Suiside Attack on Education


 Suicide Attack on Education

Pakistan is suffering from political confusion By Saleem Safi


 Pakistan is suffering from political confusion By Saleem Safi

Enhanced by Zemanta

یہ یرموک کیمپ ہے،مکین کو یاد نہیں آخری کھانا کب کھایا تھا

 


شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک تک انسانی امداد بہہنچانے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں وہاں بھوک اور ننگ نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور اس کیمپ کے ایک مکین کو تو یہ تک یاد نہیں رہا کہ اس نے آخری مرتبہ کب کھانا کھایا تھا۔

شامی فورسز کے محاصرے کا شکار یرموک کیمپ میں بھوک سے متاثرہ ایک شخص کی ویڈیو اسی ہفتے منظرعام پر آئی ہے۔مسلسل بھوک کی وجہ سے اس کی ہڈیاں نکل آئی ہیں۔یہ فوٹیج صرف ستائیس سیکنڈز کی ہے لیکن اس سے فلسطینی مہاجر کیمپ کے مکینوں کو درپیش مصائب اور مشکلات کی سنگینی کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

اس شخص سے کیمرے والا سوال کرتا ہے کہ اس نے آخری مرتبہ کب کھانا کھایا تھا تو وہ مختصر جواب دیتا ہے:''وہ اس کو یاد نہیں کرسکتا''۔بھوک کا شکار فلسطینیوں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے کے بعد دنیا حیرت زدہ رہ گئی ہے کہ کس طرح شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران فلسطینی مہاجرین کو جیتے جی بھوک سے مارا جارہا ہے۔خواتین اور بچے خاص طور پر کم خوراکی کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جارہے ہیں۔

شامی کارکنان نے جنیوا میں جاری امن مذاکرات میں شریک حزب اختلاف کے وفد سے کہا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو دوسری تصاویر کے ساتھ عالمی رہ نماؤں کو دکھائے۔واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے گذشتہ کئی ماہ سے یرموک کیمپ کا محاصرہ کررکھا ہے۔اس کیمپ میں قریباً پینتالیس ہزار افراد رہ رہے ہیں لیکن انھیں خوراک اور ادویہ تک رسائی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی کارکنان نے اسی ہفتے یرموک کے مکینوں تک خوراک کے چار سو کارٹن پہنچانے کے لیے فوج سے مذاکرات کیے تھے لیکن وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہے تھے۔ان امدادی کارکنان کے مطابق شامی فوجیوں نے کیمپ کے اندر امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں دی تھی کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ سامان باغی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔


Yarmouk camp resident 'can't remember' last time he ate

Enhanced by Zemanta

Reality of Jamat-e-Islami


 
Reality of Jamat-e-Islami
Enhanced by Zemanta

Waziristan Operation


Waziristan Operation
Enhanced by Zemanta

مولانا سمیع الحق کا ’’مذاکراتی مشن‘‘

 

مولانا سمیع الحق نے طالبان کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے تو مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے دیا تھا لیکن وزیر اعظم نوازشریف نے مولانا کو ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا جس سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ دوسری طرف طالبان سے مذاکرات کے زبردست حامی اور کسی بھی نوع کے فوجی آپریشن کے شدید مخالف عمران خان نے کہا ہے کہ ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ طالبان کے خلاف آپریشن کا کوئی فیصلہ ہوچکا ہے تو ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔ بیانات کی ان پھلجڑیوں کے دوران دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز پولیس اہلکاروں سمیت چودہ افراد اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

مولانا سمیع الحق کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک ملاقات تو ضرور ہوئی لیکن ’’ملاقات‘‘ کے اس عنوان کے تحت رقم ہونے والی ساری داستان صرف مولانا ہی کے کنج لب سے پھوٹی۔ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حضرت کو کوئی خصوصی مشن سونپا گیا ہے تاہم مولانا نے ملاقات کے فوراً بعد اخباری نمائندوں کو آگاہ کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ تراشنے پر مامور ہوئے ہیں۔ حکومت نے اس کی تردید نہ کی۔ حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمٰن نے اسے اپنی سبکی خیال کیا کیوں کہ طالبان کے حوالے سے وہ خود کو زیادہ موثر خیال کرتے ہیں۔ اگلے ہی دن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کرکے صورت حال کی وضاحت کردی۔

