خاموشی جرم ہے
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر پاکستانی عوام کی جانب سے کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہ کرنا (اگرچہ چند ایک حلقوں کی جانب سے ردِعمل کا اظہار کیا گیا لیکن یہ ردِعمل پاکستانی قوم کے شایانِ شان نہ تھا) میرے لئے ناقابل فہم ہے۔
میں گزشتہ بائیس سال سے ترکی میں قیام پذیر ہوں اور اس دوران ترکی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان واقعات پر ترک عوام کے شدید ردِعمل کو اپنی نگاہوں سے دیکھ چکا ہوں۔ ترکی میں ایک دور وہ بھی تھا جب روزانہ ہی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ تقریباً چالیس سال جاری رہنے والی دہشت گردی جس میں چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں آخر کار قابو پا لیا گیا۔ ترکی میں طویل عرصے جاری دہشت گردی کی وجہ سے کئی ایک سیاسی جماعتیں اقتدار سے محروم ہو گئیں اور کئی ایک سیاسی جماعتیں اس پرقابو پانے کی وجہ سےعوام کی آنکھوں کا تارا بن کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس کی ایک مثال مرحوم وزیراعظم بلنت ایجوت حکومت کی ہے۔ بلنت ایجوت حکومت ایک دور میں جب عوام میں اپنی ساکھ کھونے کے قریب تھی تو اس دوران ترکی کی دہشت گرد تنظم PKK کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو گرفتار کئے جانے پر مرحوم بلنت ایجوت کو عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہو گئی اور ان کی جماعت اگلے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ برسراقتدار آ گئی۔ اسی طرح جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد اس جماعت کو بھی ملک میں جاری دہشت گردی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک موقع پر دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے فوجیوں کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی تو عوام اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکےاور انہوں نے نماز ِجنازہ کی ادائیگی کے فوراً بعد اس جنازے میں شریک کئی ایک وزراء اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کا گھیراؤ کرلیا جس پر ان وزراء اور اسپیکر اسمبلی کو مسجد میں پناہ لینا پڑی۔ عوام کے اس شدید ردِعمل نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور حکومت نے اپنی تمام تر توجہ دہشت گردی پرقابو پانے کی جانب مرکوز کردی اور آخر کار دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی بھی حاصل کی۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستانی عوام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے اس ردِعمل کا اظہار کیوں نہیں کر پا رہے ہیں جس کا اظہار وقت کا اور وطن کا تقاضا ہے۔
پاکستانی عوام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے صرف حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں پر ہی کیوں نگاہیں لگائے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ان کی اپنی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ خود آگے بڑھیں اور سیاسی رہنماوں کو دہشت گردی کے خلاف ایکشن لینے پر مجبور کریں؟ آج اگر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کی جانب سے ان واقعات پر خاموشی اختیار کیا جانا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں کے عوام اپنی اپنی حکومت اور ریاست کا کھل کر ساتھ دیتے ہیں۔ ترکی کے علاوہ اسپین جہاں پر طویل عرصے دہشت گردی جاری رہی اس دہشت گردی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا اور حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن لینے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پالیا گیا۔ اب اسی قسم کا فیصلہ پاکستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے لئے کرنا ہے۔وہ کب تک روز جیتے اور روز مرتے رہیں گے؟ ان کے خوف نے ان دہشت گردوں کے حوصلے بلند کررکھے ہیں اور دہشت گردوں نے اب تک پچاس ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ ان دہشت گردوں نے کسی عبادت گاہ، مسجد ، اسکول اورحتیٰ کہ جنازہ گاہ تک کو نہیں چھوڑا ہے ۔ عوام انہی حملوں کی وجہ سے شدید خوف میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ "گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے"۔ اگر انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف اٹھتے ہوئے ریاست کے ہاتھ مضبوط نہ کئے اور حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور نہ کیا تو پھر وہ اپنی اور ملک کی بقا کو خطرے میں ڈالنے کا براہ راست حصہ بن جائیں گے۔
حکومت جو اس وقت دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے( وزیرستان میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے اور جس سے دہشت گردوں کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے اور اسی وجہ سے طالبان حکومت سے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور بھی ہوئے ہیں) اس آپریشن کو متعدد سیاستدانوں کے بیانات اور عوام کو خوف میں مبتلا کرنے کی پروا کئے بغیر جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کے عوام کی بھاری اکثریت بھی اس فوجی کارروائی کے حق میں اور اب جبکہ ان کے حوصلے بلند ہیں اور فوج کی پشت پناہی کرنے کے لئے تیار ہیں کو پست قدمی پر مجبور نہ کریں۔طالبان جو پاکستان پر امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کو یا پھر براہ راست امریکہ اور مغربی ممالک کو اپنا نشانہ کیوں نہیں بناتے ہیں؟ کیا ان کا زور صرف نہتے پاکستانی مسلمانوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر ان کو امریکہ اور مغربی ممالک سے اتنی نفرت ہے تو وہ خود کیوں امریکی اسلحہ اور مغربی ممالک کے تیار کردہ ٹیلی فون، کمپیوٹر اور دیگر سازو سامان استعمال کرتے ہیں؟ ان کو سب سے پہلے ان ہتھیاروں کو اپنے اوپر استعمال کرتے ہوئے دنیا کو اپنے قول و فعل میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہ ہونے سے آگاہ کر دینا چاہئے۔
آخر میں عمران خان سے ایک سوال۔ کیا آپ کبھی میچ کھیلے بغیر مخالف ٹیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ تو پھر ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کیوں؟ اگر آپ نے ان کو ایک دفعہ گھر کےاندر آنے کا موقع دے دیا تو پھر آپ اپنے گھر سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ میرا اگلا سوال ان تمام مذہبی جماعتوں کے رہنماوں سے ہے جو شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر رہی ہیں اور وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے فوجیوں کی شہادت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ کیا آپ دنیا میں ایسے کسی اسلامی ملک کا نام بتاسکتے ہیں جہاں پر دہشت گردوں کو شہید کا رتبہ دیا جاتا ہو؟ خانہ کعبہ کے امام تک خودکش حملہ کرنے والوں کو "حرام کی موت مرنے" (کیونکہ اسلام میں خودکشی کرنا یا کسی کو خودکشی پراکسانا حرام ہے) کا فتویٰ دے چکے ہیں تو پھر یہ کیوں دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے ہوئے ان کے حوصلے بلند کرتے ہیں؟وزیراعظم نوازشریف سے درخواست ہے کہ وہ بھی ترک وزیراعظم ایردوان کی طرح ملک میں مکمل طور پر دہشت گردی کا صفایا کرتے ہوئے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دہشت گردوں کے خلاف جس طرح اب کھل کر بیان دینا شروع کردیئے ہیں اس سے ان کے قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔کاش کہ ان کی پارٹی اپنے دور اقتدار میں ان کی طرح بہادری کا مظاہرہ کرتی۔ایم کیو ایم جو بڑے بڑے جلسے کرنے میں بڑی ایکسپرٹ ہے ایک بار صرف پاکستان کے لئے پورے پاکستان (خیبر سے کراچی تک) میں صرف پاکستانی پرچموں ( کسی بھی پارٹی کو اپنا پرچم اٹھانے یا نمائش کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے) پر مشتمل ملین مارچ کا بندوبست کرے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے اور عوام کے کس قدر بہادر ہونے کا ثبوت فراہم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر فرقان حمید
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
اسٹرٹیجک ڈائیلاگ۔ کیا ملا؟
ایک بڑے تعطل کے بعد پاک،امریکہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا آغاز پھر واشنگٹن میں ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ذیلی ورکنگ گروپوں کے سیکورٹی، معاشی تعاون، انرجی اور دیگر امور پر مذاکرات جاری ہیں لیکن اس ڈائیلاگ کے بارے میں امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بیانات کے ساتھ ہی ساتھ پاک،امریکہ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہو چکا ہے اور سرتاج عزیز واشنگٹن میں پاکستانی میڈیا سے پریس کانفرنس کی صورت میں اس ڈائیلاگ کے زیر بحث مرحلہ کی کامیابی کا اعلان بھی فرما چکے ہیں کہ انہوں نے امریکیوں کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ دشمن کون ہے اور پاک،امریکی طویل مدتی مفادات مشترک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر افغان آپس میں معاملات کو طے کر لیں تو ان کا فیصلہ ہم قبول کر لیں گے۔ اتحادی فوج کی واپسی کے بعد خلاء پیدا ہو گا۔ افغان سیکورٹی افواج دہشت گردی پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے پاکستانی وقت کے مطابق 28؍جنوری کو علی الصبح جو پریس کانفرنس منعقد کی اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو پہلے سے امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں، عوام اور دنیا کے علم میں نہ ہو۔ وہی روایتی موقف، روایتی الفاظ اور مفہوم جو اس سے قبل بھی بیانات اور اعلانات کا حصہ رہا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ ہے جو طویل مدتی امور پر جاری مذاکرات کا حصہ ہے جو کئی سال کے تعطل کے بعد پھر بحال ہوا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کی بقا کو لاحق خطرات، دہشت گردی اور عدم استحکام اور امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کے بارے میں کسی ٹھوس تعاون، مشترکہ عمل اور مسائل کا ذکر اور پاکستانی نقطۂ نظر اور مفادات کا ذکر کہاں ہے؟ مشترکہ اعلامیہ اور دونوں طرف کے بیانات سے متعدد جواب طلب سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب پاکستان کو درپیش موجودہ سنگین صورتحال کے تناظر میں انتہائی ضروری ہے۔
