ہمارے عالمی ریکارڈ


آج صبح جب میں نیند سے بیدار ہوا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ورلڈ ریکارڈ ہولڈر بن جائوں گا، ناشتے میں آملیٹ کھاتے ہوئے میں نے سوچا کہ گزشتہ کم ازکم دو دہائیوں سے بلا نا غہ دو انڈوں کا آملیٹ کھانے کا ریکارڈ میرے علاوہ دنیا میں کسی کا نہیں ہو سکتا، اسی طرح سستی اور کاہلی میں بھی فدوی کو شکست دینا قریب قریب نا ممکن ہے کیونکہ صبح اٹھنے کے لئے گھڑی پر جو الارم میں لگاتا ہوں وہ سات بجے بجنا شروع ہوتا ہے جسے میں دو درجن مرتبہ ہاتھ مار کر چپ کراتا ہوں (انگریزوں نے غالباً اس حرکت کے لئے snoozeکا لفظ ایجاد کیا ہے ) اور بیدار ہونے کے بعد بھی لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ بستر میں لیٹے لیٹے دنیا کی بے ثباتی پر غور کرتا ہوں۔ یقیناً سر سے اخروٹ توڑنے یا ایک ہاتھ سے ڈنڈ بیٹھکیں لگانے کا ریکارڈ میرے پاس نہیں مگر میرے پاکستانی بھائیوں کے پاس تو ہے ، جس ملک میں ٹیلنٹ کی ایسی ندیاں بہہ رہی ہوں اس کی طرف بھلا کون میلی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے۔

میل سے یاد آیا کسی مرد باکمال نے اب تک کانوں سے میل نکالنے کا عالمی ریکارڈ بنایا یا نہیں؟ نہیں بنایا تو جلدی سے بنا ڈالے اس سے پہلے کہ ہندوستانی یہاں بھی بازی لے جائیں۔ اور ہندوستانیوں سے یاد آیا کہ گزشتہ برس ہم نے قومی ترانہ پڑھنے کا عالمی ریکارڈ ہندوستان سے چھینا تھا لیکن ابھی ہم وہ ریکارڈ صحیح طرح سے چھین نہیں پائے تھے کہ گینز بک والوں نے وہ ریکارڈ یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ جو نوجوان ترانہ پڑھنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے ان میں سے نصف نے تو لب ہلانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ، یقیناً یہ بھی ہمارے خلاف کوئی عالمی یہودی سازش ہوگی ورنہ اس حرکت پر ہمیں کاہلی کا عالمی ریکارڈ بنانے کا اعزاز تو ملنا چاہئے تھا۔ ترانے کی جنگ یہیں ختم نہیں ہوئی، ہندوستان کی ایک کمپنی نے 6 مئی 2013کو لکھنؤ میں اپنے ایک لاکھ اکیس ہزار چھ سو ترپّن ملازمین اکٹھے کئے اور ان سے قومی ترانہ پڑھوا کر پھر ریکارڈ بنا دیا، اس موقع پر تمام مردوںاور عورتوں نے کمپنی کا یونیفارم پہن رکھا تھا، ملازمتیں فراہم کرنے کے اعتبار سے یہ ہندوستان کی دوسری بڑی کمپنی ہے جس کے ملازمین کی تعداد پورے بھارت میں گیارہ لاکھ کے قریب ہے۔

اس کے بعد ہم نے یہ ریکارڈ توڑنے کے لئے دوبارہ کمر باندھ لی اور اس زور سے باندھی کہ پوری حکومت دن رات دو لاکھ لوگوں کو قومی ترانہ پڑھوانے میں جُت گئی لیکن پھر غالباً کمر درد کی وجہ سے ارادہ ملتوی کردیا۔اور اچھا ہی کیا کیونکہ درجنوں ریکارڈ تو ہماری جیب میں پڑے سڑ رہے ہیں مگر ہم نے کبھی پروا ہی نہیں کی 'کیا ہی اچھا ہو کہ ہم یہ ریکارڈ گینز بک والوں کو بھجوا دیں' اس سے وہ کروڑوں روپے بھی بچ جائیں گے جو ہم گینز بک والوں کو ریکارڈ چیک کرنے کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ خاکسار نے نمونے کے ایسے ریکارڈز کی ایک فہرست ترتیب دی ہے جسے آنکھیں بند کرکے ارسال کیا جا سکتا ہے :

سرکاری دفاتر میں مکھیاں مارنے کا ریکارڈ

کم عمر بچیوں سے زیادتی کا ریکارڈ

انسانوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلنے کا ریکارڈ

پڑھے لکھے لوگوں کاسوشل میڈیا پر گالیاں بکنے کا ریکارڈ

جاہل لوگوں کا عوامی مقامات پر گالیاں بکنے کا ریکارڈ

شادی بیاہ کے موقع پر کھانا ضائع کرنے کا ریکارڈ

آٹھ سال کے بچے سے بیس گھنٹے گھر کا کام کروانے کاریکارڈ

کافروں کو تلوار کے زور پر مسلمان کرنے اور مسلمانوں کو تلوار کی نوک پر کافر قرار دینے کا ریکارڈ

دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد ہو میوپیتھک قسم کی مذمت کرکے دھنیا پی کر سوجانے کا ریکارڈ

دہشت گردوں کے ہر عمل کا جواز فراہم کرنے کا ریکارڈ (یہ عظیم الشان ر یکارڈ ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا)

بیٹے کی خواہش میں چھ چھ بیٹیاں پیدا کرنے کا ریکارڈ

سی آئی اے ،را اور موساد کی عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنے کا ریکارڈ

بے نقاب کرنے کے باوجود ان سازشوں کاشکار ہونے کا ریکارڈ

غلط موقف پر ڈھٹائی سے جمے رہنے کا عالمی ریکارڈ

کامیاب اور سیلف میڈ لوگوں پراپنی نالائقی چھپانے کے لئے کیچڑ اچھالنے کا ریکارڈ

سب سے زیادہ خود کش حملو ں کا ریکارڈ (یہ ریکارڈ ہم نے عراق اور افغانستان سے بڑی محنت کے بعد چھینا ہے)

پولیو ورکرز کو قتل کرنے کے بعد اُن تین ممالک کے ’’ایلیٹ گروپ‘‘ میں شامل ہونے کا ریکارڈ جن میں پولیو سنگین خطرہ ہے ، باقی دو ملک افغانستان اور نائیجیریا ہیں، پاکستان سر فہرست اور عالمی ریکارڈ ہولڈر ہے

غیرت کے نام پر بہن کو قتل کرنے اور بے غیرتی سے بہن کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا ریکارڈ

اور دنیا میں سب سے زیادہ خود ساختہ راست باز بھی غالباً ہمار ے ملک میں ہی پائے جاتے ہیں۔