مولانا سمیع الحق کی وزیر اعظم سے ملاقات 31؍ دسمبر کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کو نہیں بتایا کہ طالبان کے کم و بیش پینسٹھ گروپس میں سے ان کی ملاقات کن لوگوں سے ہوئی؟رابطے کے دوران طالبان نے مذاکرات کے لئے کیا پیشگی شرائط عائد کیں؟ باضابطہ مذاکراتی عمل کے لئے حکومت سے کیا مطالبہ کیا جارہا تھا؟ اس طرح کے مشن عام طور پر خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والا شخص اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ٹھوس پیشرفت سے پہلے بات گلی محلوں کا موضوع نہ بنے۔ مولانا نے اس احتیاط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا۔ فوری طور پر پورے جلال و جمال کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئے اور قوم کو مژدہ سنایا کہ اس سنگین بحران کے حل کے لئے بالآخر وزیراعظم کی نگاہ انتخاب ان پر پڑی ہے اور اب وہ تیشہ ٔفرہاد لے کر جوئے شیر بہا لانے کو نکل رہے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ سیاست ، رقابت کا کھیل ہے۔ سیاسی اہداف و مقاصد رکھنے والا علماء کے درمیان ہم آہنگی کم کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ ان کی انا خاصی سخت جان ہوتی ہے۔ اسی انا نے جمعیت علمائے اسلام کے کئی ٹکڑے کر رکھے ہیں۔ مولانا کے حصے کی جمعیت ان کے نام کی مناسبت سے جمعیت علمائے (س) کہلاتی ہے۔ اگر حضرت کو واقعی یہ اہم مشن سونپا گیا تھا اور وہ خلوص دل کے ساتھ کوئی خدمت بجا لانا چاہتے تھے تو شرط اول یہی تھی کہ وہ میڈیا کی چکاچوند سے دور، ذوق تصویر و تشہیر سے بے نیاز ہو کر اللہ کی خوشنودی، پاکستان کی سلامتی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اس کارخیر میں لگ جاتے۔ دنیا کو خبر اس وقت ہوتی جب اس گھنے جنگل سے کوئی راستہ تلاش کرلیا جاتا، سنجیدہ مذاکرات کی بساط بچھ جاتی اور دلوں میں امید ویقین کے چراغ روشن ہوجاتے۔ تب میڈیا تحقیق کرتا اور پوری قوم سراغ لگاتی کہ یہ کارنامہ کس مرد کار کے ہنر کا اعجاز ہے۔کھوج لگانے والوں کے قدم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی دہلیز تک پہنچتے۔ وہ سب حضرت کے حجرۂ خاص کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور حضرت سرجھکا کر شرمائے لجائے انداز میں کہتے… اس میں میرا کوئی کمال نہیں ، سب اللہ کا کرم ہے‘‘۔ لیکن سیاست خود نمائی اور چہرہ کشائی مانگتی ہے۔ سو مولانا نے جوئے شیر کیلئے سنگلاخ پہاڑوں پہ پہلی کدال چلانے سے پہلے قوم کو آگاہ کرنا ضروری سمجھا کہ انہیں وزیراعظم نے شرف ملاقات عطا کیا ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کارمحال ان کے کندھوں پہ ڈال دیا گیا ہے۔

31؍ دسمبر 2013ء سے ، دستکش ہونے کے دن 22؍جنوری 2014ء تک کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ مولانا کی مصروفیات کیا رہیں۔ وہ اکوڑہ خٹک کے حجرہ عالی سے کتنی بار نکلے، کہاں کہاں کا سفر کیا، کس کس سے ملاقات کی اور کتنی برف پگھلانے میں کامیاب ہوئے۔ تین ہفتوں کے دوران مولانا نے طالبان سے کوئی اپیل نہ کی کہ چونکہ معاملات کے سدھار کی ذمہ داری اب ان کے کندھوں پہ ڈال دی گئی ہے لہٰذا وہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کریں جو امن کی خواہش پر منفی اثرات ڈالے۔ جنوری کے تین ہفتوں کے دوران دہشت گردی کی ایک زبردست لہر اٹھی۔ بنوں اور راولپنڈی کی وارداتوں نے قوم کو ہلا کے رکھ دیا۔ امن اور خیرسگالی کا پیامبر ہونے کے ناتے مولانا کو چاہئے تھا کہ ان وارداتوں کی کھل کر مذمت کرتے۔ طالبان سے مخاطب ہوکر کہتے کہ ’’میرے بچو! یہ تم کیا کررہے ہو، اب امن کا سفید پرچم میرے ہاتھ میں ہے۔ میری لاج رکھو اور مذاکراتی عمل کو مخلصانہ کوششوں کو سبوتاژ نہ کرو‘‘۔وزیراعظم کی طرف سے ملاقات کا وقت نہ ملنے پر تو وہ اتنے برہم ہوئے کہ مذاکراتی مشن ہی سے دستکش ہوگئے لیکن دہشت گردی کی پے درپے وارداتوں کو انہوں نے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا اور اظہار خفگی تک نہ کیا۔ اصولاً تو ان ہلاکت آفریں وارداتوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں طالبان سے کہنا چاہئے تھا کہ اگر تم لوگ اپنا ہاتھ نہیں روک سکتے تو میں اس مشن سے دستبردار ہورہا ہوں۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ وزیراعظم کا ملاقات کیلئے وقت نہ نکالنا (بقول مولانا سمیع الحق) ان سنگین وارداتوں سے بھی بڑا گناہ نکلا جو چند دنوں میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت تقریباً ڈیڑھ سو افراد کا لہو پی گئیں۔