مشترکہ اعلان میں افغانستان کی حکومت کی جانب سے امن کیلئے مفاہمت اور طالبان سے مذاکرات و مفاہمت کے عمل میں تعاون و حمایت کی ذمہ داری پاکستان پر تو ڈالی گئی لیکن پاکستان کی طالبان سے مذاکرات کے ذریعہ امن و مفاہمت کے بارے میں افغانیوں اور دیگر قوتوں پر نہ ایسی کوئی ذمہ داری ڈالی گئی اور نہ ہی کوئی ذکر بھی کیا گیا حالانکہ پاکستان کے خلاف سرگرم طالبان کی نقل و حرکت، افغان علاقوں میں سکونت اور افغان معاونت و حمایت بھی ایک حقیقت ہے۔ طالبان سے مذاکرات کے علاوہ ان کے خلاف جس ملٹری آپریشن کے امکانات پاکستانی سیاست، فوج اور عام شہری کیلئے اہم موضوع گفتگو بنا ہوا ہے اس بارے میں بھی امریکی خاموشی نظر آتی ہے۔ کیا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن و مفاہمت میں پاکستانی تعاون سے پاکستان اور پاکستانی طالبان کے درمیان خودبخود امن آ جائے گا؟ یا پھر افغانستان میں امن اور پاکستان کی طرف طالبان کی یورش بڑھ جائے گی؟ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے اتحادی پاکستان نے بارہ سال تک اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر امریکہ کا ساتھ دیا اور آج خود تباہی، دہشت گردی کا شکار ہے۔ اب اگر پاکستان طالبان کے خلاف ملٹری آپریشن کرے تو امریکہ کو اپنا ڈرونز طیاروں کا نظام پاکستان کی حمایت میں پاکستانی آپریشن کی ضروریات اور فوجی حکمت عملی کے مطابق امریکہ استعمال کر کے ساتھ دے لیکن نہ تو پاکستان نے ایسا کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ممکنہ ملٹری آپریشن کی کامیابی کیلئے کوئی پیشکش کی ہے۔ صرف زبانی تعریف سے پاکستان کی بقا کو لاحق خطرات دور نہیں ہوں گے۔ آخر دہشت گردی کا خاتمہ امریکہ اور پاکستان دونوں کا مشترکہ مفاد اور مقصد ہے اور پاکستانی فوج کے ممکنہ ملٹری آپریشن میں اتحادی امریکہ اپنے اس جدید اور مہلک ہتھیار کو پاکستانی فوج کی مدد اور ضرورت کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ مگر ایسا مطالبہ کرنے کی نہ تو ہمارے قائدین میں ہمت ہے اور نہ ہی امریکہ ڈرونز کو پاکستان کی حمایت و ضرورت کیلئے سپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ اب دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اپنی بقا کی جنگ خود ہی اپنے طور پر لڑنا ہو گی۔
امریکہ سے زبانی حمایت اور کچھ کولیشن سپورٹ فنڈ کے ڈالرز مل جائیں گے۔ مشترکہ اعلان میں پُرامن پاک،افغان بارڈر کا ذکر ضرور ہے مگر اس کے لئے امریکی تعاون کا کوئی ذکر نہیں۔ افغانستان کی قیادت میں امن و مفاہمت کی کوششوں میں تو پاکستان کو تعاون کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے لیکن پاکستان کی قیادت میں اپنی سرزمین پر امن و مفاہمت کیلئے افغانستان اور بھارت پر کوئی ذمہ داری یا تعاون کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ اگلے ماہ منعقد ہونے والی ڈیفنس ریسورنگ کانفرنس میں سیکورٹی امداد اور دیگر مسائل کے زیر بحث آنے کا ذکر تو ہے مگر اس بارے میں بھی کوئی واضح بات نہیں ہے۔ پاکستان کے شہروں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، ہلاکتیں اور تباہی کا زور بڑھ رہا ہے لیکن پاک،امریکہ ڈائیلاگ میں مصروف ہمارے نمائندے نہ تو پاکستان طالبان مذاکرات اور نہ ہی ممکنہ پاکستان ملٹری آپریشن میں اتحادی امریکہ سے حمایت اور عملی تعاون طلب کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی امریکہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی اظہار ہے۔ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے پاک،امریکہ مشترکہ اعلان کے اجراء کے بعد پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ طالبان سے پاکستان کے مذاکرات یا ملٹری آپریشن کے بارے میں عوامی دبائو کے بارے میں انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ ان کی پریس کانفرنس کا لب لباب یہ ہے کہ ’’اگر‘‘ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی کمی (TRUST DIFICIT) ختم ہو جائے۔ ’’اگر‘‘ ہمسایہ ممالک مداخلت نہ کریں ’’اگر‘‘ افغانستان میں طالبان اور حکومت آپس میں معاملات طے کر لیں تو ہم قبول کر لیں گے۔ ’’اگر‘‘ امریکہ، پاک، بھارت تعلقات کو بہتر بنانے میں دونوں ممالک کے ساتھ یکساں سلوک (EVEN HANDED) کرے۔ ’’اگر‘‘ امریکہ ہمارے سیکورٹی خدشات کو دور کرے تو پھر افغانستان میں امن اور خطے کی صورتحال بہتر ہو جائے گی لیکن سرتاج عزیز صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اتنے سارے ’’اگر‘‘ پورے کرنے کیلئے امریکیوں نے کیا جواب دیا ہے اور کس عمل کی یقین دہانی کرائی ہے؟ گفتگو کو صرف تعمیری، مفید اور زبانی ستائش و حمایت پاکستان کے گلی محلوں میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کافی نہیں۔ پاکستان کے مراعات یافتہ طبقے کی رہائش گاہوں کے گرد سڑکیں اور علاقے بند کر کے حفاظتی دیواریں بنا دینے اور بھاری سیکورٹی کے قافلوں میں بلٹ پروف کاروں میں نقل و حرکت کرنے سے امن قائم نہیں ہو گا۔ بم دھماکوں اور سڑکوں پر دہشت گردی اور لوٹ مار کا شکار ہونے والے نہتے عوام تباہی اور موت کا شکار ہو رہے ہیں جن کے بارے میں پاک،امریکہ ڈائیلاگ اور مشترکہ اعلان کسی فوری عمل، ٹھوس اقدام اور تعاون کی ضمانت سے خالی ہے۔ تسلسل (بشمول کئی سالہ تعطل) سے جاری اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا طویل مدت کا فریم ورک سر آنکھوں پر، لیکن اپنے آغاز سے اب تک اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے انعقاد نے عملاً پاکستان کے مفاد کیلئے کیا کچھ حاصل کیا ہے؟ سلالہ کا حملہ اور دیگر امور پر پاک،امریکی کشیدگی، امداد کی کٹوتی و معطلی، ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ اور دیگر عوامل پاک،امریکہ تعلقات کو کشیدگی میں دھکیلتے رہے اور کشیدگی سے بچنے کا کوئی نظام یا پلیٹ فارم نہیں بن سکا۔ ہمارے مشیر امور خارجہ اور ان کے وفد پاکستان کیا لے کر لوٹ رہے ہیں؟ وہ پارلیمنٹ اور پاکستانی عوام کو کیا خوشخبری سنائیں گے؟
پاکستانی فوج کیلئے ملٹری آپریشن کی صورت میں کتنا اور کیا ہمت افزاء پیغام یا عملی سپورٹ لے کر لوٹے ہیں؟ موجودہ پاکستانی حکمرانوں کی راہ میں مشرف اور زرداری دور حکومت کے عاقبت نا اندیش اقدامات اور حکمت عملی کی غلطیاں بھی مشکلات کا باعث ضرور تھیں لیکن تخلیقی ڈپلومیسی اور پاک،امریکہ تعلقات میں اعتماد کی کمی کو دور کرنے اور اپنی حقیقت حال پر امریکیوں سے مربوط اور واضح انداز میں مذاکرات کرنا تو موجودہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ورنہ آنے والے وقت میں پاکستان کو لاحق خطرات دہشت گردی اور تباہی سے ’’اگر‘‘ سے مشروط پریس کانفرنس اور اعلانات ہمارے مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔ عوام، فوج، حکمراں، پارلیمنٹ اور دیگر ادارے اختلاف رائے اور مسائل پر سخت اختلافی موقف کا شکار ہو رہے ہیں۔ مشرف کے مقدمہ سے لے کر معیشت، امن و امان کے معاملات پر ہم تیزی سے بٹ رہے ہیں۔ پاک،امریکہ مشترکہ اعلان میں محض ستائش اور اعتماد کا اظہار کافی نہیں۔
عظیم ایم میاں
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
حدیبیہ یا ویتنام
حدیبیہ مکہ مکرمہ سے 12 میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گائوں تھا‘ یہ گائوں ایک کنوئیں کے گرد آباد تھا‘ یہ کنواں حدیبیہ کہلاتا تھا اور یہ گائوں بھی اس کنوئیں کی مناسبت سے حدیبیہ ہو گیا‘ حدیبیہ ایک گمنام گائوں تھا اور یہ گائوں شاید آج تک دنیا کے کروڑوں دیہات کی طرح گم نام رہتا مگر 1385 سال قبل ہمارے رسول ؐ کی نعلین شریفین نے اس گائوں کی زمین کو چھو لیا اور صرف ایک لمس کے صدقے یہ گائوں دنیا کے سب سے بڑے سفارتی اصول کا قبلہ بن گیا اور آج دنیا کے کسی بھی کونے میں دو متحارب فریقین کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے تو وہ نسل‘ مذہب‘ زبان اور فرقے سے بالاتر ہو کر اس معاہدے کو ’’حدیبیہ اکارڈ‘‘ قرار دے دیتے ہیں‘1385 سال قبل ہونے والا یہ معاہدہ محض معاہدہ نہیں تھا‘ یہ دنیا میں جدید سفارت کاری کی بنیاد بھی تھا‘ یہ معاہدہ دو گروہوں یا دو انسانوں کے درمیان بھی نہیں تھا‘ یہ معاہدہ اللہ‘ اس کے رسولؐ اور ان کفار کے درمیان تھا جن کا غرور مٹی میں مل چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی انا کا شملہ بلند رکھنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی انا کو مزید ایک سال کی مہلت دے دی اور اس مہلت نے ثابت کر دیا‘ آپ اگر کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں تو آپ کبھی لڑنے کی غلطی نہ کریں‘ آپ چند قدم پیچھے ہٹ جائیں‘ آپ کی یہ پسپائی آپ کو دائمی فتح کی طرف لے جائے گی لیکن آپ نے اگر اس کے برعکس فیصلہ کیاتو آپ کے تمام دشمن ایک بار پھر اکٹھے ہو جائیں گے اور ان کا یہ اجتماع آپ کی فتح کو دور لے جائے گا۔