ممکن ہے یہ فہرست پڑھنے کے بعد آپ میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہو اور آپ کہیں کہ اس ملک کے پاس وہ عظیم سپوت بھی ہیں جو اے لیول میں سب سے زیادہ گریڈز لینے کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں ، سب سے کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ آئی ٹی ایکسپرٹ کا ریکارڈ بھی ہماری بچی کے پاس ہے اور اس کے علاوہ بھی ہمارے کئی بچے اس قسم کے کارنامے انجام دے چکے ہیں۔ یقیناً یہ بات درست ہے، ایسے تمام بچے ہمارا قابل فخر اثاثہ ہیں ، مگر یہ مثالیں استثنیٰ کا درجہ رکھتی ہیں، ہر ملک میں آپ کو انفرادی قابلیت کی ایسی مثالیں مل جائیں گی، دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمیں اکا دکا قابل ترین بچے چاہئیں یا مجموعی طور پر ایسی نسل چاہئے جس کی قابلیت کا معیار اوسط سے ذرا اوپر درجے کا ہو! اسی طرح ہندوستان سے ترانہ پڑھنے کا ریکارڈ چھیننا اپنی جگہ شاید کوئی معنی رکھتا ہو مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم ہندوستان سے پہلے اپنے ملک کو پولیو سے پاک کردیتے، ہندوستان تو پولیو سے پاک ممالک کی فہرست میں اس برس شامل ہو گیا ہے جبکہ ہم پولیو کا شکار خطرناک ترین ممالک کی لسٹ میں اوّل نمبر پر ہیں ، اگر کسی کو ریکارڈ بنانے کا شوق ہے تو ملک کو پولیو سے پاک کرنے کا ریکارڈ بنائے ‘ پھر ہمیں بھی ترانہ پڑھنے کے ریکارڈ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔


بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

جمشید دستی اور ان کے الزامات کی گونج


شاید جمشید دستی جیسے لوگوں کے بارے میں ہی نطشے نے کہا تھا کہ’’ایسے لوگوں کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہ ، وہ یکایک بغیر کسی لحاظ و جواز کے بغیر کسی علت اور سبب کے مقدر کی طرح نمودار ہو جاتے ہیں۔ آسمانی بجلی کی طرح یکدم چمکتے ہیں اور بہت ہیبت ناک و جابر ہوتے ہیں مگر ان کی عظمت اتنی خیرہ کن ہوتی ہے کہ کوئی ان سے نفرت کرنا بھی چاہے تو نفرت نہیں کرسکتا۔ انہیں جو قوت متحرک و فعال رکھتی ہے وہ ان کی شدید حد تک خودستائی ہوتی ہے۔ ویسی ہی خودستائی جیسی ایک فنکار کوئی لازوال فن پارہ تخلیق کرکے محسوس کرتا ہے۔

جمشید دستی ایک عوامی آدمی ہے۔ اس لئے عوام کا درد بھی رکھتا ہے۔ وہ غریب طبقے سے ہے اسی لئے اپنے طبقے کا وفادار اور اشرافیہ سے باغی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی کے ایوان میں موجود ان چند نمائندوں میں سے ہے جن کی وجہ شہرت ان کی سادگی و ایمانداری ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مظفر گڑھ سے آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے انکشاف نے ایک مرتبہ تو اقتدار کے مضبوط ایوان کو ہلا کر رکھ دیا۔ دستی کی بارعب آواز سے ایوان گونجتا رہا اور جب دستی کا مائیک بند ہو گیا تو وہ مائیک کے بغیر ہی چلا چلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے میں لگا رہا۔ ایوان میں موجود تمام ارکان اسمبلی دستی کو تک رہے تھے کہ کیا کوئی رکن پارلیمنٹ اتنی جرأت کرسکتا ہے۔ جی ہاں...جمشید دستی نے پورے ایوان کے سامنے یہ الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ لاجز جن میں معزز ارکان اسمبلی رہائش پذیر ہیں، ان میں مبینہ طور پر شراب و چرس نوشی عام ہے اور کچھ ارکان تو دیگر نازیبا سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ جمشید دستی نے اس ملک کی مضبوط اشرافیہ کے خلاف آواز بلند کی بلکہ یہ وہی دستی ہے جس نے مظفر گڑھ جیسے جاگیردار علاقے میں ایک دو نہیں بلکہ تمام جاگیرداروں کو عوامی قوت سے چت کیا۔ سال 2013ء کے عام انتخابات میں اسی دستی نے کھر خاندان کی آبائی نشست تو چھینی ہی مگر اس کے ساتھ مرحوم نوابزادہ نصراللہ کے بیٹوں کو بھی شکست دی ہے۔ اس وقت پاکستان کے کسی حلقے کا ممبر اسمبلی عوام میں اتنی مقبولیت نہیں رکھتا جتنا جمشید دستی کو حاصل ہے۔ سال 2010-11ء کے دوران جنوبی پنجاب میں آنے والے بدترین سیلاب کی میڈیا کوریج کے دوران اس کالم نویس نے وہ مناظر خود دیکھے ہیں کہ جب سیلاب زدہ غریب عوام کے گھر بار،مویشی سمیت پانی میں ڈوب رہے تھے مگر جمشید دستی خود تیراکی کرکے اپنے حلقے کے عوام کی زندگیاں بچانے میں مگن تھا۔

اگر دستی کا یہ الزام درست ہے تو یہ بات تو طے ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ایسی سرگرمیاں بلاشبہ غیر اخلاقی بھی ہیں اور غیر قانونی بھی۔ اگر یہ سلسلہ عرصے سے چل رہا تھا تو اس معزز ایوان کے کسی اور رکن میں اتنی جرأت کیوں نہیں ہوئی کہ وہ اس پر سوال اٹھاتا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کی نیت اور اخلاص پر شک نہیں کیا جاسکتا مگر جمشید دستی کے پاس مبینہ طور پرجو ٹھوس ثبوت ہیں ان سے تو لگتا ہے کہ بعض ارکان ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

جمشید دستی کے مذکورہ انکشاف سے چند روز قبل عدالت عظمیٰ کے ایک سینئر افسر سے میں نے کہا کہ آپ روزانہ ایک لمبا سفر طے کر کے عدالت آتے ہیں حالانکہ دیگر گریڈ 22 کے افسران کی طرح وہ نزدیک ہی پارلیمنٹ لاجز میں رہائش کے حقدار ہیں۔ وہ فرمانے لگے کہ ان کے پاس پارلیمنٹ لاجز میں ایک فیملی سوئیٹ ہے مگر اس وقت وہاں پر ایسی مبینہ سرگرمیاں ہوتی ہیں جو ایک شریف آدمی کے لئے قابل قبول نہیں ہیں ۔اس لئے انہوں نے نجی رہائش کو ہی ترجیح دی ہوئی ہے۔جمشید دستی نے معزز ارکان کے ہاسٹل پر ایسا الزام لگایا تو بہت سے پارلیمنٹیرین نے آف دی ریکارڈ جبکہ نبیل گبول جیسے ارکان نے تو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان الزامات کی تصدیق کی۔ دستی کے الزامات پر ایک رکن اسمبلی کی بوکھلاہٹ سمجھ سے بالا تر لگی۔ بجائے اس کے کہ وہ اہم حکومتی عہدیدار ہونے کے ناتے شفاف تحقیقات اور مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے موثر اقدامات کا یقین دلاتے،وہ دستی پر ہی چڑھ دوڑے اور ان پر پٹرول و بجلی چورے جیسے بے ڈھنگے الزامات بھی لگا دئیے۔

