Showing posts with label PTI. Show all posts

اب عمران خان کیا کریں گے؟.......


عمران خان کو اپنا آزادی مارچ اسلام آباد لائے ہوئے ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ شام کے وقت جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد میں بتدریج کمی ہوتی جارہی ہے، جبکہ تقاریر کا سخت ہوتا ہوا لہجہ بڑھتے ہوئے ہیجان کا پتہ دے رہا ہے۔ امیدیں اور وعدے اب بے چینی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اگر طاہر القادری کے حامی شارع دستور پر پڑاؤ ڈالے ہوئے نا ہوتے، تو یہ سب ابھی اور بھی پھیکا ہوتا۔ لیکن عمران خان اب بھی ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ وہ اس لڑائی کو اب تلخ اختتام پر لے جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ رسک زیادہ ہے، اور آپشن کم رہ گئے ہیں۔ تو، اب عمران خان کیا کریں گے؟
کرکٹ کے برعکس سیاست میں کوئی بھی ہار جیت حتمی نہیں ہوتی۔ بلکہ طاقت کے اس کھیل میں ہار جیت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہوتی۔ ہر نئے دن جیت کی ایک نئی کشمکش۔ پر کرکٹ کو سیاست کے ساتھ ملا دینے کا خیال کوئی بہت اچھا نہیں رہا ہے۔ عمران خان کی خود پسندی، ضد، اور حساب کتاب میں گڑبڑ ان کی غلطیاں ثابت ہوئی ہیں۔

وہ مزید چیزیں داؤ پر لگائے جارہے ہیں، جبکہ وہ انتخابی اصلاحات، اور انتخابات کی تحقیقات کی حکومتی پیشکش کو تسلیم کر کے جیت سکتے تھے۔ لیکن اپنے بے منطق کے اقدامات کی وجہ سے وہ اب اپنی اس پارٹی کے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈال چکے ہیں، جس نے تعلیم یافتہ شہری مڈل کلاس کو سیاسی قوت میں بدل کر پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔

یہ حقیقت ہے، کہ پاکستان تحریک انصاف کی کرپشن، موروثی سیاست، اور قانون کی خلاف ورزی کے خلاف چلائی جانے والی مہم نے عوام کی اکثریت کو متاثر کیا ہے۔ یہی وہ وجہ تھی، کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا، کیونکہ لوگوں کے نزدیک یہی جماعت باریاں لینے والی دوسری جماعتوں سے مختلف تھی۔ لیکن ایک جس چیز جس کی کمی ہمیشہ سے رہی ہے، وہ ہے تبدیلی کا وژن، اس تبدیلی کا جس کا وہ بار بار وعدہ کرتے ہیں۔

ان کے تیز طرار بیانات اب صرف کھوکھلی باتوں میں بدل گئے ہیں۔ اہم سیاسی، سماجی، اور اقتصادی معاملات پر ان کے خیالات ان کے تبدیلی کے نظریے سے میل نہیں کھاتے۔ ان کا سیاسی پہلو کافی قدامت پسند ہے، اور وہ ملک کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ عسکریت پسندی اور طالبان پر ان کا مؤقف کافی پریشان کن رہا ہے۔ وہ پر کشش تو ہیں، لیکن ان میں وہ بات نہیں پائی جاتی، جو تبدیلی لانے والے لیڈروں میں ہوتی ہے۔ اور اس بات کا ثبوت ان کے حالیہ اقدامات ہیں۔
یہ یقینی ہے کہ پی ٹی آئی کے اس دھرنے نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو ان کی گہری نیند سے جگا دیا ہے، اور یقین دہانی کرا دی ہے کہ عوام اب اس سسٹم سے تنگ آچکے ہیں۔ پارلیمنٹ کے سامنے ایک مہینے سے جاری دھرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بے مثال باب ہے۔ نتیجتاً پارلیمنٹ کو بھی سسٹم بچانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں سے مدد لینی پڑی ہے۔

لیکن حالیہ دھرنوں نے پی ٹی آئی کی سیاسی ناپختگی، اور موقع پرستی کو ظاہر کردیا ہے۔ پارٹی نے اپنی پوری اسٹریٹیجی صرف یا تو امید پر قائم رکھی، یا کسی تیسری قوت کی جانب سے شریف حکومت کے خاتمے کی یقین دہانی پر۔ اور جس وقت آرمی چیف ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے منظرنامے میں داخل ہوئے، تو شاید جیت کی امید مضبوط ہوئی تھی، پر یہ امید زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔
پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی، کہ اسے لگا کہ وہ لاکھوں لوگوں کو متحرک کر کے اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پر ایسا نہیں ہوا۔ لاہور سے اسلام آباد تک کے مارچ، اور اس کے بعد کے دھرنے میں صرف کچھ ہزار لوگ ہی شامل ہوئے۔

دیکھا جائے تو اسلام آباد میں ایک مہینے سے جاری دھرنے کا ملک کے باقی حصے میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ عمران خان کی ملک بھر میں احتجاج کی اپیلوں کو کوئی خاص رسپانس نہیں ملا، صرف کراچی اور لاہور کے پوش علاقوں میں کچھ پارٹی کارکنوں کے اجتماع ہوئے اور بس۔ سول نافرمانی، اور ٹیکسوں اور بلوں کی عدم ادائیگی بھی ایک مذاق بن کر رہ گیا۔ صرف پارٹی کے کچھ وفاداروں نے پشاور-اسلام آباد روڈ پر ٹول ٹیکس ادا کرنے سے انکار کیا، جبکہ کچھ اپر کلاس کے لوگوں کو ریسٹورینٹس کی انتظامیہ سے جی ایس ٹی کاٹنے پر جھگڑتے ہوئے دیکھا گیا۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں (خیبرپختونخواہ کے علاوہ) سے استعفے دینے کے فیصلے نے بھی نا صرف پارٹی کو اندرونی طور پر تقسیم کیا، بلکہ اس کی سیاسی تنہائی میں اضافہ کیا۔ اس وقت پارٹی کے ساتھ کوئی بھی اتحادی موجود نہیں ہے۔ اگر پارٹی پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرتی، تو اس کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوسکتی تھی۔ لیکن اس کے بجائے عمران خان نے پارلیمنٹ کو چوروں کا اڈہ قرار دے ڈالا۔

لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ نے منتخب حکومت کا ساتھ دینے میں بلوغت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ اور تو اور پی ٹی آئی کے انتخابی اصلاحات کے مطالبے کی حمایت کر کے دوسری جماعتوں نے پی ٹی آئی کو بھی زندگی دینے کی کوشش کی۔ اور اگر اب تک پی ٹی آئی کے اسمبلیوں سے استعفے منظور نہیں ہوئے ہیں، تو یہ بھی اس لیے کہ اپوزیشن جماعتوں نے استعفے منظور کرنے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن اب اس کو زیادہ عرصے تک ٹالا نہیں جا سکے گا۔ اسمبلیوں سے باہر بیٹھ کر انتخابی اصلاحات کی قانون سازی کرانا پی ٹی آئی کے لیے اور بھی مشکل ہوجائے گا۔

وزیر اعظم کے استعفے کے علاوہ پی ٹی آئی کے تمام مطالبات پر اتفاق رائے موجود ہے۔ پارٹی اس کے لیے کریڈٹ لے کر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتی تھی، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکی۔ عمران خان موجودہ بساط لپیٹ کر جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں۔ وہ صرف انارکی کی حالت پیدا کرنا چاہتے ہیں، اور حکومت کے رٹ کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا مشکل بھی نہیں ہے۔

دار الحکومت کی ایک معطل شدہ انتظامیہ نے پہلے ہی مظاہرین کو فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ اور عمران خان کی جانب سے اپنے گرفتار کارکنوں کو چھڑا لیا جانا اس بات کا ثبوت ہے۔ اس بڑھتے ہوئی سیاسی ہلچل اور طاقت کے خلا میں کسی غیر آئینی مداخلت کو راستہ مل سکتا ہے، اور شاید پی ٹی آئی چاہتی بھی یہی ہے۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہے، جو مکمل تباہی پر بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اس بحران کا حل جمہوریت میں موجود ہے، پھر اس میں بھلے ہی کتنی ہی خامیاں ہوں، پر اس بحران کا سسٹم سے باہر کوئی حل نہیں ہے۔

زاہد حسین

بغاوت اور باغی --- شاہنواز فاروقی......


