‘ گاؤں میں فلیش سسٹم آیا‘ اس نے پورے گاؤں کا پانی آلودہ کر دیا‘ لوگوں نے بھینس‘ گائے‘ بکری اور مرغی رکھنا بھی بند کر دی۔

گاؤں کے لوگ گندم‘ دالیں اور ترکاری بھی خرید کر استعمال کرنے لگے‘ گڑ اور شکر کی جگہ چینی آ گئی‘ لسی ختم ہو گئی اور اس کی جگہ چائے‘ کولڈ ڈرنکس اور ڈبے کے جوس آ گئے‘ دیسی گھی کی جگہ بناسپتی گھی استعمال ہونے لگا‘ لکڑی اور اُپلوں کی جگہ گیس کے چولہے آ گئے‘ مسواک کی جگہ ٹوتھ برش آیا اور تیل کی جگہ شیمپو استعمال ہونے لگا ‘ یہ تمام چیزیں بازار سے ملتی ہیں اور انسان جب ایک بار بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بازار چلا جائے تو پھر اس کی غربت میں بھوک شامل ہوتے دیر نہیں لگاتی اور ہماری دیہی آبادی کے ساتھ یہی ہوا‘ یہ لوگ تیس برسوں میں غذائی خود مختاری سے بھوک کی محتاجی میں چلے گئے‘ یہ لوگ اب روز ہتھوڑی اور کَسّی لے کر فٹ پاتھوں پر 
بیٹھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں۔

ہماری بربادی میں ہماری سماجی روایات کے انتقال نے بھی اہم کردار ادا کیا‘ میں نے بچپن میں گاؤں میں درجنوں شاندار روایات دیکھی تھیں‘ یہ روایات آہستہ آہستہ مر گئیں‘ ان کے انتقال نے عام آدمی کے معاشی بحران میں اضافہ کر دیا مثلاً گاؤں کی ہر بچی کی شادی پورا گاؤں مل کر کیا کرتا تھا‘ پورا گاؤں ایک ایک چیز گفٹ کرتا تھا اور یہ چیزیں مل کر جہیز بن جاتی تھیں‘ بارات کے لیے کھانا پورا گاؤں مل کر بناتا تھا‘ باراتیوں کی رہائش کا بندوبست پورا گاؤں کرتا تھا مثلاً مہمان پورے گاؤں کے مہمان ہوتے تھے۔

یہ رہتے کسی کے گھر میں تھے‘ ناشتہ کسی کے گھر سے آتا تھا‘ لنچ دوسرے گھر اور ڈنر تیسرے گھر میں ہوتا تھا‘ مثلاً کسی کا انتقال پورے گاؤں کی ’’میت‘‘ کہلاتا تھا۔ قل تک کا کھانا لوگ مل کر دیتے تھے‘ مثلاً گندم کی کٹائی پورا گاؤں مل کر کرتا تھا‘ مثلاً لڑائی میں پورا گاؤں اپنے ’’بندے‘‘ کے ساتھ کھڑا ہو تا تھا‘ تھانے کچہری میں پورا گاؤں جاتا تھا‘ مثلاً قتل تک کے جھگڑے پنچایت میں نبٹائے جاتے تھے‘ مثلاً گاؤں میں اجتماعی بیٹھک ہوتی تھی‘ اسے ’’دارا‘‘ کہا جاتا تھا‘ لوگ شام کے وقت اس دارے میں بیٹھ جاتے تھے‘ مثلاً گاؤں کا کوئی شخص بیمار ہو جاتا تھا تو پورا گاؤں اس کے ’’سرہانے‘‘ پیسے رکھ کر جاتا تھا‘ یہ پیسے پوچھ‘ سرعت یا عیادت کہلاتے تھے۔

یہ رقم مریض کے علاج پر خرچ ہوتی تھی‘ مثلاً بچہ پیدا ہوتا تھا تو گاؤں کے لوگ بچے کو پیسے دے کر جاتے تھے‘ یہ پیسے زچہ اور بچہ دونوں کی بحالی پر خرچ ہوتے تھے‘ مثلاً خوراک کا بارٹر سسٹم نافذ تھا‘ آپ گندم دے کر چنے لے لیتے تھے اور مسور دے کر گُڑ حاصل کر لیتے تھے‘ مثلاً آپ نائی کو گندم دے کر حجامت کرا لیتے تھے‘ بکری دے کر موچی سے جوتے لے لیتے تھے اور گنے دے کر درزی سے کپڑے سلا لیتے تھے‘ مثلاً کوئی بچی روٹھ کر میکے آ جاتی تھی تو پورا گاؤں ڈنڈے لے کر سسرالی گاؤں پہنچ جاتا تھا‘ مثلاً لوگ ضرورت کے وقت دوسروں سے برتن‘ کپڑے‘ جوتے‘ زیورات اور جانور ادھار لے لیتے تھے اور مثلاً قدرتی آفتوں یعنی سیلاب‘ زلزلے اور آندھیوں کے بعد پورا گاؤں مل کر گری ہوئی دیواریں اور چھتیں بنا دیتا تھا‘ یہ ’’سوشل ارینج منٹ‘‘ غربت اور بھوک کے درمیان بہت بڑی خلیج تھا۔ یہ بندوبست سیکڑوں ہزاروں سال کے سماجی تجربے کے بعد بنا تھا۔