مولانا نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے حوالے سے کیا ایسی ٹھوس پیشرفت ہوئی تھی جسے وہ اپنی کامیابی سے تعبیر کررہے ہیں؟ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش پر مبنی عمومی بیانات ایک عرصے سے آرہے ہیں۔ جس دن بنوں کا المیہ پش آیا، اس دن بھی طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد اور اعظم طارق کے انٹرویوز کے اقتباسات جاری ہوئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ’’ہم نے باوقار، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے نہ پہلے کبھی انکار کیا تھا اور نہ اس مذاکراتی عمل کی افادیت سے مستقبل میں انکار کرتے ہیں‘‘۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان نیک خواہشات کے اظہار کے باوجود بموں کے دھماکے، خودکش حملے اور ہلاکت آفریں کارروائیاں جاری ہیں، جن کی ذمہ داری بھی قبول کی جارہی ہے۔

دہشت گردی کی بہت بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آن پہنچا ہے جس میں قوم کو اپنے عزم راسخ کا اظہار کرنا ہوگا۔ عمران خان نے درست کہا کہ اگر آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ ان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ قوم اپنی فوج کے ساتھ ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا یہی ہے کہ کم از کم دہشت گردی کے معاملے کو سیاست یا شخصی مفاد کی آنکھ سے نہ دیکھا جائے۔ اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن کا امتیاز بھی ختم ہو جانا چاہئے۔ فوج سے مشاورت کے بعد حکومت اگر کسی نتیجے پر پہنچتی ہے تو اسے کم از کم ان بڑی جماعتوں کو ضرور اعتماد میں لینا چاہئے جو پارلیمان میں قابل ذکر عوامی نمائندگی رکھتی ہیں۔

اگر یہ مناسب خیال کیا جاتا ہے کہ مذاکراتی عمل کے لئے تمام جماعتوں کے اشتراک سے ایک اور پرعزم کوشش کی جائے تو ٹھیک اور اگر یہ طے پاتا ہے کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے اور مسلسل پھیلتی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے طاقت کا استعمال ہی کارگر آپشن ہے تو اس پر اتفاق رائے کرلینا چاہئے۔ مولانا سمیع الحق سمیت علمائے کرام کو بھی اب نیمے دروں نیمے بروں کی آشوب سے نکل کر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا۔


بشکریہ روزنامہ 'جنگ

Maulana Samiul Haq

Operation Blue Star Golden Temple


مجھے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر ’’بلو اسٹار آپریشن‘‘ کے نام سے کیے جانے والے فوجی حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں بھارتی حکومت کی مدد کی تھی۔ اس آپریشن میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اس کے عسکریت پسند سکھ ساتھیوں کا صفایا کر دیا گیا تھا۔ برطانیہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بھارت کا نو آبادیاتی آقا ہونے کی وجہ سے وہ ہر مشکل گھڑی میں اس کے ساتھ ہے۔ اور زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے لیے برطانوی آرکائیو کی خفیہ دستاویزات کو اب عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جس میں وہ تمام مواد شامل ہے جسے ’’آپریشن بلو اسٹار‘‘ کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کر دیا گیا ہے۔ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے عسکریت پسندوں کے خوف کے باعث اس آپریشن کی منظوری دی تھی جنہوں نے کہ گولڈن ٹمپل کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا تھا۔ اس وقت کی برطانوی وزیراعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے مسز گاندھی کو فوجی امداد کی پیشکش بھی کی تھی تا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل درآمد کر سکیں۔