حالانکہ ایوان کے غریب ترین رکن قومی اسمبلی جمشید دستی بھلا کتنی بجلی اور پٹرول چوری کرسکتے ہیں۔ تو بھلا سنئے۔ مظفر گڑھ کے کچے سے آبائی گھر کے مکین جمشید دستی کا ماہانہ بجلی کا بل 1000روپے سے بھی کم ہوگا تو کیا وہ اس گھر کے لئے بجلی چوری کرتے ہوں گے؟مظفر گڑھ کے غریب عوام کے لئے مفت بس سروس کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ جو شخص عوامی خدمت کے طور حلقے کے لوگوں کی سہولت کے لئے مخیر حضرات کی مدد سے مفت بسیں چلاتا ہے۔ اس کے بارے میں کیسے یہ کہا جاسکتا ہے وہ کیا پٹرول چوری کرتا ہوگا لیکن اگر ٹھوس شواہد ہیں تو ان الزامات پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔

مگر جمشید دستی کے الزامات کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ تبدیلی جس کی عوام 2013ء عام انتخابات سے قبل لگائے بیٹھے تھا ، وہ کیوں نہیں آئی۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جن نمائندوں کے کندھوں پر ہم نے بہتری لانے کی ذمہ داری ڈالی ہے ان کی بڑی تعداد ٹیکس نادہندہ ہے۔ دی نیوز کے تحقیقاتی رپورٹر عمر چیمہ اس حوالے سے تفصیلی خبر دے چکے ہیں اور اب جمشید دستی کا حالیہ انکشاف۔

پولیس کے ایک سینئر افسر کا خود کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے اندر کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ ہی دستیاب نہیں ہے۔ شاید دستی کی شکایت سے پہلے ہی تمام ممکنہ ثبوت مٹائے جاچکے ہوں گے اور ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد چاہتے ہوئے بھی سچ بولنے سے گریزاں ہے۔

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف خود ایک باکردار شخصیت کے مالک ہیں انہیں بذات خود بھی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے۔ ہمارے وزیر داخلہ نے تو اس معاملے پر یہ روایتی سا بیان دے کر معاملے کو رفت گزشت کرنے کی کوشش کی ہے کہ لاجز کے باہر9 1کیمرے لگے ہوئے ہیں ،کسی میں کچھ نہیں نظر آیا جبکہ دستی نے جو کہا ہے پارلیمنٹ لاجز کے اندر کا کہا ہے باہر کا نہیں۔اگر ریکارڈ لانا ہے تو تمام راہداریوں اور کمروں کے باہر لگے کیمروں کا لائیں تاکہ عوام اصل حقیقت جان سکیں۔

مگر لگتا ہے کہ جمشید دستی اپنے ثبوتوں کی روشنی میں یونہی چلاتے رہیں گے اور بالآخر سابق وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجر وال کی طرح خاموش ہوکر سائیڈ پر ہوجائیں گے کیونکہ ہمسایہ ملک کی طرح اس ملک کی اشرافیہ کے ہاتھ بھی بہت لمبے ہیں۔ جمشید دستی تو ایوان سے باہر جاسکتے ہیں مگر وہ اشرافیہ نہیں۔

اگر اس الزام کی شفاف تحقیقات ہوئی تو ڈر ہے کہ ارکان کی بڑی تعداد آئین کی شق 62 اور 63 کے نرغے میں آجائے گی اور بہت سوں پر نااہلی کی تلوار بھی گرسکتی ہے۔ اس لئے یہ معاملہ اگلے چند دنوں میں ہی دب جائے گا اور جمشید دستی ایک اور سچ سینے میں دبا کر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے مگر یہاں پر ماؤزے تنگ کی ایک بات یاد آرہی ہے جو انہوں نے اپنی چینی قیادت سے کہی تھی ’’آپ کا کردار بہتے سمندر میں خون کے قطرے کی مانند واضح اور شفاف ہونا چاہئے بیشک ایک پتلی لکیر ہی کیوں نہ ہو‘‘۔


بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس


ایک خوش کن خبر ہے کہ حکومت نے فریضہ حج کی ادائیگی کے خواہش مند غریب شہریوں کی سہولت کے لیے حج کی ادائیگی کے لیے بحری سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس سروس کا آغاز آیندہ حج ایام سے ہوگا۔ وزیر پورٹس و شپنگ نے بتایا ہے کہ حج پر ساڑھے تین لاکھ کے قریب اخراجات آتے ہیں جس کی وجہ سے غریب آدمی کے لیے حج کا فریضہ انجام دینا بڑا مشکل کام ہے۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سستے حج کا منصوبہ بنایا ہے، اس سلسلے میں یورپ سے تیز رفتار بحری جہاز حاصل کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے حاجیوں کو 6 دنوں کے اندر سعودی عرب پہنچایا جائے گا، انھیں کھانے پینے کی سہولیات بھی فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ تاجر برادری کے اشتراک سے جہازوں میں تجارتی سامان بھی ساتھ لے جایا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسٹم اور امیگریشن کے معاملات پر بھی بات چیت چل رہی ہے، اس کے علاوہ اگلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران جانے والے زائرین کو بھی بحری راستے سے ایران بھیجا جائے گا۔ حکومت کی یہ کوششیں بلاشبہ لائق تحسین ہیں۔

حج و عمرہ کی ادائیگی ہر مسلمان کی جستجو و تمنا ہوتی ہے۔ غریب سے غریب مسلمان بھی کم معاشی وسائل ہونے کے باوجود بھی اپنا پیٹ کاٹ کر بنیادی ضروریات کو نظر انداز اور بہت سے فرائض کو موخر کرکے فریضہ حج کی ادائیگی کی کوششیں کرتا ہے لیکن آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی اور کاروباری نقطہ نظر سے حج وعمرہ کے روز افزوں اخراجات ، ہیرا پھیری، لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے اس کا متحمل نہیں ہو پاتا۔ غریب و متوسط طبقے کے لیے فریضہ حج کی ادائیگی تقریباً ناممکن ہوکر رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بحری سفری سہولت کی وجہ سے حج کرایوں میں تین چوتھائی کے قریب کمی واقع ہوگی کیونکہ اس منصوبے کے تحت بحری کرایے کی شرح 25 سے 30 ہزار روپے رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بڑی سہولت میسر آجائے گی۔