یہ غریب کو بھوکا نہیں رہنے دیتا تھا لیکن ہم نے یہ سماجی بندوبست بھی ختم کر دیا۔ ہم نے نیا نظام بنائے بغیر پرانا نظام توڑ دیا‘ ہم نے اپنے لوگوں کو لسی‘ نیوندرے‘ دارے‘ پوچھ اور بارٹر سسٹم چھوڑنے سے قبل یہ نہیں بتایا کارپوریٹ نظام میں لوگ اہم نہیں ہوتے‘ لوگوں کا ہنر‘ لوگوں کی پرفارمنس اور لوگوں کی آؤٹ پٹ اہم ہوتی ہے‘ آپ اگر مائیکرو سافٹ کو کما کر دے رہے ہیں تو بل گیٹس آپ کو جھک کر سلام کرے گا لیکن آپ اگر کمپنی کے پرافٹ میں اضافہ نہیں کر رہے تو پھر آپ خواہ بل گیٹس کے والد محترم ہی کیوں نہ ہوں۔

آپ کمپنی کی دیواروں کے سائے تک میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ آپ کا مقدر بھوک‘ غربت‘ بیماری اور فٹ پاتھ ہوں گے‘ ہماری آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ آج اسی کرب سے گزر رہا ہے‘ یہ روز آنکھوں میں بھوک کا سرمہ لگا کر ہر گزرتی گاڑی کو امید اور نفرت کی نظروں سے دیکھتا ہے اور یہ نفرت اور یہ امید اس وقت تک قائم رہے گی جب تک مزدور آٹے اور روٹی کے لیے کام کرتا رہے گا‘ یہ 
جب تک غربت اور بھوک کے درمیان موجود فرق کو نہیں سمجھے گا۔

جاوید چوہدری

 

عالمی مالیاتی فنڈ اور مستقبل کے پاکستان کی معاشی تصویر.........




نوازشریف حکومت کو اقتدار میں آئے ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ عام انتخابات کے بعد عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک پیپر ورک تیار کیا تھا اور اسے حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف نے عالمی این جی اوز، قوم پرست رہنمائوں اور جیو پولیٹکل امور کے ماہرین سے کیے جانے والے انٹرویوز کو بنیاد بناکر اپنی رائے قائم کی تھی کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد سندھ، بلوچستان اور فاٹا میں شورش بڑھ سکتی ہے۔ متحدہ کی قیادت کے خلاف مقدمات اور تفتیش کی ٹائمنگ اور فاٹا کی صورت حال کو سمجھنے کے لیے آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ یقینی طور پر آئی ایم ایف مستقبل کے حالات کو مدنظر رکھ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی مدد فراہم کرے گا۔

 وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے 39 کھرب روپے مالیت کا بجٹ پیش کیا ہے۔ گزشتہ سال کا خسارہ شامل کرلیا جائے تو بجٹ کا کُل خسارہ 12 کھرب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ دفاعی اخراجات نکال کر ملک میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومت کے پاس کُل 18 کھرب روپے دستیاب ہوتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں حکومت نے دو ارب یورو بانڈز عالمی مارکیٹ میں فروخت کیے ہیں، اس پر چھ فی صد منافع کی یقین دہانی اور ضمانت دی گئی ہے۔ یہ بانڈز امریکی آئل کمپنیوں نے خریدے ہیں اور اس کا منافع آنے والی حکومت پانچ سال کے بعد دینے کی پابند ہوگی۔

یہ وہ معاشی تصویر ہے جسے سامنے رکھ کر عالمی مالیاتی فنڈ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات طے کرے گا۔ وہ اپنے ہر فیصلے سے قبل سندھ، بلوچستان اور فاٹا کی صورت حال کا نقشہ ایک پالیسی کی حیثیت سے اپنے سامنے رکھے گا۔ جس ملک کی معیشت کا سارا انحصار غیر ملکی قرضوں پر ہو وہ کیسے خودمختار پالیسیاں مرتب کرسکتا ہے؟ وفاقی بجٹ پر یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بجٹ کی ہر ہر سطر مبہم ہے۔ جوں جوں وقت گزرے گا، عمل درآمد کے مرحلے میں پتا چلے گا کہ سرجن نے کہاں کہاں نشتر لگائے ہیں۔ بجٹ تیار کرتے وقت وزیر خزانہ کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ پاکستان کس طرح جی ایس پلس اسٹیٹس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ اسی لیے حالیہ بجٹ میں حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو غیر معمولی مراعات دی ہیں۔

حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ لیکن بجٹ میں یہ تعداد محض 12 فی صد بتائی گئی ہے۔ یہ وہ اہم منظرنامہ ہے جس میں قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر عام بحث شروع ہوچکی ہے۔ قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں ہیں۔ دونوں میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہم آہنگی نہیں ہے۔ لہٰذا پارلیمنٹ کے اندر حکومت کے سامنے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کے قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ریکارڈ طویل تقریر کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی رائے ہے کہ وہ بجٹ کا پوسٹ مارٹم نہیں کرسکے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا ہے۔ بظاہر تو وہ فرینڈلی اپوزیشن لیڈر دکھائی دیتے ہیں تاہم بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے نرم لفظوں میں بہت سخت باتیں کی ہیں۔ تحریک انصاف نے دس نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت سادگی اختیار کرے اور پاکستانیوں کی بیرون ملک رقوم تین سال کے اندر اندر پاکستان لانے کا بندوبست کرے، صوبوں کے ترقیاتی فنڈز مرکز کے منصوبوں میں شامل نہ کیے جائیں۔

آئینی لحاظ سے بجٹ منظور کرانا ہر حکومت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ جو حکومت بجٹ منظور نہ کرواسکے وہ خودبخود برطرف ہوجاتی ہے اور اس سے حقِ حکومت چھن جاتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ حکومت بجٹ سازی کے وقت وزارتوں کے بجائے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے رائے لینے کی پابند ہوگی۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت اپریل میں بجٹ سے متعلق قائمہ کمیٹیوں سے رائے لے گی۔ لیکن ایوان میں کرائی گئی یقین دہانی کے باوجود یہ آئینی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔ لیکن یہ اور بہت سے دیگر پہلو نظرانداز کیے جانے کے باوجود بجٹ پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے گا۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فی صد اضافے کا اعلان ہوا ہے اور اس فیصلے کا اطلاق پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں پر بھی ہوگا۔ پرویزمشرف دور میں قانون منظور کیا گیا تھا کہ جس شرح سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں گی اسی شرح سے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں بھی بڑھ جائیں گی۔ بجٹ میں وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں بھی دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے، حالانکہ فنانس بل 2014ء میں سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں، جبکہ وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی مجموعی تنخواہ میں دس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں حقیقی اضافہ میڈیکل الائونس و کنوینس الائونس میں 10اور 5 فیصد اضافے کو شامل کرکے بھی پانچ فیصد تک ہوگا، جب کہ اس کے برعکس وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کو مجموعی تنخواہ کا دس فیصد اضافہ ملے گا۔ رکن پارلیمنٹ کی اِس وقت تنخواہ 70 ہزار روپے ہے اور ہر رکن قومی اسمبلی کو یوٹیلٹی بل دینے کے بعد 51 ہزار روپے ملتے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں حکومت نے ارکان صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فی صد تک اضافہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک اور بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف اور حکومت مخالف سیاسی اتحادوں سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین کو بھی حکومت نے سیاسی کمک اس لیے پہنچائی کہ متحدہ کہیں حکومت مخالف کیمپ میں نہ چلی جائے۔ ایسا ہونے کی صورت میں کراچی متاثر ہوگا اور غیر ملکی سرمایہ کاری رک جائے گی۔ مجوزہ سیاسی اتحادوں کی نرسری کی آکسیجن کاٹنے کے لیے پارلیمنٹ کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے رابطوں کے لیے وزیراعظم نے احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور عرفان صد یقی پر مشتمل 3رکنی کمیٹی کو ٹاسک دیا ہے، جس نے پہلا رابطہ جماعت اسلامی سے کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور میاں اسلم سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔ حکومت کا اگلا پڑائو اے این پی ہے۔ سینیٹر حاجی عدیل سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی انتخابی عمل میں اصلاحات لانے کے لیے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور وہ حالات کو آہستہ آہستہ وسط مدتی انتخابات کی جانب لے جانا چاہتی ہے، لیکن حکومت مخالف سیاسی اتحاد بن نہیں پا رہا کیونکہ اس اتحاد میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اتحاد کی لیڈر شپ کس کے پاس ہوگی؟ طاہرالقادری خود آگے آنے کے بجائے اپنے صاحب زادوں کو سیاست میں لارہے ہیں۔ عوامی تحریک کی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادری کے فیس بک پیج پر مداحوں کی تعداد 20لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، ان میں نوجوان غالب اکثریت میں ہیں۔ طاہرالقادری نے اسلام آباد میں ایک کروڑ نمازی لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ عوامی تحریک یہ تو بتائے ان میں ’’نمازی‘‘ کتنے ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ اس کی بنیاد پر پاکستان آنے کا فیصلہ کرنے سے قبل پرویزمشرف سے لازمی مشورہ کرلیا جائے۔