میں نے یہ نتیجہ اس بنیاد پر اخذ کیا ہے کہ مسز تھیچر اور اندرا گاندھی میں ہر روز ٹیلی فون پر بات ہوتی تھی۔ میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا اور مسز تھیچر نے خود مجھے بتایا کہ وہ مسز گاندھی کے ساتھ برطانیہ اور انڈیا کے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کرتی ہیں، موسم پر بات چیت نہیں کرتیں۔ اس موقع پر سکھ عسکریت پسندوں کا ذکر یقیناً ہوتا ہو گا (ایک دفعہ میں نے مسز تھیچر سے پوچھا کیا وہ وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تو انھوں نے بڑی تنک مزاجی سے جواب دیا کہ وہ ایک مختلف شخص ہے) بہر حال میں بھارتی فضائیہ کی اسپیشل ایڈ سروسز (SAS) کی اس آپریشن میں شمولیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اگر یہ سچ ہوتا تو برطانیہ یا انڈیا کا میڈیا گزشتہ تیس سال میں یقیناً اس کو طشت ازبام کر چکا ہوتا۔ جیسے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل کے ایس برار نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی کلی طور پر بھارتی فورسز نے کی تھی۔ ’’ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ برطانیہ سے کوئی یہاں آیا ہو اور ہمیں بتایا ہو کہ کارروائی کی منصوبہ بندی کس طرح کی جائے‘‘۔ بہر حال سچ کا پتہ اس وقت چل جائے گا جب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے حکم پر کی جانے والی انکوائری مکمل ہو جائے گی۔

وہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ 1984ء میں مسز تھیچر کی حکومت کا اس آپریشن میں کیا کردار تھا، تا کہ اصل حقائق کھل کر سامنے آ سکیں۔ بھارت کے اندر اور بیرون ملک رہنے والے سکھ بہت پریشان ہیں کیونکہ برطانوی حکومت ایسے ظاہر کر رہی ہے جیسے وہ اس آپریشن پر خوش نہیں ہے۔ بے شک مسز گاندھی نے فوج کو گولڈن ٹمپل میں بھیجنے سے قبل بدحواس ہو کر مختلف لوگوں سے ان کی رائے لینے کی کوشش کی تھی کہ آپریشن کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ مسز گاندھی کے ایک مشیر آر کے دھاون میرے پاس بھی آئے تھے تا کہ دربار صاحب میں فوجی دستے داخل کرنے کے سوال پر میرا ردعمل جان سکیں۔ انھوں نے مجھے واضح طور پر بتایا کہ مسز گاندھی نے انھیں میرے پاس بھیجا ہے۔ میں نے کہا میں جانتا ہوں کہ وہ میرے پاس مسز گاندھی کی اجازت کے بغیر نہیں آ سکتے تھے کیونکہ موصوفہ میری تحریروں کی وجہ سے میرے ساتھ کتنی سخت ناراض ہیں۔ میں نے انھیں خبردار کیا کہ گولڈن ٹمپل میں فوج کو بھیجنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ وہ سکھوں کے لیے اتنا ہی مقدس ہے جتنا کہ عیسائیوں کے لیے ویٹی کن۔ میں نے یہ بھی کہا اگر حکومت نے ایسا کر دیا تو سکھ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے اور نہ کبھی فراموش کریں گے کیونکہ یہ ان کے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی ہو گی۔

