Irfan Siddiqui


Irfan Siddiqui is the Urdu columnist, known to be the great supporter of former prime minister of Pakistan, Nawaz Sharif. He started writing his columns on Nawaiwaqt[1]. In July 2008, Irfan Siddiqui left Nawaiwaqt and joined Jang[2]. He has been found criticizing Pervez Musharraf and his regime in Pakistan, very bluntly. He was also unhappy with the late Benazir Bhutto and her Pakistan Peoples Party, and wrote the same in the columns. He is currently serving the Jang group of newspapers.
Enhanced by Zemanta

Rustam Shah Mohmand


Rustam Shah Mohmand is senior Pakistani diplomat, political scientist and a politician who specialises in Afghanistan and Central Asian affairs. He has served as Pakistan's Ambassador to Afghanistan, Interior Secretary of Pakistan and has held position of Chief Commissioner Refugees for around ten years. He is also the central leader of Pakistan Tehreek-e-Insaf and member of the Khyber Pakhtunkhwa Advisory committee headed by Imran Khan which advises the provincial government on development and planning.[1] [2] He graduated in civil engineering and humanities and then joined the civil service of Pakistan.[3][4][5]
Enhanced by Zemanta

Protection of Pakistan Ordinance and Balochistan



جاسوسی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کی رہائی کیلئے دنیا کی تاریخ میں ایک بڑا لانگ مارچ کوئٹہ سے اسلام آباد دو ہزار میل مسافت پا پیادہ طے کرنے والے ماما قدیر اور ان کے ساتھی مرد و خواتین کے منہ پر موجودہ نواز شریف حکومت کی طرف سے متعارف کردہ پی پی او یعنی پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس (ترمیم شدہ) ایک طمانچہ ہے۔ اس آرڈیننس یا انتہائی ظالمانہ قانون میں لاپتہ لوگوں کی غیر قانونی و غیر آئینی نظربندی کو قانونی و آئینی بنانے اور اب تک ہونے والی ماورائے آئین و قانون بلکہ ماورائے عالمی قوانین و خلاف انسانیت جرم کے زمرے میں آنے والی گمشدگيوں اور ان کے ذمہ دار اداروں، اہلکاروں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ماورائے پاکستانی آئین و قوانین خواہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور خلاف انسانیت جرائم کے زمرے میں آنے والا یہ نام نہاد تحفظ پاکستان آرڈیننس ان گمشدہ پاکستانی شہریوں اور ان کی گمشدگی پر ان کی مائوں بہنوں کے آنسوئوں، مردہ جسموں اور مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں واپس ہونے والے بلوچوں و دیگر لاپتہ لوگوں پر ریاست کی سفاکی کا فسطائی قہقہہ ہے۔

ایک آمر کے پروردہ حکمرانوں سے آپ کیا توقع کرسکتے ہیں پاکستان کے لوگو! کیا آپ واقعی سنجیدگی اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ ظالمانہ قانون واقعی پاکستان کا تحفظ کر سکے گا یا اس کے شکار لوگوں کو پاکستان سے اور زیادہ بیزار و دور کردے گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ریٹائرڈ ہونے کی دیر تھی اور خود کو اسپتال میں دل کے درد میں داخل کرانے والا ایف سی کا ڈی جی بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اٹھ آیا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل آئین و قانون کی حدود میں نہیں ماورائے ائین و قانون ریاستی رٹ میں ہے۔ایف سی کے سربراہ کے ایسے بیان کے چوبیس گھنٹوں بعد ایوان صدر سے ریاستی و سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں لوگوں کی گمشدگيوں کے تحفظ کا آرڈیننس نافذ کردیا گیا۔ پاکستان کے شہریوں کو قانون و ریاست کے رکھوالوں کے ہاتھوں ڈاکوئوں کی طرح اغوا اور اغواکاروں کے تحفظ کو بدقسمتی سے پاکستان کے تحفظ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ملک کے بانی کے اصولوں اور افکار سے بھی مذاق ہے جنہوں نے کہا تھا ’’پاکستان کے اندر کسی بھی شخص کو عدالت قانون سے رجوع کئے بغیر ایک سیکنڈ کیلئے بھی نظربند یا قید نہیں رکھا جا سکتا‘‘۔