حال ہی میںسیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے دوسرا پانچ سالہ اسٹرے ٹیجک پلان جاری کیا ہے جس کے مطابق آئندہ انتخابات میں ووٹنگ الیکٹرونک طریقے سے کی جائے گی، اور انتخابات سے قبل مردم شماری کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ نئی حلقہ بندیاں کی جاسکیں۔ الیکشن کمیشن نے پانچ سالہ اسٹرے ٹیجک پلان کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے آراء مانگی تھیں لیکن جماعت اسلامی کے سوا کسی دوسری جماعت نے الیکشن کمیشن کو تجاویز نہیں بھجوائیں۔ تحریک انصاف تو الیکشن کمیشن کے ارکان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے جن کی معیاد 2016ء میں ختم ہورہی ہے۔ حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسی ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے سابق اسٹیشن ہیڈ جوناتھ بینکس اور ان کے قانونی مشیر جان ایروز کے خلاف ڈرون حملے پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی سنایا ہے۔ ایک شہری کریم خان کی طرف سے رٹ دائر کی گئی تھی کہ ڈرون حملے میں اس کا بیٹا زین اللہ اور بھائی آصف کریم جاں بحق ہوگئے تھے، دونوں پُرامن شہری تھے اور کسی تنظیم سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی کسی مقدمہ میں مطلوب تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کے الزامات میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ حکم ریاست کی رٹ اور آئین کی حکمرانی کا مظہر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ اس حکم پر عمل کرے گی یا اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا؟

ابھی حال ہی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف چین کے دورے پر گئے جہاں چینی حکام سے ان کی ملاقاتوں میں ایسٹ ترکستان موومنٹ کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے نائب سربراہ یافین چنگ لانگ نے بیجنگ میں جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا، اور چین نے ایسٹ ترکستان موومنٹ کے خلاف پاکستان کے تعاون کو سراہا۔ ای ٹی آئی ایم کو دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن قرار دیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پیمرا نے بھی انگڑائی لی ہے۔ پیمرا کے قائم مقام چیئرمین پرویز راٹھور کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں جیو ٹی وی چینل کو آئی ایس آئی کے خلاف مہم پر ایک کروڑ روپے جرمانہ اور اس کا لائسنس پندرہ روز تک معطل کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے رد عمل دیا کہ پیمرا کے فیصلے سے وزارتِ دفاع مطمئن نہیں ہے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔ اس سے قبل عسکری ذرائع نے رد عمل دیا تھا کہ ’’ہم حالتِ جنگ میں ہیں، ہمارے خلاف مہم جوئی کے مقاصد کیا تھے، یہ عزائم سامنے آنے چاہئیں، جیو کو ملنے والی سزا کم اور تاخیر سے دی گئی ہے، لیکن ہمارے خلاف مہم جوئی کا حساب کون دے گا؟‘‘ وزارتِ دفاع کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ جیو کی مشکل ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس معاملے کے حل کے لیے سی پی این ای، پی ایف یو جے اور ایپنک کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مستقبل میں ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق مرتب کررہی ہے۔ یہ سب کچھ دکھاوا ہے، اصل فریق دو ہی ہیں، (1) میر شکیل الرحمن اور(2) وزارتِ دفاع۔ ان میں سے ایک فریق کا مطالبہ ہے کہ اسے پچاس ارب روپے دیے جائیں، دوسرے کا مطالبہ ہے کہ ایک کروڑ جرمانہ کم سزا ہے۔ جیو انتظامیہ نے خود ایک ہفتہ کے لیے چینل بند کرنے اور معافی مانگنے کی پیش کش کی تھی لیکن میر شکیل الرحمن اعتماد کھو چکے ہیں اس لیے معاملہ حل نہیں ہورہا۔ جیو انتظامیہ چاہتی ہے کہ وہ رمضان المبارک سے قبل معاملہ طے کرلے تاکہ اسے رمضان المبارک کی نشریات کے لیے اسپانسر شپ مل سکے، لیکن اس کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آرہی۔ اس کھیل میں یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ یہ نجی ٹی وی چینلز اس معاشرے کی اخلاقی اور سماجی روایات کے ساتھ جو کھلواڑ کررہے ہیں، اس کی تلافی کے مطالبے کے ساتھ کون آگے آئے گا؟

میاں منیر احمد



Over half of Pakistan lives under poverty line

 Over half of Pakistan lives under poverty line

Enhanced by Zemanta