نبی اکرمؐ پندرہ سو صحابہؓ کے ساتھ یکم ذیقعد چھ ہجری کو عمرے کے لیے روانہ ہوئے‘ قربانی کے ستر اونٹ بھی اس قافلے میں شامل تھے‘ قافلے نے مدینہ سے نکل کر ذوالحلیفہ نامی گائوں میں احرام باندھ لیے مگر قریش نے اعلان کر دیا‘ ہم مدنی قافلے کو مکہ کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیں گے‘ قریش نے مسلمانوں کو روکنے کے لیے پہلے بدیل بن ورقا کو حدیبیہ بھجوایا‘ وہ قائل ہو کر واپس چلا گیا‘ قریش نے پھر حلیس بن علقمہ کو بھجوایا‘ وہ بھی قائل ہوا اور واپس چلا گیا‘ قریش نے پھر عروہ بن مسعود ثقفی کو بھجوایا‘ وہ بھی مسلمانوں کے ارادے سے متفق ہو گیا‘ پھر نبی اکرمؐ نے حضرت عثمانؓ کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھجوایا لیکن قریش اپنی ضد کا جھنڈا سرنگوں کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے‘ قریش نے آخر میں سہیل بن عمرو کو مسلمانوں سے تفصیلی مذاکرات اور معاہدہ کی ذمے داری سونپ دی‘ رسول اللہ ﷺ معاہدے کے لیے تیار ہو گئے‘ معاہدے کے دوران سہیل بن عمرو کا رویہ انتہائی توہین آمیز اور معاہدے کی شرائط مسلمانوں کے وقار سے انتہائی منافی تھیں مگر اللہ کے نبیؐ کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی‘ معاہدے کی شرائط حضرت علیؓ تحریر فرما رہے تھے‘ حضرت علیؓ نے معاہدے کے اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی۔
سہیل بن عمرو فوراً بولا’’ ہم تمہارے رحمن کو نہیں مانتے‘ آپ معاہدے کو با سمک اللھم سے شروع کریں گے‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ شرط مان لی‘ حضرت علیؓ نے تحریر کیا ’’ یہ صلح نامہ جو محمدالر رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو سے کیا‘‘ سہیل بن عمرو تیز آواز میں بولا’’ ہم اگر محمدؐ کو رسول مانتے تو آپ لوگوں سے کبھی لڑائی نہ کرتے‘ لکھو جو محمدؐ بن عبداللہ نے سہیل بن عمرو سے کیا‘‘ رسول ا للہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا ’’آپ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کاٹ کر محمدؐ بن عبداللہ تحریر کر دیں‘‘ حضرت علی ؓ نے عرض کیا ’’ میں یہ گستاخی نہیں کر سکتا‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘ آپ اس جگہ انگلی رکھ دو‘ جہاں میرا نام تحریر ہے‘‘ حضرت علیؓ نے اپنی انگشت شہادت اس جگہ رکھ دی‘ نبی اکرمؐ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ سے قلم لیا اور اپنے دست مبارک سے رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کاٹ دیے‘ اس کے بعد حضرت علیؓ نے محمد بن عبداللہ کے الفاظ تحریر کر دیے‘ اس کے بعد سہیل بن عمرو نے معاہدے کی آٹھ شرائط لکھوائیں‘ میں جب بھی یہ شرائط پڑھتا ہوں‘ میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ‘یہ شرائط مسلمانوں کے لیے اس قدر توہین آمیز تھیں کہ حضرت عمرؓ جیسے شخص بول پڑے ’’ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں‘ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں اور کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ بے شک ہم ہیں لیکن میں کسی بھی طرح اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا‘‘۔ معاہدہ ہو گیا تو نبی اکرمؐ نے رفقاء کے ساتھ نماز ادا کی‘ قربانی کے اونٹ ذبح کیے‘ سر کے بال منڈوائے اور خانہ کعبہ کا طواف کیے بغیر احرام کھول دیے اور یوں قافلہ عمرہ کے بغیر مدینہ واپس آ گیا۔
یہ معاہدہ تین لحاظ سے حیران کن تھا‘ ایک نبی اکرمؐ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کٹوا دیا اور اپنے دست مبارک سے رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کاٹ دیے اور یہ وہ بنیادی اصول تھا جس پر مسلمانوں اور کفار میں جنگ چل رہی تھی‘ مسلمانوں نے اگر اتنی ہی لچک دکھانی تھی تو یہ لوگ یہ لچک مکہ میں رہ کر بھی دکھا سکتے تھے اور یوں ہجرت اور جنگوں کی ضرورت نہ پڑتی‘ کوئی مسلمان بسم اللہ الرحمن الرحیم کو کاٹنا اور رسول اللہ ﷺ کے اسم مبارک پر قلم پھیرنے کی جرأت نہیں کر سکتا ‘ حضرت علیؓ نے بھی نبی اکرمؐ کے حکم کے باوجود یہ جسارت نہیں کی‘ نبی اکرم ؐپھر اس حد تک کیوں چلے گئے؟ یہ منطق آج کے دنیاوی ذہن نہیں سمجھ سکتے۔ دو‘ آپ سچے بھی ہوں‘ تگڑے بھی ہوں اور آپ یہ بھی جانتے ہوں‘ آپ کا دشمن کمزور ہو چکا ہے‘ یہ شہر سے باہر نکل کر لڑنے کی ہمت نہیں رکھتا لیکن آپ اس کے باوجود ایسی شرائط پر معاہدہ کر لیں کہ آپ کے قریب ترین ساتھی بھی یہ پوچھنے پر مجبور ہو جائیں ’’کیا آپؐ اللہ کے رسول نہیں ہیں‘ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں اور کیا یہ مشرک نہیں ہیں‘‘ نبی اکرم ؐ اپنے صحابہؓ کو اس حد تک کیوں لے گئے؟
اس نقطے کو بھی کوئی عام انسان نہیں سمجھ سکتا اور تین‘ آپ مشرکین سے معاہدے کی وجہ سے طواف کے بغیر احرام کھول دیں اور حدیبیہ میں جانور ذبحہ کرنے پر مجبور ہو جائیں‘نبی اکرمؐ نے اسلام کی اتنی بڑی روایت کیوں توڑ دی؟ یہ منطق بھی آج کا ذہن نہیں سمجھ سکتا لیکن قربان جائیں رسول اللہ ﷺ کی فراست پر کہ یہ معاہدہ صرف ایک سال بعد ایسا ٹرننگ پوانٹ ثابت ہوا جس نے مکہ کو پکے ہوئے پھل کی طرح مسلمانوں کی جھولی میں گرا دیا اور وہ مسلمان جو ایک سال پہلے تک اس معاہدے کو شک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے وہ کعبہ کے اندر سے بت اٹھا رہے تھے اور ان بتوں کو کعبہ کی دہلیز پر مار مار کر توڑ رہے تھے اور یوں اس ایک معاہدے نے دنیا کی پوری سفارتی تاریخ بدل دی‘ اس معاہدے نے دنیا کو بتا دیا‘ آپ کو اگر بڑی فتح‘ بڑے امن اور بڑے کاز کے لیے کوئی ایسا معاہدہ بھی کرنا پڑے جس پر آپ کے اپنے ساتھیوں کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں اور وہ آپ کا دامن پکڑ کر یہ پوچھنے پر مجبور ہو جائیں ’’ کیا ہم سچے نہیں ہیں‘ کیا یہ لوگ ہمارے بچوں کے قاتل اور فسادی نہیں ہیں اور کیا ہم ان سے لڑنے کی ہمت اور استطاعت نہیں رکھتے‘‘ تو بھی آپ یہ معاہدہ کر گزریں اور آپ کو اس معاہدے کے لیے خواہ مخالفوں کی کوئی بھی شرط ماننا پڑے‘ آپ مان جائیں کیونکہ فتح بہرحال حدیبیہ میں بیٹھے لوگوں ہی کو نصیب ہوتی ہے۔
آپ معاہدہ حدیبیہ کی روشنی میں طالبان کے ایشو کو دیکھئے‘ طالبان پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے‘ پاکستان کا آئین ہماری کمزوری ہے‘ ہم اس پر کمپرومائز نہیں کر سکتے مگر میرا مشورہ ہے‘ آپ ان کی یہ شرط مان جائیں کیونکہ یہ شرط بسم اللہ الرحمن الرحیم یا محمد الرسول اللہ ﷺ کے نام سے بڑی نہیں‘ یہ لوگ ہمارے بچوں‘ معصوم شہریوں کے قاتل بھی ہیں لیکن آپ اس کے باوجود بڑے امن کے لیے ان کے ساتھ معاہدہ کرلیں کیونکہ یہ قاتل ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کے قاتلوں سے بڑے نہیں ہیں‘ آپؐ نے حدیبیہ کا معاہدہ کرتے ہوئے اپنی صاحبزادیوں پر تشدد کرنے والوں‘ حضرت امیر حمزہؓ کے قاتلوں اور ہجرت پر مجبور کرنے والوں کو بھی فراموش کر دیا تھا‘ آپ ان کے ساتھ میز پر بیٹھ جائیں‘ ہو سکتا ہے لوگ اس کو ریاست کی پسپائی قرار دیں لیکن آپ کی پسپائی طواف کے بغیر احرام کھولنے سے بڑی پسپائی تو نہیں ہوگی اور احرام بھی کن کن ہستیوں نے کھولا‘ آپ ذرا تصور کیجیے‘ آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
ہم لوگ کتنے ہی پارسا‘ نیک اور عظیم ہو جائیں مگر ہماری پارسائی حدیبیہ کے قافلے میں شامل کسی ایک شخص کے پائوں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتی اور ہماری ریاست کو اگر طالبان کے ساتھ ان کی مرضی کا معاہدہ بھی کرنا پڑے تو کر جائیے کیونکہ ہماری ریاست نبی اکرمؐ کی ریاست سے بڑی اور معتبر نہیں ہو سکتی‘ آپ ایک بار جھک کر دیکھ لیجیے‘ یہ معاملات حل ہو جائیں گے کیونکہ ریاست اس وقت درجنوں مسائل کا شکار ہے‘ ہمیں اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور ہم نے اگر اس نازک وقت میں ان لوگوں کے ساتھ بھی جنگ چھیڑ لی تو ہمارے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا‘ ہمارے زخم بڑھ جائیں گے‘ ہمیں اپنے قدم جمانے کے لیے‘ اپنے معاشی مسائل کے خاتمے کے لیے اور قوم کو اکٹھا کرنے کے لیے تین سال کا عرصہ درکار ہے‘ ہم اگر ان کے ساتھ معاہدہ کر کے یہ تین سال حاصل کر لیتے ہیں تو ہم کامیاب ہو جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں یہ جنگ پاکستان کی گلیوں میں منتقل ہو جائے گی‘ اس کو نئے کمانڈر مل جائیں گے اور یہ کمانڈر ہمیں منزل سے دور لے جائیں گے‘ دور بہت دور۔
ہم نے آج فیصلہ کرنا ہے‘ ہم نے حدیبیہ کی طرف جانا ہے یا پھر معاہدہ ویتنام کی طرف‘ ہم نے انا کا شملہ نیچے کرنا ہے یا پھر ویتنام کی طرح لاشیں اٹھانی ہیں‘ فیصلہ آپ نے کرنا ہے‘ بہرحال آپ ہی نے۔
جاوید چودھری
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
مذاکرات ہی واحد حل ہے
ہمارے معاشرے میں دو طرح کے انتہا پسند ہیں ،ایک وہ جو بد سے زیادہ بدنام ہیں اور عموماً مذہبی انتہاپسند کے نام سے جانے جاتے ہیں جبکہ انتہا پسندوں کی دوسری قسم کا تعلق لبرل فاشزم سے ہے۔ لبرل بہت حساس ہوتے ہیں ،اگر کہیں کوئی کتا بھی تکلیف میں ہو تو ان سے برداشت نہیں ہوتا یہ اور بات ہے کہ اپنے مخالفین کو کتے کی موت مرتا دیکھ کر بھی ان کی انسانیت نہیں جاگتی۔ ان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ فوج بلوچستان میں آپریشن کرے تو آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں لیکن وزیرستان میں جیٹ طیاروں سے بمباری ہو تو پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔ طالبان کو ’’اپنے لوگ‘‘ کہ کر مذاکرات کی بات کی جائے تو یہ لبرل فاشسٹ رِٹ آف دی گورنمٹ کی رَٹ لگائے رکھتے ہیں لیکن کراچی میں بھتہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے تو انسانی حقوق کا درس شروع ہو جاتا ہے۔ جس طرح لال مسجد اور سوات آپریشن کی راہ ہموار کی گئی تھی ،ویسے ہی اب وزیرستان فتح کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان کے دلائل کی عمارت سطحی نوعیت کے پانچ دلائل پر کھڑی ہے جو کچھ یوں ہیں:
1۔امن مذاکرات ان سے ہو سکتے ہیں جو امن کے خواہاں ہوں،جو گن پوائنٹ پر ایجنڈا نافذ کرنا چاہیں ان سے کیسی بات چیت؟کاش ایسے مشیر امریکہ کو بھی میسر آتے تاکہ وہ طالبان سے مذاکرات کی غلطی نہ کرتا۔ کولمبیا کی حکومت کو ایسے دوراندیش دانشور دستیاب ہوتے تو وہ ان باغیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ہرگز نہ بیٹھتی جو بندوق کی نوک پر اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کیلئے مسلح جدوجہد کر رہے تھے۔ جب بنگالیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بندوق اُٹھائی تب بھی یہی کہا گیا کہ ہم ان مٹھی بھر شرپسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنیں گے لیکن جب فوج ڈھاکہ میں داخل ہوئی تو آپریشن پر اُکسانے والے ہی انسانی حقوق کی پامالی کا شور مچانے لگے اور آج تک فوج کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں۔
2۔ طالبان جمہوریت کو کفر سمجھتے ہیں، پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے، ہمارے عدالتی نظام پر یقین نہیں رکھتے تو ایسے باغیوں کو طاقت سے کیوں نہ کچلا جائے؟آئرلینڈ کے مسلح باغی برطانیہ کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتے تھے مگر انگریزوں نے مذاکراتی عمل شروع کرتے وقت یہ نہیں کہا کہ پہلے ہمارے آئین کو تسلیم کرو پھر بات چیت ہو گی۔ کشمیری مجاہدین جو بھارتی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں ،بھارتی حکومت ان کے ساتھ پس پردہ کئی بار مذاکرات کر چکی ہے مگر ان کے آئین نے کبھی برا نہیں منایا۔ جب دہشت گرد کسی عمارت پر قبضہ کر لیتے ہیں ،کسی ہوائی جہاز کو یرغمال بنا لیتے ہیں تو ان سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے ہرگز یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم ہماری ریاست اور آئین کو تسلیم کرتے ہو یا نہیں ۔ایک سکندر نے اسلام آباد کو کئی گھنٹے یرغمال بنائے رکھا تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ بات چیت شروع کرنے سے پہلے یہ تو پوچھو اسے جمہوریت پر یقین ہے یا نہیں۔
3۔ طالبان کی بات پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔جب طالبان کسی واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ اس طرح کی ای میل یا ٹیلی فون کال تو کوئی بھی کر سکتا ہے تو انہیں یہ بات سخت ناگوار محسوس ہوتی ہے اور سوال کرنے والوں کو طالبان کا حمایتی قرار دے دیا جاتا ہے مگر جب یہی طالبان کسی چرچ یا پولیو ٹیم پر حملے کی تردید کرتے ہیں تو کل تک ان کے اعترافی بیان کو قرآن و حدیث کا درجہ دینے والے یہ نام نہاد لبرل فوراً پینترا بدل لیتے ہیں۔ تب یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ مجرم اپنا گناہ قبول نہ کرے تو کیا اس کی بات سچ تسلیم کر لی جائے؟ بھلا ایسے لوگوں پر کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے۔چند روز قبل میرے ساتھ گفتگو کے دوران طالبان کے سابق مرکزی ترجمان سجاد مہمند المعروف احسان اللہ احسان نے پولیو ٹیموں پر حملوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور میں نے ان کا موقف فیس بک پر بیان کیا تو کئی افراد نے یہی اعتراض اٹھایا۔ میرا سوال یہ ہے کہ تردیدی بیانات مشکوک اور ناقابل بھروسہ ہیں تو اعترافی بیانات کوکیوں من و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے؟
4۔ طالبان کا قلع قمع کرتے وقت اگر عام افراد بھی مرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور جنگ میں گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتاہے۔بہت خوب،آپ طالبان کو نیست و نابود کرنے کے لئے بے گناہ قبائلیوں پر بم گرائیں تو ٹھیک ،اگر وہ بم دھماکوں میں عام افراد کو نشانہ بنائیں تو بہت سفاک اور ظالم۔ یہ ہاتھیوں کی وہ لڑائی ہے جس میں گھاس کی طرح دونوں طرف عوام ہی کچلے جائیں گے۔ فوجی آپریشن کے دوران تھوڑے بہت طالبان کے ساتھ بے گناہ قبائلی مریں گے تو خودکش حملہ آور شہروں میں آ کر دھماکے کریں گے اور بے قصور لوگ مارے جائیں گے۔یوں اس آپریشن کا بھی وہی حشر ہو گا جو اس سے پہلے کی جانے والی کارروائیوں کا ہوا۔
5۔ فوجی آپریشن کی حمایت کرنے والوں کی آخری منطق یہ ہے کہ مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور اب ماسوائے اس کے کوئی راستہ نہیں بچا کہ باغیوں کو کچل دیا جائے۔ مذاکرات کے نام پر حکومت نے جو سرکس سجائی تھی اس کی حقیقت تو مولانا سمیع الحق نے آشکار کر دی۔ یہ اسی طرح کا بھونڈا مذاق تھا جو اکبر بگٹی اور غازی عبدالرشید کے ساتھ کیا گیا۔ باقی رہا ان باغیوں کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کا سوال تو ماضی قریب میں مسلح جدوجہد کو فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کرنے کی ایک ہی مثال ہے اور وہ ہے سری لنکا کی جہاں تامل باغیوں کو بندوق کے ذریعے جھکنے پر مجبور کر دیاگیا مگر26سالہ لڑائی کے بعد سری لنکا کے شہریوں کو یہ فتح نصیب ہوئی۔ اس دوران وزیر دفاع سمیت کئی حکومتی شخصیات قتل ہوئیں ،کئی جرنیل مارے گئے، 25000فوجی جوان اور افسرجان سے گئے، بچے کھچے باغیوں نے اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے جب تک ان کے سپہ سالار سمیت 27000ہزار جنگجو مارے نہیں گئے، معیشت تباہ ہو گئی اور کم از کم 200 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تب کہیں جا کر یہ لڑائی ختم ہوئی۔اگر ہماری قوم، ہماری سیاسی قیادت اور فوج اس قدر طویل جنگ لڑنے کی استقامت رکھتی ہے اور ہر قسم کی قربانیاں دینے کو تیار ہے تو جی بسم اللہ،آگے بڑھیں اور اس بغاوت کا سر کچل دیں لیکن بُرا نہ مانیں تو ماضی میں کی گئی فوجی کارروائیوں کی بیلنس شیٹ چیک کر لیں۔اگر ہم چار فوجی آپریشنوں کے ذریعے بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور حکومتی رٹ بحال ہو چکی ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ وزیرستان میں بھی اس آپریشن کے نتیجے میں امن قائم ہو جائے گا۔
ہمارے کمانڈو جرنیل پرویز مشرف جو کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں،سب سے پہلے انہوں نے قبائلی علاقوں میں فوج داخل کی اور آپریشن کیا مگر بھاری جانی و مالی نقصان کے نتیجے میں یہ آپریشن ادھورا چھوڑ کر طالبان سے امن معاہدہ کرنا پڑا اور کور کمانڈر پشاور نے اسی نیک محمد کو ہار پہنائے جس نے فوجی جوانوں کو ذبح کیا تھا۔ان کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو پہلے وزیرستان اور پھر سوات میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا ۔وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے قوم کو خوشخبری دی کی ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے لیکن قوم نے محسوس کیا کہ دہشت گرد کمر ٹوٹنے کے بعد پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں۔پہلے تو ان کی کارروائیاں پشاور تک محدود تھیں مگر کمر ٹوٹنے کے بعد وہ رینگتے رینگتے اسلام آباد آ گئے اور ایک دن جی ایچ کیو پر قبضہ کر لیا۔یہ قبضہ چھڑانے کے لئے ہماری حکومت کو جیل میں قید کالعدم جماعت کے رہنما کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر جی ایچ کیو لے جانا پڑا تاکہ وہ یرغمالیوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر سکیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر ان کی کمر توڑنے کی کوشش میں ہمارا رہا سہا بھرم ٹوٹ جائے۔
محمد بلال غوری
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
GM Syed
جی ایم سید کے مداح دو قسم کے رہے ہیں۔ ایک وہ جو جی ایم سید کی تحریروں اور تقریریوں سے ان کے افکار و خیالات کے مداح بنے …اور ایک وہ جو جی ایم سید کی مکمل سیاسی زندگی کا مطالعہ کرکے اور ان کے ماضی کے ساتھ حال کا تجزیہ کرکے ان کے سیاسی افکار و خیالات سے بالا ہوکر ان کی سچائی اور صاف گوئی کے ناتے ان کے مداح بنے۔
میرا شمار بھی جی ایم سید کے ان مداحوں میں ہوتا ہے جو ان کے صاف ستھرے شخصی کردار، سچے اور کھرے سیاست دان کی حیثیت سے طویل سفر اور کڑواہٹ کی حد تک بیباکی سے دل کی بات بے خطر کہنے والے شخص کے طور پر انہیں منفرد سمجھتے تھے۔
یوں بھی ایک صحافی اور وقائع نگار کی حیثیت سے مجھ پر لازم تھا کہ میں ان کے سیاسی افکار کا حامی یا مخالف بنے بغیر ان کی بات پڑھنے والوں تک پہنچادوں۔
جی ایم سید کے خیالات جاننے اور انہیں قریب سے سننے کا موقع مجھے صحافت کے آغاز ہی سے ملا۔ 4 مارچ 1972ء کو بسنت ہال حیدرآباد کے جلسے میں جی ایم سید اسٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں اسٹیج کے کنارے ان کے قریب بیٹھ کر تقاریر لکھ رہا تھا، جب صدر کے رٹز ہوٹل میں اسی شب جی ایم سید نے وزیراعلیٰ بلوچستان عطاء اللہ مینگل کو عشائیہ دیا تو یہاں بھی مجھے شرکت اور تقاریر کو رپورٹ کرنے کا موقع ملا… پھر غالباً اگست 1972ء کے دوران جی ایم سید اور دیگر قوم پرست سیاست دانوں نے جب بھرگڑی ہاؤس ہیرآباد میں جلسے سے خطاب کیا تو میں نے اس کی رپورٹ بھی لکھی۔ اسی طرح میں نے 1973ء اور اس کے بعد مختلف اہم تقریبات اور واقعات کی رپورٹنگ بھی کی۔