دھرنے کی افادیت......


سیاسی یا جنگی لائحہ عمل وہی بہتر گردانا جاتا ہے جس میں مشکل حالات سے نکلنے کا بندو بست موجود ہو۔ عمران خان نے شروع دن سے ہی اپنے لیے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا جو ہدف مقرر کیا تھا اس میں اس سے کم پر مان جانے کا موقع نہیں چھوڑا گیا۔ دھرنوں میں افراد کی تعداد خاصی حد تک کم ہوگئی ہے۔ شام کو بھی تعداد کچھ اتنی نہیں ہوتی کہ اس کو دیکھ کر پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں اور حکومت کے ایوان تھرتھر کانپنے لگیں۔ کیمرے ابھی تک وہ چشم پوشی کر رہے ہیں جس کا کسی طور بھی ایک پروفیشنل معیار پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پھر بھی سڑک پر ارد گرد کے علاقوں سے آئے ہوئے کارکنان اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے وہ اصل میں ہوتے ہیں۔ خیال کی اڑان، بیان اور کیمرے کی پرواز ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے باوجود ان خالی جگہوں کو پُر نہیں کر سکتی جو روز روز واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

لہٰذا سڑک کے ذریعے دباؤ پیدا کر کے اپنا مطالبہ منوانے کا وقت گزر گیا۔ عمران خان ان حالات کو اگر نہ سمجھیں تو ان کی مرضی ہے۔ مگر کسی بڑی غلطی یا حادثے کے علاوہ سڑک پر سے احتجاج کر کے وہ نہ اب کسی کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ حصول منزل کی طرف ایک قدم بڑھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات نے بھی ان کے احتجاج پر گہرے اثرات چھوڑنے شروع کر دیے ہیں۔ سیلاب نے کنٹینر سے نکال کر سیالکوٹ کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ویسے سیلاب سے پہلے بھی اپنی دوسری ضروریات سے مغلوب ہو کر ان کو دن میں دس، بارہ گھنٹے کنٹینر چھوڑنا ہی پڑتا تھا۔

آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں ‘وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے۔ عمران خان ہر کسی کو غدار، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انھوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔

ابھی تک ان کے نعرے اور وعدے وہی ہیں جو چند ہفتے پہلے تھے۔ مگر اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انھوں نے سیاسی طور پر اپنی جماعت کے لیے ماحول بری طرح خراب بھی کیا ہے۔ پاکستان کے اندر بہترین کارکردگی پیش کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ نظام ہی کچھ ایسا ہے۔ ہم معاشرتی اور نسلی طور پر بیسیوں رنگ رکھتے ہیں۔ یہاں پر چھوٹی بڑی درجنوں جماعتوں کا اپنے اپنے حلقے میں اہم کردار ہے جو ایک ہی ہلے میں تبدیل یا تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی ہو یا نواز لیگ کی دو تہائی اکثریت، انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں ہر بڑے اور چھوٹے فیصلے پر دوسری جماعتوں پر انحصار کرتی ہیں۔

عمران خان نے کنٹینر میں مورچہ بند ہو کر جو پھلجھڑیاں چھوڑی ہیں ان کی کی چنگاریاں ہر دامن پر گری ہیں۔ کوئی جماعت اور اس کا لیڈر عمران خان کی زبان اور ہاتھ کے اشارے سے محفوظ نہیں رہا۔ کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور ان کے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہو جائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لیے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔

خیبر پختون خوا میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے اوپر اپنی جماعت کے نمایندگان کے ساتھ پتھروں کی بارش کر کے سیاسی راستے اگر مسدود نہیں کیے تو محدود ضرور کر دئے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور سندھی قوم پرستوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ کبھی ایم کیو ایم پر برستے ہیں۔پنجاب میں نواز لیگ کے ساتھ لڑائی ہے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی مقابلہ۔ اگر عمران خان نیا پاکستان بنانے کے بعدوزیراعظم بن گئے تویہ ملک چلائیں گے کیسے؟
اتنے الزامات لگانے کے بعد ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیں مگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار اب بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو ان کی بیان کردہ منزل کی طرف لے جانے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

اس تمام قصے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے یہ موضوع اس وقت اٹھانا موزوں نہیں ہے۔ اگرچہ حقائق چھپائے بھی نہیں چھپتے مگر انکو ڈھانپنے کے لیے جو گنجائش چاہیے وہ اس وقت موجود نہیں۔ اتنا کافی ہے کہ اس تمام مسئلے کا یہ تمام زوایہ اس راز کی طرح ہے جو سب کو معلوم ہونے کے باوجود رازداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے راز ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دو تین ہفتوں میں دھرنوں کے پیچھے ہونے والی یہ کوشش عملاً رائیگاں ہو کر ختم ہو جائے گی۔ جس سہارے کے ناتے اتنی لمبی چھلانگ لگائی گئی تھی وہ گزرتی ہوئی ساعتوں کی نذر ہو رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پس منظر میں کھیلے جانے والے کھیل نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔

اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آ جاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑ پر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔ معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کے بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کر سکتے ہیں۔ جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کر چکا ہے اس کو مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہو چکا ہے۔

طلعت حسین
 

Open Letter to PTI Chairman Imran Khan



جناب عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
اسلام آباد۔

میری بیٹی منزہ کی عمر 14 برس ہے۔ اپنے دس سالہ تعلیمی دور میں وہ صرف ایک بار مسلسل پانچ دن سکول نہیں جا سکی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔

خاندانی تقریبات ہوں یا سیر و تفریح کے مواقع، منزہ سکول پر کسی چیز کو فوقیت نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے، جناب خان صاحب کہ جب کل اسے پیغام ملا کہ اس کا سکول مزید ایک ہفتہ نہیں کھل سکے گا، تو وہ بجھ سی گئی۔

خان صاحب میری بیٹی کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سکول نہ جا سکنا ہے۔ ایک اور وجہ ہے جس کا تعلق بھی براہ راست آپ ہی سے ہے، اس لیے وہ بھی میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

گذشتہ برس مئی میں جب انتخابات قریب آئے تو میں نے آپ کی جماعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر ہمارے گھر میں خاصی گرما گرم سیاسی بحث چھڑ گئی۔ منزہ میرے اس فیصلے کے سخت خلاف تھی۔ مجھے یاد ہے کہ 11 مئی کی صبح جب میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلا تو منزہ نے مجھ سے کہا ’بابا ایک بار پھر سوچ لیں۔‘
مزید شرمندگی

میری آپ سے درخواست ہے کہ مجھے مزید شرمندگی سے بچا لیں۔ میری منزہ کو سکول جانے دیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے سامنے آپ کی سیاسی جدوجہد اور نظریات کا دفاع کرنے کی ایک بار پھر کوشش کروں گا۔ لیکن اس کے بند سکول اور سڑکوں پر لڑائی جھگڑے کے درمیان ایسا کرنا ممکن ہے۔
میں نے سوچا کہاں میرا 20 سالہ صحافت کا تجربہ اور کہاں یہ کل کی بچی اور اس کی سیاسی سمجھ بوجھ۔ میں پولنگ بوتھ میں گیا اور آپ کے امیدوار کے نام پر مہر لگائی۔