نیز یہاں تحفظ پاکستان کے نام پر کسی بھی شخص کو ریاستی و سیکورٹی ادارے تین ماہ تک کسی بھی عدالت سے رجوع کئے بغیر قید رکھ سکتے ہیں اور اٹھائے جانے والے شخص کی قید کی جگہ خفیہ ہو گی۔ جیسے اب تک ہزاروں گمشدہ لوگوں کی برسوں سے گمشدگیوں کے مقامات اور گم کردہ ادارے معلوم ہوتے ہوئے بھی نامعلوم بتائےجاتے ہیں۔راتوں کو ان کی چیخیں کہیں چڑیا گھروں کے جانور بھی سنتے ہیں۔تحفظ پاکستان آرڈیننس ایسے بدنام زمانہ قوانین کا تسلسل ہے جب پاکستان ڈیفنس رولز یا ڈی پی ار ذوالفقار علی بھٹو سمیت پاکستان میں اس کے پیشروئوں اور اس سے قبل غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی استعماری حکومت نے نافذ کئے تھے جن کے تحت خان عبدالغفار اور جی ایم سید سمیت وقت کی حکومتوں کے ہزاروں سیاسی مخالفین قید کئے جاتے رہے تھے۔

حبیب جالب کی نظمیں شوق کے ساتھ لیکن غلط انداز میں پڑھنے والے حکمران کبھی حبیب جالب کی ان سطروں کو بھی اپنے ضمیر کے ترازو میں تول لیتے:

تم سے پہلے جو یہاں ایک شخص تخت نشیں تھا

اس کو بھی خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا

اس سے قبل جب سے ملک بنا تو حکمرانوں نے چوراچکوں، غنڈوں، بدمعاشوں کو کم اور اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی پبلک سیفٹی ایکٹ، تو کبھی کرائم کنٹرول ایکٹ، تو کبھی فرنٹیئر ایکٹ، تو کبھی کرمنل ٹرائبز ایکٹ، تو کبھی ڈیفنس آف پاکستان میں قید رکھا۔ برسبیل تذکرہ آزادی کے ابتدائی سالوں میں ہزاروں سالوں سے سندھ کے جم پل سیکڑوں معزز ہندو شہریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند رکھ کر ان کی آزادی فقط بھارت نقل مکانی کرنے پر عمل میں لائی گئی تھی۔ وہ درویش منش سادھو واسوانی بھی جس نے جناح صاحب کے فوت ہونے پر برت یعنی روزہ رکھا تھا اور قرآن کی تلاوت کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اسّی سال کی عمر سے زائد کے بزرگ ہندو شہری اور حیدرآباد دیال داس کلب کے صدر کو کسی ذاتی رنجش اور غلط سی آئی ڈی رپورٹوں پر ڈیفنس اف پاکستان رولز کے تحت نظربند رکھا۔ آپ فوجی آمر ضیاء کو کچھ بھی کہیں لیکن اس نے بغض معاویہ میں ہی سہی ڈیفنس آف پاکستان رولز ختم کرتے ہوئے سیکڑوں سیاسی قیدیوں کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ آج اس کی باقیات نے ہزاروں نہیں تو سیکڑوں بلوچوں سمیت دیکر گمشدگان کو غائب رکھا ہوا ہے۔ حال ہی میں مستونگ کے قریب دہشت گرد حملوں میں نیویارک میں رہنے والی نوجوان ہزارہ خاتون سماجی ورکر شازیہ کا پولیس والا بھائی بھی شامل تھا جو اپنے دوسرے ساتھی پولیس والوں کے ساتھ حملہ آور کے خلاف زائرین کی حفاظت کرتے قتل ہوا۔ یہ دکھی بہن کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کی نسل کشی سے بھاگ کر ترک وطن پر مجبور ہوئی۔

ان قاتل جتھوں پر تحفظ پاکستان آرڈیننس کا اطلاق کیا ہوا۔

یہ تو وہ حکمران ہیں جنہوں نے سندھ میں ٹنڈو بہاول میں وردی والوں کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے والے نو ہاریوں کو بھارت کا ایجنٹ قرار دیا تھا- اب اغوا کئے جانے والوں میں جب اغوا ہوئے تو مائوں کے ساتھ شیر خوار بچوں کو بھی تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نام پر غیر معینہ مدت تک زیر قید و تشدد رکھا جائے گا۔ ابھی پی پی او یا تحفظ پاکستان آرڈیننس جیسے قانون پر صدر ممنون حسین کے دستخطوں کی سیاہی ہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بلوچستان کے خضدار علاقے توتک جہاں اسٹیبلشمنٹ حامی مسلح جتھوں بمشمول شفیق مینگل گروپ کی دہشت قائم ہے وہاں سے اجتماعی قبر برآمد ہوئی ہے جہاں پندرہ کے قریب تاحال گمنام مسخ شدہ لاشوں کو ایک جگہ دفن کردیا گیا تھا۔ زیادہ تر قیاس آرائی یہ کی جارہی ہے کہ یہ اجتماعی قبر میں دفن کی گئی لاشیں گمشدہ بلوچ قوم پرستوں یا علیحدگی پسندوں کی ہوسکتی ہيں۔ اگرچہ آزاد ذرائع اس کی تصدیق نہیں کرتے لیکن سرکاری یا غیر سرکاری طور ، علاقے کے صحافی ( وہ علاقہ جہاں صحافی رپورٹنگ پر قتل کر دیئے جاتے ہیں پھر وہ سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں ہوں کہ شدت پسند مسلح علیحدگی پسندوں یا اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ قاتل جتھوں کے ہاتھوں) اجتماعی قبر اور اس میں دفن کی گئی پندرہ لاشوں کی دریافت کے علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے سے بھی تصدیق کرتے ہیں۔ وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز والے ان برآمد ہونے والی پندرہ لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ اقوام متحدہ کے زیر انتظام کرانے کا مطالبہ کرتے سنے جاتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوا ہے جب بلوچستان میں بے بس ڈاکٹر مالک کی حکومت شورش زدہ صوبے میں اسٹیبلشمنٹ نواز مسلح جتھوں کو غیر مسلح کرنے کی باتیں کر رہی تھی۔