تاہم جی ایم سید سے مثالی تعلق 1984ء میں استوار ہوا۔ جب مارچ1984ء سے مشہور رسالے ’’تکبیر‘‘ کا آغاز ہونے جا رہا تھا تو اس کے منیجنگ ایڈیٹر محمد صلاح الدین نے اس خواش کے ساتھ مجھے ذمہ داری سونپی کہ میں ابتدائی شماروں کے لیے ہی کوئی ایسی رپورٹ لکھوں جس سے پورے ملک میں ’’تکبیر‘‘ کا چرچا ہونے لگے۔ انہوں نے رسالے کے اجراء سے ایک ماہ قبل ہی مجھے انگیج کرلیا تھا۔ محمد صلاح الدین کی جانب سے اعتماد کے ساتھ یہ ذمہ داری دینے پر میں کئی روز فکرمند رہا۔ سیاسی شخصیات سے انٹرویو کرنا اگرچہ میرا پسندیدہ شعبہ تھا اور اُس زمانے میں جی ایم سید ایسی شخصیت تھے جن سے ایک اچھے انٹرویو میں کامیابی کا مطلب رسالے کی کامیابی تھا، مگر سوال یہ تھا کہ جی ایم سید سے کیسے ملوں اور انہیں بات چیت پر کیسے رضامند کروں۔ بہت سے اندیشے تھے اور ناکامی کا خوف بھی، اس کے باوجود میں ہمت کرکے سن جا پہنچا اور 8 فروری 1984ء کو میں نے تمام دن کی مشقت کے بعد جی ایم سید سے اتنی گفتگو کرلی کہ چھپے تو ملک بھر کی توجہ حاصل کرلے۔ دیوارِ برلن جیسی اجنبیت حائل ہونے کے باوجود یہ ایک صحافی کا تاریخ ساز سیاستدان سے ایسا اچھوتا انٹرویو تھا جس نے برسوں کی محبت، شفقت اور شناسائی کی بنیاد رکھی۔
یہ انٹرویو ’’تکبیر‘‘ میں چھپا تو ’’جنگ‘‘ سمیت کئی بڑے اردو اخبارات کے صفحہ اول کی خبر بنا، اور نہ صرف ’’تکبیر‘‘ نے ایک ہی جست میں مہینوں اور برسوں کی شہرت کا فاصلہ طے کر لیا بلکہ خود میںنے چشم زدن میں جی ایم سید کا وہ اعتماد اور اعتبار حاصل کر لیا جسے عشروں سے کوئی صحافی،خصوصاًاردو اخبار یا رسالے کا صحافی حاصل نہیں کر سکا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ جب ’’تکبیر‘‘ میں جی ایم سید کا انٹرویو چھپا تو جئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سندھ یونیورسٹی میں سرکردہ لیڈر سن گئے اور سائیں سے پوچھا کہ ایک اردو رسالے میں آپ کا انٹرویو چھپا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ …تو سائیں نے کہا: ہاں میں نے انٹرویو دیا ہے اور یہ لڑکا پہلا اردو بولنے والا صحافی ہے جس نے سب کچھ وہی لکھا ہے جو میں نے کہا تھا، اس نے کوئی ہیرپھیر نہیں کی۔ اس تصدیقی سند کے بعد JSSFنے اس انٹرویو کو سندھی میں ترجمہ کراکر گاڑی کھاتہ حیدرآباد کے ایک پریس سے بڑی تعداد میں پمفلٹ کی صورت چھپوایا اور تقسیم کیا۔
جی ایم سید نے 8فروری 1984ء کے انٹرویو میں سچائی کا ایسا خوبصورت اظہار کیا تھا جس کی سرشاری میں آج تک محسوس کرتا ہوں کہ یہ تاریخ سے ہم کلام ہونے کا شرف تھا جو مجھے حاصل ہوا۔ اس انٹرویو میں جی ایم سید نے قو م پرستی کے نئے رجحانات کے پس منظر میں بہت سی بنیادی باتوں کے ساتھ یہ تاریخی حقیقت بھی بیان کی تھی کہ ’’مذہب تبدیل ہوسکتا ہے، وطن تبدیل نہیں ہو سکتا۔‘‘
سب جانتے ہیں کہ 1984ء کے بعد ہی سندھ میں مہاجر قوم پرستی کے حوالے سے ایک نئی ہلچل کا آغاز ہوا اور اس زمانے میں کچھ ایسا ہی فکری سیاسی انتشار پیدا ہوچکا تھا جیسا کہ اِن دنوں پورے سندھ بلکہ پاکستان میں آکاس بیل کی طرح پھیلا ہوا ہے۔
دسمبر2007ء میں بے نظیر بھٹو کے قتل اور اس کے نتیجے میں آصف علی زرداری کی غیر متوقع حیران کن حکمرانی سے اب 2014ء میں میاں نوازشریف کی فیملی لمیٹڈ حکومت تک ہم جس بے سمت، بے مقصد سیاست کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اس کی جڑیں بہت دور تک جاتی ہیں، خصوصاً 1970ء کے انتخابات اور اس کے نتائج سے جنم لینے واقعات کو آج کے حالات سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
اسی فکری سیاسی انتشار نے1984ء سے1987ء کے دوران جب ملک پر غلبہ حاصل کیا ہوا تھا اور صاحبِ دانش لوگ مستقبل کے حوالے سے پریشان رہا کرتے تھے تو میرے ایک دوست نے جنہیں معلوم تھا کہ جی ایم سید مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، بار بار اصرار کیا کہ کسی دن جی ایم سید کے پاس چل کر پوچھیں کہ کیا ہونے والا ہے اور ہمارا مستقبل کیا ہے؟ ان کے نزدیک اُس وقت صرف جی ایم سید ہی ایسے سیاست دان تھے جو کسی لالچ کے بغیر بلا خوف سچائی سے بتا سکتے تھے کہ ہماری بقاء کا راستہ کیا ہے۔ چونکہ وہ بھی میری طرح جی ایم سید کی سچی اورکھری باتوں کے سبب ان کے مداح تھے، لہٰذا وہی اپریل 1987ء میں میرے اس سفر کا محرک اور ذریعہ بنے جس کے نتیجے میں تمام دن کی طویل گفتگو کے بعد میری کتاب ’’جی ایم سید کی کہانی‘‘ تخلیق ہوئی۔
موجودہ پاکستان کے فکری سیاسی انتشار کا مایوس کن تاریک پہلو یہ ہے کہ آج سندھ میں کوئی جی ایم سید جیسا جہاندیدہ، تجربہ کار اور دور اندیش شخص موجود نہیں ہے جس سے صرف ایک انٹرویو (فروری1984ئ) کی بنیاد پر کوئی ظہیر احمد سن کا سفر کرکے اور مستقبل کا پتا پوچھنے کے لیے گفتگو کے نشیب و فراز کے ساتھ اُس وادی میں دور تک اُتر جائے جہاں لفظوں کے جھروکے سے قوموں کے عروج و زوال کی درد بھری داستان صاف سنائی دیتی ہے۔
میری کتاب ’’جی ایم سید کی کہانی‘‘ کے پیش لفظ کا پہلا جملہ ہی یہ تھا ’’جی ایم سید سے آپ کو ایک لاکھ مرتبہ اختلاف ہوگا لیکن کیا آپ اس بات سے انکار کرسکیں گے کہ جی ایم سید نصف صدی سے زیادہ عرصے کی ہماری تاریخ کا گمشدہ باب ہیں۔‘‘
مجھے فخر ہے کہ میں نے یہ گمشدہ باب دریافت کرکے اپنی قومی سیاسی تاریخ کی سمت کو درست کرنے کی سعی کی، اور یہ سعی یا کوشش میرے قریباً نصف صدی کے صحافتی کیریئر کا سب سے قابلِ ذکر ایونٹ ہے۔ جب میری یہ کتاب چھپ رہی تھی تو ایک بار 23 اگست 1987ء کو میں جی ایم سید کی عیادت کے لیے جناح ہسپتال کراچی گیا۔ پھر جب وہ حیدر منزل آگئے تو21 ستمبر1987ء کو میں نے حیدر منزل جاکر پھر ان کی خیریت پوچھی اور ان کی بے پناہ محبت کا حق دار بنا اور دوپہر کے کھانے میں شریک ہوا۔ یہ ون ٹو ون ملاقات تھی۔
جب میری کتاب چھپ گئی تو اتفاقاً جی ایم سید کا حیدرآباد آنا ہوا۔ یہ 19اکتوبر 1987ء کا دن تھا جب میں نے شہاب الدین شاہ کے گھر پر سائیں کو اپنی کتاب پیش کرکے ایک کتاب پر اُن کے آٹو گراف لیے۔ یہ تاریخی نسخہ اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔
1988ء کے انتخابات کے بعد سندھ میں فکری سیاسی انتشار یکلخت بڑھ گیا تھا اور آج کی طرح اُس وقت بھی سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔
اسی انتشار کے دوران 23 جولائی 1989ء کی شام میں نے
باقی صفحہ 41 پر
حیدرمنزل کراچی میں جی ایم سید سے ملاقات کی اور حالات پر ان کی رائے لی۔ اس نشست میں جی ایم سید نے دورانِ گفتگو کمال کا یہ جملہ بولا تھا: ’’مہاجروں نے کمیونٹی آف کرمنلز پیدا کردی ہے‘‘ …شاید یہ بات جسے دو عشروں نے ہر لحاظ سے سچ ثابت کر دکھایا ہے، جی ایم سید جیسا بے خوف، دور اندیش اور صاف گو شخص ہی کہہ سکتا تھا۔ جی ایم سید نے اس دوران یہ بھی کہا تھا: ’’ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ یہاں شہروں میں بیٹھ کر چند آدمی سندھ کی تقسیم کی بات کریں… اگر کریں گے تو ہم لڑیں گے، ضرور لڑیں گے۔‘‘ میں نے جی ایم سید کی دونوں باتوں کو رسالے کے ٹائٹل پر سرخی میں شائع کیا تھا کہ یہ ایک سچے اور کھرے سیاست دان کو ایک صحافی کے معمولی خراج تحسین کا انداز تھا۔
چند برس پہلے میرے ایک سندھی دوست نے جو بینک میں افسر تھے، مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے جی ایم سید اور ذوالفقار علی بھٹوکو قریب سے دیکھا، سنا اور پرکھا ہے، آپ کی نظر میں کون بہتر تھا؟ میں نے ایک لمحہ تاخیر کے بغیر جی ایم سید کا نام لیا تو اس نے خوشگوار حیرت کے ساتھ وجہ پوچھی۔
میرا جواب یہ تھا کہ جی ایم سید خود ان کے بقول آئیڈیلسٹ تھے۔ آئیڈیلسٹ اپنے افکار کے مطابق سیاسی اور سماجی معاشرے کی تمنا کرتا ہے۔ بدکرداری، بے ایمانی، ناانصافی، حق تلفی، دھونس اور جبر سے نفرت کرتا ہے۔ جلتا کڑھتا ہے، ناکام رہتا ہے، اپنا نقصان کرلیتا ہے، مگر اپنے وطن اور اپنی دھرتی کو مایوس نہیں کرتا اور اقتدار کے لیے اس کے حصے بخرے کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ جبکہ پریکٹیکل پالیٹیشن ہوسِ اقتدار میں ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کی بات کرکے ملک کے دو ٹکڑے کردیتا ہے۔ اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بلوچستان کی منتخب حکومت برطرف کرکے فوج کشی کراتا ہے، سیاسی مخالفت پر سانگھڑ میں چھ حُروں کو قتل کرا دیتا ہے، انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو کے لیکچرار اشوک کمار کو اپنے حامی طالب علم لیڈروں کے کہنے پر غائب کرا دیتا ہے اور اس کی ماں بیٹے کی راہ تکتے ہوئے پاگل ہوجاتی ہے، پریکٹیکل پالیٹیشن فخر ایشیا بننے کے لیے حیدرآباد جیل میں عدالت لگاکر مخالف سیاستدانوں کو غدار بنانے کی فیکٹری کھول دیتا ہے۔ ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت سیاسی مخالفین کی زباں بندی، اخبارات کی بندش، صحافیوں کی گرفتاری، فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے گسٹاپو کا قیام جمہوریت کے لازمی جز قرار پاتے ہیں۔ پھر بھی کامیابی پریکٹیکل پالیٹیشن کو ملتی ہے اور اسے ہی کامیاب قرار دے کر پورا ملک کسی رجواڑے کی طرح عشروں کے لیے اس کے خاندان اور اس کے خاندانی مالشیئوں کے نام لکھ دیا جاتا ہے۔
شاید اسی طرح آج کے جانشین پریکٹیکل پالیٹیشن ہوسِ اقتدار میں ملک کی طرح سندھ کے دو ٹکڑے قبول کرکے بھی کامیاب اور جمہوریت نواز کہلائیں۔
مگر ان کی بدقسمتی سے پاکستان کی قسمت سندھ کی قسمت سے وابستہ ہوچکی ہے، اب وحدتِ سندھ کے بغیر وحدتِ پاکستان کا تصور محال ہے، لہٰذا میرا یقین ہے کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر موجودہ دور کے آئیڈیلسٹ جی ایم سید ناکام نہیں ہوں گے اور وحدتِ سندھ کے حوالے سے ضرور کامیاب ٹھیریں گے۔
اب 1970ء کی طرح ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ والے پریکٹیکل پالیٹیشن 2014ء میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
ظہیر احمد
Subscribe to:
Posts (Atom)
Popular Posts
-
Pakistan Air Force Female Fighter Pilot, Ayesha Farooq
-
آپریشن ضربِ عضب نہ تو اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے نہ ہی آخری......