اگلے چند ماہ میں منزہ کو آپ کے نظریات اور نئے پاکستان کے فائدے گنواتا رہا۔ مجھے کبھی شک نہیں ہوا کہ وہ ان باتوں سے مرعوب ہو رہی ہے لیکن میں اسے اچھے مستقبل کی خوشخبری سناتا رہا۔

گذشتہ چند روز سے منزہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ میں جب رات کو گھر جاتا ہوں تو اس کے سوالوں کے جواب نہیں دے پاتا۔ جو مناظر اس نے گذشتہ چند دنوں میں ٹیلی وژن پر دیکھے ہیں، اس کے بعد میں اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا۔
تحریک انصاف کا آزادی مارچ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا اور اس کے بعد شہر کے کئی حصوں میں نظام زندگی متاثر ہوا ہے
میں یقین نہیں کر پا رہا کہ 13 برس کی منزہ نے آپ کے نظریات کے بارے میں جو خدشات ایک برس پہلے ظاہر کیے تھے، وہ سچ ثابت ہو رہے ہیں۔
عمران خان صاحب، میں اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ ہو گیا ہوں۔

میری آپ سے درخواست ہے کہ مجھے مزید شرمندگی سے بچا لیں۔ میری منزہ کو سکول جانے دیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے سامنے آپ کی سیاسی جدوجہد اور نظریات کا دفاع کرنے کی ایک بار پھر کوشش کروں گا۔ لیکن اس کے بند سکول اور سڑکوں پر لڑائی جھگڑے کے درمیان ایسا کرنا ممکن ہے۔
پلیز میری اور اپنی عزت کا پاس رکھیں۔ منزہ کو سکول جانے دیں۔
آپ کے نام یہ خط منزہ بھی پڑھے گی، اس لیے میں یہ بات یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں تحریر کردہ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ امید ہے آپ ان گزارشات پر ہمدردانہ غور کریں گے۔

آپ کا ووٹر

Open Letter to PTI Chairman Imran Khan

سدا بہار باغی......


سنہ 1972 کے اوائل میں نوجوانوں کا ایک گروپ گورنر ہاﺅس لاہور میں گھس گیا، یہ سمن آباد کے علاقے سے مبینہ طور پر حکومتی عہدیدار کی جانب سے دو لڑکیوں کو اغوا کرنے پر احتجاج کررہے تھے۔

اس ہجوم کا سامنا ذوالفقار علی بھٹو سے ہوا جو اس وقت صدر مملکت تھے  جبکہ ان کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر موجود ایک برطانوی وزیر تھے۔
مظاہرین کے قائدین میں سے ایک جاوید ہاشمی نامی نوجوان بھی شامل تھا جس نے پنجاب یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کا الیکشن اسلامی جمعیت طلباءکی حمایت کے ساتھ سخت مقابلے کے بعد جیتا تھا۔

دو برس بعد جاوید ہاشمی نے ایسا ہی اقدام بنگلہ دیش کو بطور علیحدہ ریاست تسلیم کیے جانے پر ایک احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے اس وقت کیا، جب لاہور اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کی میزبانی کررہا تھا۔
وہ نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ حکومت مخالف بینرز اٹھائے تمام تر سیکیورٹی انتظامات کو توڑ کر سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے موٹرکیڈ کے سامنے جاکھڑے ہوئے۔

ان دونوں واقعات کا ذکر جاوید ہاشمی نے اپنی سوانح حیات' ہاں میں باغی ہوں  میں کیا ہے، اب انہوں نے اپنی جماعت کے سربراہ کی بات ماننے سے انکار کیا ہے۔
کیا گورنر ہاﺅس لاہور پارلیمنٹ کی طرح ریاست کی علامت نہیں اور کیا غیر ملکی معزز مہمان کے سیکیورٹی انتظامات کو توڑنا وزیراعظم ہاﺅس کے گرد پہنچنے سے کم اہم ہے؟ مگر جاوید ہاشمی جب کسی مقصد پر یقین رکھتا ہے تو وہ اس طرح کے فرق کو نظرانداز کردیتا ہے۔

اس کا ماننا تھا کہ اسے کسی بھی طریقے سے بھٹو حکومت کو چیلنج کرنا ہے تو اس سے جو ہوسکا اس نے کیا، اس کا ماننا تھا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے تھا تو جو اسے مناسب لگا اس نے کیا۔
اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کس طرح اس نے اسلامی کانفرنس سے چند ماہ قبل اپنے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو کی ریلی کو اسی مقصد کی وجہ سے کتنی کامیاب سے سبوتاژ کیا تھا۔
تو یہ بات واضح ہے کہ اب وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا جو عمران خان حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ جاوید ہاشمی کے نظریات ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی سیاسی زندگی کے دوران وہ اختیار کرچکا ہے۔
یہ نظریات تین بنیادوں پر قائم ہیں، فوجی آمریت پر انتخابی جمہوریت کی بالادستی، اختلاف رائے اور اپنے سیاسی اقدامات کے نتائج کی پروا نہ کرنا۔

بغاوت کا مقدمہ

کچھ استثنیٰ سے قطع نظر یہ وہ سیاسی اصول ہیں جو جاوید ہاشمی نے اختیار کررکھے ہیں۔
اس کی سب سے واضح مثال اس کی جانب سے 2003 میں فوجی طاقت پر سویلین بالادستی کا بہادرانہ دفاع اس کی گرفتاری کا باعث بنا اور اس پر الزام لگایا کہ وہ فوج میں تقسیم ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔
اگلے ساڑھے تین سال تک وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا اور مقدمے کی سماعت بھی جیل کے اندر ہوئی۔

مشرف حکومت نے یہ مقدمہ ایک خط کی بنیاد پر چلایا جو جاوید ہاشمی نے سب کے سامنے پیش کیا تھا جو چند جونئیر عہدیداران نے لکھا تھا اور اس میں فوجی حکومت کے کچھ سنیئر اراکین پر کرپشن الزامات عائد کیے گئے تھے۔
جاوید ہاشمی کبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی اسے کبھی یہ خط عوام کے سامنے پیش کرنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہوا۔
اسی طرح اس کی جانب سے شریف برداران کے جلاوطنی اختیار کرنے اور متعدد اہم رہنماﺅں کے مشرف کیمپ میں شامل ہونے کے بعد مسلم لیگ نواز کے صدر بننے کے لیے تیار ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ مشکل ترین اوقات میں بھی جمہوریت کے لیے کام کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

جاوید ہاشمی نے سدا بہار باغی کی مضبوط حیثیت تعمیر کی، وہ اپنی سوچ کے مطابق بولتا ہے چاہے کیسے نتائج یا حالات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس نے ہر اس وقت مخالفت کا اظہار کیا جب اسے لگا کہ اتھارٹی کی جانب سے ٹھیک کام نہیں کیا جارہا، اور اس کے لیے یہ پروا کبھی نہیں کہ اتھارٹی میں شامل افراد اس کی اپنی جماعت کے سربراہان ہی کیوں نہ ہو۔