ظاہر ہے کہ اجتماعی قبروں میں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں سے پاکستان کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ایسا ماضی میں کبھی ممکن ہوسکا نہ افغانستان میں ، نہ عراق و شام میں نہ ہی کشمیر اور کمبوڈیا میں جہاں بھی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں۔بلوچوں کی مسخ شدہ اجتماعی قبروں کی برآمدگی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو معاملے کی تحقیقات اور اس میں انسانی حقوق کے حوالے سے مداخلت کے مطالبے کی پٹیشن پر پاکستان کے دیگر صوبوں میں روشن خیال اور امن دوست لوگوں نے بھی دستخط کئے ہیں جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی اور زبانوں و خیالات سے ہے۔

’’جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان گیا‘‘ اگر حبیب جالب آج ہوتے تو پنجاب میں ماما قدیر کے پیدل مارچ میں ہمقدم ہوکر اپنی ایسی نظمیں پڑھ رہے ہوتے۔

لیکن تخت لاہور کی بےرحم اکثریت والی حکومت سے نام نہاد چھوٹے صوبوں اور قومیتوں کو انصاف کی توقع تاحال حسب ماضی عبث ثابت ہوئی ہے۔ وہ صرف زرداری کے ساتھ میوزیکل چیئر میں واری وٹے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ کتنے سندھی اور شیعہ عقیدے کے لوگ حکمران پارٹی کی قیادت میں شامل رہ گئے ہیں؟ کتنے ہزارے ہیں۔بلوچ اپنی سرزمین پر جلاوطن ہیں۔ جس کی ایک مثال ڈیرہ موڑ کشمور کے قریب بگٹی قبائل کے مرد عورتیں اور بچے سردی میں ٹھٹھرتے اپنے گھروں کو ڈیرہ بگٹی جانے کو بیتابی سے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ یہاں کوئی طاہر القادری نہیں تو میڈیا کی بھی کوئی کوریج نہیں۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ

 Protection of Pakistan Ordinance and Balochistan

Enhanced by Zemanta

ایک کتاب جس کی تقریب رونمائی نہ ہو سکی


ملالہ کی کتاب ــ’’I Am Malala‘‘کچھ ماہ پہلے شائع ہو چکی۔ اُس کتاب میں کیا کچھ اسلام اور پاکستان کے خلاف لکھا گیا وہ بھی سب کے سامنے آچکا۔ سب سے اہم یہ کہ اس کتاب میں سلمان رشدی جیسے ملعون کی انتہائی شر انگیز اور اسلام دشمن کتاب (Satanic verses)کوآزادی رائے کے حق کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ ایسی کتاب کی پاکستان میں تقریب رونمائی کرنا اور وہ بھی پشاور جیسے علاقہ میں میری نظر میں کسی شرارت سے کم نہ تھی۔

صوبہ خیبر پختون خوا تو پہلے ہی سنگین دہشتگردی کا شکار ہے۔ ’’I Am Malala‘‘ جیسی متنازعہ کتاب کے لیے تقریب رونمائی منعقد کرنا اور وہ بھی ایک سرکاری تعلیمی ادارہ میں وہ کسی خطرہ سے کم نہ تھا۔اس تقریب کو سیکیورٹی فراہم کر کے محفوظ تو بنایا جا سکتا تھا مگریہ عمل اشتعال انگیز تھا کیوں کہ اس کی وجہ سے دہشتگردی میں بھی اضافہ ہو سکتا تھا۔