-
حماس کے عسکری ونگ نے اسرائیلی فوجی کو پکڑ لیا
-
Pak army song
-
US Transport Aircraft Lands at Shamsi Air Base For Evacuation
-
K-8 Karakorum Fighter Jet Trainer with Rocket & Gun Pods
-
General Kayani Witness Formation Level Training Exercises
-
NATO Attack Was A Deliberate Act: DGMO Pak Army
-
Geo News Live Geo TV Live Online
-
Join Army As Captain/Major Through Short Service Regular Commission
Labels
- 10 Years
- 10 Years of Face Book
- 1947–1958
- 1971–1977
- 1977–1999
- 2002 Gujarat violence
- 2010 FIFA World Cup
- 2014 Fifa World Cup
- 2014 World Cup Brazil
- 28 May “Youm-e-Takbeer”
- 35 Punctures
- 3G/4G
- 3G/4G auction in #Pakistan
- Aafia Siddiqui
- Aaj Tv
- Aamir Khakwani
- Aangan Terha
- Abdul Qadeer Khan
- Abdul Wali Khan
- Abdullah Tariq Sohail
- Abdusalam
- Abortion
- Abseiling
- Abu Bakr
- Abu Bakr al-Baghdadi
- Abu Hamza Rabia
- Abu Laith al-Libi
- Abu Sulayman Al-Jazairi
- Accidents
- Adward Snowden
- Afghanistan
- Afghanistan war
- Afghanistan Wars Cost
- Africa
- Aftab Iqbal
- Agence France Presse
- Ahmad Kamal
- Ahmed Shehzad
- Air Force
- Air Show
- Air-to-Air Refueling
- AirForce and Navy
- Airport security
- Airstrike
- Akbar
- Akram Khan Durrani
- Al Arabiya
- Al Qaeda
- Al Sharpton
- Al-
- Al-Ikhlas
- Al-Khidmat Foundation
- Al-Qaeda
- Al-Shifa
- Al-Shifa Hospital
- AlKhidmat Foundation Pakistan
- Allah
- alqaeda
- ALS
- ALS Association
- Altaf Hussain
- Altaf Hussain arrested in London
- Altaf Hussain Qureshi
- Amazon Mechanical Turk
- Ambulance
- Ambulance Drivers of Karachi
- American Medical Association
- American Muslims
- American Osteopathic Association
- Amir Mir
- Amman
- Amna Masood Janjua
- Amnesty International
- Amyotrophic lateral sclerosis
- Anantnag
- Anarkali
- Ancient World
- Andhra Pradesh
- Andrew McCollum
- Ankahi
- Annals of Internal Medicine
- ANP
- Ansar Abbasi
- Anti-Ship Missiles
- Anti-statism
- Anti-Submarine Helicopters
- Anti-Submarine Warfare
- Antonio
- Antonio Inoki
- Apache
- Apostle
- Arab people
- Arabian Sea
- Arabic language
- Arena Amazônia
- Arena de São Paulo
- Arena Fonte Nova
- Arena Pantanal
- Armored Vehicles
- Army operation
- Art
- Arts
- Arts and Entertainment
- Arvind Kejriwal
- ARY
- ARY Digital
- ARY News
- ARY News Live
- ARY News Online
- Asad Umar
- Asia
- Asia Cup
- Assam
- Associate Members
- Associated Press
- Atmospheric Sciences
- Atomic nucleus
- Attack Helicopters
- Attack on Hamid Mir
- Auction
- Author
- Autogrill
- Aviation
- AWACS
- Awami National
- Awami National Party
- Ayaz Amir
- Ayesha Gazi
- Azad Kashmir
- Azadi March
- Babar Suleman
- Baitul-Maqdis
- Bajaur Agency
- Balakot
- Ballistic Missile
- Baloch people
- Balochistan
- Balochistan Pakistan
- Balochistan Crises
- Balochistan Liberation Army
- Balochistan Pakistan
- Baluchistan
- Bangladesh
- Bangladesh Liberation War
- Bangladesh Nationalist Party
- Banking in Switzerland
- Bannu
- Baptists
- Bara
- Barack Obama
- Barak Obama
- Barbados
- Bari Imam
- Baroness Sayeeda Warsi
- Bashar al Assad
- BBC
- Beautiful Mosques
- Beautiful Places
- Beauty of Pakistan
- Beheading of US journalist
- Behroze Sabzwari
- Beijing
- Belgium
- Benazir Bhutto
- Benjamin Netanyahu
- Bharatiya Janata
- Bharatiya Janata Party
- Bhutto
- Big Ben
- Big Disasters
- Big Three
- Bihar
- Bilal Ghuri
- Bilawal Bhutto Zardari
- Bill & Melinda Gates Foundation
- Bill Gates
- BJP
- Blasphemy
- Blog
- Board of Control for Cricket in India
- Bob Sapp
- Bodyart
- Bodypainting
- Bogor
- Books
- Boston
- Brahmaputra River
- Brazil
- Brazil national football team
- Breast cancer
- Britain
- Brown
- Build Pakistan
- Bund
- Burkina Faso
- Burma
- Business
- Business and Economy
- Cabinet of the United Kingdom
- Camps
- Canada
- Canadian cultural protectionism
- Capital punishment
- Caribbean
- casualties
- Ceasefire
- Central Jail Gujranwala
- Central Prison Karachi
- Chairman of the Conservative Party
- Chanel
- Charge Sheet Against Geo News
- Chaudhry Pervaiz Elahi
- Chaudhry Shujaat Hussain
- Chenab River
- Chennai Super Kings
- Chhipa Ambulance
- Chief Justice Nasir–ul–Mulk
- Chief Minister of Punjab Pakistan
- Child
- Child Abuse
- Child Abuse in Pakistan
- Child Marriage
- Child Marriage in Pakistan
- Child Protection in Pakistan
- Children
- China
- Chinese
- Chinese New Year
- Cholistan Desert
- Chris Hughes
- Christmas
- Circumvesuviana
- Clock
- Clock face
- Cold War
- Colombia
- Conservative
- constitution and pakistan
- Constitution of Pakistan
- Construction
- Coronavirus
- Corruption in Pakistan
- Countries with the largest Muslim populations
- Credit Suisse
- Cricket
- Crime
- Crown Jewels of the United Kingdom
- Cruise Missile
- Current deployments
- Cyclone Nanauk
- Daily Jang
- Damascus
- Darya-ye Noor
- Data Darbar Lahore
- David Cameron
- Dawa
- DawnNews
- Dead city
- Debaltseve
- Defence Ministry
- Democracy
- Democracy in India
- Depression
- Dera Ismail Khan
- Dhoop Kinare
- Displaced person
- Domestic violence
- Donetsk
- Donetsk Oblast
- Dr. Aafia Siddiqui release
- Dr. Akramul Haq
- Dr. Hasanat
- Dr. Mujahid Mansoori
- Dr. Safdar Mehmood
- Dr. Shahid Hassan
- Dr. Shahid Siddiqui
- Drought
- Drug
- Drug interaction
- drug war
- Dubai
- Dubi Air Show
- Dunya News
- Dustin Moskovitz
- Earth Sciences
- East India Company
- Eastern Ukraine
- Ebola
- Ebola outbreak
- Ebola virus disease
- Economic growth
- Economics
- Edinburgh
- Eduardo Saverin
- Education
- Education system in Pakistan
- Egypt
- Election
- Election Commission of India
- Elections in India
- Electronic media
- Ellen Johnson Sirleaf
- Emergency service
- End enforced disappearances in Pakistan
- Energy Crises in Pakistan
- England
- Engro Corporation
- ER (TV series)
- Ethel Kennedy
- Ethiopia
- Eurasian Union
- Europe
- European
- European Union
- Express News
- Express Tribune
- Ezzedine Al-Qassam Brigades
- F-16
- Face Book
- Face Book History
- Facepainting
- Facts and Statistics
- Faisalabad
- Falah-e-Insaniat Foundation
- Famous Cricket Players And Their Kids
- Farmer
- Fashion
- Fast Attack Missile Craft
- Fatah
- Fatima Surayya Bajia
- Fellowship
- Female Pilots
- Ferguson
- Ferguson Missouri
- FIF
- FIFA
- FIFA World Cup
- Fighter Aircrafts
- Fighter Jet Trainer
- Finance minister
- Financial Services
- Flash flood
- Flood
- Flood in Pakistan
- Floods
- Follow Follow
- Food Standards Agency
- Football
- Foreign and Commonwealth Office
- Fortaleza
- France
- Friday
- Frigates
- Fuji Television
- Full Members
- Fundamental Rights Agency
- Future of Electronic Media in Pakistan
- G-3S Rifle
- G.M.F
- Gauhati
- Gaza
- Gaza Children
- Gaza City
- Gaza Strip
- Gaza under attack
- Gaza War
- General election
- genetically modified food
- Geo
- Geo apologizes
- Geo News
- Geo News Live Geo TV Live Online
- Geo TV
- geonews
- geotv
- German language
- Ghulam Noor Rabbani Khar
- GM Syed
- Gmail
- Golden Temple
- Google Authorship
- Google Blog Search
- Google Password
- Google+
- Government
- Government College University
- Government of Pakistan
- Granja Comary
- Great Comet
- Great Football Players
- Greece
- Guinea
- Gujarat
- Gulabo
- Gullu Butt
- Guru Nanak Stadium
- Guwahati
- Habib Jalib
- Hadith
- Hadrat
- Hafiz Muhammad Saeed
- Haitham al-Yemeni
- Hajj
- Hajj by Sea
- Hamas
- Hamid Karzai
- Hamid Mir
- hamidmir
- Happy Pakistan Independence Day 2014
- Hardcover
- Haris Suleman
- Hasb-e-Haal
- Haseena Moin
- Health
- Health Canada
- Heavy Rain
- Helicopters
- Henry Bartle Frere
- Herculaneum
- Heroes Of Pakistan Police? Pakistan
- Higher Education in Pakistan
- Hijab
- Hina Rabbani Khar
- Hindu
- Hindu nationalism
- Hiroshima
- History
- Hiv And Aids
- Holidays in Pakistan
- Home
- Honor killing
- Honour killing in Pakistan
- Horseshoe Falls
- Houses of Parliament
- How do you treat the worst democracy?