وزیراعظم نواز شریف اور حکمران جماعت نواز لیگ کے متعدد سنیئر اراکین اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ کس طرح جاوید ہاشمی پارٹی اجلاسوں میں پارٹی قیادت سے اپنے تعلقات پر اثرات کی پروا کیے بغیر اپنے موقف کا کھل کر اظہار کیا۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جاوید ہاشمی نے کبھی غلطیاں نہیں کیں، 1978 میں 29 سال کی عمر میں وہ جنرل ضیا الحق کی فوجی کابینہ کے نوجوان ترین وزیر کی حیثیت سے شامل تھے۔
تاہم بعد میں وہ اپنے فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار کرتا رہا، اپنی کتاب میں اس نے وضاحت کی ہے کہ وہ کبھی اس وزارت کو لینے کے بعد مطمئن نہیں رہا اور وہ جلدازجلد اس سے مستعفی ہونا چاہتا تھا۔
اسی طرح 1993 میں جب اسے لاہور سے محفوظ نشستوں کی پیشکش کی جارہی تھی تو اس نے ملتان سے اپنے آبائی حلقے سے انتخاب لڑنے پر اصرار کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شاہ محمود قریشی نواز شریف کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگیا۔

اس کی سب سے بڑی غلطی یوسف نامی ایک ایڈووکیٹ سے پیسے لینا تھا۔
یوسف نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ یہ رقم یونس حبیب کی تھی جو کہ مہران بینک کا صدر تھا، جسے انٹیلی جنس عہدیدران نے 1990 میں پیپلزپارٹی مخالف سیاستدانوں کی انتخابی مہم کے لیے سرمایہ لگانے کا ٹاسک دیا تھا۔

جاوید ہاشمی نے اپنی سوانح حیات میں اس عزم کو دوہرایا ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی اپنی سیاست سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہٰں کرے گا، اس نے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وہ رقم کاروبار کے لیے بطور قرضہ لی تھی جسے اس نے واپس لوٹا بھی دیا تھا۔
تاہم ان الزامات نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

جب اس نے دسمبر 2011 میں نواز لیگ کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو اس کے پرانے سیاسی ساتھیوں نے الزام لگایا کہ ن لیگ کی جانب سے ایک قریبی رشتے دار کو بطور انتخابی امیدوار نامزد نہ کرنے پر جاوید ہاشمی برہم تھا۔

کچھ کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی اس لیے ناخوش تھا کیونکہ وہ 2008 کے انتخابات کے بعد قائد حزب اختلاف بننا چاہتا تھا مگر یہ عہدہ چوہدری نثار علی خان کو دے دیا گیا۔
اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس عہدے کا حقدار تھا کیونکہ مشرف دور میں، جب بہت کم سیاستدان کسی بھی سطح پر ن لیگ کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے، اس نے پارٹی کے لیے بہت زیادہ کام کیا۔
جاوید ہاشمی لگتا ہے کہ اپنی سیاسی راست گوئی کو نہیں کھویا، اور اس نے اپنے یقین کے مطابق بولنے کی صلاحیت کو برقرار رکھا، جبکہ جمہوریت اور اداروں سے محبت بھی جاری رکھی۔

اسے اپنے اقدامات کے نتیجے میں سیاسی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا اور کوئی نہیں جانتا کہ پی ٹی آئی سے اخراج کے بعد اس کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔
یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ دوبارہ مسلم لیگ ن میں شامل ہوجائے گا، جس کا وہ ابھی بھی شدید ناقد ہے، جہاں تک پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے آپشن کی بات ہے تو یہ بالکل ناممکن لگتا ہے کیونکہ وہ اپنے پورے کیرئیر میں اس جماعت کا شدید مخالف رہا ہے۔

اپنی کتاب کے پہلے صفحے میں جاوید ہاشمی نے خلفیہ دوم حضرت عمرؓ کا قول درج کیا ہے" تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنالیا حالانکہ ان کی ماﺅں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟، وہ اب بھی ہمیشہ کی طرح آزاد ہے۔
کوئی چیز یا ایسا نظریہ جس پر اسے یقین نہیں اسے کسی پارٹی کا قیدی نہیں بناسکتا، عمران خان کو جاوید ہاشمی کو اپنی پارٹی میں لینے سے پہلے اس کو جان لینا چاہئے تھا۔

باغی کی خطرناک بغاوت.......


اسلام آباد کی سڑکوں پر توڑ پھوڑ کی احتجاجی سیاست کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے برطرف صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک اور بغاوت کردی ہے۔اب کے انھوں نے بہت سے انکشافات کیے ہیں اور موجودہ بحران کے پیچھے کارفرما کئی پس پردہ چہروں کے نقاب الٹ دیے ہیں جس سے ان بعض چہروں کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔
بزرگ سیاست دان نے اسلام آباد میں سوموار کو نیوز کانفرنس میں اپنی جماعت کے چئیرمین عمران خان کی سیاست سے متعلق کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ وہ انقلاب مارچ کسی کے اشارے اور یقین دہانی پر کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ عمران خان نے منتخب ارکان اسمبلی سے زبردستی استعفے لیے اور لکھوائے ہیں۔ارکان ان استعفوں پر خوش نہیں تھے۔

انھوں نے عمران خان پر الزام عاید کیا کہ وہ مطلق العنان بنے ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے فیصلوں کو یکسر مسترد کردیتے ہیں اور جماعت میں اپنی من مرضی کے فیصلے کررہے ہیں۔وہ وعدے کرتے ہیں اور توڑ دیتے ہیں۔
انھوں نے ماضی کے حوالے سے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ایک اجلاس میں عمران خان نے کہا تھا کہ ''موجودہ چیف جسٹس ( اب سابق) جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بعد آنے والے چیف جج ناصر الملک وزیراعظم میاں نواز شریف کی برطرفی سے متعلق دائر کردہ درخواست پر ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے''۔

عمران خان نے کور کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہم سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور اپنے انتخاب کے مطابق ایک جج لیں گے اور وہ سب کچھ کچھ او کے کردے گا اور موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی۔
انھوں نے بتایا کہ جب عمران خان اپنا یہ تمام پروگرام وضع کرچکے تو میں نے ان سے کہا کہ خان صاحب آپ کیا کرنے جارہے ہیں۔آپ کو ہماری اور بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ مان کے نہیں دے رہے تھے اور انھوں نے کہا کہ ''میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ ستمبر میں نئے عام انتخابات ہوں گے''۔
جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کی قیادت کو بتایا تھا کہ احتجاجی تحریک کے بعد ایک خاص سکرپٹ (مسودہ) ہوگا جس کا اختتام ایک نئے چیف جسٹس کے تقرر کے ساتھ ہوگا اور مظاہرین کے نصب العین سے اس نئے چیف جسٹس کو ہمدردی ہے۔

انھوں نے اس نیوز کانفرنس میں ایک ہی سانس میں کئی انکشافات کردیے ہیں اور بتایا کہ عمران خان نے انھیں کہا تھا کہ ''انھوں نے (آرمی نے) ہمیں کہا ہے کہ طاہر القادری کے ساتھ اتحاد کریں۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے مارچ کو ریڈ زون سے آگے وزیراعظم ہاؤس کی جانب لے جانے کی مخالفت کی تھی اور کمیٹی کے ارکان نے عمران خان سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شیخ رشیداحمد کی باتوں پر کان نہ دھریں۔

انھوں نے عمران خان کی جانب سے شیخ رشید احمد کی حمایت سے متعلق کہا کہ ''وہ ہمیں یہ کہتے رہتے تھے کہ ہمیں مئی 2013ء میں منعقدہ انتخابات میں شیخ رشید کی کامیابی کو یقینی بنانا ہوگا حالانکہ 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ،میں نے شیخ رشید کو راول پنڈی کی نشست سے شکست دی تھی''۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ''یہ تھرڈ کلاس لوگ ہیں اور ان کی نااہلیوں کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔اس نے قوم کی امنگوں کی پروا نہیں کی ہے۔اگر ماڈل ٹاؤن لاہور کے واقعہ پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جاتی تو کونسی قیامت آجاتی کیونکہ پولیس کی فائرنگ سے چودہ افراد کی شہادت اور قریباً اسی لوگوں کو گولیاں لگ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے''۔