سوچنے کی بات تو یہ تھی کہ کیا ایسی کتاب کی پاکستان کے کسی بھی حصہ میں تقریب رونمائی کی جاسکتی تھی مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے اس کام کے لیے پشاور کو چن لیا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے معاملہ کی نذاکت کو دیکھتے ہوئے اس تقریب کے انعقاد کو روک کر بہت اچھا فیصلہ کیا مگر میڈیا اس پر لال پیلا ہو گیا۔ ہر طرف شور شرابہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ سب نے تحریک انصاف کی حکومت کو خوب کوسا اور انہیں بُرا بھلا کہا۔ میڈیا کا یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ عمران خان کو بھی معذرت خوانہ رویہ اختیار ادا کرنا پڑا۔ وہ ایک مرتبہ پھر اپنی حکومت سے نالاں نظر آئے۔

مجھے نہیں معلوم کہ عمران خان نے ملالہ کی کتاب پڑھی بھی ہے یا نہیں مگر میڈیا میں شور شرابا کرنے والوں میں سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ دیکھنے اور سننے والوں کو یہ بتائے کہ اس کتاب میں کیا کچھ لکھا گیا، کس انداز میں ملعون سلمان رشدی کی کتاب آزادی رائے کے حق کے طور پر برداشت کرنے کاسبق پڑھایا گیا، کیا کچھ ناموس رسالت کے قانون کے بارے میں کہا گیا، عورتوں کی گواہی کے بارے میں کیا رائے زنی کی گئی، پاکستان کو کس انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے تو بہت افسوس ہوا کہ ملالہ یوسف زئی کو اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کر لیا گیا۔میں تو اس کتاب اور اس سے منسلک تنازعات پر پہلے ہی کچھ کالم لکھ چکا۔ مجھے تو اس بات کا یقین ہے یہ کتاب تو لکھی ہی مغرب کے لیے گئی تھی جس کا مقصد ہی مغرب کو خوش کرنا اور پاکستان اور اسلام کے بارے میں منفی پیغام دینا تھا۔

اس کتاب میں تو بار ہا پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کا ذکر کیا گیا مگر ایک بار بھی Prophet یا Holy Prophet کے ساتھ PBUH یا SAW نہیں لکھا گیا۔ ایسی کتاب کا ہمارے سے کیا تعلق۔ اس کتاب سے منسلک تنازعات جب چند ماہ قبل سامنے لائے گئے تو ملالہ کے والد نے حامد میر صاحب کو فون کر کے بتایا کہ وہ اس کتاب کے متنازعہ حصوں کو حدف کر دیں گے۔ اگر ایسا ہو تو بہت اچھا مگر جس کتاب کو میں نے پڑھا اور جس کو پاکستان مخالف کرسٹینا لیمب نے لکھا وہ اس قابل نہیں کہ اُسے ہمارے بچے پڑھیں۔ مگر میڈیا نے ویسے تو کتاب کے متنازعہ حصوں کے بارے میں عمومی طور پر عوام کواندھیرے میں رکھا مگر اس بات پر خوب شور مچایا کہ کتاب کی تقریب رونمائی کی خیبر پختونخوا حکومت نے اجازت کیوں نہ دی۔ میڈیا نے جس انداز میں اس معاملہ کو اٹھایا اور جیسے سیاستدانوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیا گیا اُس سے یہ ممکن ہے کہ اب کچھ اور لوگ، کچھ اور تنظیمیں اور کچھ اور این جی اوز ملالہ کی کتاب کی رونمائی کی لیے پشاور اور کچھ دوسرے شہروں میں منعقد کرانے کی کوشش کریں۔ شرارت کے لیے یہ اچھا تماشہ ہو گا اور اس نوعیت کی تقاریب منعقد کرنے والوں کو بھی خوب مفت کی پبلسٹی ملے گی۔ ایسے میں ڈالرز اور امریکا و یورپ کے ویزے بھی ملنے کا خوب موقع ملے گا۔ باقی رہا عقیدہ، ایمان، اسلام اور پاکستان، اُس کی کسی کو کیا فکر۔ فکر ہے تو اُس نام نہاد حق آزادی رائے کی جس کو بنیاد بنا کر آئے دن مغرب اسلام دشمن مواد شائع کرتا ہے تا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو زبردست ٹھیس پہنچائی جائے۔ اور اس کے رد عمل میں اگر مسلمان احتجاج کریں تو انہیں شدت پسند اور عدم برداشت ہونے کے طعنہ دیے جائیں۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

Rising poverty in Cholistan


Rising poverty in Cholistan 
Enhanced by Zemanta

Muslim Achievements by Shahnawaz Farooqi

Muslim Achievements by Shahnawaz Farooqi
Enhanced by Zemanta

Smart Phones in Pakistan


Smart Phones in Pakistan
Enhanced by Zemanta