عازمین حج کے لیے حکومت پاکستان نے ابتدا میں غیر منافع بخش بنیادوں پر حج پالیسی متعارف کروائی تھی جس میں وقتاً فوقتاً بہتری لانے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں لیکن وزارت مذہبی امور میں نااہل، بددیانت اور خوف خدا سے بے بہرہ افراد کی تعیناتی اور سیاسی مداخلت و مفادات کی وجہ سے اس کی کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی گئی اور مسائل، مصائب اور شکایتوں میں اضافہ ہوتا گیا، ان خرابیوں، کوتاہیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے حکومت نے پرائیویٹ حج اسکیم کا اجرا کرکے اس عمل میں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو شامل کر ڈالا جس کی وجہ سے کسی بہتری کے بجائے مزید خرابیاں رونما ہوئیں اور کرپشن اور ملی بھگت کا سلسلہ وزارت مذہبی امور سے ٹور آپریٹرز تک دراز ہوگیا۔ عازمین حج و عمرہ کی پریشانیوں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔

رہائش، خوراک، سفری سہولیات، معاہدات کی خلاف ورزی کے لاتعداد واقعات سامنے آنے لگے جن پر حکومت نے کوئی توجہ نہ دی تو اس گمبھیر صورت حال پر عدالتوں کو ایکشن لینا پڑا۔ عدالت عظمیٰ کی کارروائیوں کے نتیجے میں وزیر و مشیر وزارت حج و مذہبی امور اور ٹور آپریٹرز جیلوں میں گئے، حجاج کو ان کی اضافی رقوم واپس کروائی گئیں۔ بدعنوانی اور لوٹ مار کو دیکھ کر سعودی حکومت بھی حرکت میں آئی، پاکستانی حکام سے سرکاری سطح پر اس کی شکایت کی گئی اور کافی ٹور آپریٹرز کو بلیک لسٹ کرکے تین سال تک کے لیے نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی گئی، مجبوراً حکومت پاکستان نے بھی سیکڑوں ٹور آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کیے تھے۔ کم سرمایہ کاری اور کم مالی خطرات کے اس کاروبار میں راتوں رات دولت مند بننے کے خواہش مند عاقبت نااندیش عناصر کو حکومتی حلقوں کی آشیرباد اور پشت پناہی بھی حاصل ہے جو ایک منظم مافیا کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔

ہمارے ملک میں ایک تو وہ طبقہ ہے جو دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد فریضہ حج و عمرہ کی ادائیگی کی تڑپ و جستجو میں لگا رہتا ہے اور بمشکل ہی اس کا متحمل ہوتا ہے، دوسری جانب ارباب اقتدار و اختیار اور مراعات یافتہ طبقہ ہے جس نے ان مذہبی عبادات کو سیاسی و سماجی رسم کی حیثیت دے ڈالی ہے۔ سیاست دانوں کے لیے یہ فریضہ سیاسی حالات سے وقتی فرار حاصل کرنے، سیاسی جوڑ توڑ، ڈیل اور رابطوں کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ خوشنودی، پذیرائی کے لیے رشوت کے طور پر سیاسی حلیفوں اور کارکنوں کو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجنے کا رجحان جڑیں پکڑ چکا ہے۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز مختلف قسم کے پرتعیش اور مختصر دورانیے کے ایسے حج و عمرہ پیکیج بھی متعارف کرائے جاتے ہیں جن کے اخراجات 20 لاکھ فی کس بتائے جاتے ہیں۔ حالانکہ حج کی اصل روح، تربیت اور فلسفہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کفن کی صورت حج کا احرام باندھ کر گھر سے نکلتا ہے، اپنے پیاروں کو زندگی کے تمام معاملات کو چھوڑ کر سفر کی مشقتیں برداشت کرتا، اﷲ کے حضور پیش قدمی کرتا ہے، عرفات میں حشر کے میدان کی طرح اﷲ کے حضور پیش ہوتا ہے، مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے بسر کرتا ہے جہاں نہ کوئی ادنیٰ ہوتا ہے نہ اعلیٰ، نہ امیر نہ غریب، نہ حاکم نہ محکوم، سب کے پیر و سر ننگے ہوتے ہیں، ایک جیسا لباس ہوتا ہے، ہر کوئی اپنی مشقتیں خود برداشت کرتا ہے بلکہ حکم ہے کہ حج کی مشقتیں و صعوبتیں بیان نہ کی جائیں۔

حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کے کپڑوں اور اجسام پر جمع ہونیوالے گرد و غبار اور میل کچیل پر اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں فخر کرتا ہے اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ تعلیمات عام مسلمانوں کے علم میں ہوتی ہیں، کاش ہم ان پر غور اور عمل کرکے حج و عمرہ جیسی عبادات کی اصل روح کو برقرار رکھ سکیں۔ دنیا کے بہت سے اسلامی بلکہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی عازمین حج کو اس فریضے کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر بہت سی رعایت و مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے عازمین حج کے لیے بحری جہازوں کے ذریعے سفری سہولت کی فراہمی بھی ایک مستحسن اور قابل تعریف اقدام ہے۔ حکومت کو اس سہولت کے اجرا سے قبل اس قسم کے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے اس سہولت کا فائدہ غریب و متوسط طبقے کو پہنچے مثلاً یہ کہ اگر کسی نے پہلے فریضہ حج ادا کیا ہوا ہو تو اس کو یہ سہولت فراہم نہ کی جائے، سہولت سے استفادہ حاصل کرنیوالے سے اقرار نامہ لیا جائے کہ وہ ہوائی سفر کے اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

اس بحری سفر میں سامان اور اس کے وزن کی بھی ایک متوازن حد مقرر کی جائے تاکہ کاروباری ذہنیت کے لوگ اس کا غلط استعمال نہ کرسکیں اور سب سے زیادہ اس کی سیکیورٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بحری جہاز تک ممنوع اشیا اور منشیات وغیرہ کا پہنچانا نسبتاً آسان ہے، خاص طور پر ایک ہفتے پر محیط اس بحری سفر کے دوران کسی سادہ لوح یا بزرگ حاجی کے سامان میں رد و بدل یا کچھ شامل کردینا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ زاد حج کی اشیا میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ چند سال پیشتر کراچی کے عازمین عمرہ کے دو خاندانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کی چپلوں میں ٹور آپریٹرز کے کارندوں نے ہیروئن چھپا رکھی تھی، اگر جامعہ بنوری کے مہتمم سعودی فرماں روا تک رسائی اور سینیٹ اور قومی اسمبلی اپنے اجلاس میں اس مسئلے پر آواز بلند نہ کرتیں تو ان کی گردن زنی ہوچکی ہوتی۔