- How Does Google Work?
- How to Avoid Food Poisoning
- HTML5
- Huangpu
- Huangpu River
- Humaima Malick
- Human behavior
- Human Rights Commission
- Hyderabad
- Iam Malala
- Ibtisam Elahi Zaheer
- ICC
- Ideas-2012
- IDF
- Idrees Bakhtiar
- Ikramul Haq
- Illegal drug trade
- Illegal immigration by sea
- Imam Haram
- Important Darbars in Pakistan
- Imran Farooq
- Imran Khan
- Imran Khan calls for civil disobedience
- Independence Day
- India
- India Election
- India national cricket team
- India–Pakistan relations
- Indian
- Indian Air Force
- Indian Elections
- Indian general election
- Indian National Congress
- Indian Ocean
- Indian Premier League
- Indiana
- Indo-Pakistani War of 1947
- Indonesia
- Indus River
- Inqilab March
- Insaf
- Inter Service Public Relations
- Inter-Services Intelligence
- Inter-Services Public Relations
- Interior ministry
- Internally displaced person
- International Civil Aviation Organization
- International Cricket Council
- International Security Assistance Force
- Internet
- Internet monitoring
- Internet access
- IPL 2014 in Pictures
- Iran
- Iran Pro League
- Iran's nuclear program
- Iraq
- Iraq War
- Irfan Siddiqui
- Ironside
- Irshad Ahmed Arif
- Ishaq Dar
- Ishtiaq Ahmed
- Ishtiaq Baig
- ISI
- ISIL
- Islam
- Islamabad
- Islamabad Dharna
- Islami Shariah
- Islamic banking
- Islamic State
- Islamic State of Iraq and ash Sham
- Islamic terrorism
- Israel
- Israel Defense Forces
- Israeli
- Istanbul
- Italy
- Jahangir
- Jakarta
- Jama'at-ud-Da'wah
- Jamaat-e-Islami
- Jamat Islami
- James Foley
- Jamia Binoria
- Jamiat Ulema-e-Islam
- Jammu
- Jammu and Kashmir
- Jammu Kashmir
- Jammu-Kashmir
- Jamrud
- Jamsed Dasti Allegations
- Jamshed Dasti
- Jang
- Jang Group
- Jang Group of Newspapers
- Jang Group Open Letter To The Government And PEMRA
- Japan
- Japan's new immigration law
- Javed Chaudhry
- Javed Hashmi
- Jazz
- Jeddah
- Jerusalem
- JF-17 Thunder
- Jhang
- Jhelum District
- Jhelum River
- Jim Breyer
- Jin Mao Tower
- Jinnah International Airport
- Job Opportunities in Pakistani Armed Forces
- John Adams
- Joint Military Exercise
- Joko Widodo
- Jordan
- Journalist
- Judicial Watch
- July 8
- June
- June 2014
- Kabaddi
- Kabul
- Kalabagh
- Kalabagh Dam
- Kanwar Dilshad
- karachi
- Karachi Airport Attack
- Karachi Division
- Karachi operation
- Karachi Stock Exchange
- Karl Lagerfeld
- Karnataka
- Kashf ul Mahjoob
- Kashmir
- Kashmir Day
- Kashmir Solidarity Day
- Kashmiri
- Kashmiri Pandit
- KESC
- Khabarnaak
- Khair Bakhsh Marri
- Khaled Al Maeena
- Khalid Almaeena
- Khan Younis
- Khan Yunis
- Khattak
- Khuda Ki Basti
- Khuzaa
- KHYBER PAKHTUNKHWA
- Khyber Pakhtunkhwa Assembly
- Khyber Pukhtoonkhwa
- Khyber-Pakhtunkhwa
- King Abdullah
- Koh-i-Noor
- Koh-i-Noor Hira
- Konark
- Kounsarnag
- Kuala Lumpur
- Kulgam district
- Lahore
- Lahore High Court
- Lahore Metro Train Project
- Lake Malawi
- Landslide
- Larkana
- Law
- LCA Tejas
- League of Nations
- Levant
- Liberia
- Lieutenant General Raheel Sharif
- Lifeboat (rescue)
- Lionel Messi
- List of diplomatic missions in Pakistan
- Literature
- Load-shedding
- Login
- Loksabha
- London
- Long March
- Love Pakistan
- Luhansk
- Luis Suárez
- Lupanar
- Lyari
- Mads Gilbert
- Maha
- Mahira Khan
- Mahmoud Abbas
- Major Shaheed
- Major problems in Pakistan
- Major Raja Aziz Bhati Shaheed
- Makes and Models
- Malala Yousafzai
- Malala Yousef Zai
- Malaysia
- Malaysia Airlines
- Malaysia Airlines flight
- Malaysia Airlines MH17
- Malaysia Airlines MH370
- Malik Riaz Hussain
- Mall of the World
- Mama Qadeer
- Mama Qadeer Baloch
- Manmohan Singh
- Manzoor Ijaz
- Manzoor Wattoo
- Mao Zedong
- Map
- Marina Khan
- Maritime Patrol Aircraft
- Marri
- May Allah
- Mazar-e-Quaid
- Mecca
- Médecins Sans Frontières
- Media
- Media of Pakistan
- Media studies
- Member state of the European Union
- Mers Virus
- Met Office
- Meteorology
- MH370 Flight Incident
- Michael Brown
- Microscope
- Microsoft
- Middle East
- Migration of Waziristan Children
- Minhaj-ul-Quran
- Ministry of Defence
- Mir Shakil
- Mir Shakil-ur-Rahman
- Mirpur Khas
- Mirza Aslam Baig
- Missile
- Missing People from Blochistan
- Mission
- Missouri State Highway Patrol
- Mithi
- Modi
- Mohammad Asghar
- Mohammed Ali Jinnah
- Mohammed bin Rashid Al Maktoum
- Mohammed Yousaf
- Mohenjo-daro
- Mohmand
- Mohtarma Fatima Jinnah
- Money laundering
- Mood (psychology)
- Mosul
- Mount Vesuvius
- MQM
- MQM Resignations
- Mubashir Luqman
- Mufti Muneeb ur Rehman
- Mughal
- Mughal Empire
- Muhammad
- Muhammad Ali Jinnah
- Muhammad Tahir-ul-Qadri
- Mujahid Mansoori
- Mujahideen
- Multan
- Multi Barrel Rocket Launcher
- Mumbai
- Murder
- Music
- Muslim
- Muslim Achievements
- Muslim Countries of the World
- Muslim Leaders
- Muslim scientists
- Muttahida Qaumi Movement
- Nablus
- Nagarparkar
- Najam Sethi
- Nalanda
- Nalanda district
- Nanauk
- Naples
- Narendra Modi
- Nasim Zehra
- Nasrullah Shaji
- Naswar
- National
- National Awami Party
- National Disaster Response Force
- National Football League
- National Security Agency
- NATO
- Navy
- Nawab
- Nawabzada Nasrullah Khan
- Nawaz Sharif
- Nawz Sharif
- Nazism
- Nek Muhammad Wazir
- Nepal
- Netanyahu
- New Delhi
- New World Order
- New Year
- New york
- Neymar
- Niagara Falls
- Niagara Falls Ontario
- Nigeria
- Nisar Ali Khan
- Nishan e Haider
- Noor
- Noor Muhammad
- North Africa
- North Korea
- North Waziristan
- Northern Ireland
- NSA
- Nuclear Weapons
- Nurpur Shahan
- Obesity
- Old Pakistani TV dramas
- Oman
- One Day International
- Online Petition for Aafia's Release
- Ontario
- Operation Blue Star
- Orange Order
- Organization and Command Structure
- Organizations
- Oriental Pearl Tower
- Orya Maqbool Jan
- Pacific Ocean
- Pak Army Arms
- Pak Army Arms Traning
- Pak Navy
- Pak Navy S.S.G
- Pakistan
- Pakistan and IMF
- Pakistan and India Relations
- Pakistan and Saudi Arabia Relations
- Pakistan and War on Terror
- Pakistan Armed Forces
- Pakistan Army
- Pakistan Awami Tehreek
- Pakistan blocked unregistered mobile SIMs
- Pakistan Constitution
- Pakistan Democracy
- Pakistan Disabled Peoples
- Pakistan Economy
- Pakistan Education System
- Pakistan Electronic Media Regulatory Authority
- Pakistan Flood Destruction
- Pakistan government
- Pakistan History and Introduction
- Pakistan Income Tax System
- Pakistan Industry
- Pakistan Judiciary
- Pakistan Media
- Pakistan Muslim League
- Pakistan Muslim League (N)
- Pakistan Muslim League (Q)
- Pakistan Navy
- Pakistan New World Records
- Pakistan Ordinance
- Pakistan Parliament
- Pakistan Peace Talks with Taliban
- Pakistan People
- Pakistan Peoples Party
- Pakistan Police
- Pakistan Political Crisis
- Pakistan Politics
- Pakistan Post
- Pakistan Postage
- Pakistan Poverty
- Pakistan Rangers
- Pakistan Rupee
- Pakistan Rupee against US Dollar
- Pakistan Tehreek
- Pakistan Tehreek-e-Insaf
- Pakistan Unrest
- Pakistan Working Women
- PAKISTAN: International Women's Day
- Pakistan's military operations
- Pakistani
- Pakistani Air Force
- Pakistani Dramas Classics
- Pakistani people
- Pakistani television
- Pakistani UAV Industry
- Pakistanis in the United Arab Emirates
- Pakistanis set new world records Business
- PakistanRailways
- Pakitan Vip Culture
- Palace of Westminster
- Palestine
- Palestine’s unity government
- Palestinian people
- Palestinian refugee
- Palestinian rocket attacks on Israel
- Palestinian territories
- Paper
- Paris
- Paris Air Show
- Parliament of Pakistan
- Passenger Plane
- PAT
- Pat Quinn
- PCB
- peace
- Peace Talks
- Peace Talks with Taliban
- Pemra
- PEMRA suspends licenses of Geo TV
- Pentagon
- People
- Personal computer
- Pervez Hoodbhoy
- Pervez Musharraf
- Peshawar
- Pew Research Center
- Philip Hammond
- Physical exercise
- PIA
- Pir Panjal Range
- Plane Crash
- PML-N
- Poetry
- Polar vortex
- Police
- Police officer
- Poliomyelitis
- Politics
- Politics of Pakistan
- Polling place
- Pompeii
- Portable Document Format
- Postage stamp
- Postage stamps and postal history of Pakistan
- Poverty
- Poverty in Pakistan
- Poverty threshold
- Power of Social Media
- Prabowo Subianto
- Prescription drug
- President of the United States
- President of Turkey
- Primary Education in Pakistan
- Prime Minister of India
- Prime Minister of Pakistan
- Prince Salim
- Prince Salman
- Princess Diana
- Professor Dr Ajmal khan