انھوں نے گذشتہ روز اور آج بھی ماضی میں تحریک انصاف کی قیادت سے اختلاف کے بارے میں کہا ہے کہ ''جب پارٹی میں میری بات نہیں سنی جاتی تھی تو ملتان چلا جاتا تھا یا بیمار ہوتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ میں بیمار ہوتا تھا اور نہ مجھے بیوی بچوں کی یاد آتی تھی، میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ملتان چلا جاتا تھا''۔

جاوید ہاشمی کو اس بغاوت سے قبل ہی جماعت کے چئیرمین عمران خان نے صدارت کے عہدے سے فارغ کردیا تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی جماعت کے صدر ہیں اور عمران خان نے انھیں غیر آئینی طور پر ہٹایا ہے۔انھیں اپنی جماعت کے آئین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی کی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی جماعت کے یک طرفہ طور پر برطرف کیے گئے صدر کے ان انکشاف انگیز الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان کے رد میں انھوں نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

 

Do you believe the Pakistan political crisis is scripted?


The plan to oust the PML-N led government and topple Prime Minister Nawaz Sharif from power is reaching critical mass. The last 48 hours saw the Pakistan Tehreek-i-Insaf (PTI) and Pakistan Awami Tehreek (PAT) anti-government protests morph Islamabad's Red Zone from a concert ground to a bloody battlefield, with at least three people killed and hundreds injured. The deadly confrontation shows little signs of letting up, as both Imran Khan and Tahirul Qadri have encouraged their supporters to battle on, while negotiations with the government appear to be going nowhere - despite the Pakistan Army playing the role of 'mediator'.

'It won't be called a martial law'

Javed Hashmi said he was ashamed and said he was sure Imran was too. "Now I'm going to say something and maybe Imran will refute that as well but it would be good if he didn't.""Imran had told the core committee it won't be called a martial law...we will file a petition in the Supreme Court and get a judge of our choosing...and he will say okay...we didn't talk about Bangladesh...that CJ will validate the actions that will be taken eventually...today I have heard that CJ has called all judges...Justice Jilani will retire and the current CJ will become chief justice...and they will get rid [of the government]".

Javed Hashmi


Muhammad Javed Hashmi  b. January 1, 1948), is a senior conservative figure, political scientist and geostrategist who presides over the Pakistan Movement for Justice (PTI) which is led by sportsman-turned politician Imran Khan. He was elected to the post of Central President on March 2013 by the electoral college of the party.

Originally a leading and senior member of Pakistan Muslim League, Hashmi served twice in federal cabinet first as the Federal Ministry of Health and as the Federal Ministry of Youth Affairs in both first and second government of former Prime minister Nawaz Sharif. After being dismissed in 1999 in a coup d'état staged by General Pervez Musharraf against Nawaz Sharif, Hashmi was appointed central president of the Pakistan Muslim League and led the League in the controversial 2002 general elections, which saw the landslide defeat of the League. In 2003, Hashmi was arrested and faced a trial on charges of treason in the Central Jail Rawalpindi after making controversial statements against Pakistan Armed Forces, and was released on 4 August 2007.[1]

In the 2008 elections, Hashmi won a record three seats out of the four contested; he only lost out to Shah Mehmood Qureshi in his home city of Multan. Hashmi won National Assembly seats from Multan, Lahore and Rawalpindi beating PML-Q leader Shaikh Rasheed Ahmad in the latter one.[2] On 20 July 2010 Hashmi suffered from Brain hemorrhage and was admitted to hospital. After recovering, he served as the Chairman of the Standing Parliamentary Committee on Foreign Affairs and but resigned after falling out with Nawaz Sharif on various political issues. He would later ascended to join the Pakistan Movement for Justice led by Imran Khan as the party president. In 2013 elections Hashmi won from both two constituency's he contested from in Islamabad and in Multan from the platform of PTI.[3]

Early career

An agriculturist by profession, Hashmi attended Punjab University where he was part of the student wing of Jamaat-e-Islami and was once accused of murder of a fellow student but was ruled not guilty by court. He took his B.Sc. in Political Science in 1969, followed byM.Sc. in 1971, and M.Phil. in 1973, in the same academic discipline from the same institution. The then Prime Minister Z.A Bhutto offered him to be High Commissioner of Pakistan in United Kingdom(UK)and in return give up agitation against the ruling PPP but he did not budge from his stance.[4] He turned to politics in 1985 and joined hands with Nawaz Sharif — who later became Prime minister.[4] From 1985 till 1988, he was elected to the National Assembly for the terms of 1985 till 1988.[4] From 1990 till 1993, Hashmi was the Minister of State for Youth Affairs, and elected as Parliamentarian for the terms of 1993–1997.[4] From 1997–1999, he served as Federal Minister for Health in Nawaz Sharif's cabinet during his second term. He was alleged for being involved in Mehran Bank Scandal along with other political heavyweights like Nawaz Sharif, Shahbaz Sharif and few more main stream politicians of that time. Allegations on Makhdoom Javed Hashmi were laid by Yousaf Advocate who had an old business conflict with Hashmi family, he alleged Hashmi's involvement in the scandal but Younas Habib who was the main character and distributed all the funds never alleged Makhdoom Javed Hashmi. Makhdoom Javed Hashmi very strongly rejected the allegations and demanded a judicial probe of the scandal involving all the top political leadership of that time. During Musharraf era,PML(Q) was in dire need of MNAs to form a coalition government, so their delegation led by Ch. shujaat went on to see him and offered him to be part of PML(Q)but Hashmi Refused to support Pervez Musharraf. For this act he had to suffer the wrath of the then president Gen. Musharraf and he remained behind the bars for 5 years. During prison days he wrote two books about his political struggle which are named as "HAAN MEIN BAGHI HUN"(yes,I am a rebel)& "TAKHTAEY E DAAR K SAAEY TALAY". .He served in united nations for some times as well.[4] These days he is serving as President Pakistan Tehreek e Insaf. Hashmi is one of the politicians in Pakistan who have never lost in an elections.

Arrest

ON 29 October 2003, he was arrested from Parliament Building on charges of inciting mutiny made by General Pervez Musharraf.[5] Earlier, in a press conference on 20 October 2003, he had read a letter that he received in mail, signed anonymously by some active military officers at Pakistan Army's Combatant Headquarter, known as The Generals Headquarter (GHQ), calling for an investigation into the corruption in the armed forces and criticizing the President and Chief of Army Staff General Pervez Musharraf, and his relationship with the American President George W. Bush.[5] His trial was held in the central Adiala Jail instead of a district and sessions court at the Lahore High Court, which raised doubts among human rights groups about its fairness.[5] On 12 April 2004, he was sentenced to 23 years in prison for inciting mutiny in the army, forgery, and defamation.[5]

The verdict has widely been considered as a willful miscarriage of justice by the General Pervez Musharraf's Government. All opposition parties in Pakistan, including Pakistan Peoples Party of the former Prime Minister Benazir Bhutto and six party-alliance Muttahida Majlis-e-Amal (MMA), regarded the verdict to be politically motivated by the ruling junta with malicious intent, declaring him to be a political prisoner.[5] In imprisonment he also wrote two books titled as "Haan, Main Baaghi Hoon!" (Yes, I am a 'Rebel!') and "takhta daar ke saaye tale" (Under the shadow of Hanging board). His book, "Yes, I am a 'Rebel'!", Hashmi clearly stated that he was jailed because he demanded a commission to be formed to investigate the Kargil issue, the restoration of democracy and opposed the Army’s role in politics, and Pakistan's geostrategy policy in central Asia and Europe.[5]

On 3 August 2007, a three-member bench of the Supreme Court of Pakistan under Chief Justice Iftikhar Chaudhry granted him bail after serving approximately three and a half years in prison.[5] Javed Hashmi was released from the Central Jail Kotlakhpat in Lahore on 4 August 2007.[5]

He was again placed under arrest at the declaration of a state of emergency on 3 November 2007[6]
2008 elections

It is believed that Hashmi was personally asked by party chairman Nawaz Sharif to contest from Rawalpindi for the National Assembly seat, where Sheikh Rasheed Ahmed of the PML[Q] was undefeated since 1988. Makhdoom Javed Hashmi as a result won three National Assembly seats, one from Rawalpindi, one from Punjab Capital Lahore and one from his hometown Multan. Hashmi beat PML-Q's political stalwart Sheikh Rasheed Ahmed in Rawalpindi. They finished second behind the PPP and made a coalition with its one time fierce rivals.