حکومت کو وزارت مذہبی امور کے معاملات کا ازسر نو اور سنجیدگی سے جائزہ لے کر اس کو نااہل، بددیانت افراد سے پاک کرکے سیاست اور مفادات سے بالاتر ہوکر اچھی شہرت کے حامل دین کی سوجھ بوجھ اور خوف خدا رکھنے والے افراد کو تعینات کرنا چاہیے۔ عام کرایوں اور حج و عمرہ کے کرایوں کے فرق اور ٹیکس ختم کرکے رعایتی نرخ مقرر کرنے چاہئیں، ٹور آپریٹرز کی رجسٹریشن کی سخت شرائط اور معیار مقرر کرکے صرف ایسے آپریٹرز کو خدمات کی ذمے داری سونپنی چاہیے جو اسے محض کاروبار نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیں۔ بلیک لسٹ ہونے والا شخص یا ادارہ کسی دوسرے نام سے یہ کام دوبارہ نہ حاصل کرسکے۔ کوٹے کی تقسیم دیانتدارانہ ہونی چاہیے، پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اور عازمین کے درمیان ایک تحریری معاہدے کا جامع متن تیار کرکے حکومت کو اس کے ضامن کے طور پر دستخط کرکے اس پر عمل کو یقینی بنانا چاہیے، حکومت کے شکایتی سیل کو فعال متحرک اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرکے اس کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جانا چاہیے، ایسی ریگولیٹری باڈی بھی بنانی چاہیے جو معاہدے کے خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹور آپریٹرز کا لائسنس منسوخ اور سیکیورٹی ضبط کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ   

Enhanced by Zemanta

Multan


یوں تو اس کُرہ ارض پر موجود ہر انسانی آبادی اپنی ایک تاریخ اور تہذیب رکھتی ہے لیکن کچھ علاقے، شہر یا قصبے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے مکینوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی خصوصی اہمیت حاصل کر جاتے ہیں۔ ملتان برصغیر پاک و ہند کا ایک ایسا ہی شہر ہے جو تاریخی اعتبار سے مسلسل آباد رہنے والے شہروں میں شمار ہوتا ہے، کم و بیش اسی طرح کی اہمیت اسے اسلامی تاریخ کے حوالے سے بھی حاصل ہے کہ 712ء میں اُموی دور حکومت میں مختلف وجوہات کی بنا پر چار بڑی فوجی مہمات اس وقت کی معلوم دنیا کے چار اہم علاقوں کی طرح روانہ ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک رخ اسی علاقے کی طرف تھا جسے آج ملتان کہا جاتا ہے۔ میرا اشارہ طارق بن زیاد (اندلس) موسیٰ بن نصیر (مراکش) قیتبہ بن مسلم (وسطی ایشیا) اور محمد بن قاسم (سندھ۔ ہندوستان) کی طرف ہے۔ ملتان کو اولیاء اللہ کا شہر بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے نواح میں روحانی اور دینی اعتبار سے بہت سی اہم ہستیاں دفن ہیں۔


شاکر حسین شاکر کا شمار ملتان سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کی نسبتاً نوجوان نسل میں ہوتا ہے حالانکہ وہ گزشتہ تقریباً 25 برس سے کئی حوالوں سے کتاب کی محبت کے اسیر چلے آرہے ہیں۔ ایک خوش گو شاعر، کالم نگار اور ناشر کے حوالے سے تو اردو دنیا میں ان کی پہچان مستحکم ہوچکی ہے لیکن اس کتاب ’’ملتان۔ عکس و تحریر‘‘ کی معرفت ان کے اندر کے محقق اور تاریخ نگار کا جو روپ سامنے آیا ہے، وہ اہم بھی ہے اور قابل تعریف بھی۔ اپنی ترتیب اور پیش کش کے اعتبار سے بھی یہ کتاب اپنا ایک مخصوص انداز رکھتی ہے کہ اس میں عمارات کی تصاویر کی بجائے ایک باکمال مصور ضمیر ہاشمی کے سکیچز نما تصویری خاکوں، تصویروں کو استعمال کیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ شاکر حسین شاکر نے اپنے ابتدائیے میں وضاحت کی ہے، اس کتاب کی تحریر ہی اصل میں ان تصویروں کی مرہون منت ہے یعنی تصویر پہلے بنی اور تحریر نے بعد میں اس کے قدم سے قدم ملا کر چلنا شروع کردیا۔اس معاملے کی مختصر رُوداد انھوں نے کچھ اس طرح سے بیان کی ہے۔

’’اس کتاب کو لکھنے کا خواب ملک کے نامور مصور ضمیر ہاشمی کی ملتان پر بنائی ہوئی تصاویر کو ذہن میں بسا کردیکھا گیا۔ شروع میں خیال یہ تھا کہ ہر تصویر کے بارے میں صرف ایک صفحہ لکھا جائے اور قارئین کو ضمیر ہاشمی کے فن پاروں کے ساتھ تاریخ ملتان سے بھی واقفیت ہو جائے لیکن موضوع اتنا پھیلتا گیا کہ بعض تصاویر کے پس منظر میں ایک باب لکھتے ہوئے پوری کتاب کا مضمون سامنے آگیا اور یوں یہ ضخیم کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کتاب کے ذریعے آپ ملتان کے بہت سے گوشوں سے پہلی بار واقف ہورہے ہیں اور مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ گوشے ضمیر ہاشمی کی تصویروں کے ساتھ آپ کی لائبریری میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔‘‘

اب آئیے ایک نظر ان عنوانات پر ڈالتے ہیں۔ شاکر حسین شاکر نے انھیں سات عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے جن میں سے ہر ایک کے بہت سے ذیلی عنوانات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر پہلے عنوان ’’مدینۃالاولیا‘‘ کے دامن میں ملتان کی 9 روحانی شخصیات، ان کے مزارات اور حالات زندگی بمعہ کرامات کو جگہ دی گئی ہے (حضرت موج دریا، حضرت شاہ محمد یوسف، حضرت شاہ شمس سبزواری، حضرت بہاؤالدین زکریا، حضرت شاہ رکن عالم، حضرت موسیٰ پاک شہید، حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی، ماتی مہربان اور خواجہ غلام فرید) دوسرا عنوان ’’صدیوں کی چاپ‘‘ ہے جس کے پانچ ذیلی عنوانات ہیں۔ اسی طرح ’’تحفہ ملتان‘‘ کے عنوان تلے گرد، گرما، گدا اور گورستان کے مشہور عام تصورات پر بات کی گئی ہے۔ چوتھا عنوان ’’برطانوی عہد‘‘ پانچواں ’’مساجد‘‘ چھٹا ’’ملتان کل آج اور کل‘‘ اور ساتواں ’’رسوم و رواج‘‘ ہے۔

کتاب کا دیباچہ مشہور شاعر اور کالم نگار رضی احمد بن رضی کا تحریر کردہ ہے جس کا عنوان ’’ملتان۔ میرا اور شاکر کا رومان‘‘ ہے ،ان دوستوں کا ذکر اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ شاعر قمر رضا شہزاد اور سخن فہم شیخ محمد افضل کا ذکر نہ کیا جائے کہ یہ چاروں ادب دوست فی الوقت ملتان کی نئی نسل کی پہچان بن چکے ہیں۔رضی الدین رضی نے بڑی تفصیل سے اس کتاب کے محاسن اور پس منظر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کی نثر خوب صورت بھی ہے۔ معلوماتی اور خرد افروز بھی مثال کے طور پر یہ چند جملے دیکھے جاسکتے ہیں۔