میرے انتباہ کے باوجود وہ فوجی کارروائی سے باز نہ آئیں۔ گیانی ذیل سنگھ اس زمانے میں ملک کے صدر تھے۔ میری ان سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ وہ مجھے اپنے دل کی بات بتا دیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں گیانی ذیل سنگھ اور اندرا گاندھی میں بہت دوریاں پیدا ہو گئی تھیں۔ اس حد تک کہ مسز گاندھی نے ان کی طرف کوئی سرکاری کاغذ تک نہ بھیجا اور نہ ہی کبھی وزارتی کابینہ کی کارروائی کی رپورٹ بھیجی حالانکہ ایسا کرنا غیر آئینی تھا لیکن موصوفہ آئین کی خلاف ورزی سے قطعاً نہ ہچکچاتی تھیں۔ انھوں نے صدر کا جنوبی افریقہ کا خیرسگالی دورہ بھی منسوخ کر دیا۔ بہر حال صدر کو یہ یقین دہانی ضرور کروائی کہ گولڈن ٹمپل میں فوج کشی نہیں کی جائے گی۔ آئینی طور پر صدر فوج کے سربراہ تھے۔ انھوں نے کئی مرتبہ کہا تھا کہ جس طرح سے اندرا سکھوں کے معاملے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے وہ اسے پسند نہیں کرتے لیکن مسز گاندھی کی یقین دہانی پر کہ گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی صدر گیانی مطمئن ہو گئے۔ اندر کمار گجرال نے وزیر اعظم بننے سے پہلے اکالی سکھوں کے ساتھ افہام و تفہیم پیدا کرنے کی خاطر ایک ’’پنجاب گروپ‘‘ تشکیل دیا تھا جس کا میں خود بھی رکن تھا۔ لیکن اندرا گاندھی کی حکومت نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا۔

اس وقت کے وزیر خزانہ نرسمہا راؤ نے ہمیں دعوت دی کہ اکالی سکھوں کے ساتھ سمجھوتے کے لیے ہماری مدد کریں۔ اس کو یہ احساس نہیں تھا کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ حکومت اس سے پہلے ہی فوجی آپریشن کا فیصلہ کر چکی تھی۔ یہ فوج کے گولڈن ٹمپل میں داخلے سے ایک ہفتہ قبل کی بات ہے۔ اس فوجی آپریشن کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل برار نے مجھے بتایا کہ اس آپریشن کو اس کے وقوع سے دو ہفتے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ یہ آپریشن زیادہ طویل نہ تھا اگرچہ فوج کو ٹینک بھی استعمال کرنے پڑے تھے کیونکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے مزاحمت بہت سخت تھی۔ اس سلسلے میں مسز گاندھی سے مشورہ کیا گیا کیونکہ انھوں نے بطور خاص ٹینک استعمال کرنے کی ممانعت کر دی تھی۔ سکھوں نے اس واقعے پر خوب ہنگامہ کیا۔ دھاون ایک بار پھر میرے گھر مجھ سے یہ پوچھنے کے لیے آئے کہ سکھوں کے غیظ و غضب کو فرو کرنے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے انھیں بتایا کہ ان کے اس آپریشن نے خالصتان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ دھاون بولے کہ مسز گاندھی نے کہا ہے کہ کلدیپ کے پاس ضرور کوئی نہ کوئی حل ہو گا۔ تاہم میری نصیحت یہ تھی کہ فوجی دستوں کو ٹمپل کمپلیکس سے فی الفور نکل جانا چاہیے اور اکالی سکھوں کے تخت کی مرمت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

میں نے انھیں بتایا کہ جہاں تک میں ان لوگوں کو جانتا تھا یہ تباہ شدہ عمارت کی از خود تعمیر نو کر لیں گے اور حکومت کی اس سلسلے میں کوئی اعانت قبول نہیں کریں گے۔ حکومت نے فوجی دستوں کو واپس بلا لیا لیکن اکالی تخت کی مرمت کا کام بھی کروا دیا۔ سکھوں نے حکومت کی طرف سے کی جانے والی تعمیر نو کو مسمار کر دیا اور اکالی تخت کو رضا کاروں کے تعاون سے دوبارہ تعمیر کیا۔ صدر ذیل سنگھ سب سے ناخوش شخص تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے ایک نشرئیے میں صبر و تحمل اور درگزر کی تلقین بھی کی لیکن ساتھ یہ بات واضح کر دیا کہ مسز گاندھی کی حکومت نے سکھ کمیونٹی کا ناقابل تلافی نقصان کیا ہے اور ان کے جذبات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ وہ انڈین ائر لائن کے طیارے میں بیٹھ کر امرتسر پہنچے کیونکہ وی آئی پی طیارہ مسز گاندھی کے استعمال میں تھا۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ آیا انھوں نے حکومت کے اس اقدام کی تحریری طور پر مذمت کی تھی یا اپنی بے بسی اور توہین کی کہانی کسی کو سنائی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسز اندرا گاندھی کو بھنڈرانوالہ کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے کوئی اور طریقہ تلاش کرنا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی طرف سے سکھ کمیونٹی سے معذرت کرنا اس برادری کے لیے کافی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ [ترجمہ:مظہر منہاس]


بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس

Operation Blue Star Golden Temple Golden Temple'