After 2008 elections

Despite winning 3 seats, Hashmi refused to take oath from President Musharraf and thus did not get a place in the federal cabinet. Hashmi was one of the few people who decided not to take oath as it was against his principle. Hashmi is the senior vice president of the party and is always seen in important meeting between the PML(N) and PPP. Hashmi is considered a political heavyweight and is well respected throughout Pakistan. He is seen many times representing the views of his party the PML-N on various talk shows. It was widely reported that in the by-elections, Hashmi supported an independent candidate who was running against Makhdoom Mureed Hussain Qureshi, brother of Hashmi's old rival Makhdoom Shah Mehmood Qureshi. After Mureed Qureshi lost, many people including Mureed Hussain widely condemned the behaviour of Hashmi and said that they will report the incident to the chief of the Peoples Party, Asif Zardari. Hashmi is a strong supporter of the judges who have been sacked and it is said that Hashmi is one of the few people in the PML-N who are trying to convince the senior leadership of the PML-N to stop supporting the PPP as they believe the PPP is not serious and sincere when they say that they will restore the judges.

Kerry-Lugar Bill

Javed Hashmi released a very strong reaction on Inter Services Public Relations press release on Kerry-Luger bill.[citation needed] Terming Kerry-Lugar bill an interference on part of US in Pakistani security agencies' affairs, he said that if there is anything that needs to be corrected, Pakistan will do it herself. Besides he also commented on Pakistan Army's response to the bill saying "Pak Army should stay within its limits,... We will protect our Army if it ensures playing the role assigned to it."[7]
Resignation from Parliament (2011)

On 7 May 2011 Hashmi submitted his resignation from Parliament, claiming that is a dummy and not passing real legislation, his resignation has yet to be accepted by Chaudhary Nisar Ali Khan the leader of Pakistan Parliamentary affairs.[8]
Hospitalization

In July 20, 2010, Hashmi was hospitalized at Nishtar Hospital after he suffered Brain Hemorrhage, and his body also suffered stroke due to internal bleeding.[9] He was later admitted at the Lahore General Hospital Dr. Tariq Salahuddin, principal of the Lahore General Hospital.[10] Dr. Tariq Salahuddin briefed the media and Hashmi’s CT Angiography reports came out normal.[10]

Pakistan Tehreek-e-Insaf

Javed Hashmi joined Pakistan Tehreek-e-Insaf on December 24, 2011 saying that he has made no deal with Imran Khan and has become a member because Imran Khan has an agenda of a change, but analysts say that various reasons caused this act, like Nawaz Sharif refused to make Hashmi the leader of opposition, refused to let Hashmi run for President as Nawaz did not want the PML(Q)'s vote for Hashmi and the PML(N) did not give Hashmi's son-in-law, Zahid Hashmi a ticket for the elections.[11] While addressing a mega political rally at the tomb of Quaid-e-Azam in Karachi on December 25, 2011 He said, "The youth of today have to move forward,Karachi is mini Pakistan. It represents all shades of the peoples of Pakistan." Quoting Quaid-e-Azam he said, "Minorities are our blood." Hashmi straight forwardly addressed to PTI Chairman Imran Khan, "Yes, I'm a rebel (Baghi); you invited a rebel to join PTI, Now if you have not delivered as per your manifesto I will be first person to rebel against your Party” He has a very famous chant to his name in the Pakistan Tehreek-e-Insaf, "baghi hun main", I'm a rebel Hashmi and his daughter Memoona Hashmi resigned from National assembly of Pakistan on December 29, 2011.[12]

Javed Hashmi dared Pakistan Muslim League (Nawaz) leader Nawaz Sharif to field his man against Shaikh Rashid in the next elections despite knowing that he too defeated Sheikh Rasheed on the PML(N)'s ticket and Sheikh Rasheed had been defeated by two other PMLN candidates as well.[13]

اسلام آباد میدان جنگ بن گیا

 



 







Clashes as PTI 'Azadi' March Advances on Islamabad ...

Pakistani opposition supporters carry a wounded protester following clashes with security forces near the prime minister's residence in Islamabad. Police in Pakistan's capital Islamabad fired tear gas on anti-government protesters attempting to storm Prime Minister Nawaz Sharif's official residence in a bid to force his resignation. — AFP PHOTO



پاکستان کا سیاسی عدم استحکام اور جرنیلوں کا کھیل – - شاہنواز فاروقی......


پاکستان کی سیاست کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ قومی تاریخ کے آدھے حصے میں جرنیلوں نے براہِ راست حکومت کی ہے اور باقی عرصے میں وہ پردے کے پیچھے کھڑے ہوکر ڈوریاں ہلاتے رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ڈوریاں ہلانے کا کام کبھی غلام اسحق خان نے انجام دیا ہے، کبھی فاروق احمد خان لغاری نے۔ عام خیال یہ ہے کہ اِن دنوں یہ کام عمران خان اور طاہر القادری نے سنبھالا ہوا ہے۔ لیکن اس دعوے کی شہادت کیا ہے؟

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میاں نوازشریف نے گزشتہ سوا سال میں اس طرح حکومت کی ہے کہ لفظ ’’حکومت‘‘ منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ میاں صاحب کے پاس بھاری مینڈیٹ ہے اور بھاری مینڈیٹ میاں صاحب پر بھاری ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، مگر اس بھاری مینڈیٹ نے میاں صاحب کو ذمے دار بنانے کے بجائے غیر ذمے دار بنادیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اس طرح معاملات کرنے کی کوشش کی جیسے پاک بھارت تعلقات میاں صاحب کا گھریلو مسئلہ ہو۔ ان کے نزدیک پارلیمنٹ کی یہ قدروقیمت ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس طرح آتے ہیں جیسے نئی نویلی دلہن منہ دکھانے کے لیے حاضر ہو۔ انہوں نے اقتدار میں اپنے عزیزوں، رشتے داروں کو اتنا دخیل کرلیا ہے کہ ملک میں خاندانی حکومت کا تاثر گہرا ہوگیا ہے۔ لوگ شکایت کررہے ہیں کہ اگرچہ میاں صاحب پورے ملک کے وزیراعظم ہیں مگر ان کی توجہ پنجاب پر مرکوز ہے۔ میاں صاحب نے قرضوں سے قوم کی جان چھڑانے کا اعلان کیا تھا مگر انہوں نے ملک و قوم پر قرضوں کا نیا بوجھ لاد دیا ہے۔ کراچی اور بلوچستان کی بدامنی جوں کی توں ہے۔ میاں صاحب نے فوجی آپریشن کی پہلے مزاحمت کی اور پھر اس طرح ہتھیار ڈال دیے جیسے کرنے کا اصل کام فوجی آپریشن ہی تھا۔ انہوں نے عمران خان کے انتخابی دھاندلی سے متعلق اعتراضات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور قیمتی وقت ضائع کرتے چلے گئے۔