’’پانچ ہزار سال قدیم شہر میں سانس لینا بلا شبہ ایک منفرد اور خوشگوار تجربہ ہے۔ اس تجربے سے گزرتے تو سبھی ہیں لیکن اسے محسوس کرنے کے لیے شہر سے والہانہ محبت بلکہ عشق ضروری ہے۔ بہت کم شہر ایسے ہیں کہ جن کی گلیوں اور بازاروں میں گھومیں تو صدیاں آپ کے ساتھ سفر کرتی ہیں۔ ملتان بھی ایسا ہی ایک شہر ہے جہاں ہر گلی ہر محلے میں تاریخ آپ کے قدم تھامتی ہے۔ سوچنے سمجھنے اور ادراک رکھنے والوں کو یہ شہر بار بار اپنی جانب متوجہ کرتا ہے…ضمیر ہاشمی نے ملتان کو مصور کرنے کا عمل جب شروع کیا تو اس کے گمان میں بھی نہ ہوگا کہ اسے ایک ایسا شخص بھی ملے گا جو ان تصویروں سے ملتان کی تاریخ کریدے گا جو ہر تصویر کو ہاتھ میں تھامے تصویر کے منظر تک پہنچے گا اور پھر تلاش کرے گا کہ یہ منظر جو ضمیر ہاشمی نے اپنی تصویر میں محفوظ کرلیا ہے، اسے مزید کس طرح محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ وہ سوچے گا کہ یہ منظر اس تصویر میں جیسا نظر آرہا ہے، یہ تصویر سے پہلے اور پھراس سے بھی پہلے کیسا تھا۔‘‘

میں سمجھتا ہوں کہ رضی الدین رضی نے بڑی خوبصورتی سے اس کتاب میں شامل تصویروں، تحریروں اور تحقیق کو ایک جگہ جمع کردیا ہے، شاکر حسین شاکر کے مختلف بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں اپنی تحقیق کے ضمن میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صحیح معنوں میں مددگار کتابیں بہت کم تھیں جب کہ مخطوطات اور روائتوں کا معاملہ اور بھی پیچیدہ تھا کہ روحانی ہستیوں اور بالخصوص ان کی کرامات کے حوالے سے جو حکائتیں اور شواہد سامنے آتے ہیں، ایک تو ان پر صدیوں کی گرد جمی ہوتی ہے اور دوسرے ان میں عقیدت کا عنصر اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات ’’حقیقت‘‘ سرے سے ہی غائب ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں بھی بہت سی ایسی روائتیں درج کی گئی ہیں جنھیں عقل سلیم تو کیا کامن سنس بھی قبول کرنے میں متامل ہوتی ہے لیکن ان کا بیان بھی ضروری تھا کہ مدینۃ الاولیا کے حوالے سے انھیں یکسر نظر انداز کردینا بھی ممکن نہ تھا۔

مجموعی طور پر تاریخ اور بالخصوص ملتان کی تاریخ اور تہذیب سے دلچسپی رکھنے والے احباب کے لیے یہ کتاب اہم بھی ہے اور دلچسپ بھی اور اس کے لیے ہمیں ضمیر ہاشمی، شاکر حسین شاکر اور اس منصوبے سے تعلق رکھنے والے تمام احباب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ کسی جغرافیے کی حفاظت کے لیے اس کی تاریخ کا شعور اور اس کی حفاظت بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

امجد اسلام امجد   

Mama Qadeer Baloch


Abdul Qadeer Baloch, aged 72, and 11-year old Ali Haider Baloch are not aware that they have made history.This old man and young boy have travelled more than 2,000 kilometers on foot along with a group of Baloch women and men on their way from Quetta to Islamabad.The purpose of their non-violent long march was to raise voice against enforced disappearances in Balochistan. They broke the 84-year-old record of Mahatma Gandhi who traveled for 390 kilometers on foot from Ahmadabad to Dandi as part of his famous salt march.

When Mahatma Gandhi started his march to protest against the salt laws of British Government in the colonial India he was 61 years old in 1930. The youngest among the first 80 marchers with Gandhi was 18 years old. Gandhi opposed unjustified taxes on the production of salt and started disobedience by making salt himself. Chinese leader Mao Zedong also started a long march in 1934 but this long march was actually a military retreat undertaken by the red army of Communist Party.

There was no single long march but a series of marches because various parts of the red army in the south China escaped to the north and the west. The red army of 41 years old Mao Zedong regrouped and then attacked Kuomintang. This long march was part of a military strategy. It was not a political long march.

The word long march was used and abused by many politicians after Mahatma Gandhi and Mao Zedong but nobody traveled on foot. Most of the politicians used vehicles in their long marches.

Late Benazir Bhutto even took a rail ride in her long march from Lahore to Islamabad against Nawaz Sharif government in 1992. She called off the long march near Wazirabad when she was informed that President Ghulam Ishaq Khan had decided to demand resignation from Prime Minister Nawaz Sharif. Again Nawaz Sharif also used the word long march in his Tehreek-e-Najat against Benazir Bhutto government in 1994.

The word long march was again used in lawyer’s movement for the restoration of deposed judges. Nawaz Sharif started his long march from Lahore to Islamabad in March 2009 but he was traveling in a jeep not on foot. Zardari Government communicated him a message through the then Army Chief General Kayani about the restoration of judges when he reached Gujranwala and the long march was called off. When Mama Baloch announced his long march from Quetta to Karachi, many people never took him seriously. He is famous as Mama Qadeer Baloch. He is not protesting against any government laws; he is not demanding the resignation of prime minister and he is not demanding the illegal release of any prisoner. He has been campaigning for the recovery of missing persons since 2009 when his son Jalil was killed in the custody of secret agencies.

He initiated his campaign from the platform of Voice of Baloch Missing Persons (VBMP) and only demands production of missing persons in courts. He started his long march with some families of missing persons from Quetta on 27th October 2013. Ali Haider Baloch stopped going to school and joined the long march with his elder sister Saba. His father Ramzan Baloch was abducted in front of the eyes of young Ali Haider. Farzana Majid Baloch is a well-educated woman. She did masters in bio-chemistry from Balochistan University and has been raising voice for the production of her younger brother Zakir Majid Baloch since 2009. She is secretary general of VBMP and the moving spirit behind this historical long march.

Daughters of two missing doctors, Deen Muhammad Baloch and Akbar Marri, also joined this long march. The daughter of a missing lawyer Haider Khan Baloch advocate was disappointed in courts and joined the long march of Mama Qadeer Baloch along with some other women. This small convoy completed 730 kilometers from Quetta to Karachi on foot in 27 days. They faced some problems near Khuzdar and the local administration asked Mama Qadeer Baloch to go back otherwise he will be attacked by miscreants. Mama Qadeer Baloch refused to surrender and continued his march. He was given a warm welcome in Wadh by BNP President Akhtar Mengal and then the guards of Mengal provided protection to Mama Qadeer Baloch till Hub.