- Programs
- Protection of Pakistan Ordinance
- Protest
- Protests against Geo TV
- Provinces
- Provincial Assembly of the Punjab
- PTA
- PTI
- Punjab
- Punjab Pakistan
- Punjab Festival
- Punjab Pakistan
- Punjab Police
- Punjab Province
- Punjab region
- Pyongyang
- Qadiriyya
- Qadri
- Qatar
- Queen Victoria
- Quetta
- Quied-e-Azam
- Quran
- Qurtaba Mosque Spain
- Rafah
- Rahman
- Rain in Punjab
- Rajouri district
- Ramallah
- Rana Sanaullah Khan
- Rape
- Rashid Minhas Major Aziz Bhati
- Rawalpindi
- Reality of Jamat-e-Islami
- Reality-Based
- Recent Dialouge with Taliban
- Recep Tayyip Erdogan
- Recep Tayyip Erdoğan
- Recreation
- Red Zone
- Rehman
- Rehman Malik
- Relative Ranks of Pak Army
- Religion and Spirituality
- Research papers
- Reuters
- Rio de Janeiro
- River Chenab
- Rizwan Wasti
- Robert Fisk
- Robert Gates
- Rohingya
- Rome
- Rowland Hill
- Royal Philatelic Collection
- Russia
- Rustam Shah Mohmand
- Safe Pakistan
- Sahih al-Bukhari
- Sakhawat Naz
- Salafi
- Salah
- Saleem Safi
- Salim
- Salim Nasir
- Sami ul Haq
- San Jose State University
- SAu
- Saudi Arabia
- Save Children
- Say No To Drugs
- Sayeeda Warsi
- Saylani Welfare Trust
- Scinde Dawk
- Scotland
- Scotland Yard
- Scottish independence
- Scottish independence referendum 2014
- Search for Malaysia Airlines MH370
- Searching
- Select (magazine)
- Self Growth
- Shah Abdul Latif Kazmi
- Shahbaz Sharif
- Shahid Afridi
- Shahid Hassan
- Shahid Khaqan Abbasi
- Shahnaz Sheikh
- Shaista Lodhi
- Shaista Wahidi
- Shakeel
- Shakil
- Shanghai
- Shariah
- Shariah in Pakistan
- Sharif
- Shehnaz Sheikh
- Sheik Mohammed bin Rashid Al Maktoum
- Sheikh Sudais
- Shenawaz Farooqi
- Sher Shah
- Sher Shah Multan
- Sher Shah Suri
- Shifa
- Shinzō Abe
- Shooting of Trayvon Martin
- Sierra Leone
- Sindh
- Sindh Festival
- Sindh government
- Singapore
- Sirajul Haq
- Sisi
- Sitting
- SlideShare
- Smartphone
- Snoker
- Soccer
- Social media
- Social Media in Pakistan
- Social networking service
- Social Sciences
- South Africa
- South America
- South Asia
- South Asian Association for Regional Cooperation
- South Waziristan
- Sport
- Sports
- Sri Lanka
- Srinagar
- SSG
- St. Louis
- States presidential election 2012
- Steven Sotloff
- Stop Child Abuse
- Strategic Dialogue
- Strikes in Karachi
- Submarine
- Substance abuse
- Sudan
- Sufism
- Suharto
- Suicide in Pakistan
- Sunday Aug. 17 2014
- Sunni Islam
- Support group
- Supreme Court of Pakistan
- Surface to Air Missiles
- Swiss Banks
- Switzerland
- Syed Saleem Shahzad
- Syria
- Syria Chemical Attack
- Syria Crises
- Syria Elections
- Syria War
- Tafsir
- Tahir
- Tahirul Qadri
- Talat Hussain
- Taliban
- Taliban insurgency
- Tamil Nadu
- Tank
- Tanvir Ashraf Kaira
- Targeted killing
- Tawi River
- Tax Collection In Pakistan
- Tears of Waziristan
- Technology
- Tehrik-i-Taliban Pakistan
- Tel Aviv
- Telenor
- Television
- Television channel
- Terrorism
- Test cricket
- Thar
- Thar Desert
- Thar Drought
- Tharparkar
- Tharparkar District
- The Children of Gaza
- The Ice Bucket Challenge
- Think Before Speak
- Third World
- Thomas Jefferson
- Thul
- Tissue paper
- Tobacco
- Tokyo
- Top Stories
- Transport Aircraft
- Transportation
- Transportation and Logistics
- Tribute to Nasrullah Shaji
- TTP
- Turkey
- Turkey Elections
- Turkey President in Pictures
- UAE
- UAV
- Ukraine
- Ulama
- Ummah
- Ummat
- Unemployment Rate
- UNICEF
- Union
- United
- United Arab Emirates
- United Kingdom
- United Nations
- United Nations and Philistine
- United Nations Relief and Works Agency for Palestine Refugees in the Near East
- United State
- United States
- United States of America
- Universal Declaration of Human Rights
- University of Punjab
- UNO
- Upper Dir District
- Urdu
- Urdu Books
- Urdu Columns
- Urdu Ghazal
- Urdu poetry
- Urdu vs English
- US Army
- US Dollar
- US Drone Attacks in Pakistan
- USA
- USA is Spying on Millions of People
- Uttar Pradesh
- Vadnagar
- Valentine Day
- Valentine's Day
- Veena Malik
- Vice Chancellor Islamia University
- Video
- Violence against women
- Wali Babar murder case
- Wali Khan Babar
- Walking: Why it’s so important
- Wapda
- War crime
- War on Poverty
- War on Terror
- War on Terrorism
- Warfare and Conflict
- Washington
- Water Crisis in Pakistan
- Waziristan
- Waziristan IDPs
- Waziristan Operation
- Weather Phenomena
- Web search engine
- Wedding
- Welfare
- West
- West Africa
- West Bank
- West Florissant Avenue
- Western Culture
- Western Media and the Gaza War
- Why did Facebook buy WhatsApp? United States
- Women
- Word expensive cities
- Wordpress
- WordPress.com
- Work
- World Cup
- World economy
- World Health Organization
- World least expensive cities
- World Literature
- World War
- World War I
- World War II
- World's most expensive stamp
- World's worst air accidents
- Wusat Ullah Khan
- Xi Jinping
- Yarmouk
- Yarmouk Camp
- Yasir Pirzada
- Year of the Horse
- Yousaf Raza Gillani
- YouTube
- Yvonne Ridley
- Zaheer ul-Islam
- Zaid Hamid
- ZDK-03 AEW Aircraft
- Zindagi Gulzar Hai
- کشف المحجوب
About Me
Powered by Blogger.
Blog Archive
-
▼
2014
(520)
-
▼
September
(76)
- Pak army song
- Pak army modified guns
- اب عمران خان کیا کریں گے؟.......
- انسانی سمگلر ڈوبنے والے کا تمسخر اڑا رہے تھے.........
- دشمن بچے --- شاہنواز فاروقی....
- بغاوت اور باغی --- شاہنواز فاروقی......
- پاکستان :65برس میں سیلاب سے 40ارب ڈالرکانقصان........
- یورپ کے جنگی جنون کی کہانی: جنگِ عظیم اول و دوم
- قوم کی تقدیر کی پرواز بھی کسی وی آئی پی کی منتظر ہ...
- سیلاب زدگان کی مدد کیجیے......
- سویلین حکومتیں اور فوج......
- The Kalabagh Dam
- Energy crisis and Kalabagh Dam
- زبان کا سرکش گھوڑا.......
- Flood victims arrive in Sher Shah, Pakistan
- Buldings are surrounded by floodwater in Shuja Aba...
- باغیوں کی ضرورت ہے.....
- جب خاموشی بہتر سمجھی جائے.......
- Thousands of Orange Order supporters marched in a ...
- Kashmiri men evacuate women and the elderly from a...
- People stand on a damaged bridge on the Tawi River...
- بات کرنی مجھے مشکل ،کبھی ایسی تونہ ...تھی
- کتابیں‘ جنہوں نے زندگی پر اثر ڈالا.......
- Falah-e-Insaniat Foundation load relief supplies t...
- Pakistani Floods - Soldiers load relief supplies d...
- Pakistan Floods - Army soldiers unload boats to be...
- کیا دھرنوں کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہوا؟...
- Flood victims sit beside their belongings as they ...
- مسلح افواج اور پاکستان کی سیاست......
- کہانی دھرنوں کی: سکرپٹ، کیریکٹرز اور ڈائریکٹرز.......
- مجھے اس شہر میں رہنے سے خوف آتا ہے.....
- An aerial photograph shows homes surrounded by flo...
- ARY News Live ARY News Online
- Geo News Live Geo TV Live Online
- صارفین پاس ورڈ تبدیل کر لیں، گوگل کی ہدایت.......
- دو راتیں آنکھوں میں کاٹی ہیں......
- سیلاب جو ساری متاع بہا لے گیا.......
- حکومتی .....بدانتظامیوں کی داستان..
- یہ ایسے تو نہیں ہوگا.....
- Pakistan Floods - WATER EVERYWHERE
- پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد افراد خودکشی کرن...
- دھرنے کی افادیت......
- بارشوں اور سیلاب سے اب تک 50 ارب روپے تک کا نقصان....
- لگتا ہے لائن ڈراپ ہوگئی......
- احساس زیاں جاتا رہا......
- Navy Reples Attack on PNS Zulfiquar (251) F-22P Zu...
- Facebook addiction can leave you lonely, depressed
- "شوباز شریف "...
- اسلامک ا سٹیٹ آف عراق اینڈ شام.....(Islamic State ...
- تباہی کی داستانیں رقم کرتے سیلابی ریلوں کا سفر جار...
- پاک فوج کے اصل دشمن.....
- دنیا کا مطلوب ترین انسان ....World Most Wanted Man
- Revival of Pakistan Railways : Railways records im...
- People stand on the rooftop of their flooded house...
- Tahir ul-Qadri addressing supporters in front of P...
- اصل جنگ......
- People stand near their submerged houses on the fl...
- جنگل بیابان میں گزرے برس.......
- سوشل میڈیا کی طاقت.......Power of Social Media
- شدید بارشوں نے لاہور میں تباہی مچادی
- تھر کے قحط زدہ لوگ خودکشیاں کرنے لگے......
- Open Letter to PTI Chairman Imran Khan
- Muslim groups denounce beheading of US journalist ...
- MQM Resignations By Ansar Abbasi
- سدا بہار باغی......
- Economic Cost of of Imran Khan Azadi March and Inq...
- باغی کی خطرناک بغاوت.......
- کیسا انقلاب؟......
- Real Leader and Hero Recep Tayyip Erdogan
- Heroes Of Pakistan Police?
- Asad Umar
- Do you believe the Pakistan political crisis is sc...
- Javed Hashmi
- یہ محمد علی جناح کا پاکستان ہے؟
- حکومت کے پاس کیا بچا ہے؟.....
- ساٹھ برس پرانی تازہ کہانی.....
-
▼
September
(76)