 لیکن اس کے باوجود میاں صاحب کی حکومت اور ملک کا جمہوری نظام اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کے خلاف سازش کی جائے اور ملک و قوم کو تماشا بنایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ملک کے سیاسی عدم استحکام کی پشت پر جرنیلوں کا کھیل پوری طرح نمایاں ہوکر سامنے آگیا ہے۔ اس کھیل کی شہادتیں قومی اخبارات کے صفحات پر بکھری پڑی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عمران خان کے آزادی اور طاہرالقادری کے انقلاب مارچ کے دوران پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے تین چار ملاقاتیں کی ہیں۔ اگرچہ ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن ان ملاقاتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اس بحران میں آرمی چیف اور فوج ایک فریق بن کر ابھرے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو سیاسی معاملات میں جنرل راحیل سے کسی حکومتی اہلکار کی ملاقات کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مگر اس بات کا مفہوم کیا ہے؟ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فوج حکومت سے بڑی قوت کے طور پر موجود نہ ہوتی تو شہبازشریف اور چودھری نثار آرمی چیف سے ملاقات نہ کرتے… اور اگر آرمی چیف غیر سیاسی ہوتے تو وہ خود حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیتے۔ اس سلسلے میں 20 اگست کے روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے جنرل راحیل کے ساتھ ملاقات میں شکایت کی ہے کہ ہم تو پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں مگر یہ دونوں جماعتیں حکومت سے مذاکرات پر آمادہ نہیں ہیں۔ میاں نوازشریف کی بات غلط نہیں، مگر اُن کے بیان میں کم ازکم تین نکات ایسے ہیں جنہیں شرمناک کہا جاسکتا ہے۔ میاں صاحب کے بیان سے ایک بات تو یہ ظاہر ہے کہ وہ جنرل راحیل کو خود سے بالاتر تسلیم کررہے ہیں۔

 میاں صاحب کے بیان کا دوسرا شرمناک نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے جنرل راحیل سے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کی شکایت اس طرح کی ہے جیسے یہ دونوں جنرل راحیل کی جماعتیں ہوں۔ میاں نوازشریف کے بیان کا تیسرا شرمناک نکتہ یہ ہے کہ ملک کے انتظامی سربراہ یا چیف ایگزیکٹو نے آرمی چیف کے سامنے خود کو غیر مؤثر تسلیم کرلیا اور گویا اس بات کی غیر اعلان شدہ خواہش کی کہ آپ ہماری مدد کرسکتے ہیں تو کریں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ ہر اعتبار سے ایک شرمناک اعلان ہے اور اس اعلان میں بھاری مینڈیٹ بھاری بوٹوں کو چومتا نظرآرہا ہے۔ 20 اگست کے اخبارات میں وزیرداخلہ چودھری نثار کا بیان بھی شائع ہوا ہے، اس بیان میں چودھری نثار نے یہ کہنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ دھرنوں کے کھیل میں فوج شریک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کھیل کے پیچھے ’’کوئی اور‘‘ تو ہوسکتا ہے مگر فوج نہیں۔ لیکن چودھری نثار نے ’’کوئی اور‘‘ کا تشخص واضح نہیں کیا۔ یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر اس کھیل کی پشت پر فوج نہیں ہے تو چودھری نثار کو یہ بات کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ لیکن یہ تماشا صرف میاں نوازشریف اور چودھری نثار کے بیانات تک محدود نہیں۔

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ ریڈ زون میں موجود عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور پاک فوج ان کا دفاع کررہی ہے۔ فوج کے ترجمان نے دوسری بات یہ کہی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مسئلے کے حل کے لیے معنی خیز مذاکرات کریں۔ یہ ایک سامنے کی حقیقت ہے کہ عمران خان اور طاہرالقاردی کے دھرنے ایک سیاسی معاملہ ہیں اور فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے، مگر اس کے باوجود پاک فوج کے ترجمان نے سیاسی معاملے میں مداخلت کی ہے۔ اس مداخلت کا ایک پہلو یہ ہے کہ فوج کے ترجمان نے دھرنوں کے شرکا کو یاد دلایا ہے کہ فوج جن عمارتوں کی حفاظت کررہی ہے ان کی طرف آنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں فوج کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا اور اگر فوج کچھ نہیں کرے گی تو اس کا کچھ اور مطلب لیا جائے گا۔ فوج کے ترجمان نے اپنے بیان کے اس نکتے کے ذریعے یہ بھی بتادیا کہ ریاست کی علامتوں کی حفاظت صرف فوج کرسکتی ہے۔ لیکن میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیان کا زیادہ قابل اعتراض نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے غیر سیاسی ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی تلقین کی ہے۔

 سوال یہ ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ انہیں یہ کہنے کا حق کہاں سے حاصل ہوا؟ ملک کا آئین تو انہیں ہرگز بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ویسے دیکھا جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ جرنیلوں کے پاس طاقت ہے اور انہیں سیاسی عمل میں مداخلت کے لیے کسی آئینی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب جبکہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے متحارب سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی تلقین کردی ہے تو وہ مذاکرات کی شرائط کا اعلان بھی کردیں۔ یہ مذاکرات اگر جی ایچ کیو میں ہوجائیں تو یقینا ان کی قدروقیمت بڑھ جائے گی۔ اتفاق سے 19 اگست کی رات کو جب پاک فوج کے ترجمان کا مذکورہ بیان جاری ہوا تو ایک ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے نے طاہرالقادری کے ساتھ گفتگو میں اس بیان کا ذکر کیا۔ طاہرالقادری نے بیان کا پہلا نکتہ سنا تو کہا کہ یہ نکتہ Positiveہے۔ انہیں بیان کے دوسرے نکتے سے مطلع کیا گیا تو اسے بھی قادری صاحب نے Positive قرار دیا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر خیال آیا کہ ’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن ملک کے سیاسی عدم استحکام کی پشت پر جرنیلوں کے کھیل کا قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔20 اگست کے روزنامہ جنگ میں سابقہ فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین کے لیگل فورم کی جانب سے ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ ناکام ہوچکی ہیں چنانچہ اسمبلیاں تحلیل کی جائیں اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔

 بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ ایکس سروس مین سوسائٹی سابقہ فوجیوں کی تنظیم ہے اور اسے خود کو ریٹائرڈ فوجیوں کے معاملات تک محدود رکھنا چاہیے، لیکن ایک سیاسی بحران میں سابق فوجیوں کی تنظیم کا قانونی حصہ بھی پوری قوت سے بولا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس نے صرف حکومت کو ناکام قرار نہیں دیا بلکہ پارلیمنٹ کو بھی ناکام باور کرایا ہے۔ عمران خان کے بعد سابقہ فوجیوں کی تنظیم کا لیگل فورم مڈٹرم انتخابات کے حق میں بلند ہونے والی دوسری آواز ہے۔ اس کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ عمران خان اور ایکس سروس مین سوسائٹی کا لیگل فورم ایک ہی طرح سوچ رہے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جامعہ حفصہ نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا تو جنرل پرویزمشرف نے جامعہ میں سینکڑوں طلبہ و طالبات کو خون میں نہلا دیا، حالانکہ غازی برادران مذاکرات پر آمادہ تھے۔ وزیرستان میں ریاست کی رٹ چیلنج ہوئی تو طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرایا گیا حالانکہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے۔ لیکن لاہور اور اسلام آباد میں دس روز سے ریاست کی رٹ کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور فوج کا ترجمان کہہ رہا ہے کہ ہم اسلام آباد میں عمارتوں کی حفاظت کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قوم یہ منظر بھی دیکھ رہی ہے کہ ملک کا وزیراعظم آرمی چیف سے شکایت کررہا ہے کہ ہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر پی ٹی آئی اور پی اے ٹی مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ معلوم نہیں آرمی چیف نے اس کے جواب میں وزیراعظم سے کیا کہا۔

 تاہم فوج کے ترجمان نے سیاسی قوتوں کو مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔ اس صورت حال کا لب لباب عیاں ہے، میاں نوازشریف کی حکومت جاتی ہے تو بھی فوج کی بالادستی یقینی ہے اور اگر ان کی حکومت نہیں جاتی تو بھی فوج کی بالادستی کو دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورت حال نے یقینی بنادیا ہے۔ البتہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر فوج اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تو اس سے کوئی ’’اتاترک‘‘ برآمد ہوتا ہے یا نہیں؟

شاہنواز فاروقی

Results of Current Political Crisis in Pakistan by Ishtiaq Baig

 

Results of Current Political Crisis in Pakistan by Ishtiaq Baig

نواز شریف کا استعفیٰ؟......