The marchers were given big receptions in Hub and Layari. Ghinwa Bhutto, Syed Munawar Hasan and sister of Dr Afia Siddiqui were among those who expressed solidarity with the Baloch marchers. After reaching Karachi, VBMP set up a protest camp outside the Karachi Press Club for many days where National Party President Senator Hasil Bizinju also met Mama Qadeer Baloch and accepted that his Chief Minister in Balochistan Dr Abdul Malick Baloch was powerless to resolve the problem of missing persons.

Defense Minister Khawaja Muhammad Asif also visited this camp in December 2013 and assured Mama Qadeer Baloch that their dear ones will be produced in courts soon. The defense minister was unable to fulfill his promise. Ignorance of government disappointed Mama Qadeer Baloch and he decided to continue his long march from Karachi to Islamabad. Some of his sympathizers opposed the idea of traveling on the roads of Punjab but Mama Qadeer Baloch said: “We must try to awake the people of Punjab because Punjab is Pakistan and only they can return us our thousands of missing persons”.

Mama Qadeer Baloch never faced any problems while crossing Sindh. Many Sindhi nationalist parties expressed solidarity with the marchers in different cities. The marchers started facing problems when they entered Punjab. This convoy was first stopped in Multan and then in Okara. Armed people in uniform pointed guns at Farzana Majid Baloch and forced her to go back but she refused. Despite threats Seraiki nationalists openly supported the cause of Mama Qadeer Baloch in Multan. When the marchers were crossing the lush green fields of Punjab a truck tried to hit the marchers near Renala Khurd. Two participants, including one female marcher, were injured but the march continued. When they reached Lahore only some human rights activists of HRCP, AHRC and a left wing Awami Workers Party welcomed the marchers.

Chairperson of the Defense for Human Rights Amna Masood Janjua also welcomed the march of Mama Qadeer Baloch in Lahore along with the families of many missing persons from different areas of the Punjab. The so-called guardians of national interest advised many journalists in Lahore to stay away from Mama Qadeer Baloch. Lahorites actually missed the golden opportunity of removing misunderstandings between common Punjabis and the oppressed people of Balochistan.

Mama Qadeer Baloch again faced threats from the commandos of Punjab police near Gujrat. The marchers were asked to go back but they refused. They were not allowed to pass through the Gujrat city. They were forced to go towards Gujrat bypass. Again they were threatened and abused near Sarai Alamgir by one dozen strangers in the presence of local police. When Mama Qadeer Baloch was passing through the garrison area of Jhelum, I joined him for few hours just to see the reaction of local population.

Most of the common Punjabis were not aware that why an old man from Balochistan was marching on the roads with some women and children. Some people offered drinks and water to the marchers but the police and security men in civil dress discouraged the locals.

Mama Qadeer told me that some common Punjabis offered them water, food and night stay at their homes but they were later threatened by the government agencies. Mama said: “We know that all the Punjabis are not bad but intelligence agencies never allowed them to even welcome us. It was against the culture of Punjab.” Some Baloch students from Lahore and Islamabad joined the march just to give some protection to the small convoy but they used masks to hide their faces. They fear that intelligence agencies will create problems for their families in Balochistan. On the other hand, some intelligence operators traveling with marchers also using masks because they feared the media cameras.

Our media should give more coverage to these non-violent marchers as they don’t say they are against the constitution of Pakistan; they are only demanding implementation of Article 10 of the Constitution which says that law enforcers must produce a suspect in the courts within 24 hours of his arrest. Mama Qadeer Baloch traveled more than 1,400 kilometers from Karachi to the areas close to Islamabad along with his 7-year-old grandson. Many Baloch, Pakhtun and Sindhi parliamentarians are ready to receive him in Islamabad but these receptions are not solution to his problems. The solution is justice. He made history by traveling more than 2,000 kilometers from Quetta to Islamabad at the age of 72 just for justice.

The government sitting in Islamabad should not disappoint him because Islamabad is his last hope in Pakistan. If justice was denied to him then he will be forced to go to the UN Human Rights Commissioner in Geneva. Who will be responsible for giving a bad name to Pakistan when a 72-year-old man will talk to international media about missing persons in Geneva? What will happen? The powerful security agencies will declare Mama Qadeer Baloch a traitor. His grandson may also be declared a traitor but increasing the number of traitors cannot solve any problem. Justice and rule of law is the ultimate solution to all the problems. Mama Qadeer Baloch spent this whole winter on the roads. He is coming to Islamabad in the hope of a spring. Don’t break his hopes.

Let it be a spring for him.

Enhanced by Zemanta

سعودی عرب سے ہماری سرد مہری پر کف افسوس


میں رجائیت پسند ہوں ، مجھے سب اچھا نظر آتا ہے، سعودی ولی عہد شہزادہ سلیمان بن عبد العزیز پاکستان آئے، میرا دل بلیوں اچھلنے لگاا ور میرے قلم سے محبت کے زمزمے بہہ نکلے ، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ پاکستان نے دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کے لئے معزز مہمان کی درخواست کو شرف قبولیت نہیں بخشا۔ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ کاش! یہ منحوس خبر غلط ہو مگر میں نے پاکستان کے اعلی حکومتی عہدیداروں کے بیانات پڑھے ہیں کہ ہم شام کے مسئلے پر سعودی عرب کا ساتھ نہیں دے سکتے۔عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے طیارہ شکن ہتھیار مانگے ہیں، انہی ذرائع کے مطابق یہ اسلحہ شامی مجاہدین نے بشار الا سد کی فضائیہ کے خلاف اپنے دفاع میں استعمال کرنا تھا مگر پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ اسلحہ طالبان کے ہاتھ لگ سکتا ہے جو با لآخر پاک فضائیہ کے خلاف استعمال ہو گا، اس لئے یہ سودا نہیں ہوا۔

میری اقتدار کے ایوانوں تک کوئی رسائی نہیں، حقیقت حال تک پہنچنا میرے لئے قطعی نا ممکن ہے ، میرا تبصرہ صرف سنی سنائی باتوں تک محدود ہو گا ، مگر یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں کہ سعودی ولی عہد کو دو روز قبل26 فروری کو بھارت جانا پڑا جہاں ایئر پورٹ پر انکا استقبال بھارت کے نائب صدر محمد حامد انصاری نے کیا۔ بھارت اور سعودی عرب کی باہمی تجارت پچھلے چار سال میں دوگنا ہو چکی ، اب اس کا حجم 44 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے ساتھ یہ تجارت 5 ارب ڈالر سے بھی نہیں بڑھ سکی۔ اس کی وجہ زرداری کا دور حکومت ہے جب پاک سعودی تعلقات نقطہ انجماد کو چھو رہے تھے۔ مگر اب ایک سال سے شریف برادران کادور دورہ ہے، وہ چین ، جرمنی،ترکی، امریکہ اور برطانیہ کے دورے پر دورے کر رہے ہیں مگر جو ملک ان کی غریب الوطنی کے دور میں کام آیا، وہ ان کی ترجیحات میں سر فہرست نظر نہیں آتا۔ شریف برادران کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت جلد اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ ادارہ نوائے وقت کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے مگر سعودی عرب نے تو ان کو شاہی محلات پیش کئے، اسٹیل مل لگانے کی اجازت دی۔ سپر اسٹور کھولنے اور چلانے کے لائسنس دیئے اور علاج کے لئے لندن جانے کی بھی اجازت دی حالانکہ یہ جلاوطنی کے معاہدے کی خلاف ورزی تھی ۔