Nawaz Sharif Resignation

سول نافرمانی ملکی مفاد میں نہیں......


اسلام آباد میں نواز حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنے کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے اعلان نے ہر محب وطن پاکستانی کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اپنی زندگی کے اہم ترین خطاب میں عمران خان نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی مہم شروع کریں اور جب تک وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے، وہ نہ ہی ٹیکس دیں اور نہ ہی بجلی اور گیس کے بل ادا کریں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کے شرکاء کے ہمراہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی دھمکی بھی دی ہے۔

عمران خان کے مذکورہ بیان اور دھمکیوں نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جبکہ محب وطن شہریوں، تاجروں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشنز اور کئی چیمبرز نے سول نافرمانی کے اعلان کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر زکریا عثمان نے عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری ٹیکس نہ دینے کی عمران خان کی اپیل مسترد کرتی ہے۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف جس میں اسد عمر جیسے معاشی ماہرین بھی شامل ہیں، نے عمران خان کو سول نافرمانی کی تجویز کس طرح دی جبکہ اس سے بڑھ کر حیرانگی اس بات پر ہے کہ عمران خان نے سول نافرمانی کو تحریک انصاف کی پالیسی کا حصہ بناکر اس کا اعلان کر ڈالا۔

پاکستان جہاں پہلے ہی لوگوں کا انکم ٹیکس کی ادائیگی کے معاملے میں ریکارڈ کچھ بہتر نہیں، ایسے میں عمران خان کا ٹیکس کی ادائیگی سے روکنا ملکی معیشت کی تباہی کے مترادف ہے۔ ملک کی 18 کروڑ کی آبادی میں تقریباً 17 لاکھ افراد انکم ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں جو خطے میں سب سے کم اور آبادی کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ عید کی چھٹیوں، لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کے دوران ملکی معیشت کو اب تک 500 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال حالیہ مہینوں میں ملکی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث ایک ہفتے کے دوران حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے اسٹاک مارکیٹ کو تقریباً 350 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے، حکومت جو یورو بانڈز کی کامیاب لانچنگ کے بعد ستمبر میں عالمی مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر کے اسلامک سکوک بانڈز کا اجراء کرنا چاہتی تھی، موجودہ صورتحال میں ایسا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے جبکہ قرضوں کی واپس ادائیگی سے عمران خان کے انکار کے بیان کے بعد آئی ایم ایف نے اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ عمران خان نے اگر سول نافرمانی کی تحریک چلائی تو اس سے خیبر پختونخوا جہاں عمران خان کی جماعت برسراقتدار ہے، سب سے زیادہ متاثر ہو گا کیونکہ صوبوں کے یومیہ اور سالانہ ترقیاتی اخراجات کا 90 فیصد وفاق سے آتا ہے جبکہ دوسرے صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا حکومت کا انحصار بھی وفاقی حکومت کے دیئے گئے فنڈز پر ہے۔
سول نافرمانی کی تحریک حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف تصور کی جاتی ہے۔ یہ تحریک عموماً غیر ملکی قابضین کے خلاف چلائی جاتی ہے جبکہ پاکستان کسی ملک کی نوآبادیاتی نہیں بلکہ ایک آزاد و خود مختار ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے، اس طرح موجودہ صورتحال میں پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

پاکستان کی تاریخ میں 4 مرتبہ مارشل لا لگ چکا ہے مگر اُس دور میں بھی کسی سیاستدان نے عوام کو سول نافرمانی پر نہیں اکسایا۔ برصغیر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تقسیم ہند سے قبل 1930ء میں گاندھی نے برطانوی راج کے خلاف احمد آباد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کیا تھا جس میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی رائے شامل نہ تھی جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سول نافرمانی کی تحریک اُس وقت چلائی گئی جب 70ء کے الیکشن میں حکومت نے شیخ مجیب الرحمٰن کے ملکی مفادات کے خلاف پیش کئے گئے نکات ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے عوام کو سول نافرمانی پر اکسایا اور بالآخر پاکستان اپنے مشرقی بازو سے محروم ہو گیا۔

دور حاضر میں کسی ملک کو تباہ کرنے کے لئے جنگ کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر کسی ملک کی معیشت تباہ کردی جائے تو دشمن کو اپنے اہداف حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض بین الاقوامی قوتیں مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیاء میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے پاکستان میں سیاسی انتشار کو ہوا دینا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم اور معاشی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ ان حالات میں ہم دھرنے اور سول نافرمانی کی سیاست کرکے کہیں ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں تو نہیں کھیل رہے؟ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہم دنیا کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر حکومت و مخالفین کو چاہئے کہ وہ اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں، حکومت مخالفین کو غیر جمہوری طریقہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے ان کے جائز مطالبات جن میں کچھ حلقوں میں دوبارہ گنتی، انتخابی عمل میں اصلاحات، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور نادرا میں غیر جانبدار شخص کی تقرری شامل ہیں، پر سنجیدگی سے غور اور اُن سے گفت و شنید کرے جبکہ عمران خان اور طاہر القادری کو بھی چاہئے کہ وہ وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنانے، وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور اسمبلیاں ختم کرنے جیسے غیر جمہوری مطالبے واپس لیں کیونکہ اگر دھرنوں اور سول نافرمانی کی سیاست شروع ہوگئی تو کل کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت چند ہزار افراد کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کا گھیرائو کر کے صدر، وزیراعظم یا آرمی چیف سے استعفے کا مطالبہ کر سکتی ہے جو کسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔

پاکستان اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث ہماری توجہ دہشت گردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ سے ہٹ گئی ہے اور آپریشن میں کامیابی کی خبریں لانگ مارچ تلے دب کر رہ گئی ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر حکومت پسپائی اختیار کرتی ہے تو یہ ایک غلط روایت ہوگی لیکن اگر حکومت نے مخالفین کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا تو ریڈ زون میں خون خرابہ ہو سکتا ہے جس سے جمہوری نظام کے لپیٹے جانے کا شدید خطرہ ہے اور اس کا تمام تر فائدہ غیر جمہوری قوتوں اور ملک دشمن عناصر کو پہنچے گا لہٰذا ملک کے عظیم تر مفاد میں بہتر یہی ہے کہ حکومت، مخالفین کو ’’فیس سیونگ‘‘ فراہم کرے تاکہ جمہوریت ڈی ریل نہ ہوسکے کیونکہ تشدد کی سیاست سے پاکستان کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور اس میں حکومت کا نقصان کم جبکہ پاکستان کا زیادہ ہوگا۔

اشتیاق بیگ
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