پاکستان کے معاملات عوام کے ہاتھ میں ہیں، شریف برادران اس اختیار کو ہائی جیک نہیں کر سکتے، زرداری نے اس اختیار کو ہائی جیک کیا اور پاکستان کو اس کے عزیز ترین دوست سعودی عرب سے دور کر دیا۔ پاکستانی عوام کو حرمین شریفین سے عقیدت ہے، وہ اس پر جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہیں، پہلی خلیجی جنگ میں پاکستان نے اپنی فوج سعودی دفاع کے لئے بھیجی، سعودی فوج کی ٹریننگ کے لئے بھی ایک پروگرام جاری ہے، سعودی محبتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں، بھارت نے جب بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دینے کا حق ادا کر دیا۔ سعودی عرب نے بنگلہ دیش کی علیحدگی کی مخالفت کی۔ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمائت کی، شاہ فیصل نے بادشاہی مسجد میں آنسووں کی زبان میں کشمیر کی آزادی کے لئے دعا مانگی، پاکستان نے لائل پور کو فیصل آباد کانام دے کر شاہ فیصل سے اپنی گہری عقیدت کا ثبوت فراہم کیا، اسلام آباد کے افق پر شاہ فیصل مسجد کے بلندو بالا مینار دونوں ملکوں کے تعلقات کی معراج کا روشن منظر نامہ ہیں۔ اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس میں دونوں ملک یکساں سوچ کے ساتھ چلتے ہیں۔

تو پھر شام اور ایران کے مسئلے پر پاکستان نے سعودی عرب سے دوری کیوں اختیار کر لی ہے،اور وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب امریکہ نے سعودی عرب سے فاصلے بڑھا لئے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خطے کے دوسرے ممالک کی دوستی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ سعودی عرب نے احتجاج کے طور پر سلامتی کونسل کی سیٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا پاکستان کے رویے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہم امریکی خوشنودی میں اپنے عزیز تریں دوست اور حرمین شریفین کی خادم حکومت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کاش! میری سوچ اور میرا تجزیہ غلط نکلے اور حقیقت میں پاک سعودی دوری کا شائبہ تک نہ ہو لیکن یہ سب کچھ ہمارے کردار اور ہماری پالیسیوں سے ہویدا ہونا چاہئے۔آخر سعودی ولی عہد کو نئی دہلی کیوں جانا پڑا ، یہ بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب نواز شریف تو نہیں دیں گے لیکن مجھے اپنے بھائیوں جیسے دوست سرتاج عزیز سے یہ توقع ضرور ہے کہ وہ عوام کے ذہنوںمیں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں گے۔

شام کا مسئلہ کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی حکومت کو بیرونی مداخلت سے ختم نہیں کرنا چاہئے مگر آج کی دنیا نے عرب بہار کا خیر مقدم کیا،ہم نے بھی کیا، تیونس میں ، سوڈان میں ، لیبیا میں ،مصر میں، تبدیلیوں کا کھلے بازووں سے استقبال کیا۔ہم نے اپنے فوجی آمر جنرل مشرف کو بھی چلتا کیا۔ شام میں بشار الا سد کو حکومت ورثے میں ملی، اس کے باپ حافظ الاسد نے اقتدار پر شب خون مارا، یہ ایک فوجی انقلاب تھا، مصر میں ناصر نے اقتدار چھینا اور عوام کا جینا دو بھر کر دیا، شام میں حافظ الاسد نے عوام کو اپنی طویل آمریت کے شکنجے میں جکڑے رکھا، پھر اس کے بیٹے نے اس آمریت کو دوام بخشا، عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا اور اگر سعودی عرب ان مظلوم عوام کا ساتھ دے رہا ہے تو کونسا گناہ کر رہا ہے۔

ایک طرف سے امریکہ نے ایٹمی ایران سے دوستی کی خاطر سعودی عرب سے دوری اختیار کر لی، دوسری طرف روسی صدر پوتن نے دھمکی دی کہ روسی افواج سعودی عرب کو جارحیت کا نشانہ بنائیں گی۔ یہ پچھلے سال اگست کی بات ہے اور چھ ماہ بعد سعودی ولی عہد ہم سے مدد چاہنے کے لئے آئے اور اگرہم نے ان کو خالی ہاتھ لوٹا دیا ہے تو تف ہے ہمارے ان ایٹمی ڈھیروں پر جو پہاڑوں کی غاروں میں پڑے گل سڑ رہے ہیں۔ یہ ایٹم بم حرمین شریفین کی حفاظت اور حرمت پر قربان نہیں ہو سکتے تو میری طرف سے ان میں کیڑے پڑ جائیں۔

ہم نے ایٹمی دھماکوں کے بعد مفت سعودی تیل کے مزے اڑائے، افغان مجاہدین کی دیکھ بھال کا مسئلہ ہو، زلزلے کی تباہی یا سیلاب کی قیامت ، ہر وقت سعودی عرب پیش پیش۔ سعودی عرب میں ہمارے پاکستانی بھائیوں کی ترسیلات، اوور سیز پاکستانیوں کی کل ترسیلات کا تیس فیصد ہیں، یہی زر مبادلہ ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اسے کہتے ہیں جس تھالی میں کھانا ، اسی میں چھید کرنا۔

شریف برادران براہ کرم اپنے محسنوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کریں۔ یہ ان کی ذات ہی کے محسن نہیں ، پورے پاکستانیوں کے محسن ہیں، انڈو نیشیا سے بوسنیا تک پورے عالم ا سلام کے محسن ہیں، میں کبھی بتاﺅں گا کہ بوسنیا کے لئے بظاہر سعودی حج پروازوں میں کیا کچھ جاتا رہا۔ سی ون تھرٹی کی ان پروازوں نے بوسنیا کی آزادی کی بنیاد رکھی۔ آج سعودیہ کی ضرورت ہے۔ ان کی ضرورت کے وقت ان کا ہاتھ مت جھٹکیں۔


بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

Enhanced by Zemanta

Geo News reporter Wali Babar murder case : Two sentenced to death


Geo News Reporter Wali Babar murder case : Two sentenced to death
Enhanced by Zemanta